رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 21° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

11 ستمبر 1948: قائدِ اعظم کا بلوچستان سے آخری سفر

ہفتہ، 11 ستمبر 1948۔ کوئٹہ کی ریزیڈنسی میں ایک بج کر بیس منٹ پر معالج لیفٹیننٹ کرنل الٰہی بخش اپنے مریض کو بتاتے ہیں کہ آج ہی کراچی چلنا ہے۔ مریض، جو ہفتوں سے کراچی جانے سے انکار کرتا رہا…

11 ستمبر 1948: قائدِ اعظم کا بلوچستان سے آخری سفر
علامتی تصویر

تاریخ کے اوراق: یہ تحریر روزنامہ اعتماد کے اجرا (اکتوبر 1970) سے پہلے کے ایک دن کی کہانی ہے، جو دستیاب تاریخی ماخذ سے مرتب کی گئی ہے۔

ہفتہ، 11 ستمبر 1948۔ کوئٹہ کی ریزیڈنسی میں ایک بج کر بیس منٹ پر معالج لیفٹیننٹ کرنل الٰہی بخش اپنے مریض کو بتاتے ہیں کہ آج ہی کراچی چلنا ہے۔ مریض، جو ہفتوں سے کراچی جانے سے انکار کرتا رہا ہے، اس بار صرف دھیمی آواز میں کہتا ہے: "ٹھیک ہے۔" دو بجے قافلہ ہوائی اڈے پر ہے، جہاں گورنر جنرل کا طیارہ "وائکنگ" کھڑا ہے، اگلے کیبن میں بستر لگا ہوا۔ یہ محمد علی جناح کا بلوچستان سے آخری سفر ہے۔ آج رات وہ کراچی کے گورنمنٹ ہاؤس میں وفات پا جائیں گے۔

بلوچستان سے رشتہ: سبی اور کوئٹہ

قائدِ اعظم کا بلوچستان سے تعلق اس آخری موسمِ گرما سے پرانا تھا۔ 14 فروری 1948 کو انہوں نے سبی کے شاہی دربار سے خطاب کیا۔

جون 1948 میں وہ کراچی کی گرمی سے نکل کر کوئٹہ آئے۔

یکم جولائی کو انہوں نے کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، جو ان کی آخری عوامی تقریب ثابت ہوئی۔ ایک ماخذ کے مطابق 6 جولائی کو وہ کوئٹہ واپس آئے اور معالجوں کے مشورے پر زیارت چلے گئے۔

زیارت: ڈاکٹر کی ڈائری

زیارت کی ریزیڈنسی انگریزوں نے 1892 میں بنائی تھی؛ پہلے یہ پھیپھڑوں کے مریضوں کے سینیٹوریم کے لیے سوچی گئی، پھر ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل کی گرمائی رہائش بنی۔ یہاں قائدِ اعظم کے ساتھ ان کی بہن فاطمہ جناح تھیں۔

21 جولائی 1948 کی رات لاہور میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے پرنسپل کرنل الٰہی بخش کو کراچی سے فون آیا کہ فوراً زیارت پہنچیں۔ وہ 23 جولائی کی شام پہنچے اور اگلی صبح مریض کو دیکھا: نہایت کمزور، رنگ خاکستری، بلڈ پریشر کم۔ قائد نے بتایا کہ برسوں سے ہر سال بخار اور کھانسی ہوتی رہی ہے جسے برونکائٹس سمجھا گیا۔ ایکس رے نے پھیپھڑوں کی وہ خرابی دکھائی جو، ڈاکٹر کے لفظوں میں، اندازے سے "کہیں زیادہ پھیلی ہوئی" تھی اور کم سے کم دو برس پرانی۔ بعد کے بیانات اسے تپِ دق لکھتے ہیں۔ بیماری قائد کی اپنی خواہش پر راز رکھی گئی۔

ڈائری کے مطابق 11 اگست کو پیروں کی سوجن نے دل اور گردوں کی کمزوری ظاہر کی اور نیچے کوئٹہ جانا ضروری ہو گیا۔ قائد ٹالتے رہے، یومِ آزادی کی شب کا حوالہ دیا، مگر 13 اگست کی سہ پہر ساڑھے تین بجے روانگی ہوئی اور چار گھنٹے کے سفر کے بعد وہ غروبِ آفتاب سے پہلے کوئٹہ کی ریزیڈنسی میں اسٹریچر پر لائے گئے۔ زیارت کے بارے میں ان کا ایک جملہ ڈاکٹر نے لکھ لیا: "میں زیارت میں ایک جال میں پھنس گیا تھا"۔

کوئٹہ: چند اچھے ہفتے، پھر نمونیا

کوئٹہ میں پہلے چند ہفتے بہتری کے تھے۔ 23 اگست سے مختصر چہل قدمی کی اجازت ملی۔ 27 اگست کو عید الفطر پر قوم کے نام ان کا ریکارڈ شدہ ریڈیو پیغام نشر ہوا، جو ان کا آخری خطاب تھا۔ 29 اگست کو انہوں نے ڈاکٹر سے کہا کہ ان کا کام مکمل ہو چکا ہے؛ "اب فرق نہیں پڑتا کہ میں زندہ رہوں یا مر جاؤں"۔

3 ستمبر کو بخار لوٹا اور 5 ستمبر کے ٹیسٹ نے نمونیا دکھایا۔ 9 ستمبر کو کراچی سے ڈاکٹر مستری پہنچے اور مان گئے کہ اب کچھ اور ممکن نہیں۔ 10 ستمبر کو الٰہی بخش نے فاطمہ جناح کو بتایا کہ معجزے کے بغیر ایک دو دن سے زیادہ کی امید نہیں۔

11 ستمبر: ماڑی پور سے گورنمنٹ ہاؤس

وائکنگ میں قائد، فاطمہ جناح، الٰہی بخش اور ڈاکٹر مستری سوار تھے؛ راستے میں آکسیجن دی گئی۔ سوا چار بجے طیارہ کراچی کے ماڑی پور ہوائی اڈے پر اترا۔ استقبال کے لیے صرف ملٹری سیکرٹری کرنل ناولز ایک ایمبولینس کے ساتھ موجود تھے؛ نرس کہیں نظر نہ آئی۔

ہوائی اڈے سے چار میل آگے ایمبولینس رک گئی۔ الٰہی بخش کی ڈائری اس کی وجہ انجن کی خرابی لکھتی ہے؛ ڈاکٹر اقتدار چیمہ فاطمہ جناح کی کتاب "مائی برادر" کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ پٹرول ختم ہو گیا تھا۔ گرمی شدید تھی، قائد پسینے میں تھے، نبض کمزور اور بے ترتیب۔ دوسری ایمبولینس آئی اور قافلہ اترنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد گورنمنٹ ہاؤس پہنچا؛ فاطمہ جناح کے مطابق چھ بج کر دس منٹ پر۔

رات سوا نو بجے ڈاکٹر کو واپس بلایا گیا۔ نبض ڈوب رہی تھی۔ انہوں نے کہا، "خدا نے چاہا تو آپ زندہ رہیں گے"۔ قائد نے سر ہلایا اور دھیمی آواز میں کہا، "نہیں، میں نہیں رہوں گا"۔ فاطمہ جناح کے بیان میں آخری الفاظ ان کے نام تھے: "فاطی، خدا حافظ" اور کلمہ۔ دس بج کر بیس منٹ پر الٰہی بخش کو نہ نبض ملی نہ دل کی آواز۔ قائدِ اعظم کی عمر 71 برس تھی اور پاکستان کی ایک برس اور ایک مہینہ۔

زیارت کی ریزیڈنسی: 1948 کے بعد

جہاں قائد نے دو مہینے گزارے وہ عمارت بعد میں عجائب گھر اور قومی یادگار بنی اور 2006 سے سو روپے کے نوٹ پر چھپتی ہے۔ آج یہاں قائد اور ان کی بہن کے استعمال کے برتن اور کرسیاں رکھی ہیں، اور ہر سال ہزاروں لوگ دیکھنے آتے ہیں۔

آگے کیا ہوا

  • 12 ستمبر 1948: کراچی میں تدفین؛ اندازے کے مطابق قریب دس لاکھ لوگ شریک ہوئے، نمازِ جنازہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی۔
  • 1949: الٰہی بخش کی ڈائری فاطمہ جناح کے پیش لفظ کے ساتھ شائع ہوئی۔
  • 1987: فاطمہ جناح کی 1955 میں لکھی کتاب "مائی برادر" ان کی وفات کے بعد قائدِ اعظم اکیڈمی نے شائع کی۔

کیا آپ کے خاندان میں 1948 کے کوئٹہ یا زیارت کی کوئی تصویر، خط یا اخبار محفوظ ہے؟ ہمیں ضرور بھیجیں۔ ہم اسے آپ کے نام کے ساتھ اس صفحے پر شامل کریں گے۔

ماخذ

  1. Lt-Col Ilahi Bakhsh, I.M.S., With the Quaid-i-Azam During His Last Days (foreword by Fatima Jinnah), Oxford University Press, 1949; full text on the Internet Archive (uploaded 2025): the call of 21 July, arrival 23 July, examination and X-ray, the move of 13 August, the Quetta Residency, 29 August remark, pneumonia from 5 September, 10 September prognosis, 11 September (1.20 pm, 2 pm aerodrome, Viking, Mauripur 4.15 pm, ambulance breakdown four miles out, "No, I am not", death 10.20 pm, pp. 5–48). https://archive.org/details/with-the-quaid-i-azam-during-his-last-days (catalogue record of the 1949 edition: Punjab Digital Library, https://digitallibrary.punjab.gov.pk/items/5e08c20e-68d9-4d12-8a28-0eecf0dcd7af)
  2. Dr Iqtidar Cheema, "The tragic scene of Quaid-e-Azam's death", ARY News blogs, 11 September 2015, quoting Fatima Jinnah, My Brother: Viking, Mauripur 4.15 pm, ambulance ran out of petrol after about four miles, Government House 6.10 pm, 9.50 pm exchange with the doctor. https://blogs.arynews.tv/?p=9972
  3. Aaj News, "Snaps from history: The Quaid-i-Azam's last words before death", 25 December 2023: the two accounts of the last words (Fatima Jinnah, My Brother; Ilahi Bakhsh), death just after 10 pm. https://english.aaj.tv/news/30345473
  4. Harris Khalique, "Narrative Arc: Jinnah, Fatima and Dina", Dawn (Books & Authors), 12 November 2017: the 1949 book and its three chapters (Ziarat, Quetta, Karachi), Colonel Knowles alone at the airport, the ambulance breakdown. https://www.dawn.com/news/1369880
  5. Mahir Ali, "The vision we lost", Dawn, 14 August 2013: Ilahi Bakhsh (principal, King Edward Medical College) called to Ziarat in late July 1948; the Quaid's reluctance to leave Ziarat on the eve of the first Independence Day; the illness kept secret. https://www.dawn.com/news/1035803
  6. Sultan M. Hali, "How PAF enabled Quaid to see first Independence Day?", The News, 7 September 2020: State Bank inauguration 1 July 1948 as last public appearance; Eid-ul-Fitr radio message of 27 August 1948 as last address; Brigadier Noor A. Husain's account. https://www.thenews.pk/print/711178-how-paf-enabled-quaid-to-see-first-independence-day
  7. Muhammad Amir Rana, "Durbar legacy in Balochistan", Dawn, 30 August 2026: the Sibi Durbar of 14 February 1948 as the first shahi durbar under Pakistan, the Governor-General's Advisory Council as an interim arrangement, Victoria Memorial Hall (now Jirga Hall). https://www.dawn.com/news/2026111/durbar-legacy-in-balochistan
  8. Ahsaas Wasti, "Jinnah's love for Balochistan", The Express Tribune, 18 June 2013: Sibi press conference of 15 February 1948, "I want to help Balochistan in every way I can"; the Residency's earlier use as a sanatorium. https://tribune.com.pk/article/jinnahs-love-for-balochistan-balochistans-hate-for-jinnah
  9. Saadullah Akhter, "Summer home where Pakistani founder spent final days lives on as monument to his memory", Arab News, 13 August 2022: Residency built 1892; arrival in Quetta July 1948 then Ziarat; moved to Quetta 13 August; Karachi 11 September; death 10.20 pm aged 71; on the Rs 100 note since 2006; museum, relics, thousands of visitors. https://www.arabnews.pk/pakistan/summer-home-where-pakistani-founder-spent-final-days-lives-on-as-monument-to-his-memory-2141916
  10. AFP, "PM to inaugurate rehabilitated Ziarat Residency on August 12", Geo News, 6 August 2014: rebuilt from the provincial government's own resources, work from April 2014 completed in four months (gives 1861 as the building's date). https://www.geo.tv/latest/95058-pm-to-inaugurate-rehabilitated-ziarat-residency-on-august-12
  11. Syed Ali Shah, "Rehabilitated Ziarat Residency to be inaugurated on August 14th", Dawn, 14 May 2014: Rs 140 million from provincial resources. https://www.dawn.com/news/1106091
  12. "Death and state funeral of Muhammad Ali Jinnah", Wikipedia (pointer; cites Stanley Wolpert, Jinnah of Pakistan, OUP 1984, pp. 366–370): June 1948 in Quetta and Ziarat, 1 July State Bank, 6 July return to Quetta then Ziarat, 13 August to Quetta, pneumonia 9 September, funeral of 12 September led by Shabbir Ahmad Usmani with about a million mourners. https://en.wikipedia.org/wiki/Death_and_state_funeral_of_Muhammad_Ali_Jinnah
  13. "Quaid-e-Azam Residency", Wikipedia (pointer): built 1892 as a sanatorium, later summer residence of the Agent to the Governor-General, museum and national monument, Rs 100 note. https://en.wikipedia.org/wiki/Quaid-e-Azam_Residency
  14. "Fatima Jinnah", Wikipedia (pointer; cites Akhtar Baloch, "The deleted bits from Fatima Jinnah's 'My Brother'", Dawn, 27 December 2014): My Brother written 1955, published 1987 by the Quaid-i-Azam Academy, pages removed by Sharif al Mujahid. https://en.wikipedia.org/wiki/Fatima_Jinnah

تاریخ کے اوراق: تمام تحریریں ←