کرسٹوفر کولمبس: بحرِ اوقیانوس کا پہلا سفر
11 اکتوبر 1492ء کی رات، رات کے دس بجے، ایک جہاز کے پچھلے عرشے پر کھڑے ایک شخص کو دور اندھیرے میں ایک روشنی دکھائی دی، "جیسے موم بتی اوپر نیچے ہو رہی ہو"۔ چار گھنٹے بعد آگے چلنے والے…
11 اکتوبر 1492ء کی رات، رات کے دس بجے، ایک جہاز کے پچھلے عرشے پر کھڑے ایک شخص کو دور اندھیرے میں ایک روشنی دکھائی دی، "جیسے موم بتی اوپر نیچے ہو رہی ہو"۔ چار گھنٹے بعد آگے چلنے والے جہاز نے طے شدہ اشارہ دیا: زمین نظر آ گئی تھی۔ عرشے پر کھڑا وہ شخص کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) تھا۔
ایک ملاح کا منصوبہ
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق کولمبس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہے؛ زیادہ تر محققین کے مطابق وہ اٹلی کے شہر جینوا میں ایک اونی کپڑے کے کاریگر اور تاجر ڈومینیکو کولومبو کے ہاں پیدا ہوا۔ اس نے پرتگال کے تجارتی جہازوں پر کام شروع کیا، 1476ء میں لزبن میں آ بسا، اور 1482ء سے 1485ء تک افریقہ کے مغربی ساحل پر تجارت کرتا رہا، جہاں اسے بحرِ اوقیانوس کی ہواؤں کا علم ہوا۔
اس کا منصوبہ یہ تھا کہ مغرب کی طرف سمندر میں سیدھا چل کر چین، ہندوستان اور مسالوں کے جزیروں تک پہنچا جائے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس کا اندازہ تھا کہ کینری جزائر سے چین تک تقریباً 2,300 میل (3,700 کلومیٹر) کا فاصلہ ہے؛ پرتگال کے بادشاہ جان دوم نے یہ منصوبہ اسی بنیاد پر رد کیا کہ یہ اندازہ بہت کم ہے۔ بریٹانیکا کے مطابق 1484ء میں پرتگال سے انکار کے بعد کولمبس 1486ء تک اسپین آ گیا، اور کم از کم دو بار ناکامی کے بعد جنوری 1492ء میں اسے اسپین کے بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کی حمایت مل گئی۔
تین جہاز
بریٹانیکا کے مطابق مہم کے جہاز اسپین کے دریائے تنتو پر واقع قصبے پالوس (Palos) میں تیار ہوئے۔ اشبیلیہ میں مقیم زیادہ تر جینوائی اور فلورنسی بینکاروں کے گروہوں نے اس کی تیاری کے لیے کم از کم گیارہ لاکھ چالیس ہزار "ماراویدی" (اس وقت کا ہسپانوی سکہ) فراہم کیے۔
کولمبس کے روزنامچے کا انگریزی ترجمہ کلیمنٹس مارکھم (Clements Markham) نے 1893ء میں ہکلوٹ سوسائٹی کے لیے کیا۔ مارکھم کے حاشیے کے مطابق کولمبس کا اپنا جہاز "سانتا ماریا" تقریباً سو ٹن کا تھا اور بیڑے کا سب سے بڑا جہاز تھا؛ اس کا مالک ژوان دے لا کوسا (Juan de la Cosa) تھا۔ باقی دو چھوٹے جہاز، "پِنتا" اور "نِینیا"، پالوس کے تھے؛ پنتا کا کپتان مارٹن الونسو پنزون اور نینیا کا ونسینتے یانیز پنزون تھا۔ مارکھم بتاتے ہیں کہ اصل روزنامچہ ضائع ہو چکا ہے؛ وہ صرف اس خلاصے کی صورت میں بچا ہے جو ہسپانوی مؤرخ لاس کاساس (Las Casas) نے تیار کیا تھا، جس میں کولمبس کے اپنے بہت سے جملے لفظ بہ لفظ موجود ہیں۔
سمندر میں چھتیس دن
روزنامچے کے مطابق بیڑا جمعہ 3 اگست 1492ء کو صبح آٹھ بجے سالتیس (Saltes) کی ریتلی رکاوٹ سے نکلا اور کینری جزائر کا رخ کیا۔ بریٹانیکا کے مطابق یہ راستہ اس لیے چنا گیا کہ وہاں سے شمال مشرقی تجارتی ہواؤں (trade winds) کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تقریباً ایک مہینہ وہاں مرمت میں گزرا، اور 6 ستمبر کو جہاز گومیرا کے جزیرے سے کھلے سمندر میں نکلے۔
راستے میں تیرتی گھاس اور پرندے بار بار نظر آئے مگر زمین نہ آئی۔ بریٹانیکا کے مطابق 10 اکتوبر تک عملے کا صبر جواب دے گیا، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ رسد کم پڑ جائے گی اور وہ گھر نہ لوٹ سکیں گے۔
11 اکتوبر کو روزنامچے کے مطابق ملاحوں نے پانی میں ایک ہری ٹہنی، ایک تراشی ہوئی چھڑی اور ایک تختہ دیکھا، اور "سب نے سکھ کا سانس لیا"۔ بادشاہ اور ملکہ نے سب سے پہلے زمین دیکھنے والے کے لیے دس ہزار ماراویدی انعام رکھا تھا، اور کولمبس نے اس کے ساتھ ایک ریشمی جیکٹ کا وعدہ بھی کیا۔ آگے چلنے والے پنتا پر 12 اکتوبر کی رات دو بجے اس کے ملاح رودریگو دے تریانا (Rodrigo de Triana) نے تقریباً دو لیگ دور زمین دیکھی۔ جہازوں نے بادبان سمیٹ کر صبح کا انتظار کیا، اور دن کو وہ ایک چھوٹے جزیرے پر پہنچے جسے مقامی لوگ "گواناہانی" (Guanahani) کہتے تھے۔
جزیرے اور ساحل
یہ پہلا جزیرہ کون سا تھا، اس پر آج بھی بحث ہے؛ بریٹانیکا کے مطابق عام طور پر بہاماس کا سان سلواڈور (واٹلنگز) جزیرہ مانا جاتا ہے، مگر بعض محققین بہاماس کے دوسرے جزیروں یا ترکس اینڈ کیکوس جزائر کے حق میں ہیں۔
اپنے مشہور خط میں، جس کا انگریزی ترجمہ سیسل جین (Cecil Jane) نے 1930ء میں ہکلوٹ سوسائٹی کے لیے کیا، کولمبس لکھتا ہے کہ وہ کینری جزائر سے تینتیس دن میں "انڈیز" پہنچا۔ اس نے پہلے جزیرے کو سان سلواڈور، دوسرے کو سانتا ماریا دے کونسیپسیون، تیسرے کو فرنانڈینا، چوتھے کو ازابیلا اور پانچویں کو خوانا کا نام دیا۔ بریٹانیکا کے مطابق خوانا یعنی کیوبا میں وہ 28 اکتوبر کو اترا اور یکم نومبر تک اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ یہ چین کا ساحل ہے۔
6 دسمبر کو وہ ایک بڑے جزیرے پر پہنچا جسے وہاں کے تائینو (Taino) باشندے "آیتی" کہتے تھے، اور اس نے اس کا نام "لا ایسلا اسپانیولا" یعنی ہسپانیولا رکھا۔ اپنے خط میں وہ اس جزیرے کے درختوں کے بارے میں لکھتا ہے کہ وہ اتنے اونچے ہیں کہ "آسمان کو چھوتے معلوم ہوتے ہیں"، ایسے سرسبز ہیں جیسے اسپین میں مئی کے مہینے میں، اور "نومبر کے مہینے میں بلبل گا رہی تھی"۔
کرسمس کی رات
25 دسمبر 1492ء کی رات سانتا ماریا کے ساتھ وہ حادثہ ہوا جس کا ذکر روزنامچے میں تفصیل سے ہے۔ کولمبس دو دن ایک رات کا جاگا ہوا تھا اور گیارہ بجے سونے چلا گیا۔ سمندر بالکل پرسکون تھا، "شیشے کی طرح"، اس لیے سکان سنبھالنے والا ملاح بھی سو گیا اور سکان ایک لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا، حالانکہ کولمبس نے پورے سفر میں اس سے منع کر رکھا تھا۔ آدھی رات کو سمندری دھارا جہاز کو آہستہ سے ایک ریتلے کنارے پر لے گیا، اتنی آہستگی سے کہ کسی کو جھٹکا تک محسوس نہ ہوا۔ مستول کاٹنے کے باوجود جہاز نہ بچ سکا۔
روزنامچے کے مطابق قریبی بستی کے سردار گواکاناگاری (Guacanagarí) نے یہ خبر سنی تو رو پڑا، اور اپنے سب لوگوں کو بڑی کشتیوں کے ساتھ جہاز کا سامان اتارنے بھیجا۔ کولمبس لکھتا ہے کہ سامان کی ایسی حفاظت کی گئی کہ "ایک سوئی تک غائب نہ ہوئی"۔ کولمبس نے ساحل پر ایک چوکی بنائی، اس کا نام "لا نویداد" رکھا، اور 39 آدمی وہاں چھوڑے؛ ڈوبے ہوئے جہاز کے تختے اور سامان ان کے کام آئے۔
طوفانی واپسی
بریٹانیکا کے مطابق 16 جنوری 1493ء کو کولمبس نینیا پر سوار ہو کر پنتا کے ساتھ واپس روانہ ہوا۔ راستے میں شدید طوفانوں نے دونوں جہازوں کو الگ کر دیا۔ روزنامچے کے مطابق 14 فروری کو طوفان کے دوران کولمبس کو ڈر ہوا کہ اگر وہ ڈوب گیا تو اس سفر کی خبر کبھی نہیں پہنچے گی۔ اس نے ایک چرمی کاغذ پر اپنی دریافتوں کا حال لکھا، اسے موم لگے کپڑے میں لپیٹا، لکڑی کے ایک بڑے پیپے میں بند کیا اور سمندر میں ڈال دیا۔
نینیا ازورز کے جزیرے سانتا ماریا پہنچا، پھر ایک اور طوفان اسے لزبن لے گیا، جہاں کولمبس پرتگال کے بادشاہ جان دوم سے ملا۔ آخرکار 15 مارچ 1493ء کو، روانگی کے تقریباً سات مہینے بعد، وہ پالوس واپس پہنچا۔ بریٹانیکا کے مطابق اس سفر نے ثابت کر دیا کہ موسمی ہواؤں کے نظام کو استعمال کر کے بحرِ اوقیانوس پار کیا جا سکتا ہے اور واپس بھی آیا جا سکتا ہے، اگرچہ کولمبس آخر تک یہی سمجھتا رہا کہ یہ جزیرے ایشیا کے قریب ہیں۔
اگلی قسط: جان کیبٹ: شمالی امریکہ کا ساحل۔
ماخذ
- Christopher Columbus, The Journal of Christopher Columbus (during his First Voyage, 1492–93), translated with notes and introduction by Clements R. Markham, Hakluyt Society, First Series no. 86, London, 1893 (Introduction on Las Casas's abstract; entries for 3 August, 11–12 October, 25–26 December 1492 and 14 February 1493; notes on the ships). https://archive.org/details/journalofchristo00colu_0
- Cecil Jane (trans. and ed.), Select Documents Illustrating the Four Voyages of Columbus, Vol. I: The First and Second Voyages, Hakluyt Society, Second Series no. LXV, London, 1930, "Letter of Columbus" on the first voyage. https://archive.org/details/dli.ministry.06241
- Valerie I. J. Flint and the Editors, "Christopher Columbus", Encyclopaedia Britannica ("Early career and preparation for the first voyage"; "The first voyage"). https://www.britannica.com/biography/Christopher-Columbus/The-first-voyage
- Joshua J. Mark, "Christopher Columbus", World History Encyclopedia (the 2,300-mile estimate and John II's refusal). https://www.worldhistory.org/Christopher_Columbus/



