رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 15° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

انتخاب عالم: لیگ اسپن، جارحانہ بیٹنگ اور کپتانی

انتخاب عالم (Intikhab Alam) ان کھلاڑیوں میں سے تھے جنہوں نے پاکستان کی کرکٹ کو 1960ء کی دہائی کے بے رنگ، ڈرا ہونے والے میچوں سے نکال کر 1970ء کی دہائی کی اس ٹیم تک پہنچایا جو ای ایس پی…

انتخاب عالم: لیگ اسپن، جارحانہ بیٹنگ اور کپتانی
فائل فوٹو: انتخاب عالم — تصویر: بشکریہ cricinfo.com

انتخاب عالم (Intikhab Alam) ان کھلاڑیوں میں سے تھے جنہوں نے پاکستان کی کرکٹ کو 1960ء کی دہائی کے بے رنگ، ڈرا ہونے والے میچوں سے نکال کر 1970ء کی دہائی کی اس ٹیم تک پہنچایا جو ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ہر ملک کو اس کے گھر میں بھی ہرا سکتی تھی2۔ وہ لیگ اسپنر تھے، نچلے نمبروں پر زوردار بیٹنگ کرتے تھے اور کئی برس پاکستان کے کپتان رہے۔ 47 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 125 وکٹیں لیں اور ایک سنچری سمیت 1493 رنز بنائے1۔

ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز

انتخاب عالم خان 28 دسمبر 1941ء کو ہوشیار پور، پنجاب (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے اور لیگ بریک گوگلی بولنگ کرتے تھے، اور ان کے بھائی آفتاب عالم (Aftab Alam) بھی کرکٹر تھے۔ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر 1957ء-58ء کے سیزن سے 1982ء تک پھیلا رہا، جس میں انہوں نے کراچی، پی آئی اے، پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ، پنجاب، سندھ اور انگلش کاؤنٹی سرے کی نمائندگی کی2۔

ان کا ٹیسٹ کیریئر 4 دسمبر 1959ء کو کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف شروع ہوا۔ آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے وہ پہلی اننگز میں صفر پر رن آؤٹ ہوئے، جبکہ بولنگ میں انہوں نے 49 رنز کے عوض 2 وکٹیں لیں۔ 30 دسمبر 1960ء کو کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں بھارت کے خلاف 56 رنز ان کی پہلی ٹیسٹ نصف سنچری تھی1۔

ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 1969ء میں جب انگلش کاؤنٹی کرکٹ کے دروازے غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے کھلے تو پاکستانی کھلاڑیوں نے وہاں تجربہ حاصل کیا، اور انتخاب عالم سرے کی طرف سے ایک عمدہ آل راؤنڈر کے طور پر کھیلے2۔ یہی تجربہ بعد میں پاکستان کی ٹیم کے کام آیا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف یادگار بولنگ

انتخاب عالم کی بولنگ کا سب سے روشن باب نیوزی لینڈ کے خلاف لکھا گیا۔ اس ٹیم کے خلاف 15 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 24.38 کی اوسط سے 54 وکٹیں لیں، اور ان کی 5 میں سے 4 اننگز میں پانچ وکٹیں اسی حریف کے خلاف آئیں1۔

8 نومبر 1969ء کو ڈھاکہ میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں انہوں نے پہلی اننگز میں 56 اوورز میں 26 میڈن کرا کے 91 رنز کے عوض 5 وکٹیں لیں، اور دوسری اننگز میں بھی 91 رنز دے کر 5 کھلاڑی آؤٹ کیے۔ یوں میچ میں ان کی 10 وکٹیں 182 رنز کے عوض رہیں1۔

اس سے بھی بڑی کارکردگی فروری 1973ء میں نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی۔ 7 فروری 1973ء کو ڈنیڈن میں شروع ہونے والے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انہوں نے آٹھ گیندوں کے اوورز والے اس دور میں 21 اوورز میں 52 رنز دے کر 7 وکٹیں لیں، جو ان کی بہترین ٹیسٹ بولنگ ہے۔ دوسری اننگز میں 78 رنز کے عوض 4 وکٹوں کے ساتھ میچ میں ان کی وکٹیں 11 ہو گئیں اور پاکستان نے یہ ٹیسٹ جیت لیا۔ اسی دورے کے اگلے ٹیسٹ میں، 16 فروری 1973ء کو آکلینڈ میں، انہوں نے 127 رنز کے عوض 6 وکٹیں لیں1۔

بلے سے طاقت اور کپتان کی ذمہ داری

انتخاب عالم صرف بولر نہیں تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان کی طاقتور ہٹنگ نے انہیں ایک ٹیسٹ سنچری بھی دلائی2۔ یہ سنچری 16 مارچ 1973ء کو حیدرآباد (سندھ) میں انگلینڈ کے خلاف بنی، جب ساتویں نمبر پر آ کر انہوں نے 261 منٹ کی اننگز میں 15 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 138 رنز بنائے۔ اسی میچ میں انہوں نے 65 اوورز میں 137 رنز دے کر 4 وکٹیں بھی لیں۔ اس سے چند ہفتے پہلے آسٹریلیا کے دورے پر ایڈیلیڈ میں 64 اور میلبرن میں 68 رنز ان کے بلے کی قوت کا ثبوت تھے1۔

انہوں نے 1969ء سے 1975ء کے دوران 17 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی۔ کپتان کے طور پر انہوں نے 31.74 کی اوسط سے 54 وکٹیں لیں، اور ان کی تمام 5 اننگز میں پانچ وکٹیں اور دونوں میچوں میں دس وکٹیں انہی برسوں میں آئیں۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 1974ء میں پاکستان کا انگلینڈ کا دورہ، جس میں ٹیم کوئی ٹیسٹ نہیں ہاری، بڑی حد تک ان کی لیگ اسپن کے سہارے کھڑا تھا2۔ اس دورے میں 22 اگست 1974ء کو اوول میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں انہوں نے 51.4 اوورز میں 116 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں1۔

ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ ایک اہم کپتان تھے، اگرچہ بہت سے لوگ انہیں اس منصب کے لیے ضرورت سے زیادہ نرم مزاج سمجھتے تھے، اور ان کے بعد مشتاق محمد کی جارحانہ کپتانی ان سے بالکل مختلف تھی2۔ ون ڈے کرکٹ کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے 4 میچ کھیلے، جن میں سے 3 میں وہ کپتان تھے۔ ان کا پہلا ون ڈے 11 فروری 1973ء کو کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف تھا1۔

ان کا آخری ٹیسٹ 4 مارچ 1977ء کو پورٹ آف اسپین میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہوا، جس میں انہوں نے 90 رنز کے عوض 2 وکٹیں لیں1۔

اعداد و شمار

ٹیسٹون ڈے
میچ474
رنز149317
بہترین اسکور13810
اوسط (بیٹنگ)22.288.5
سنچریاں / نصف سنچریاں1 / 80 / 0
اسٹرائیک ریٹ–37.77
وکٹیں1254
بہترین بولنگ7/522/36
اوسط (بولنگ)35.9529.5
اننگز میں پانچ وکٹیں50
بطور کپتان میچ173

ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔

اثر اور یادگار

ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان کا نام ہمیشہ "the burly Intikhab" یا "the wily Intikhab" کے انداز میں لیا جاتا تھا، یعنی مضبوط جسم والا اور چالاک انتخاب2۔ یہ دونوں صفتیں ان کے کھیل پر صادق آتی تھیں: بلے سے طاقت اور گیند سے چالاکی۔

کھیل چھوڑنے کے بعد بھی ان کا تعلق پاکستان کی کرکٹ سے قائم رہا۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 1992ء میں جب پاکستان نے عالمی کپ جیتا تو وہ ٹیم کے منیجر اور کوچ تھے۔ 2000ء میں وہ کچھ عرصے کے لیے قومی ٹیم کے کوچ بنے، اور اکتوبر 2008ء میں ایک بار پھر انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی2۔

پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں انتخاب عالم کو ایک ایسے آل راؤنڈر اور کپتان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے ٹیم کو ایک دور سے دوسرے دور تک پہنچانے میں حصہ ڈالا، اور جس کی لیگ اسپن نے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی وکٹوں پر پاکستان کو کئی یادگار دن دیے۔

ماخذ

  1. ESPNcricinfo Statsguru, Intikhab Alam, Test and ODI batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40567.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40567.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40567.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40567.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40567.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40567.html?class=2;template=results;type=bowling
  2. ESPNcricinfo player profile, Intikhab Alam (archived copy; profile essay by Scyld Berry): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/40567.html

کرکٹ کے عظیم کھلاڑی: تمام تحریریں ←