سقراط: میدان کا ڈاکٹر اور 1982 کا کپتان
سقراط (Sócrates) برازیل کے مڈفیلڈر تھے جنہوں نے 1982 کے عالمی کپ میں اس برازیلی ٹیم کی کپتانی کی جسے آج بھی ٹورنامنٹ جیتے بغیر سب سے خوبصورت فٹبال کھیلنے والی ٹیموں میں گنا جاتا ہے [1][2]۔ وہ باقاعدہ ڈاکٹر…

سقراط (Sócrates) برازیل کے مڈفیلڈر تھے جنہوں نے 1982 کے عالمی کپ میں اس برازیلی ٹیم کی کپتانی کی جسے آج بھی ٹورنامنٹ جیتے بغیر سب سے خوبصورت فٹبال کھیلنے والی ٹیموں میں گنا جاتا ہے2۔ وہ باقاعدہ ڈاکٹر تھے، اور اسی لیے شائقین انہیں "ڈاکٹر" (Doutor) کہتے تھے۔ لمبا قد، گھنی داڑھی، اور ایڑی سے بغیر دیکھے پاس دینے کا انداز ان کی پہچان تھا3۔ برازیل کے لیے انہوں نے 60 میچوں میں 22 گول کیے1۔
ابتدائی زندگی اور آغاز
سقراط کا پورا نام سقراط براسیلیرو سمپائیو دی سوزا ویئرا دی اولیویرا تھا۔ وہ 19 فروری 1954 کو شمالی برازیل کے شہر بیلیم (Belém) میں پیدا ہوئے۔ ان کا قد 1.92 میٹر تھا، جو ایک مڈفیلڈر کے لیے غیر معمولی تھا3۔
انہوں نے ساؤ پاؤلو ریاست کے کلب بوٹافوگو (Botafogo-SP) سے پیشہ ورانہ فٹبال شروع کی۔ وہ ساتھ ساتھ طب کی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے، اور انسائیڈ ورلڈ فٹبال کے مطابق انہوں نے پچیس برس کی عمر تک برازیل کی قومی ٹیم میں آنے کا انتظار اس لیے کیا کہ پہلے ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کر سکیں1۔
کلب کیریئر
1978 میں سقراط ساؤ پاؤلو کے مقبول کلب کورنتھیانز (Corinthians) آئے، اور یہ ان کے کیریئر کا سب سے کامیاب دور ثابت ہوا۔ چھ سیزن میں انہوں نے لیگ کے 297 میچوں میں 172 گول کیے، جو ایک مڈفیلڈر کے لیے بہت بڑی تعداد ہے1۔ اس دوران کورنتھیانز نے تین بار ساؤ پاؤلو ریاست کی چیمپئن شپ "کامپیوناتو پاؤلستا" جیتی3۔
1984 میں وہ اٹلی کے کلب فیورنٹینا (Fiorentina) گئے اور ایک سیزن کھیلے۔ پھر برازیل لوٹ کر فلامینگو اور سانتوس کے لیے کھیلے، اور 1989 میں کھیل چھوڑ دیا۔ تقریباً پندرہ برس بعد، 2004 میں، انہوں نے انگلینڈ کی ایک چھوٹی نان لیگ ٹیم گارفورتھ ٹاؤن (Garforth Town) کے لیے ایک میچ میں مختصر واپسی کی، جو اس وقت خبروں کا موضوع بنی13۔
بین الاقوامی کیریئر
سقراط نے 1979 میں برازیل کے لیے پہلا میچ کھیلا۔ 1982 کا عالمی کپ اسپین میں ہوا۔ ان کی کپتانی میں برازیل کی ٹیم، جس میں زیکو، فالکاؤ اور ایڈر جیسے کھلاڑی تھے، اپنے حملہ آور اور فنکارانہ کھیل کی وجہ سے سب کی پسندیدہ تھی2۔ سوویت یونین کے خلاف پہلے میچ میں سقراط نے گول کیا3۔
دوسرے راؤنڈ میں بارسلونا کے سریا (Sarrià) اسٹیڈیم میں برازیل کو صرف برابری کافی تھی۔ پانچویں منٹ میں پاؤلو روسی نے اٹلی کو برتری دلائی، اور سات منٹ بعد سقراط نے برابر کر دیا۔ مگر روسی نے ہیٹ ٹرک مکمل کی، اور اٹلی 3-2 سے جیت گیا1۔ یہ میچ آج بھی عالمی کپ کی تاریخ کے مشہور ترین میچوں میں شمار ہوتا ہے2۔
1986 میں میکسیکو کے عالمی کپ میں سقراط نے اسپین اور پولینڈ کے خلاف گول کیے؛ پولینڈ کے خلاف پنالٹی انہوں نے بغیر رن اپ کے لی۔ فرانس کے خلاف کوارٹر فائنل 1-1 پر ختم ہوا، اور پنالٹی شوٹ آؤٹ میں انہوں نے پھر اسی انداز میں پنالٹی لی، مگر فرانسیسی گول کیپر جوئل باتس (Joël Bats) نے روک لی۔ فرانس شوٹ آؤٹ 4-3 سے جیتا4۔ یہ برازیل کے لیے سقراط کا آخری بڑا ٹورنامنٹ تھا3۔
کھیل کا انداز
سقراط تیز رفتار نہیں تھے، مگر کھیل کو بہت جلد پڑھ لیتے تھے۔ انسائیڈ ورلڈ فٹبال کے مطابق وہ دونوں پاؤں سے بہترین پاس دیتے تھے اور ان کی مہارت بہت نفیس تھی1۔ ان کی سب سے مشہور ادا ایڑی سے دیا گیا پاس تھا، اکثر بغیر دیکھے، جس سے مخالف دفاع حیران رہ جاتا۔ لمبے قد کے باوجود وہ گیند پر بہت نرم کنٹرول رکھتے تھے، اور مڈفیلڈ سے آگے بڑھ کر گول بھی کرتے تھے3۔
اعداد و شمار
| ٹیم | سال | میچ | گول |
|---|---|---|---|
| بوٹافوگو (ساؤ پاؤلو) | 1973–1978 | 99 | 35 |
| کورنتھیانز | 1978–1984 | 297 | 172 |
| فیورنٹینا | 1984–1985 | 25 | 6 |
| فلامینگو | 1986–1987 | 12 | 3 |
| سانتوس | 1988–1989 | 25 | 7 |
| برازیل | 1979–1986 | 60 | 22 |
کلب کے اعداد صرف لیگ میچوں کے ہیں، وکی پیڈیا کے کیریئر جدول سے 20 اکتوبر 2026 کو لیے گئے؛ کورنتھیانز کے 172 گول اور برازیل کے 60 میچ اور 22 گول انسائیڈ ورلڈ فٹبال کی 2011 کی رپورٹ سے بھی ملتے ہیں۔ 1970 اور 1980 کی دہائی کے برازیلی کپ اور ریاستی مقابلوں کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں، اس لیے کل تعداد نہیں دی گئی13۔
اعزازات
- کامپیوناتو پاؤلستا (کورنتھیانز): 1979، 1982، 1983 [3]
- جنوبی امریکہ کے بہترین فٹبالر: 1983 [3]
- 1982 کے عالمی کپ میں برازیل کے کپتان [1]
- فیفا 100 (2004) [3]
ورثہ
سقراط کی 1982 کی ٹیم عالمی کپ نہ جیت سکی، مگر وہ اس بات کی علامت بن گئی کہ فٹبال جیتنے کے ساتھ ساتھ خوبصورتی سے بھی کھیلا جا سکتا ہے2۔ ان کے چھوٹے بھائی رائی (Raí) بھی فٹبالر بنے اور 1994 میں عالمی کپ جیتنے والی برازیلی ٹیم کا حصہ تھے3۔ سقراط 4 دسمبر 2011 کو ستاون برس کی عمر میں ساؤ پاؤلو میں انتقال کر گئے1۔
ماخذ
- Inside World Football, "Brazil's 1982 World Cup captain Sócrates dies", 4 December 2011, https://insideworldfootball.com/2011/12/04/brazils-1982-world-cup-captain-socrates-dies ; Brian Glanville, "Sócrates: Formidable captain of the Brazilian team in the 1982 World Cup", The Guardian, 4 December 2011.
- Diário de Notícias, "História dos Mundiais: em 1982, a tragédia do Sarriá abriu caminho para o tricampeonato da Itália", https://www.dn.pt/desporto/histria-dos-mundiais-em-1982-a-tragdia-do-sarri-abriu-caminho-para-o-tricampeonato-da-itlia
- Wikipedia, "Sócrates" (pointer; accessed 20 October 2026), https://en.wikipedia.org/wiki/S%C3%B3crates
- The New European, "John Osborne's great lives: Sócrates", https://www.thenewworld.co.uk/john-osborne-great-lives-socrates/



