غالب: دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
سادہ زبان اور سوالیہ ردیف "کیا ہے" نے اس غزل کو غالب کی مقبول ترین غزلوں میں شامل کر دیا ہے [1]۔ ابتدائی شعروں کے سوال دل اور محبوب سے ہیں، پھر شاعر کائنات کی طرف مڑتا ہے: سبزہ و…

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2
پس منظر
سادہ زبان اور سوالیہ ردیف "کیا ہے" نے اس غزل کو غالب کی مقبول ترین غزلوں میں شامل کر دیا ہے1۔ ابتدائی شعروں کے سوال دل اور محبوب سے ہیں، پھر شاعر کائنات کی طرف مڑتا ہے: سبزہ و گل، بادل اور ہوا کہاں سے آئے؟ مقطع میں غالب اپنی عاجزی کا اعتراف بھی شوخی کے ساتھ کرتا ہے۔
غزل
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیںغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
شکن زلف عنبریں کیوں ہےنگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیںابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگااور درویش کی صدا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
مشکل الفاظ
- ناداں: نادان، ناسمجھ
- مشتاق: شوق رکھنے والا، منتظر
- بیزار: اکتایا ہوا، ناخوش
- ماجرا: معاملہ، قصہ
- مدعا: مقصد، دل کی بات
- ہنگامہ: شور، رونق، ہلچل
- پری چہرہ: پری جیسے حسین چہرے والے
- غمزہ و عشوہ و ادا: محبوب کے ناز، نخرے اور انداز
- شکن زلف عنبریں: خوشبودار زلف کا بل
- چشم سرمہ سا: سرمہ لگی آنکھ
- درویش کی صدا: فقیر کی پکار، دعا
- نثار: قربان
ماخذ
- ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (11 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/dil-e-naadaan-tujhe-huaa-kyaa-hai-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
- ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
- "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib


