رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 22° / 11°فجر 05:19ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:53عشا 19:13
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

سلطان محمد فاتح: قسطنطنیہ کی فتح اور عثمانی سلطنت کی نئی بنیاد

پندرہویں صدی کے وسط تک ایک ہزار سال پرانی بازنطینی سلطنت سکڑ کر تقریباً ایک شہر تک محدود ہو چکی تھی، مگر وہ شہر قسطنطنیہ تھا: یورپ اور ایشیا کے سنگم پر آباد، تہری فصیلوں سے گھرا ہوا اور صدیوں…

سلطان محمد فاتح: قسطنطنیہ کی فتح اور عثمانی سلطنت کی نئی بنیاد
علامتی تصویر

پندرہویں صدی کے وسط تک ایک ہزار سال پرانی بازنطینی سلطنت سکڑ کر تقریباً ایک شہر تک محدود ہو چکی تھی، مگر وہ شہر قسطنطنیہ تھا: یورپ اور ایشیا کے سنگم پر آباد، تہری فصیلوں سے گھرا ہوا اور صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جانے والا۔ 29 مئی 1453ء کو اکیس سالہ عثمانی سلطان محمد ثانی (Mehmed II) نے یہ شہر فتح کر لیا اور تاریخ میں "فاتح" کے لقب سے یاد کیے گئے۔ ان کے دور میں عثمانی ریاست اناطولیہ اور بلقان کی ایک بڑی سلطنت بن گئی۔

ابتدائی زندگی اور تربیت

محمد 30 مارچ 1432ء کو ادرنہ میں پیدا ہوئے۔ وہ سلطان مراد ثانی (Murad II) کے تیسرے بیٹے تھے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بچپن ہی میں انہیں بحیرۂ اسود کے خطے کے شہر اماسیہ کا گورنر بنا دیا گیا، جہاں شاہی اتالیقوں نے انہیں دینیات، تاریخ اور مختلف زبانوں کی تعلیم دی۔ اسی دور میں ان کے دل میں قسطنطنیہ کی فتح کی خواہش پیدا ہوئی۔

1444ء میں مراد ثانی مسلسل جنگوں اور اپنے پسندیدہ بیٹے علاء الدین کی وفات سے دل برداشتہ ہو کر تخت سے دستبردار ہو گئے اور بارہ سالہ محمد سلطان بنے۔ مگر جلد ہی یورپ سے ایک نئی صلیبی مہم اٹھی۔ وزیرِ اعظم خلیل چندرلی کے مشورے پر مراد ثانی واپس آئے اور 1444ء میں وارنا کی جنگ میں صلیبی لشکر کو شکست دی۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے دوبارہ تخت سنبھال لیا اور محمد اپنی تعلیم کی طرف لوٹ گئے۔ 1451ء میں مراد ثانی کا انتقال ہوا اور محمد دوسری بار، اب مستقل طور پر، سلطان بنے۔

قسطنطنیہ کا محاصرہ

قسطنطنیہ کی اصل طاقت اس کی تھیوڈوسیائی فصیلیں تھیں۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق خشکی کی طرف خندق اور دیواروں کی کئی قطاروں والے اس نظام کی اندرونی دیوار پر چھیانوے برج بنے تھے۔ سلطان محمد نے محاصرے سے پہلے تیاری میں کئی ماہ لگائے۔ انہوں نے یورپی ریاستوں سے صلح کے معاہدے تازہ کیے، گیلی پولی میں بحری بیڑا تیار کیا، اور 1452ء میں آبنائے باسفورس کے یورپی کنارے پر روملی حصار کا قلعہ تعمیر کرایا جو ایشیائی کنارے پر پہلے سے موجود اناضولو حصار کے سامنے تھا۔ اس طرح بحیرۂ اسود سے شہر کو آنے والی رسد پر عثمانی گرفت مضبوط ہو گئی۔

اس مہم کا ایک اہم ہتھیار بڑی توپیں تھیں۔ ہنگری کے توپ ساز اربان (Urban) نے یہ توپیں تیار کیں۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق سب سے بڑی توپ تقریباً نو میٹر لمبی تھی اور اسے بھرنے اور ٹھنڈا ہونے میں اتنا وقت لگتا تھا کہ وہ دن میں صرف سات بار چل سکتی تھی۔

اپریل 1453ء کے اوائل میں عثمانی فوج شہر کے سامنے پہنچی اور 6 اپریل کو حملے شروع ہوئے۔ عثمانی فوج کی تعداد کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ عینی شاہد یونانی مورخ اسفرانتزیس نے دو لاکھ کا ذکر کیا، مگر جدید مورخین ساٹھ سے اسی ہزار کی تعداد کو زیادہ قرینِ قیاس سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف شہنشاہ قسطنطین یازدہم (Constantine XI) کے پاس، اسفرانتزیس کے مطابق، پانچ ہزار سے بھی کم سپاہی تھے، جن کی قیادت میں جینوا کے ماہرِ محاصرہ جیوانی جسٹینیانی (Giovanni Giustiniani) پیش پیش تھے۔

بازنطینیوں نے شاخِ زریں (Golden Horn) کے دہانے پر ایک بڑی زنجیر تان رکھی تھی تاکہ عثمانی جہاز اندر نہ آ سکیں۔ اس کا توڑ سلطان محمد نے یہ نکالا کہ تقریباً ستر جہازوں کو بیلوں کی مدد سے لکڑی کے راستے پر خشکی کے اوپر سے کھینچ کر شاخِ زریں میں اتار دیا۔ اس چال سے محافظوں پر دباؤ بڑھ گیا، کیونکہ اب محافظوں کو سمندر کی طرف والی کمزور فصیلوں پر بھی سپاہی لگانے پڑے۔

29 مئی کی صبح آخری حملہ تین لہروں میں ہوا۔ تیسری لہر میں ینی چری (Janissaries) دستے آگے بڑھے۔ جسٹینیانی شدید زخمی ہو کر میدان سے ہٹے تو محافظوں کا حوصلہ ٹوٹ گیا، اور شہنشاہ قسطنطین لڑتے ہوئے مارے گئے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس روایت کے تحت شہر میں لوٹ مار ہوئی اور بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے یا غلام بنائے گئے۔ اسی دن سلطان شہر میں داخل ہوئے اور ایاصوفیہ کے گرجا کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔

نئے دارالحکومت کی تعمیر

فتح کے بعد قسطنطنیہ عثمانی سلطنت کا دارالحکومت بنا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق عثمانی اسے "قسطنطنیہ" ہی کہتے رہے اور "استنبول" کا نام سرکاری طور پر بہت بعد میں جمہوریۂ ترکی کے دور میں اپنایا گیا۔ آبادی دوبارہ بسانے کے لیے سلطان نے اناطولیہ اور بلقان سے مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگوں کو شہر میں لا بسایا۔ انہوں نے نیا شاہی محل بنوایا جو بعد میں توپ قاپی محل کہلایا، بڑا بازار (Grand Bazaar) قائم کیا اور اپنے نام سے فاتح مسجد اور اس سے ملحق عمارتیں تعمیر کرائیں۔

مذہبی معاملات میں سلطان محمد نے غیر مسلم رعایا کو اپنے مذہب پر عمل کی اجازت دی، جس کے بدلے وہ جزیہ ادا کرتے تھے۔ انہوں نے یونانی آرتھوڈوکس کلیسا کا نیا سربراہ گینادیوس (Gennadios) کو مقرر کیا اور اسے اپنی برادری پر وسیع اختیارات دیے۔

فتوحات کا سلسلہ اور انتظام

قسطنطنیہ کے بعد بھی سلطان کی مہمات جاری رہیں۔ 1456ء میں بلغراد کے محاصرے میں انہیں ناکامی ہوئی، مگر 1459ء تک سربیا عثمانی سلطنت میں شامل ہو گیا۔ 1460ء میں موریا (جنوبی یونان) اور 1461ء میں طرابزون فتح ہوا، جو بازنطینی دنیا کی آخری نشانی تھا۔ 1463ء سے 1479ء تک وینس سے طویل جنگ لڑی گئی۔ 1480ء میں عثمانی فوج نے جزیرہ روڈس پر حملہ کیا جو ناکام رہا، جبکہ اسی برس اٹلی کے ساحلی شہر اوٹرانٹو پر قبضہ ہوا۔ انیسویں صدی کے برطانوی مورخ ایڈورڈ کریزی (Edward Creasy) کے مطابق اوٹرانٹو پر قبضے کے دوران شہر کی آبادی کا بڑا حصہ مارا گیا۔

انتظامی طور پر سلطان محمد نے حکومت کو مرکزیت دی۔ وزیرِ اعظم کے اختیارات کم کر کے دوسرے وزراء میں بانٹے گئے، اور سلطان کی سربراہی میں دیوان یعنی شاہی کونسل کے باقاعدہ اجلاس ہونے لگے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق قوانین (قانون) کی تدوین، جسے عموماً سلیمان اعظم سے منسوب کیا جاتا ہے، محمد فاتح کے دور میں ہی شروع ہو چکی تھی۔

علم و فن کی سرپرستی

سلطان محمد بچپن سے یونانی اور رومی ادب پڑھتے رہے اور زندگی بھر قلمی نسخے جمع کرتے رہے۔ انہوں نے شاعروں، ادیبوں اور علما کی سرپرستی کی اور یورپ اور مشرقِ وسطیٰ سے فلسفیوں، ماہرینِ فلکیات اور مصوروں کو اپنے دربار میں بلایا۔ وینس کے مصور جینٹیلے بیلینی (Gentile Bellini) کی بنائی ہوئی ان کی تصویر آج بھی مشہور ہے۔ مورخ جان فریلی کے مطابق ان کا دربار اپنی شان میں یورپی نشاۃِ ثانیہ کے شہزادوں کے درباروں کا ہم پلہ تھا۔

آخری ایام

1481ء کے موسمِ بہار میں سلطان ایک نئی مہم پر روانہ ہوئے جس کی منزل انہوں نے کسی کو نہیں بتائی تھی۔ راستے میں وہ بیمار ہوئے اور 3 مئی 1481ء کو انتقال کر گئے۔ ان کے بڑے بیٹے بایزید ثانی (Bayezid II) جانشین بنے۔

محمد فاتح کی فتح نے قرونِ وسطیٰ کی ایک ہزار سالہ سلطنت کا خاتمہ کیا اور قسطنطنیہ کو ایک نئی اور پھیلتی ہوئی سلطنت کا مرکز بنا دیا۔

ماخذ

  1. Zain Khokhar, "Mehmed II", World History Encyclopedia, 13 May 2020. https://www.worldhistory.org/Mehmed_II/
  2. Mark Cartwright, "1453: The Fall of Constantinople", World History Encyclopedia, 23 January 2018. https://www.worldhistory.org/article/1180/1453-the-fall-of-constantinople/
  3. HISTORY.com Editors, "Ottoman Empire", HISTORY.com (A&E Television Networks). https://www.history.com/articles/ottoman-empire
  4. Edward S. Creasy, History of the Ottoman Turks: From the Beginning of Their Empire to the Present Time, vol. 1, Richard Bentley, London, 1858, ch. V (Rhodes and Otranto, death of Mehmed II). Internet Archive: https://archive.org/details/39020024848353-historyoftheott
  5. "Mehmed II", Wikipedia (pointer only: birthplace, Otranto, Bellini portrait). https://en.wikipedia.org/wiki/Mehmed_II
  6. "Amasya", Encyclopaedia Britannica (fact-check 20 Oct 2026: an inland city of the Black Sea region). https://www.britannica.com/place/Amasya

حکمران اور سلاطین: تمام تحریریں ←