لا پیروز: گم شدہ فرانسیسی مہم
10 مارچ 1788ء کو دو فرانسیسی جہاز آسٹریلیا کی خلیج بوٹنی بے (Botany Bay) سے نکلے اور بحرالکاہل کی وسعتوں میں گم ہو گئے۔ تقریباً چالیس برس تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔…

10 مارچ 1788ء کو دو فرانسیسی جہاز آسٹریلیا کی خلیج بوٹنی بے (Botany Bay) سے نکلے اور بحرالکاہل کی وسعتوں میں گم ہو گئے۔ تقریباً چالیس برس تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ ژاں فرانسوا دے گالو، کومت دے لا پیروز (Jean-François de Galaup, comte de La Pérouse) کی مہم تھی، جو بحرالکاہل کے گرد ڈھائی برس کا سفر طے کر چکی تھی۔
کک کے نقشِ قدم پر
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق لا پیروز 22 اگست 1741ء کو جنوبی فرانس کے شہر البی (Albi) کے قریب پیدا ہوئے اور نوعمری میں فرانسیسی بحریہ میں شامل ہوئے۔ 1780ء تک وہ کپتان بن چکے تھے۔ بریٹانیکا لکھتا ہے کہ 1783ء میں فرانس نے بحرالکاہل میں جیمز کک کی شروع کی ہوئی دریافتوں کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مہم کی تیاری شروع کی اور لا پیروز کو اس کا سربراہ بنایا۔
آسٹریلین ڈکشنری آف بائیوگرافی (Australian Dictionary of Biography) کے مطابق یکم اگست 1785ء کو دو جہاز، "بوسول" (La Boussole) اور "آسٹرولاب" (L'Astrolabe)، فرانس کی بندرگاہ بریسٹ (Brest) سے روانہ ہوئے۔ بوسول کی کمان لا پیروز کے پاس تھی اور آسٹرولاب کی کمان ان کے ساتھی دے لانگل (de Langle) کے پاس۔ فرانسیسی تنظیم ایسوسی ایشن سالومون (Association Salomon) کی ویب سائٹ کے مطابق جہازوں پر تقریباً دو سو بیس ملاح، کاریگر، مصور اور سائنس دان سوار تھے، جن میں انیس سائنس دان تھے۔
ایسٹر آئی لینڈ سے الاسکا تک
جہاز کیپ ہارن کا چکر کاٹ کر بحرالکاہل میں داخل ہوئے اور چلی میں مرمت کی۔ بریٹانیکا کے مطابق 9 اپریل 1786ء کو وہ ایسٹر آئی لینڈ (Easter Island) پہنچے، جہاں ایسوسی ایشن کے مطابق صرف ایک دن قیام ہوا۔ پھر وہ شمال میں ہوائی گئے؛ 31 مئی 1786ء کی صبح ماؤی (Maui) جزیرے پر اترے۔ وہاں سے شمال مغربی راستے کی تلاش میں وہ شمالی امریکہ کے مغربی ساحل کی طرف بڑھے اور جون 1786ء میں الاسکا کے جنوبی ساحل پر ماؤنٹ سینٹ ایلائس کے قریب پہنچے۔
لیتویا بے کا حادثہ
3 جولائی 1786ء کو دونوں جہاز الاسکا کی ایک تنگ خلیج میں داخل ہوئے جسے آج لیتویا بے (Lituya Bay) کہا جاتا ہے اور لا پیروز نے "پور دے فرانسے" (Port des Français) کا نام دیا۔ ایسوسی ایشن سالومون کے مطابق 13 جولائی کو تین چھوٹی کشتیاں خلیج کے دہانے کا سروے کرنے نکلیں۔ دہانے پر جوار کی ایک تیز اور طاقتور لہر نے انہیں آ لیا، اور صرف ایک کشتی واپس آئی۔ اکیس افسر اور ملاح ڈوب گئے؛ نہ کوئی زندہ بچا اور نہ کسی کی لاش یا کشتی کا ٹکڑا ملا۔ جولائی کے آخر میں خلیج کے جزیرے پر ان کی یاد میں ایک یادگار بنائی گئی، اور ان کے ناموں کی فہرست ایک بوتل میں رکھ کر دفن کی گئی۔ اسی لیے اس جزیرے کا نام "سینوٹاف آئی لینڈ" (Cenotaph Island) یعنی "خالی قبر کا جزیرہ" پڑ گیا۔
مونٹیری، مکاؤ اور ایشیا کے ساحل
یہاں سے جہاز جنوب میں کیلیفورنیا گئے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق وہ 15 ستمبر 1786ء کو مونٹیری (Monterey) پہنچے اور 24 ستمبر کو روانہ ہوئے۔ پھر بحرالکاہل پار کر کے 3 جنوری 1787ء کو چین کے ساحل پر مکاؤ (Macau) پہنچے، جہاں 5 فروری تک رکے، اور وہاں سے فلپائن کے شہر منیلا گئے۔
آسٹریلین ڈکشنری آف بائیوگرافی کے مطابق اپریل 1787ء میں منیلا سے نکل کر لا پیروز نے کوریا کے شمال کے ساحلوں کا سروے کیا اور بحیرۂ جاپان سے ہوتے ہوئے شمال میں تاتار کی آبنائے تک گئے، جہاں انہیں معلوم ہوا کہ ساخالین (Sakhalin) ایک جزیرہ ہے۔ بریٹانیکا کے مطابق ساخالین اور جاپانی جزیرے ہوکائیدو کے درمیان کی آبنائے آج انہی کے نام پر "آبنائے لا پیروز" (La Perouse Strait) کہلاتی ہے۔
کامچاٹکا سے پیرس تک ایک خط
ستمبر 1787ء میں جہاز روس کے جزیرہ نما کامچاٹکا کی بندرگاہ پیتروپاولووسک (Petropavlovsk) پہنچے۔ یہاں سے لا پیروز نے مہم کے ایک رکن بارتھیلمی دے لیسپ (Barthélemy de Lesseps) کو اب تک کے روزنامچے اور نقشے دے کر خشکی کے راستے فرانس روانہ کیا۔ ایسوسی ایشن سالومون کے مطابق دے لیسپ کا سائبیریا کے آر پار یہ سفر تقریباً ایک سال جاری رہا۔ انہی کاغذات کی بدولت مہم کی روداد محفوظ رہی، جو بریٹانیکا کے مطابق 1797ء میں چار جلدوں میں شائع ہوئی۔
یہاں سے جہاز جنوب کی طرف ساموا (Samoa) گئے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق وہ 9 سے 14 دسمبر 1787ء تک ان جزائر میں رہے۔ آسٹریلین ڈکشنری آف بائیوگرافی کے مطابق توتوئیلا (Tutuila) جزیرے پر پانی لینے جانے والی ایک ٹولی اور مقامی لوگوں کے درمیان تصادم ہوا جس میں دے لانگل اور گیارہ دوسرے آدمی مارے گئے۔
بوٹنی بے اور خاموشی
ٹونگا اور نارفوک آئی لینڈ سے ہوتے ہوئے جہاز آسٹریلیا پہنچے۔ آسٹریلین ڈکشنری آف بائیوگرافی کے مطابق 24 جنوری 1788ء کو ساحل نظر آیا اور خراب موسم کے باعث وہ دو دن بعد خلیج میں داخل ہو سکے۔ چند دن پہلے یہاں برطانوی بحری بیڑا پہنچا تھا، جس کے ایک افسر جان ہنٹر (John Hunter) نے فرانسیسی جہازوں کو لنگر ڈالنے میں مدد دی۔ لا پیروز نے خلیج کے شمالی کنارے پر پڑاؤ ڈالا اور چھ ہفتوں کے قیام میں انگریزوں سے اچھے تعلقات رکھے۔ 10 مارچ 1788ء کو جہاز روانہ ہوئے، اور اس کے بعد ان کی کوئی خبر نہ آئی۔ 1791ء میں فرانسیسی حکومت نے ان کی تلاش میں ایک مہم بھیجی، مگر وہ ناکام رہی۔
وانیکورو کا راز
بریٹانیکا کے مطابق 1826ء–1827ء میں ایک انگریز کپتان پیٹر ڈلن (Peter Dillon) کو ایسے شواہد ملے کہ دونوں جہاز سولومن جزائر کے سانتا کروز گروپ کے جزیرے وانیکورو (Vanikoro) کے قریب پہنچے تھے۔ سولومن جزائر کی تاریخی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق قریبی جزیرے تیکوپیا (Tikopia) پر ڈلن کو چاندی کی ایک تلوار کا دستہ اور دوسری چیزیں ملی تھیں۔ 1828ء میں فرانسیسی جہاز ران ژول دومون دورویل (Dumont d'Urville) وانیکورو پہنچے، جہاز کا ملبہ دیکھا اور مقامی لوگوں سے حالات معلوم کیے۔ اسی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ڈلن کو ملنے والی روایات یہ تھیں کہ دونوں جہاز تباہ ہوئے، کچھ لوگ ساحل تک پہنچے، اور انہوں نے ایک چھوٹی کشتی بنا کر شمال کی طرف سفر کیا، جس کے بعد ان کا کچھ پتہ نہ چلا۔
ایسوسی ایشن سالومون کے مطابق جہاز غالباً مئی یا جون 1788ء میں تباہ ہوئے: بوسول ایک چٹان سے ٹکرا کر ڈوب گیا اور آسٹرولاب ایک تنگ گزرگاہ میں پھنس گیا۔ سولومن انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 1959ء میں ایک فرانسیسی مہم نے آسٹرولاب کے ملبے کی شناخت کی۔ ایلاں کونان (Alain Conan) نے 1981ء میں نیو کیلیڈونیا کے شہر نومیا (Nouméa) میں ایسوسی ایشن سالومون قائم کی، اور 2008ء تک فرانسیسی بحریہ کی مدد سے آٹھ مہمات وانیکورو بھیجیں۔ 1999ء میں جزیرے پر وہ جگہ ملی جہاں فرانسیسی ملاحوں نے پڑاؤ ڈالا تھا، اور 22 نومبر 2003ء کو بوسول کے ملبے سے ایک انسانی ڈھانچہ نکالا گیا۔ ان مہمات میں ملنے والی بہت سی اشیا آج نومیا کے بحری تاریخ کے عجائب گھر میں رکھی ہیں۔
اگلی قسط: منگو پارک: دریائے نائجر۔
ماخذ
- "Jean-François de Galaup, comte de La Pérouse", Encyclopaedia Britannica (birth; 1783 plan; route and dates 1785–1788; La Perouse Strait; Dillon; Dumont d'Urville; 1797 publication). https://www.britannica.com/biography/Jean-Francois-de-Galaup-comte-de-La-Perouse
- Leslie R. Marchant, "La Pérouse, Jean-François de Galaup (1741–1788)", Australian Dictionary of Biography, vol. 2, Melbourne University Press, 1967 (Brest; de Langle; Korea, Tartary and Sakhalin; Kamchatka; Tutuila; Botany Bay; 1791 search). https://adb.anu.edu.au/biography/la-perouse-jeanfrancois-de-galaup-2329
- Association Salomon, Collection Lapérouse, "History" and "Lituya Bay or Port des Français" pages, 2016 (crew; Maui; Lituya Bay; Monterey; Macau; Lesseps; Samoa dates; Botany Bay; probable date of the wreck; the Association's expeditions 1981–2008, French Camp, 2003 skeleton). https://www.collection-laperouse.fr/en/history and https://www.collection-laperouse.fr/en/node/12074
- "Party: La Pérouse Expedition, 1785–1788", Solomon Islands Historical Encyclopaedia 1893–1978 (Dillon's relics and accounts; Dumont d'Urville's visit; identification of the Astrolabe wreck 1959). https://solomonencyclopaedia.net/biogs/E000161b.htm
- Louis-Antoine Milet-Mureau (ed.), Voyage de La Pérouse autour du monde, 4 vols and atlas, Paris, 1797 (the expedition's published record, cited via Britannica).



