احمد شاہ ابدالی اور معاہدۂ قلات (1758)
پچھلے باب میں ہم نے میر نصیر خان نوری کو قلات کی خانی سنبھالتے اور ریاست کو نئی شکل دیتے دیکھا۔ مگر نصیر خان کا پورا دور ایک بڑے پڑوسی کے سائے میں گزرا: قندھار میں قائم ہونے والی احمد…

پچھلے باب میں ہم نے میر نصیر خان نوری کو قلات کی خانی سنبھالتے اور ریاست کو نئی شکل دیتے دیکھا۔ مگر نصیر خان کا پورا دور ایک بڑے پڑوسی کے سائے میں گزرا: قندھار میں قائم ہونے والی احمد شاہ ابدالی (Ahmad Shah Abdali)، یعنی احمد شاہ درانی، کی سلطنت۔ اس باب کا موضوع 1758ء کا وہ معاہدہ ہے جو قلات اور قندھار کے درمیان ایک لڑائی کے بعد طے پایا۔ ماخذ کی تفصیلات مختلف ہیں، اس لیے ہم ہر بیان اپنے ماخذ کے ساتھ دیں گے۔
ہم کس کی زبانی جانتے ہیں؟
اس معاہدے کا کوئی اصل متن، جس پر دونوں فریقوں کی مہر ہو، ہمارے دیکھے ہوئے ماخذ میں شائع شدہ صورت میں موجود نہیں۔ ہماری معلومات تین قسم کی تحریروں سے آتی ہیں: برطانوی دور کی تحریریں، مثلاً میجر رابرٹ لیچ (Robert Leech) کی 1843ء کی "مختصر تاریخِ قلات" اور 1908ء کا امپیریل گزیٹیئر؛ "انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا" جیسی حوالہ جاتی کتابیں؛ اور پاکستانی جامعات کے مجلوں کے مضامین، جن میں سے کئی بلوچ مؤرخین کے ہیں۔ افغان مؤرخین کا موقف ہمیں براہِ راست نہیں، انہی مضامین کے حوالے سے ملا ہے، اور یہ کمی قاری کے سامنے رہنی چاہیے۔
1747ء سے 1758ء تک: قندھار کے ماتحت قلات
ایرانیکا میں برائن سپونر (Brian Spooner) لکھتے ہیں کہ 1747ء میں نادر شاہ افشار (Nader Shah) کے قتل کے بعد احمد شاہ نے قلات کے خان میر محبت خان کو ہٹا کر ان کے چھوٹے بھائی میر نصیر خان کو خان بنایا۔ سپونر کے مطابق اس وقت قلات قندھار کے ابدالی دربار کے "ماتحت" تھا، اور 1758ء سے پہلے کے معاہدے کی رو سے قلات کو ہر سال دو ہزار روپے قندھار بھیجنے اور ایک ہزار سپاہی قندھار میں رکھنے اور ان کا خرچ اٹھانے تھے۔ ایرانیکا صاف لکھتی ہے کہ یہ شرائط 1758ء کے نئے معاہدے سے پہلے کی تھیں۔
صحافی رضوان زیب (Rizwan Zeb) نے 2016ء میں "دی فرائیڈے ٹائمز" میں انہی شرائط، یعنی سالانہ دو ہزار روپے اور قندھار میں ایک ہزار کا دستہ، کو 1758ء سے پہلے کا انتظام بتایا، اور ان میں افغان تجارتی قافلوں کی حفاظت اور محفوظ راستے کی ذمہ داری بھی شامل کی۔ بلوچی اکیڈمی کے مجلے "بلوچستانیات" میں جیئند کاشف ساجدی اور ذاکر حسین بھی 1747ء سے 1758ء کے عرصے کو ایسا دور قرار دیتے ہیں جس میں بلوچستان "برائے نام" افغانستان کا حصہ رہا۔
1758ء: علیحدگی اور لشکر کشی
پنجاب یونیورسٹی کے تاریخ کے مجلے میں عبدالباسط خان اور ایاز محمد کے 2018ء کے مضمون کے مطابق 1758ء میں خان نے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور اس پر احمد شاہ نے بلوچستان پر لشکر کشی کی۔ رضوان زیب اس ٹکراؤ کو ایک "مختصر جھڑپ" کہتے ہیں جس کے بعد دونوں فریقوں نے نیا معاہدہ کیا۔
لڑائی کی چند تفصیلات برطانوی دور کے گزیٹیئروں میں ملتی ہیں۔ 1908ء کے امپیریل گزیٹیئر کے مطابق 1758ء میں مستونگ کے مقام پر ایک معرکہ ہوا جس کا پہلا مرحلہ افغانوں کے خلاف گیا، اور قلات نے احمد شاہ کے تین حملے روکے؛ 1907ء کا سراوان گزیٹیئر بھی لکھتا ہے کہ قلات کا محاصرہ ناکام رہا۔ محاصرہ کتنے دن چلا، یہ ہم کسی معتبر ماخذ سے تصدیق نہیں کر سکے۔ جو بات سب ماخذ میں مشترک ہے وہ یہ کہ لڑائی کسی فیصلہ کن فتح پر نہیں بلکہ ایک معاہدے پر ختم ہوئی، اور نصیر خان قلات کے خان رہے۔
شرائط: ہر ماخذ کی اپنی فہرست
شرائط پر ماخذ سب سے زیادہ مختلف ہیں۔
غلام فاروق بلوچ (2011ء): جامعۂ بلوچستان کے مجلے "بلوچستان ریویو" میں اسی معاہدے پر ان کے مضمون (ص 61) کی شقوں میں پہلی یہ ہے کہ "خانِ بلوچ" میر نصیر خان آئندہ افغان بادشاہ کو کوئی خراج نہیں دیں گے۔ دوسری یہ کہ جب افغان بادشاہ کسی بیرونی دشمن سے جنگ میں ہو تو خان مدد کی علامت کے طور پر ایک فوجی دستہ فراہم کریں گے، اس شرط پر کہ افغان بادشاہ سالانہ ایک لاکھ روپے ادا کرے اور اسلحہ اور لشکر کے اخراجات بھی دے۔ تیسری شق کے مطابق دونوں ایک دوسرے کے شاہی خاندان کے باغیوں کو پناہ نہیں دیں گے، اور چوتھی کے مطابق افغان بادشاہ قلات کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔
ساجدی اور حسین (بلوچستانیات): ان کے بیان میں بھی ابدالی نے قلات کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور قلات کے شاہی خاندان کے افراد کو پناہ نہ دینے پر اتفاق کیا، اور قلات قندھار کو خراج نہیں دے گا۔
عبدالباسط خان اور ایاز محمد (2018ء): ان کے مطابق طے ہوا کہ خان کابل کی فوجوں کی مدد کے لیے دستے دیں گے اور اس کے بدلے نقد رقم پائیں گے۔
رضوان زیب (2016ء): ان کے مطابق نئے معاہدے میں قلات جنگ کی صورت میں افغانستان کو فوجی دستہ دے گا، اور قلات کو انعام کے طور پر ایک وسیع علاقہ ملا جس میں کوئٹہ (شال) اور مستونگ شامل تھے۔
ایرانیکا: سپونر کے مطابق نئے معاہدے کے تحت خانیت نے نہ خراج دیا اور نہ قندھار میں فوج رکھی۔ اس کے بجائے قلات صرف اس وقت لڑنے والا دستہ دیتا جب افغان اپنی سلطنت سے باہر جنگ کرتے، اور تب خان کو رقم اور گولہ بارود دیا جاتا۔ معاہدے پر وفاداری کے عہد اور خان کی بھتیجی کی احمد شاہ کے بیٹے سے شادی کے ذریعے مہر لگی۔ ایرانیکا کے مطابق آخری انتظام یہ تھا کہ شاہ نے نصیر خان کو "بیگلر بیگی" کا خطاب دیا اور خان نے شاہ کو اپنا بالادست تسلیم کیا۔
یعنی خراج کے سوال پر سب ماخذ متفق ہیں: 1758ء کے بعد قلات نے کوئی خراج نہیں دیا؛ سالانہ دو ہزار روپے والی شرط، جس کا ذکر ایرانیکا اور رضوان زیب کرتے ہیں، اس سے پہلے کے انتظام کی تھی۔ فوجی دستے کی فراہمی پر بھی سب متفق ہیں، اور ایرانیکا اور غلام فاروق بلوچ دونوں کے مطابق یہ دستہ افغان بادشاہ کے خرچ پر ملتا تھا۔
معاہدے کے بعد: مشترکہ مہمات
معاہدے کے بعد قلات کے دستے درانی مہمات میں شریک نظر آتے ہیں۔ غلام فاروق بلوچ کے مطابق اس معاہدے نے افغان بادشاہ کو مشرق میں ہندوستان اور پنجاب اور مغرب میں ایران کی مہمات کے لیے اعتماد اور تعاون فراہم کیا۔
پنجاب کی مہم کا ایک عینی گواہ بھی موجود ہے۔ قاضی نور محمد (Qazi Nur Muhammad) نے فارسی نظم "جنگ نامہ" میں احمد شاہ کے 1764ء اور 1765ء کے حملۂ پنجاب کا حال لکھا، جس میں وہ خود نصیر خان کے ساتھ شریک تھے۔ اس کتاب کو مؤرخ گنڈا سنگھ (Ganda Singh) نے 1939ء میں امرتسر سے مرتب اور ترجمہ کر کے شائع کیا۔
ایرانیکا ایک اور نتیجے کی طرف اشارہ کرتی ہے: قندھار سے معاہدے کے بعد شمالی اور مشرقی سرحد مستحکم ہوئی تو نصیر خان خاران، مکران اور لسبیلہ کی طرف بڑھ سکے۔ یوں قندھار سے تعلق کا طے ہونا قلات کی توسیع اور اندرونی تنظیم کا پیش خیمہ بنا۔
اگلے اتوار: سراوان، جھالاوان اور قبائلی وفاق: نصیر خان کا نظامِ حکومت۔
ماخذ
- Brian Spooner, "Baluchistan i. Geography, History and Ethnography", Encyclopaedia Iranica, vol. III, fasc. 6, pp. 598–632 (Ahmad Shah deposes Mohabbat and installs Nasir Khan after 1747; Kalat "still subordinate to the Abdālī court of Qandahār"; pre-1758 terms of Rs 2,000 a year and 1,000 soldiers at Qandahar; after 1758 "the khanate no longer paid tribute or maintained a force at Qandahār", a force only for Afghan wars outside the kingdom with money and ammunition provided; pledge of loyalty and "the marriage of the khan's niece to Aḥmad Shah's son"; title beglarbegī and recognition of the shah as suzerain as "the final accommodation"; stabilised borders allow moves on Kharan, Makran and Las Bela). https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-i/ · PDF: https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-index/baluchistan-i/?generate_pdf=1
- Ghulam Farooq Baloch, "Treaty of Kalat 1758 between Qandhar and Kalat and its Impacts", Balochistan Review (University of Balochistan), 2011, no. 1, pp. 55–70 (p. 61, clauses: no tribute; contingent "as a token of help" when the Afghan king is at war with external enemies, on condition that he pays Rs 100,000 a year and supplies weapons and army expenses; no asylum to each other's royal rebels; no Afghan interference in internal affairs; cooperation in India, Punjab and Iran; "backbone of Baloch Afghan relations"; Balochistan "a complete independent country"; Afghan historians ignored the treaty). https://www.uob.ac.pk/Journals/Balochistan-Review/data/BR%2001%202011/55-70%20TREATY%20OF%20KALAT%201758%20BETWEEN%20QANDHAR%20AND%20KALAT%20AND%20ITS%20IMPACTS,%20Ghulam%20Farooq%20Baloch.pdf
- Jeeyand Kashif Sajidi and Zakir Hussain, "The Historical Political Relations Between Balochistan and Afghanistan", Balochistaniyat (Balochi Academy, Quetta) (1747–1758 "nominally" part of Afghanistan; sovereign status afterwards; non-interference and no-asylum clauses; majority of Afghan historians have not accepted the treaty's importance). https://balochistaniyat.balochiacademy.org/index.php/journal/article/download/40/27
- Abdul Basit Khan and Ayaz Muhammad, "Evolution of the Baloch Nationalism (Origin to 1947)", Journal of the Research Society of Pakistan, University of the Punjab, vol. 55, no. 1 (January–June 2018) (independence declared in 1758; troops for "the Kabul armies" in return for a cash allowance; khanate "completely independent" until the British, citing Breseeg 2004, p. 205; 1841 treaty declaring Kalat a vassal of Afghanistan). https://pu.edu.pk/images/journal/history/PDF-FILES/1_55_1_18.pdf
- Rizwan Zeb, "Khans and fractious chieftains", The Friday Times, Lahore, 22 July 2016, and "The Raj and the Khan", The Friday Times, 25 November 2016 (pre-1758 terms: Rs 2,000, 1,000 men at Kandahar, caravan security; 1758 "brief clash" and contingent clause; Quetta and Mastung as a reward). https://www.thefridaytimes.com/2016/07/22/khans-and-fractious-chieftains/ · https://www.thefridaytimes.com/2016/11/25/the-raj-and-the-khan/
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, compiled by R. Hughes-Buller, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908 (section heading "Kalat always a dependent State"; Mastung and Kalat town entries: the 1758 engagement at Mastung, Kalat "withstood three assaults by Ahmad Shah"). https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan
- Robert Leech, "Brief History of Kelat, brought down to the deposition and death of Mehrab Khan, Brahoee", Journal of the Asiatic Society of Bengal, vol. XII, 1843, p. 473 (an early British history of Kalat; cited here only as an example of the British-period sources, its account of 1758 not seen). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.280484 · https://catalog.hathitrust.org/Record/008881582
- Qazi Nur Muhammad, Jang Namah, ed. and tr. Ganda Singh, Sikh History Society, Amritsar, 1939 (author accompanies Nasir Khan; 12,000 Baloch meet Ahmad Shah at Eminabad in the campaign of 1764–65; Quetta manuscript copy; chapter on the Sikhs' qualities). Summaries: https://www.sikhiwiki.org/index.php/Jangnama · https://sikhnet.com/news/historiographical-significance (print edition; no scan confirmed)
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI: Sarawan, Times Press, Bombay, 1907, History (Kalat "besieged without success" in 1758). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668







