رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 22° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
گوادر: عوامی حلقوں کا ٹیچنگ ہسپتال میں ادویات اور بھرتیوں کے اقدامات پر وزیراعلیٰ اور مولانا ہدایت الرحمن کا شکریہبارکھان: پی پی ایچ آئی کی ”صحت دہلیز“ ایپ سے گھر بیٹھے آن لائن طبی مشورہ ممکن، ڈسٹرکٹ منیجر غلام رسولسیکرٹری ایکسائز سید ظفر علی بخاری کا کوئٹہ کے بی اے مال میں محکمے کے آگاہی اسٹال کا دورہزیارت ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت بابِ زیارت، اسکولوں، سڑکوں اور واٹر سپلائی سمیت مختلف منصوبوں پر کام جاریکوئٹہ: چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی زیرصدارت انسداد پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس، ماحولیاتی نمونے منفیکوئٹہ: ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی کا کلی شابو میں ادارہ برائے خصوصی بچوں کا دورہبارکھان: ضلعی ناظم صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کا ڈی ایچ کیو ہسپتال اور ایم سی ایچ سنٹر کا اچانک دورہدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کی زیرصدارت پی پی ایچ آئی کی ماہانہ ریویو میٹنگلورالائی: ڈپٹی کمشنر کی زیرصدارت ضلعی تعلیمی گروپ کا اجلاس، بند اسکولوں کی فوری بحالی کی ہدایتکوئٹہ: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا ’’صحت دہلیز‘‘ ایپ کا اعلان، پہلے روز 791 کالز پر مفت طبی مشاورتچمن: کمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کا دورہ، لائن ڈیپارٹمنٹس کا اجلاس، ماسٹر پلان اور ڈی ایچ کیو ہسپتال کا جائزہنصیرآباد: اُستا محمد میں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کی صدارت میں میٹرک کے پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں آگاہی اجلاس

8 ستمبر 1958: گوادر پاکستان کا حصہ بنا

پیر، 8 ستمبر 1958۔ مکران کے ساحل پر گوادر کے قلعے پر پونے دو سو برس سے سلطنتِ مسقط و عمان کا پرچم لہرا رہا تھا۔ اس دن کراچی سے جہاز "سردھانا" گوادر کی خلیج میں لنگر انداز ہوا، جس…

8 ستمبر 1958: گوادر پاکستان کا حصہ بنا
علامتی تصویر

تاریخ کے اوراق: یہ تحریر روزنامہ اعتماد کے اجرا (اکتوبر 1970) سے پہلے کے ایک دن کی کہانی ہے، جو دستیاب تاریخی ماخذ سے مرتب کی گئی ہے۔

پیر، 8 ستمبر 1958۔ مکران کے ساحل پر گوادر کے قلعے پر پونے دو سو برس سے سلطنتِ مسقط و عمان کا پرچم لہرا رہا تھا۔ اس دن کراچی سے جہاز "سردھانا" گوادر کی خلیج میں لنگر انداز ہوا، جس پر وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکرٹری آغا عبدالحمید اور پاکستان نیوی کا ایک مواصلاتی دستہ سوار تھا۔ گوادر کے ضلعی ریکارڈ میں یہی تاریخ درج ہے جس دن پاکستان نے یہ خطہ عمان سے حاصل کیا۔

ایک عمانی بندرگاہ، بلوچ ساحل پر

گوادر عمان کے پاس کیسے گیا؟ اطالوی محقق بیاٹریس نکولینی لکھتی ہیں کہ اٹھارہویں صدی کے آخر میں قلات کے حاکم میر نصیر خان اول نے گوادر کی بندرگاہ آلِ بوسعید کے شہزادے سلطان بن احمد کو عطا کی، جو 1784 کے لگ بھگ مسقط سے بھاگ کر آیا تھا۔ عدنان عامر، ایڈمرل افتخار احمد راؤ کی کتاب کے حوالے سے، لکھتے ہیں کہ نصیر خان نے سلطان بن احمد کو گزر اوقات کے لیے گوادر کی آدھی آمدن دی تھی؛ وہ 1792 میں مسقط کا سلطان بن گیا۔

مسقط نے گوادر پر ایک والی مقرر کیا، جس نے خلیج کے محفوظ کنارے پر قلعہ بنایا۔ نکولینی کے بقول گوادر عرب اور مشرقی افریقہ سے وسطی ایشیا کی طرف جانے والی تجارت کا ایک مرکز رہا؛ پرانے بازار کی افریقی نسل کی آبادی اور اسماعیلی خوجہ برادری اسی تاریخ کی یادگار ہیں۔

تین سال کی بات چیت

عدنان عامر لکھتے ہیں کہ پاکستان نے گوادر کی واپسی کی کوشش 1948 سے شروع کر دی تھی۔ سلطان سعید بن تیمور براہِ راست بات پر تیار نہیں تھے، چنانچہ بات چیت برطانوی حکومت کے ذریعے ہوئی۔

کیپٹن (ر) احمد ظہیر کے مطابق یہ معاملہ تقریباً چار برس چلا۔ عامر لکھتے ہیں کہ معاہدہ اس طرح ترتیب دیا گیا کہ سلطان گوادر "فروخت" کرنے کے بجائے آمدن کے نقصان کا معاوضہ وصول کریں۔

رقم کتنی تھی؟ ماخذ یہاں مختلف ہیں، اس لیے ہم وہی لکھ رہے ہیں جو ہر ماخذ کہتا ہے۔ ڈان کے 2008 کے مضمون کے مطابق پاکستان نے ستمبر 1958 میں تیس لاکھ پاؤنڈ ادا کیے، اور بعض ماخذ یہ رقم نصف بتاتے ہیں۔ عدنان عامر، راؤ کی کتاب میں شامل چودہ نکاتی معاہدے کے حوالے سے، لکھتے ہیں کہ تیس لاکھ پاؤنڈ آمدن کے نقصان کے عوض دیے گئے اور طے ہوا کہ اگر گوادر میں تیل نکلا تو پچیس برس تک منافع کا دس فیصد عمان کو ملے گا۔ ڈیلی ٹائمز کی ایک تحریر اور ایک خط میں رقم تیس لاکھ امریکی ڈالر لکھی گئی ہے۔

آگے کیا ہوا

  • 8 دسمبر 1958: گوادر باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا۔ احمد ظہیر کے مطابق تقریب کا کوڈ نام "آپریشن براوو" تھا؛ گوادر کے والی نے سلطان کی طرف سے علاقے کے کاغذات پاکستان کے نمائندے کے حوالے کیے، پاکستان کا پرچم لہرایا گیا اور خلیج میں کھڑے جہاز پی این ایس بابر نے اکیس توپوں کی سلامی دی۔
  • یکم جولائی 1970: گوادر چیف کمشنر کے سابق صوبے اور سابق ریاستوں کے ساتھ نئے صوبہ بلوچستان کا حصہ بنا۔
  • یکم جولائی 1977: گوادر نئے ضلع گوادر کا صدر مقام بنا۔
  • 1954 کی ایک سفارش: امریکی ماہر ورث کونڈرک نے ساحل کے سروے کے بعد یہاں گہرے پانی کی بندرگاہ کی سفارش کی تھی، جو عشروں تک فائلوں میں رہی۔ 1988 سے 1992 تک ایک چھوٹی بندرگاہ بنی، مگر کوئی بڑا جہاز نہیں آیا۔
  • 22 مارچ 2002: گہرے پانی کی بندرگاہ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ ابتدائی تخمینہ 248 ملین ڈالر تھا، جو بڑھ کر 298 ملین ڈالر ہو گیا۔
  • 2007: سنگاپور کی کمپنی پی ایس اے کو چالیس برس کے لیے بندرگاہ چلانے کا ٹھیکہ ملا۔
  • 18 فروری 2013: بندرگاہ کا انتظام چین کی سرکاری کمپنی چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کے حوالے کیا گیا۔

کیا آپ کے گھر میں عمانی دور کے گوادر کی کوئی تصویر، دستاویز یا یاد محفوظ ہے؟ ہمیں ضرور بھیجیں۔ ہم اسے آپ کے نام کے ساتھ اس صفحے پر شامل کریں گے۔

ماخذ

  1. Beatrice Nicolini, "International trade networks: The Omani Enclave of Gwadar", abstract, German and International Research on Oman conference, Bonn 1998 (Oman Studies Centre): grant by Nasir Khan I to Sultan bin Ahmad at the end of the eighteenth century, the wali and fort, trade, Omani possession until September 1958. http://www.oman.org/bonn_007.htm
  2. Adnan Aamir, "How Gwadar was purchased from Oman", Substack, 6 August 2024, citing Vice Adm. Iftikhar Ahmed Rao, Gwatar Bay to Sir Creek: The Golden Coast of Pakistan (Institute of Policy Studies) and Feroz Khan Noon, From Memory (1966), p. 298: efforts from 1948, British intermediary, the 14-point agreement, three million pounds for loss of revenue, 10% of oil profits for 25 years. https://adnanaamir.substack.com/p/how-gwadar-was-purchased-from-oman
  3. Capt (R) Ahmed Zaheer PN, "Transfer of Gwadar to Pakistan: first naval footprint", Daily Times, 8 December 2020: four years of negotiation, arrival of Agha Abdul Hamid on SS Sirdhana on 8 September 1958, Operation Bravo on 8 December 1958, PNS Babur, the Wali's handover of papers. https://dailytimes.com.pk/699248/transfer-of-gwadar-to-pakistan-first-naval-footprint-2/
  4. Dawn, "Gwadar port: 'history-making milestones'", 14 April 2008: £3 million paid in September 1958 ("some sources put the price at half"), Worth Condrick's 1954 survey, the 1988–92 mini-port, groundbreaking on 22 March 2002, cost $248m rising to $298m, PSA approved as operator January 2007. https://dawn.com/news/297994
  5. District Government Gwadar / Gwadar Development Authority, "History of Gwadar": purchase from Oman on 8 September 1958; officially part of Pakistan on 8 December 1958; district headquarters of the new Gwadar district from 1 July 1977. https://gda.gov.pk/history-of-gwadar
  6. AFP, "Pakistan port transferred to China", The Peninsula (Qatar), 19 February 2013: handover from PSA International to China Overseas Ports Holding Company on 18 February 2013, 2007 forty-year lease, $250m cost, about 75% financed by China. https://thepeninsulaqatar.com/article/19/02/2013/pakistan-port-transferred-to-china
  7. UK National Archives, FO 371/132792, "Negotiations between Pakistan and Muscat on oil rights at Gwadur" (1958), catalogue entry at the Arabian Gulf Digital Archive (not opened; for the reviewer). https://www.agda.ae/en/catalogue/tna/fo/371/132792

تاریخ کے اوراق: تمام تحریریں ←