رومی کنکریٹ: دو ہزار سال سے کھڑی عمارتیں
آج کی تقریباً ہر عمارت میں کنکریٹ لگتا ہے، اور عام طور پر یہ چند دہائیوں بعد مرمت مانگنے لگتا ہے۔ مگر روم میں ایک گنبد ایسا بھی ہے جو تقریباً انیس سو سال سے بغیر سریے کے کھڑا ہے،…

آج کی تقریباً ہر عمارت میں کنکریٹ لگتا ہے، اور عام طور پر یہ چند دہائیوں بعد مرمت مانگنے لگتا ہے۔ مگر روم میں ایک گنبد ایسا بھی ہے جو تقریباً انیس سو سال سے بغیر سریے کے کھڑا ہے، اور بحیرۂ روم کے ساحلوں پر رومی دور کی بندرگاہوں کے پشتے دو ہزار سال سے سمندر کی لہریں سہہ رہے ہیں۔ یہ رومی کنکریٹ کا کمال ہے، جس کا راز سائنسدان اب جا کر سمجھ رہے ہیں۔
کنکریٹ کی شروعات
سمتھسونین میگزین کے مطابق رومیوں نے دو ہزار سال سے زیادہ پہلے کنکریٹ بنانا شروع کیا، اور دوسری صدی قبل مسیح کے آغاز تک وہ اسے بڑے تعمیراتی منصوبوں میں استعمال کر رہے تھے۔ چونے کا گارا غالباً یونانی بھی بناتے تھے، مگر امریکہ کی یونیورسٹی آف روچیسٹر کے انجینئر رناتو پیروکیو (Renato Perucchio) کے بقول گارے کو اینٹ یا پتھر کے ٹکڑوں کے ساتھ ملا کر کنکریٹ بنانا غالباً رومیوں کا طریقہ تھا۔
نسخہ سادہ تھا۔ چونے کا پتھر بھٹی میں جلا کر کلی چونا بنایا جاتا، اس میں پانی ملا کر لئی تیار ہوتی، اور پھر اس میں آتش فشانی راکھ ڈالی جاتی۔ سمتھسونین کے مطابق پہلی صدی قبل مسیح کے رومی معمار ویٹروویئس (Vitruvius) کی تحریروں میں عام طور پر تین حصے راکھ اور ایک حصہ چونا ملتا ہے۔ اس گارے میں مٹھی برابر اینٹوں کے ٹکڑے یا ٹف (tuff) نامی آتش فشانی پتھر ملا کر تہہ در تہہ بچھایا جاتا تھا۔
آتش فشاں کی راکھ
اس مسالے کی اصل جان آتش فشانی راکھ تھی۔ ویٹروویئس اپنی کتاب "فنِ تعمیر" میں لکھتے ہیں کہ خلیجِ نیپلز کے قریب بائیائی (Baiae) اور کوہِ ویسوویئس کے آس پاس ایک خاص ریت ملتی ہے، جو چونے اور پتھر کے ساتھ مل کر عام عمارتوں کی طرح پانی کے اندر بھی سخت ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ لہریں بھی اسے الگ نہیں کر پاتیں۔ یہ راکھ قریبی شہر پوزولی (Pozzuoli) کی نسبت سے "پوزولانا" کہلائی۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف اوٹاوا کے میوزیم آف کلاسیکل اینٹی کوئٹیز کے مطابق راکھ میں موجود حل پذیر سلیکا پانی کی موجودگی میں چونے سے مل کر سیمنٹ جیسا گاڑھا اور مضبوط مادہ بناتی ہے۔
سمندر میں کنکریٹ
رومی کنکریٹ کا سب سے حیران کن استعمال سمندر میں تھا۔ ویٹروویئس بندرگاہ بنانے کا طریقہ یوں بتاتے ہیں: کومائی (Cumae) کے علاقے سے لائی گئی راکھ کے دو حصے ایک حصہ چونے کے ساتھ ملائے جائیں، شاہ بلوط کی لکڑی کے کھمبوں سے پانی کے اندر ایک گھیرا بنایا جائے، اور پھر اسے پتھر اور اسی گارے سے بھر دیا جائے۔
سمتھسونین کے مطابق ارضیات دان میری جیکسن (Marie Jackson) کہتی ہیں کہ رومی یہ راکھ ہزاروں ٹن کی مقدار میں بحری جہازوں پر لاد کر اٹلی کے ساحل سے لے کر اسکندریہ اور ترکی تک بندرگاہیں بنانے کے لیے لے جاتے تھے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف یوٹاہ کی 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق رومی مصنف پلینی نے تقریباً 79 عیسوی میں لکھا تھا کہ بندرگاہ کا یہ کنکریٹ پتھر کا ایک ٹھوس تودہ بن جاتا ہے جو ہر روز پہلے سے مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
یوٹاہ یونیورسٹی کے مطابق جیکسن کی ٹیم نے رومی بندرگاہوں سے نکالے گئے نمونوں میں اس کی وجہ ڈھونڈ لی۔ سمندری پانی کنکریٹ میں رِس کر آتش فشانی راکھ کے کچھ حصے گھلا دیتا ہے، اور ان کی جگہ ایلومینیس ٹوبرمورائٹ (Al-tobermorite) اور فلپسائٹ (phillipsite) نامی معدنیات کی تہہ دار قلمیں اگ آتی ہیں، جو ایک دوسرے میں پھنس کر مسالے کو مزید مضبوط کر دیتی ہیں۔
پینتھیون کا گنبد
روم کا پینتھیون (Pantheon) رومی کنکریٹ کی سب سے مشہور مثال ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق موجودہ عمارت شہنشاہ ہیڈرین کے دور میں تقریباً 125 عیسوی میں مکمل ہوئی، جبکہ سمتھسونین اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) 128 عیسوی کی تاریخ دیتے ہیں۔ اس کا گنبد 43.2 میٹر چوڑا ہے، اور فرش سے چوٹی تک اس کی اونچائی بھی اتنی ہی ہے۔ چوٹی پر 8.8 میٹر کا ایک گول روشن دان کھلا ہے۔
گنبد کا وزن کم رکھنے کے لیے اس کے کنکریٹ میں ہلکا ٹف اور جھانویں جیسا ہلکا آتش فشانی پتھر ملایا گیا، اور اندر کی طرف چوکور خانے بنا کر وزن مزید گھٹایا گیا۔ سمتھسونین کے مطابق یہ آج بھی دنیا کا سب سے بڑا ایسا گنبد ہے جس میں لوہے کا سریا نہیں۔
خود بخود بھرنے والی دراڑیں
رومی کنکریٹ میں ملی میٹر جتنے سفید ذرات عام نظر آتے ہیں جنہیں ماہرین پہلے لاپروائی سے کی گئی آمیزش کا نشان سمجھتے تھے۔ MIT نیوز کے مطابق جنوری 2023 میں پروفیسر ایڈمر ماسک (Admir Masic) کی ٹیم نے سائنس ایڈوانسز نامی جریدے میں بتایا کہ یہ ذرات دراصل ایک خوبی ہیں۔ ٹیم نے اٹلی کے قدیم شہر پریورنم (Privernum) کی دیوار کے گارے کا جائزہ لیا تھا۔
ان کے مطابق رومی غالباً بجھے ہوئے چونے کے ساتھ یا اس کی جگہ براہِ راست کلی چونا استعمال کرتے تھے، جو پانی ملتے ہی شدید گرمی پیدا کرتا ہے۔ اسی "گرم آمیزش" سے چونے کے یہ ذرات بنے۔ جب کوئی دراڑ ان تک پہنچتی ہے تو پانی ان کا کیلشیم گھول لیتا ہے، جو دوبارہ کیلشیم کاربونیٹ بن کر دراڑ کو بھر دیتا ہے۔ تجربے میں توڑے گئے نمونوں میں چند ہفتوں کے اندر پانی کا بہاؤ رک گیا، جبکہ کلی چونے کے بغیر بنا نمونہ ٹھیک نہ ہوا۔
آج کا سبق
سائنس ایڈوانسز کے مقالے کے مطابق سیمنٹ کی صنعت دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا تقریباً آٹھ فیصد پیدا کرتی ہے۔ زیادہ پائیدار کنکریٹ کا مطلب کم مرمت اور کم اخراج ہے۔
پاکستان کے شہروں میں جو مکان، پل اور سڑکیں روز بنتی ہیں، وہ اسی پرانی کہانی کا نیا باب ہیں۔ رومی معماروں کے پاس خوردبین نہیں تھی، مگر انہوں نے مشاہدے اور تجربے سے وہ مسالا بنا لیا جس سے آج کے انجینئر بھی سیکھ رہے ہیں۔
ماخذ
- Erin Wayman, "The Secrets of Ancient Rome's Buildings", Smithsonian Magazine (16 Nov 2011). https://www.smithsonianmag.com/history/the-secrets-of-ancient-romes-buildings-234992/ — concrete begun more than 2,000 years ago, large-scale use by the beginning of the 2nd century BC; quicklime, water, volcanic ash about 3:1 per Vitruvius, first-century BC; mortar plus aggregate likely a Roman invention (Perucchio); ash shipped for harbours from Italy to Alexandria and Turkey (Jackson); Pantheon completed AD 128, largest unreinforced concrete dome.
- Vitruvius, The Ten Books on Architecture, tr. Joseph Gwilt (1826), LacusCurtius, University of Chicago. https://penelope.uchicago.edu/Thayer/E/Roman/Texts/Vitruvius/2*.html and https://penelope.uchicago.edu/Thayer/E/Roman/Texts/Vitruvius/5*.html — II.6: powder near Baiae and Vesuvius hardens under water; V.12: two parts powder from Cumae region to one of lime, cofferdams of oak piles filled with stone and mortar.
- Museum of Classical Antiquities, University of Ottawa, "Roman Concrete". https://omeka.uottawa.ca/museumclassicalantiquities/exhibits/show/classical-architecture/roman-concrete — soluble silica in volcanic ash reacts with lime to form a cement-like gel; mixed on site and laid by hand in layers.
- University of Utah News, "Roman concrete" (24 Feb 2017), on M. D. Jackson et al. in American Mineralogist. https://unews.utah.edu/articles/roman-concrete/ — Pliny c. AD 79 on harbour concrete growing stronger; ROMACONS drill cores 2002–2009; seawater dissolves volcanic ash and Al-tobermorite and phillipsite grow.
- Joshua J. Mark, "Pantheon", World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/Pantheon/ — current building completed c. 125 CE under Hadrian; 43.2 m span equal to height; 8.8 m oculus; concrete with light tufa and scoria; coffers.
- David L. Chandler, "Riddle solved: Why was Roman concrete so durable?", MIT News (6 Jan 2023). https://news.mit.edu/2023/roman-concrete-durability-lime-casts-0106 — Admir Masic's team; lime clasts once thought sloppy mixing; hot mixing with quicklime; self-healing of cracked samples, control without quicklime did not heal; Privernum sample; Pantheon dedicated 128 CE.
- L. M. Seymour, J. Maragh, P. Sabatini, M. Di Tommaso, J. C. Weaver, A. Masic, "Hot mixing: Mechanistic insights into the durability of ancient Roman concrete", Science Advances 9 (2023) eadd1602. https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC9821858/ — mortar from the city wall of Privernum, about 2,000 years old; quicklime used instead of or with slaked lime; crack flow stopped within the 30-day test; cement up to 8% of global greenhouse gas emissions.


