راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
میر تقی میرؔ کی غزل۔

میر تقی میرؔ کی غزل۔
غزل
راہ دور عشق میں روتا ہے کیاآگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
قافلے میں صبح کے اک شور ہےیعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا
سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیںتخم خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا
یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیںداغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا
غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیزمیرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا
مشکل الفاظ
- راہِ دورِ عشق: عشق کا لمبا راستہ
- قافلے: کارواں، مسافروں کی جماعت
- غافل: بے خبر، سویا ہوا
- سرزمیں: زمین، علاقہ
- تخمِ خواہش: خواہش کا بیج
- داغ: زخم یا جلنے کا نشان
- عبث: بے فائدہ، بے کار
- غیرتِ یوسف: ایسا کہ یوسفؑ کو بھی اس پر رشک آئے
- وقتِ عزیز: قیمتی وقت ("عزیز" میں عزیزِ مصر کی طرف بھی اشارہ)
- رائیگاں: ضائع، بے کار
پس منظر
اس غزل کا مطلع عام طور پر "ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا" کی صورت میں پڑھا اور گایا جاتا ہے، مگر ریختہ کے متن میں پہلا مصرع "راہ دور عشق میں روتا ہے کیا" ہے۔ ریختہ پر اس غزل کے پانچ شعر درج ہیں1؛ یہاں وہی متن دیا گیا ہے۔ آخری شعر میں "وقت عزیز" کو یوسفؑ سے جوڑا گیا ہے، جنہیں عزیزِ مصر نے خریدا تھا؛ یعنی وقت یوسف سے بھی قیمتی ہے، اسے رو کر نہ گنواؤ۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، میر تقی میرؔ: "راہ دور عشق میں روتا ہے کیا" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/mir-taqi-mir-ghazals-36?lang=ur
- ریختہ، میر تقی میرؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/meer-taqi-meer/profile?lang=ur
- کلیاتِ میر، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/kulliyatimir
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur


