جوابِ شکوہ
«شکوہ» کے بعد اقبال نے یہ نظم لکھی، جس میں اللہ کی طرف سے جواب دیا گیا ہے: زوال کا سبب خود مسلمانوں کی بے عملی ہے، اور جو عشق اور عمل کا راستہ اپنائے اس کے لیے آج بھی…

علامہ محمد اقبال · بانگِ درا، حصہ سوم
پس منظر
«شکوہ» کے بعد اقبال نے یہ نظم لکھی، جس میں اللہ کی طرف سے جواب دیا گیا ہے: زوال کا سبب خود مسلمانوں کی بے عملی ہے، اور جو عشق اور عمل کا راستہ اپنائے اس کے لیے آج بھی وہی وعدے ہیں۔ یہ چھ چھ مصرعوں کے 36 بندوں کی نظم ہے اور «بانگِ درا» کے تیسرے حصے میں ہے12۔ ایک روایت کے مطابق اقبال نے اسے 1913ء میں لاہور کے موچی دروازے کے باہر ایک جلسے میں سنایا3؛ انٹرنیشنل اقبال سوسائٹی کی فہرست میں اس کا سال 1912ء ہے4۔
کلام
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے
عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مرا
٭
پیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئی
چاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی
کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا
٭
تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا
تا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا
غافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں
٭
اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہے
عالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
٭
آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا
آسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ ترا
شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے
٭
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں
تربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
٭
ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں
بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں
بادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئے
٭
وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھا
جو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا
کسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لو
٭
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
طبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہے
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں
٭
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کے
٭
صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے
میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
٭
کیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
عدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور
تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں
٭
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
٭
کون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زار
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں
٭
جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریب
نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریب
امرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سے
٭
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
٭
شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
٭
دم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاک
شجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراک
خود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بود
٭
ہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھا
جو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھا
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہو
٭
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہے
حیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
٭
تم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریم
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
تخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی
٭
خودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکنار
اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی
٭
مثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئے
شوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئے
ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیا
٭
قیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہے
وہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہے
گلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہو
٭
عہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہے
اس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
٭
دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالی
رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے
٭
امتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیں
سیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیں
نخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا
٭
پاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیرا
قافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرا
نخل شمع استی و در شعلہ دود ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ تو
٭
تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
کشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہے
٭
ہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا
تو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کا
کیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سے
٭
چشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیری
زندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیری
وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
٭
مثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جا
ہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج سے ہنگامۂ طوفاں ہو جا
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے
٭
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
٭
دشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہے
چین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھے
٭
مردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیا
گرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیا
تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح
٭
عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تری
ما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
مشکل الفاظ
- اثر رکھتی ہے: دل پر اثر کرتی ہے
- پر نہیں طاقتِ پرواز: اڑنے کی طاقت نہ ہونا
- رفعت: بلندی
- گردوں: آسمان
- پیرِ گردوں: بوڑھا آسمان
- رضواں: جنت کا داروغہ
- کہکشاں: آسمان پر ستاروں کی لمبی پٹی
- قدسی: فرشتے
- شوخ: گستاخ، بے باک
- ہرجائی: بے وفا، ہر جگہ دل لگانے والا
- یکجائی: ایک ہی جگہ کا ہو رہنا
- مقامی: ایک جگہ تک محدود
- منفعت: فائدہ
- حرم: خانۂ کعبہ
- آبا: باپ دادا، بزرگ
- سریر: تخت
- غیور: غیرت مند
- اخوت: بھائی چارہ
- دود: دھواں (فارسی شعر میں «دَوَد»: دوڑتی ہے)
- عاقبت سوز: انجام کو جلا دینے والا
- تنک مایہ: کم سرمایہ، کمزور
- ہنگامۂ طوفاں: طوفان کا شور
- رفعنا لک ذکرک: «ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا» (سورۂ الم نشرح کی آیت)
- مردمِ چشم: آنکھ کی پتلی
- عقل ہے تیری سپر: عقل تیری ڈھال ہے
- درویش: فقیر
- ماسوا: سوا، اللہ کے علاوہ سب کچھ
- لوح و قلم: تقدیر کی تختی اور قلم
ماخذ
- Rekhta, «جوابِ شکوہ», Allama Iqbal: text. https://www.rekhta.org/nazms/javaab-e-shikva-dil-se-jo-baat-nikaltii-hai-asar-rakhtii-hai-allama-iqbal-nazms?lang=ur
- International Iqbal Society, Kulliyat-e-Iqbal (Urdu), Bang-e-Dara Part 3, «جوابِ شکوہ»: text used for comparison. https://iqbal.com.pk/poetical-works/7-poetical-works/kuliyat-e-iqbal-urdu/bang-e-dra/baang-e-dara-part3/229-jawab-e-shikwa.html
- "Shikwa and Jawab-e-Shikwa", Wikipedia (pointer only): recited in 1913 at a political rally outside Mochi Gate, Lahore; 36 stanzas of six lines; published in Bang-e-Dara. https://en.wikipedia.org/wiki/Shikwa_and_Jawab-e-Shikwa
- International Iqbal Society, "Time Line": "1912: Wrote the epoch-making 'Jawab-e-Shikwa'". https://iqbal.com.pk/iqbal/time-line.html







