رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

پائتھیاس: بحیرۂ روم سے “تھولے” تک، جہاں سورج غروب نہیں ہوتا

ذرا تصور کیجیے: بحیرۂ روم کی دھوپ میں پلا بڑھا ایک یونانی شمال کے ایسے سمندر میں جا پہنچتا ہے جہاں گرمیوں میں رات ہوتی ہی نہیں، پانی پر برف کی گول ٹکیاں تیرتی ہیں اور دھند میں زمین، پانی…

پائتھیاس: بحیرۂ روم سے “تھولے” تک، جہاں سورج غروب نہیں ہوتا
علامتی تصویر

ذرا تصور کیجیے: بحیرۂ روم کی دھوپ میں پلا بڑھا ایک یونانی شمال کے ایسے سمندر میں جا پہنچتا ہے جہاں گرمیوں میں رات ہوتی ہی نہیں، پانی پر برف کی گول ٹکیاں تیرتی ہیں اور دھند میں زمین، پانی اور ہوا الگ نظر نہیں آتے۔ وہ واپس آ کر یہ سب لکھتا ہے تو اس کے اپنے ہم وطن اسے جھوٹا کہتے ہیں۔ یہ پائتھیاس (Pytheas) تھا، جنوبی فرانس کے یونانی شہر مسالیا کا باشندہ، جس کا سفر قدیم دنیا کی سب سے حیرت انگیز مہموں میں شمار ہوتا ہے۔

پس منظر: مسالیا کا ملاح

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا میں تھامس گارلنگ ہاؤس (Thomas Garlinghouse) لکھتے ہیں کہ پائتھیاس مسالیا (Massalia) کا شہری تھا جو آج فرانس کا شہر مارسے ہے۔ یہ شہر بحیرۂ روم کے مغرب میں ایک بڑی تجارتی طاقت تھا۔ پائتھیاس ماہر ملاح اور ماہرِ فلکیات کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کے بارے میں ذاتی معلومات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں؛ یونانی مؤرخ پولیبیوس (Polybius) نے حقارت سے اسے ایک "عام شہری" اور "غریب آدمی" کہا۔

اس زمانے میں بحیرۂ روم کے لوگوں کو قلعی (ٹن) اور کہربا (amber) شمال کی دور دراز سرزمینوں سے ملتے تھے، مگر وہ سرزمینیں ان کے لیے افسانہ تھیں۔ یونانی دیومالا میں وہاں "ہائپربوریائی" (Hyperboreans) نام کے لوگ بستے تھے۔ پائتھیاس ان علاقوں تک خود پہنچا۔

سفر: جبل الطارق سے برطانیہ تک

پائتھیاس نے اپنا سفرنامہ "سمندر کے بارے میں" (On the Ocean) کے نام سے لکھا، جو اب موجود نہیں۔ اس کے صرف ٹکڑے دوسرے مصنفین، جیسے اسٹرابو (Strabo)، پلینی (Pliny the Elder)، دیودورس اور پولیبیوس، کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ انہی ٹکڑوں سے محققین نے اس کا راستہ جوڑا ہے، اور اس کی بہت سی تفصیلات قیاس پر مبنی ہیں۔

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق وہ تقریباً 330 ق م میں مسالیا سے نکلا، "ہرکولیس کے ستون" یعنی آبنائے جبل الطارق سے گزر کر بحرِ اوقیانوس میں داخل ہوا، اور اسپین اور فرانس کے مغربی ساحل کے ساتھ شمال کی طرف بڑھا۔ پھر وہ انگلش چینل پار کر کے "بیلیریون" پہنچا، جسے محققین کارن وال (Cornwall) سمجھتے ہیں۔ وہاں اس نے مقامی لوگوں کو قلعی نکالتے اور تجارت کے لیے تیار کرتے دیکھا۔

اسٹرابو، جو پائتھیاس کا سخت مخالف تھا، اس کے حوالے سے لکھتا ہے کہ پائتھیاس نے برطانیہ کے قابلِ رسائی حصوں میں گھومنے کا دعویٰ کیا اور اس جزیرے کا گھیر چالیس ہزار اسٹیڈیا سے زیادہ بتایا۔ پلینی بتاتا ہے کہ پائتھیاس کے بقول برطانیہ میں مد و جزر کے وقت پانی اسّی ہاتھ تک چڑھ جاتا ہے۔ یہ اعداد مبالغہ ہیں، مگر اہم بات یہ ہے کہ بحیرۂ روم کے لوگ، جن کے سمندر میں مد و جزر بہت کم ہے، پہلی بار اوقیانوس کی بڑی لہروں کا حال سن رہے تھے۔

اسٹرابو، اپنی مخالفت کے باوجود، مانتا ہے کہ شمال کے سرد علاقوں کے بارے میں پائتھیاس کی یہ بات معقول ہے کہ وہاں دھوپ اور خشک موسم کم ہونے کی وجہ سے لوگ اناج کھلیان میں نہیں بلکہ بڑے گوداموں میں گاہتے ہیں۔

کیا دیکھا: تھولے اور "سمندری پھیپھڑا"

پائتھیاس کی سب سے مشہور خبر "تھولے" (Thule) کی ہے۔ پلینی لکھتا ہے کہ پائتھیاس کے مطابق تھولے برطانیہ کے شمال سے چھ دن کی بحری مسافت پر ہے، اور وہاں گرمیوں کے سب سے بڑے دن کے آس پاس رات نہیں ہوتی اور سردیوں میں دن نہیں ہوتا۔ اسٹرابو کے مطابق پائتھیاس نے لکھا کہ تھولے کے لیے گرمیوں کا مدار اور قطبی دائرہ ایک ہی ہیں، یعنی وہ قطبی دائرے کے قریب ہے۔

تھولے کہاں تھا؟ یہ سوال آج تک حل نہیں ہوا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بعض علما اسے آئس لینڈ سمجھتے ہیں اور بعض ناروے۔ پلینی کا مزید کہنا ہے کہ تھولے سے ایک دن کی مسافت پر "جما ہوا سمندر" ہے۔

اسٹرابو نے پائتھیاس کا ایک عجیب جملہ نقل کیا ہے: شمال میں ایک ایسا مقام ہے جہاں نہ زمین الگ ہے، نہ پانی، نہ ہوا، بلکہ سب مل کر ایک ایسی چیز بن گئے ہیں جو "سمندری پھیپھڑے" جیسی ہے، اور جس میں نہ پیدل چلا جا سکتا ہے نہ جہاز چلایا جا سکتا ہے۔ پائتھیاس کا کہنا تھا کہ یہ چیز اس نے خود دیکھی۔ گارلنگ ہاؤس کے مطابق "سمندری پھیپھڑا" جیلی فش کا یونانی نام تھا، اور زیادہ تر محققین سمجھتے ہیں کہ پائتھیاس دراصل سمندر پر تیرتی برف کی گول ٹکیوں ("پین کیک آئس") کو بیان کر رہا تھا، جس کے لیے اس کی زبان میں کوئی لفظ نہیں تھا۔

واپسی پر وہ غالباً برطانیہ کے مشرقی ساحل کے ساتھ نیچے آیا اور پھر شمالی یورپ کے ساحل کے ساتھ مشرق کی طرف گیا۔ پلینی کے مطابق پائتھیاس نے گوتونیس نام کی ایک جرمن قوم کا ذکر کیا جو ایک دریا کے دہانے پر رہتی تھی، اور اس سے ایک دن کی مسافت پر "اَبالوس" نام کا جزیرہ تھا جہاں بہار میں لہریں کہربا کنارے پر لا پھینکتی تھیں؛ وہاں کے لوگ اسے ایندھن کے طور پر جلاتے اور پڑوسیوں کو بیچتے تھے۔

اہمیت: "جھوٹا" یا سائنس دان؟

اسٹرابو نے پائتھیاس کو بار بار جھوٹا قرار دیا اور لکھا کہ جن ملکوں کو لوگ جانتے ہیں ان کے بارے میں اس کی غلطیاں ثابت کرتی ہیں کہ دور کے ملکوں کے بارے میں اس کی باتیں اور بھی غلط ہوں گی۔ گارلنگ ہاؤس کے مطابق یہ مخالفت غالباً پولیبیوس سے آئی تھی، اور ماہرِ آثار بیری کنلف (Barry Cunliffe) نے اسے "پیشہ ورانہ حسد" کہا ہے۔

مگر اسٹرابو ہی کی کتاب سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ پائتھیاس نے مسالیا میں سورج کے سائے کو "گنومون" (سایہ ناپنے کی سیدھی سلاخ) سے ناپ کر شہر کا عرض بلد معلوم کیا تھا، اور بعد کے ماہرِ فلکیات ہپارکس (Hipparchus) نے اس پیمائش پر بھروسا کیا۔ گارلنگ ہاؤس کے مطابق اس کی کتاب کے بچے ہوئے ٹکڑوں میں مد و جزر پر چاند کے اثر کی بحث بھی ملتی ہے۔

یادگار

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق آج کم ہی مؤرخ اس سفر کے حقیقی ہونے پر شک کرتے ہیں؛ بحث صرف اس پر ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک کہاں کہاں گیا۔ مارسے میں آج اس کا مجسمہ موجود ہے، اور "تھولے" کا لفظ یورپی زبانوں میں "دنیا کا آخری کنارہ" کے معنی میں زندہ ہے۔

ماخذ

  1. Thomas S. Garlinghouse, "On the Ocean: The Famous Voyage of Pytheas", World History Encyclopedia, 14 July 2017. https://www.worldhistory.org/article/1078/on-the-ocean-the-famous-voyage-of-pytheas/
  2. Strabo, The Geography of Strabo, vol. 1, translated by H. C. Hamilton and W. Falconer, Henry G. Bohn, London, 1854; Project Gutenberg eBook #44884, Book I ch. 4, Book II ch. 4–5, Book IV ch. 5. https://www.gutenberg.org/ebooks/44884
  3. Pliny the Elder, The Natural History, vol. 1, translated by John Bostock and H. T. Riley, Henry G. Bohn, London, 1855; Project Gutenberg eBook #57493, Book II ch. 77 and 99, Book IV ch. 30. https://www.gutenberg.org/ebooks/57493
  4. Pliny the Elder, The Natural History, vol. 6, translated by John Bostock and H. T. Riley, Henry G. Bohn, London, 1857; Project Gutenberg eBook #62704, Book XXXVII ch. 11 (amber, the Gutones and Abalus). https://www.gutenberg.org/ebooks/62704
  5. "Pytheas", Wikipedia, the free encyclopedia (pointer only, for the disputed "on foot" reading of Strabo and the Marseille statue), accessed October 2026. https://en.wikipedia.org/wiki/Pytheas

مہمات: تمام تحریریں ←