منسا موسیٰ: مالی کا بادشاہ جس کے سونے کی شہرت یورپ تک پہنچی
چودہویں صدی عیسوی میں، جب یورپ خانہ جنگیوں اور قلت سے دوچار تھا، مغربی افریقہ کے صحرائی کنارے پر سلطنتِ مالی (Mali Empire) اپنے عروج پر تھی۔ اس سلطنت کا سب سے مشہور حکمران منسا موسیٰ (Mansa Musa) تھا جس…

چودہویں صدی عیسوی میں، جب یورپ خانہ جنگیوں اور قلت سے دوچار تھا، مغربی افریقہ کے صحرائی کنارے پر سلطنتِ مالی (Mali Empire) اپنے عروج پر تھی۔ اس سلطنت کا سب سے مشہور حکمران منسا موسیٰ (Mansa Musa) تھا جس نے تقریباً 1312ء سے 1337ء تک حکومت کی۔ "منسا" مالی کی زبان میں بادشاہ کا لقب تھا۔ آج منسا موسیٰ کا نام زیادہ تر اس کی دولت کے حوالے سے لیا جاتا ہے، مگر اس کی کہانی میں حج کا ایک مشہور سفر، ٹمبکٹو (Timbuktu) کی علمی رونق اور ایک وسیع سلطنت کا انتظام بھی شامل ہے۔
سلطنتِ مالی اور تخت تک رسائی
سلطنتِ مالی کی بنیاد سنجاتا کیتا (Sundiata Keita) نے تیرہویں صدی میں رکھی تھی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ سلطنت صحرائے اعظم کے آر پار تجارتی راستوں کا مرکز تھی: شمال سے نمک آتا تھا اور جنوب سے سونا اور ہاتھی دانت۔ دارالحکومت نیانی (Niani) تھا جبکہ ٹمبکٹو دریائے نائیجر کے قریب سب سے اہم تجارتی شہر تھا۔
منسا موسیٰ کے تخت پر آنے کی کہانی ایک بحری مہم سے جڑی ہے۔ عرب مؤرخ العمری کی روایت کے مطابق، جو بی بی سی نے نقل کی ہے، اس کا پیش رو ابوبکر بحرِ اوقیانوس کے پار کیا ہے، یہ جاننے کے لیے بحری بیڑہ لے کر نکلا اور کبھی واپس نہ آیا۔ اس کی غیر موجودگی میں موسیٰ نائب کے طور پر حکومت چلا رہا تھا اور بعد میں خود بادشاہ بن گیا۔ اس کی پیدائش کا سال بھی یقینی نہیں؛ بی بی سی اسے 1280ء کے لگ بھگ بتاتا ہے۔
سلطنت کی وسعت اور انتظام
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق منسا موسیٰ کے پاس تقریباً ایک لاکھ سپاہیوں کی فوج تھی جس میں دس ہزار گھڑ سوار شامل تھے۔ اس دور میں سلطنت کی حدود مغرب میں گیمبیا اور سینیگال تک، اور مشرق میں دریائے نائیجر پر واقع شہر گاؤ (Gao) تک پھیل گئیں۔ بی بی سی کے مطابق اس کی سلطنت تقریباً دو ہزار میل پر پھیلی ہوئی تھی اور آج کے سینیگال، موریطانیہ، مالی، برکینا فاسو، نائیجر، گیمبیا، گنی بساؤ، گنی اور آئیوری کوسٹ کے حصے اس میں شامل تھے۔ بی بی سی کے مطابق اس کے دور میں ٹمبکٹو سمیت 24 شہر سلطنت میں شامل ہوئے۔
اتنے بڑے علاقے کو چلانے کے لیے، ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے بقول، منسا موسیٰ نے سلطنت کو صوبوں میں بانٹا اور ہر صوبے پر اپنا مقرر کردہ گورنر بٹھایا۔ ریاست کی آمدنی تجارت پر محصول، سونے اور تانبے کی کانوں اور مفتوحہ قبائل کے خراج سے آتی تھی۔ بی بی سی نے برٹش میوزیم کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس زمانے میں پرانی دنیا کے سونے کا تقریباً نصف حصہ مالی سے آتا تھا۔
1324ء کا حج اور قاہرہ میں سونا
منسا موسیٰ کو عالمی شہرت 1324ء کے سفرِ حج سے ملی۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق اس سے پہلے مالی مغربی افریقہ سے باہر بہت کم جانا جاتا تھا۔ قافلے کے حجم کے بارے میں روایات مختلف ہیں؛ بی بی سی کے مطابق بادشاہ ساٹھ ہزار افراد کے ساتھ روانہ ہوا جن میں درباری، سپاہی، تاجر، شتربان اور بارہ ہزار غلام شامل تھے۔
جولائی 1324ء میں قافلہ قاہرہ پہنچا جہاں منسا موسیٰ نے تقریباً تین ماہ قیام کیا۔ ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق العمری کی روایت میں آتا ہے کہ مصر کے سلطان الناصر محمد سے ملاقات کے آداب پر پہلے کچھ ہچکچاہٹ ہوئی، پھر ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ قاہرہ کے بازاروں میں اتنا سونا خرچ اور تقسیم ہوا کہ وہاں سونے کی قدر گر گئی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق چاندی کے مقابلے میں سونے کے دینار کی قیمت تقریباً بیس فیصد کم ہوئی اور بازار کو سنبھلنے میں بارہ برس لگے؛ بی بی سی یہ مدت تقریباً دس برس بتاتا ہے۔
اس کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے۔ کئی معاصر عرب مصنفین کے مطابق واپسی کے سفر میں بادشاہ کا خزانہ ختم ہو گیا اور اسے مصری تاجروں سے بھاری شرح پر قرض لینا پڑا۔ بی بی سی نے لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز کی لوسی ڈوران کے حوالے سے لکھا ہے کہ مالی کے روایتی داستان گو (گریو) اس فیاضی کو پسند نہیں کرتے، کیونکہ ان کے خیال میں اس سے مقامی وسائل سلطنت سے باہر لٹا دیے گئے۔
ٹمبکٹو: مسجدیں اور مدرسے
حج سے واپسی پر منسا موسیٰ اپنے ساتھ علما اور معمار لایا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس نے گاؤ اور ٹمبکٹو میں مسجدیں اور نیانی میں دربار کا ایک ہال تعمیر کرایا۔ ٹمبکٹو کی مشہور جامع مسجد جنگریبر (Djinguereber) کو روایتی طور پر اسی دور سے جوڑا جاتا ہے، اور اس کا ڈیزائن اندلس کے شاعر اور معمار ابو اسحاق الساحلی (Abu Ishaq al-Sahili) سے منسوب کیا جاتا ہے۔
منسا موسیٰ نے کتابیں منگوائیں، علما کو مالی آنے کی دعوت دی اور مقامی طلبہ کو مراکش کے شہر فاس (Fez) پڑھنے بھیجا۔ بی بی سی کے مطابق اس نے اسکولوں، کتب خانوں اور مسجدوں پر رقم خرچ کی، اور ٹمبکٹو رفتہ رفتہ علم کا ایسا مرکز بن گیا جہاں دور دراز سے طلبہ آنے لگے اور جو آگے چل کر سنکورے (Sankore) کے علمی مرکز کے نام سے مشہور ہوا۔
"تاریخ کا امیر ترین انسان"؟
منسا موسیٰ کو اکثر "تاریخ کا امیر ترین انسان" کہا جاتا ہے، مگر یہ ایک اندازہ ہے، کوئی ثابت شدہ حساب نہیں۔ بی بی سی کے مطابق 2012ء میں ایک امریکی ویب سائٹ نے اس کی دولت چار سو ارب ڈالر بتائی، لیکن معاشی مؤرخین متفق ہیں کہ اس کی دولت کو کسی ایک عدد میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے مؤرخ روڈولف بُچ ویئر نے بی بی سی سے کہا کہ معاصر بیانات اتنے پرجوش ہیں کہ اس کی اصل دولت اور طاقت کا اندازہ لگانا "تقریباً ناممکن" ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا بھی محتاط الفاظ میں کہتا ہے کہ وہ "شاید" تاریخ کا امیر ترین شخص تھا۔
آخری ایام اور ورثہ
بی بی سی کے مطابق منسا موسیٰ نے 1337ء میں تقریباً ستاون برس کی عمر میں وفات پائی، اگرچہ قدیم ماخذ کی بنیاد پر اس کی پیدائش اور وفات دونوں کے سال اندازے ہی ہیں۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس کے بعد اس کا بیٹا منسا مغا اور پھر بھائی منسا سلیمان تخت پر بیٹھے۔ بی بی سی کے مطابق بعد کے حکمران سلطنت کو یکجا نہ رکھ سکے؛ پندرہویں صدی میں خانہ جنگیوں، نئے تجارتی راستوں اور سونگھائی (Songhai) سلطنت کے عروج نے مالی کا زوال مکمل کر دیا۔
منسا موسیٰ کی شہرت کا ایک دیرپا نشان 1375ء کا کاتالان اٹلس (Catalan Atlas) ہے، جو ہسپانوی نقشہ نویسوں نے بنایا۔ اس میں مغربی افریقہ کے نقشے پر ایک بادشاہ تخت پر بیٹھا ہے، سر پر سونے کا تاج اور ہاتھ میں سونے کا ٹکڑا۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق اسی اٹلس کے بعد منسا موسیٰ عالمی تصور میں بے پناہ دولت کی علامت بن گیا۔
منسا موسیٰ کی کہانی میں سونا سب سے نمایاں ہے، مگر اس کا اصل نقش شاید ٹمبکٹو ہے، جو اس کے بعد صدیوں تک علم اور تجارت کے شہر کے طور پر جانا گیا۔ اس کی دولت کے اعداد و شمار پر بحث جاری رہے گی، لیکن یہ طے ہے کہ اس کے ایک سفر نے مغربی افریقہ کو باقی دنیا کے نقشے پر نمایاں کر دیا۔
ماخذ
- Mark Cartwright, "Mansa Musa I: The Richest Man in History?", World History Encyclopedia, 26 February 2019. https://www.worldhistory.org/Mansa_Musa_I/
- BBC News, "Is Mansa Musa the richest man who ever lived?", 10 March 2019. https://www.bbc.co.uk/news/world-africa-47379458
- National Geographic Society (Education), "Mansa Musa (Musa I of Mali)". https://education.nationalgeographic.org/resource/mansa-musa-musa-i-mali/
- HISTORY.com Editors, "This 14th-Century African Emperor Remains the Richest Person in History", HISTORY.com. https://www.history.com/articles/who-was-the-richest-man-in-history-mansa-musa
- Wikipedia, "Mansa Musa" (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/Mansa_Musa



