رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 16° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

میکانکی گھڑی: لٹکتے وزن سے چلتا وقت

دھوپ گھڑی بادل میں کام نہیں کرتی اور رات کو بالکل نہیں۔ پانی کی گھڑی کو بار بار بھرنا اور سنبھالنا پڑتا ہے۔ صدیوں تک انسان وقت ناپنے کے لیے انہی پر گزارا کرتا رہا۔ پھر تقریباً 1300 عیسوی کے…

میکانکی گھڑی: لٹکتے وزن سے چلتا وقت
علامتی تصویر

دھوپ گھڑی بادل میں کام نہیں کرتی اور رات کو بالکل نہیں۔ پانی کی گھڑی کو بار بار بھرنا اور سنبھالنا پڑتا ہے۔ صدیوں تک انسان وقت ناپنے کے لیے انہی پر گزارا کرتا رہا۔ پھر تقریباً 1300 عیسوی کے آس پاس یورپ میں ایک ایسی مشین بنی جو صرف ایک لٹکتے ہوئے وزن کے سہارے دن رات چلتی تھی۔ یہ میکانکی گھڑی تھی، اور آج کی ہر دیوار گھڑی اور کلائی کی گھڑی اسی کی اولاد ہے۔

مسئلہ کیا تھا

وزن کو رسی سے باندھ کر ایک ڈھول پر لپیٹ دیں تو وزن نیچے گرتے ہوئے ڈھول کو گھما دے گا۔ مگر وہ ایک دو لمحے میں نیچے پہنچ جائے گا۔ اصل مشکل یہ تھی کہ اس گرتے ہوئے وزن کی طاقت کو کیسے روکا جائے کہ وہ تھوڑا تھوڑا، برابر وقفوں سے خرچ ہو۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کے منصوبے "انگلستان میں گھڑیاں اور گھڑی کا وقت" کے مطابق میکانکی گھڑی قرونِ وسطیٰ کے اس الارم سے نکلی جس میں آہستہ آہستہ نیچے آتا ہوا وزن ایک گھنٹی بجا دیتا تھا۔ کاریگر چاہتے تھے کہ وزن سے چلنے والا ایسا آلہ بنے جو دن اور رات کے پورے چکر کے ساتھ قدم ملا کر چلے۔ برسٹل کے مطابق 1271 میں رابرٹس انگلیکس (Robertus Anglicus) نامی ایک مصنف نے لکھا تھا کہ بنانے والے ابھی اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔

ورج اور فولیئٹ

اس مسئلے کا حل ایک پرزہ تھا جسے انگریزی میں ایسکیپمنٹ (escapement) کہتے ہیں، یعنی وہ پرزہ جو طاقت کو قدم قدم پر "نکلنے" دیتا ہے۔ پہلی میکانکی گھڑیوں میں یہ کام ورج اور فولیئٹ (verge and foliot) نامی نظام کرتا تھا۔

برسٹل کے مطابق وزن ایک رسی سے لٹکا ہوتا تھا جو ایک ڈھول پر لپٹی ہوتی تھی۔ ڈھول سے گراریوں کے ذریعے طاقت ایک تاج نما پہیے (crown wheel) تک جاتی تھی۔ اس پہیے کے سامنے ایک کھڑی سلاخ، یعنی ورج، تھی جس پر دو چھوٹے پنجے لگے تھے۔ تاج نما پہیہ ایک پنجے کو دھکیلتا تو ورج ایک طرف گھوم جاتی اور دوسرا پنجہ پہیے کو روک لیتا؛ پھر یہی عمل الٹی سمت میں ہوتا۔ یوں پہیہ ایک ایک دندانہ کر کے آگے بڑھتا۔

ورج کے اوپر ایک افقی ڈنڈا، یعنی فولیئٹ، لگا ہوتا تھا جس کے دونوں سروں پر چھوٹے وزن ہوتے تھے۔ امریکہ کی لنڈا ہال لائبریری کے مؤرخِ سائنس ولیم ایش ورتھ (William B. Ashworth) کے مطابق فولیئٹ کے آگے پیچھے جھولنے کی رفتار ان وزنوں پر منحصر تھی۔ برسٹل کے مطابق ان وزنوں کو ڈنڈے پر اندر باہر سرکا کر گھڑی کو تیز یا آہستہ کیا جا سکتا تھا۔

یہ نظام کب بنا؟ اس پر حوالے مختلف ہیں: برسٹل اسے تیرہویں صدی کے آخر سے جوڑتا ہے، جبکہ ایش ورتھ کے مطابق یہ چودہویں صدی کے پہلے نصف میں ایجاد ہوا۔ ایجاد کرنے والے کا نام معلوم نہیں۔

پہلے بھی کوشش ہوئی تھی

وقت کو مشین سے ناپنے کی کوششیں اس سے پہلے بھی ہوئیں۔ چین میں 1088ء میں سرکاری عہدیدار اور تقویم کے ماہر سو سونگ (Su Song) نے پانی سے چلنے والا ایک گھڑیال مینار بنایا، جس کے بڑے پہیے پر پانی کی 36 بالٹیاں لگی تھیں۔ کولمبیا یونیورسٹی کے تعلیمی منصوبے "ایشیا فار ایجوکیٹرز" کے مطابق یہ مینار تقریباً چالیس فٹ اونچا تھا۔ اس سلسلے کے اکتالیسویں مضمون میں الجزری کی پانی سے چلنے والی ہاتھی گھڑی کا ذکر بھی ہو چکا ہے۔ یورپ کی میکانکی گھڑی کی نئی بات یہ تھی کہ اسے پانی کی ضرورت نہیں تھی۔

گھنٹہ گھر کی گھڑیاں

پہلی میکانکی گھڑیاں بہت بڑی اور بھاری تھیں، اور انہیں اونچے میناروں میں لگایا جاتا تھا۔ برسٹل کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وزنوں کو نیچے گرنے کے لیے لمبی جگہ چاہیے تھی، اور دوسری یہ کہ گھنٹی کی آواز دور تک سنائی دے۔ انگلستان میں سولہویں صدی کی زیادہ تر ایسی گھڑیوں کو دن میں ایک بار چابی دی جاتی تھی۔

انگلستان کے شہر سالسبری (Salisbury) کی پرانی گھڑی اس دور کی ایک مشہور مثال ہے۔ ایش ورتھ کے مطابق ریکارڈ بتاتے ہیں کہ وہاں 1386 میں ایک میکانکی گھڑی لگائی گئی، اور زیادہ تر ماہرین کے خیال میں آج موجود گھڑی وہی ہے، اگرچہ اس کے کچھ پرزے بدلے جا چکے ہیں۔ اس کا بنانے والا نامعلوم ہے۔ اس کا نہ کوئی ڈائل ہے نہ سوئیاں؛ یہ صرف گھنٹیاں بجا کر وقت بتاتی تھی، اور اس کام کے لیے اس میں گراریوں کا ایک الگ سلسلہ تھا۔ جس مینار میں یہ اصل میں لگی تھی وہ اب موجود نہیں۔

دوسری مثال ویلز (Wells) کی گھڑی ہے۔ لندن کے سائنس میوزیم کے ریکارڈ کے مطابق یہ 1392 کی ہے، لوہے اور بلوط کی لکڑی سے بنی ہے اور اس کا وزن تقریباً دو ہزار کلوگرام ہے۔ یہ بھی وزن سے چلتی تھی اور شروع میں فولیئٹ سے قابو میں رکھی جاتی تھی، مگر 1657 کے بعد کسی وقت اسے پنڈولم پر منتقل کر دیا گیا۔ اس کا مشینی حصہ آج سائنس میوزیم میں نمائش پر ہے۔

پنڈولم تک کا سفر

ورج اور فولیئٹ والی گھڑی بہت درست نہیں تھی، اس لیے اسے دھوپ گھڑی سے ملا کر بار بار درست کرنا پڑتا تھا۔ برسٹل کے مطابق یہ نظام تیرہویں صدی کے آخر سے سترہویں صدی کے آخر تک غالب رہا۔ پھر کرسچیئن ہائیگنز (Christiaan Huygens) نے 1650 کی دہائی کے آخر میں پنڈولم کو گھڑی میں استعمال کرنے کا کام مکمل کیا، اور برسٹل کے مطابق چند ہی برسوں میں گھنٹہ گھروں میں بھی پنڈولم والی گھڑیاں لگنے لگیں۔ اس کی کہانی اس سلسلے کے ترپنویں مضمون میں آئے گی۔

مگر بنیادی خیال وہی رہا جو تقریباً سات سو سال پہلے سامنے آیا تھا: ایک طاقت جو گھڑی کو چلائے، اور ایک پرزہ جو اس طاقت کو برابر حصوں میں بانٹ دے۔ آج جب ہم کسی شہر کے گھنٹہ گھر کی آواز سنتے ہیں یا کلائی کی گھڑی کی ٹک ٹک، تو اسی پرانے خیال کی گونج سن رہے ہوتے ہیں۔

ماخذ

  1. University of Bristol, School of Geographical Sciences, "How early turret clocks worked", Clocks and Clock-time in England. https://clocks.ggy.bris.ac.uk/parish-clocks/worked/ — clock grew out of the medieval alarm with a slowly descending weight; aim of a weight-driven device matching the daily cycle; Robertus Anglicus (1271) says this had not yet been achieved; verge and foliot dominant from the late 13th to the late 17th century; weight on a rope round a barrel, gearing to the crown wheel, two pallets reversing the verge and foliot; rate adjusted by moving weights along the foliot; clocks high in towers for the weights' fall and audibility of bells; most 16th-century English church clocks wound once a day; Huygens completed the pendulum work in the late 1650s; first pendulum turret clocks within a very few years; sundials used to check clock-time.
  2. William B. Ashworth, Jr., "Salisbury Cathedral Clock", Scientist of the Day, Linda Hall Library (6 July 2026). https://www.lindahall.org/about/news/scientist-of-the-day/salisbury-cathedral-clock/ — mechanical clock installed 1386, most experts believe the surviving clock is that one with some parts replaced; maker unknown; verge and foliot invented in the first half of the 14th century; foliot weights set the swing speed; hanging weights drive the gear train; separate train for striking bells; no face or hands; original tower demolished.
  3. Science Museum Group Collection, "Wells Cathedral clock, 1392", object 1884-77 Pt1. https://collection.sciencemuseumgroup.org.uk/objects/co1347/wells-cathedral-clock-1392 — weight-driven clock dated 1392; originally regulated by a foliot, converted to pendulum regulation some time after 1657; cast iron, steel, oak; about 2,000 kg; on display in the Science Museum; names of the inventors and first builders of such clocks unknown.
  4. "The water clock of 1088", Science and Society lecture illustrations (lecture 15), hosted by INCOIS. https://incois.gov.in/Tutor/science+society/lectures/illustrations/lecture15/clock.html — Su Song, official and calendar expert, built the clock in 1088; water drive with 36 tilting scoops on a large wheel; escapement of balanced levers.
  5. Asia for Educators, Columbia University, "Song Dynasty China: Technology and Experimentation". https://afe.easia.columbia.edu/songdynasty-module/tech-experiment.html — Su Song (1020–1101) designed a clock tower almost 40 feet high, adding a chain-driven mechanism to a water-powered clock; it showed time, day of the month, phase of the moon and positions of stars and planets.

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←