رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

جانوروں کو سدھانا: کتے سے کوہان والی گائے تک

صبح کا دودھ، دوپہر کا گوشت، سردیوں کی اونی چادر، کھیت میں ہل کھینچتا بیل اور دروازے پر پہرہ دیتا کتا۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کبھی یہ سب جانور جنگلی تھے۔ انسان نے انہیں اپنا ساتھی کیسے بنایا؟ یہ…

جانوروں کو سدھانا: کتے سے کوہان والی گائے تک
علامتی تصویر

صبح کا دودھ، دوپہر کا گوشت، سردیوں کی اونی چادر، کھیت میں ہل کھینچتا بیل اور دروازے پر پہرہ دیتا کتا۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کبھی یہ سب جانور جنگلی تھے۔ انسان نے انہیں اپنا ساتھی کیسے بنایا؟ یہ کہانی برفانی دور کے آخری حصے سے شروع ہوتی ہے، اور اس کا ایک اہم باب بلوچستان میں لکھا گیا۔

سدھانا کیا ہے؟

کسی جنگلی جانور کو پالتو بنانا صرف اسے پکڑ کر باندھ لینا نہیں، بلکہ نسل در نسل چلنے والا عمل ہے جس میں افزائش انسان کے قابو میں آ جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ان جانوروں کی جسمانی ساخت، مزاج اور حتیٰ کہ ان کا ڈی این اے بھی اپنے جنگلی آبا سے مختلف ہو جاتا ہے۔

امریکی ماہرِ آثارِ قدیمہ میلنڈا زیڈر (Melinda Zeder) کے مطابق جانوروں کو سدھانے کا عمل اچانک نہیں ہوا۔ پہلے شکار کے طریقے بدلے، پھر ریوڑوں کی دیکھ بھال شروع ہوئی، اور جسمانی تبدیلیاں اس کے کئی سو برس بعد ظاہر ہوئیں۔

پہلا ساتھی: کتا

سائنسدان متفق ہیں کہ کتا انسان کا پہلا پالتو جانور ہے، اور یہ واحد جانور ہے جو کھیتی باڑی شروع ہونے سے پہلے ہی پالتو بن چکا تھا۔ وہ بھیڑیے کی نسل سے ہے۔ مگر یہ کب اور کہاں ہوا، اس پر ابھی بحث جاری ہے۔

یورپ سے ملنے والی کچھ باقیات 14 ہزار برس یا اس سے بھی زیادہ پرانی ہیں جن میں کتے جیسی جسمانی ساخت نظر آتی ہے۔ جرمنی کے مقام بون اوبرکاسل (Bonn-Oberkassel) پر تقریباً 14,300 برس پرانا ایک کتا دو انسانوں کے ساتھ دفن ملا۔ اس کی ہڈیوں میں ایسی بیماری کے آثار ہیں جو انسانوں کی طویل دیکھ بھال کے بغیر جان لیوا ثابت ہوتی۔

مارچ 2026 میں نیچر (Nature) میں دو نئے مقالے شائع ہوئے۔ ایک میں ترکیہ کے مقام پنار باشی (Pınarbaşı) سے ملنے والے تقریباً 15,800 برس پرانے جانور کا ڈی این اے کتوں سے ملتا پایا گیا، جبکہ برطانیہ کے گفز کیو (Gough's Cave) کا تقریباً 14,300 برس پرانا نمونہ بھی کتا نکلا۔ دوسرے مقالے میں سوئٹزرلینڈ سے 14,200 برس پرانے کتے کا ڈی این اے ملا۔ ان مطالعوں کے مطابق اس زمانے تک کتے یورپ اور اناطولیہ میں دور دور تک پھیل چکے تھے۔ اس سے پہلے کتے کا یقینی جینیاتی ثبوت صرف تقریباً 10,900 برس پرانا تھا، اس لیے پنار باشی کا نمونہ اب تک کا قدیم ترین معلوم جینیاتی ثبوت ہے۔

کچھ ماہرین اس سے بھی پہلے کی بات کرتے ہیں۔ 2021 کے ایک مطالعے میں انسانوں اور کتوں کی جینیاتی تاریخ کا موازنہ کر کے یہ خیال پیش کیا گیا کہ کتے غالباً تقریباً 23 ہزار برس پہلے سائبیریا میں سدھائے گئے، اور پھر وہ انسانوں کے ساتھ امریکہ تک پہنچے۔ 2020 کی ایک اور تحقیق کے مطابق 11 ہزار برس پہلے تک کتوں کی کم از کم پانچ بڑی نسلی شاخیں الگ ہو چکی تھیں۔

بکری، بھیڑ، گائے اور سؤر

کتے کے کئی ہزار برس بعد زرخیز ہلال (Fertile Crescent) میں، یعنی موجودہ ترکیہ، شام، عراق اور ایران کے پہاڑی علاقوں میں، چرنے والے جانوروں کی باری آئی۔ زیڈر کے 2008 کے جائزے کے مطابق بکری، بھیڑ، گائے اور سؤر، چاروں تقریباً 11 ہزار سے 10 ہزار برس پہلے کے درمیان انسانی نگرانی میں آ گئے۔

ایران کے پہاڑی مقام گنج درہ (Ganj Dareh) پر تقریباً 9,900 برس پرانی ہڈیوں سے پتا چلتا ہے کہ وہاں کے لوگ بکریوں کا باقاعدہ ریوڑ رکھتے تھے: نر جوانی میں ذبح ہوتے اور مادائیں دیر تک زندہ رکھی جاتیں۔ جنوب مشرقی اناطولیہ میں بھیڑ اور سؤر، اور دریائے فرات کے بالائی علاقے میں گائے پالنے کے ابتدائی آثار ملے ہیں۔ جینیاتی تحقیق نے بھی تصدیق کی ہے کہ پالتو بھیڑ اور بکری کے جنگلی آبا اسی خطے کے ہیں۔

یہ جانور جلد ہی انسانوں کے ساتھ سفر کرنے لگے۔ زیڈر کے مطابق ساڑھے دس ہزار برس پہلے کے لگ بھگ لوگ کشتیوں میں تقریباً 60 کلومیٹر سمندر پار کر کے قبرص پہنچے اور چاروں جانور ساتھ لے گئے۔

مہر گڑھ اور کوہان والی گائے

بلوچستان کے کچھی میدان میں واقع مہر گڑھ (Mehrgarh) شمال مغربی جنوبی ایشیا میں کاشتکاری کی سب سے پرانی معلوم بستی ہے۔ وہاں پہلے ہی دور سے پالتو جانور موجود تھے، جو زیادہ تر مغربی ایشیائی نوعیت کے تھے۔ مگر ایک جانور خاص طور پر اسی خطے کا تھا: کوہان والی گائے یعنی زیبو (zebu)۔ محققین کے مطابق اس علاقے کی مقامی جنگلی نسل کو بستی بسنے کے کچھ ہی عرصے بعد سدھا لیا گیا۔

مہر گڑھ کے پہلے دور کی تاریخ پر ماہرین متفق نہیں۔ کھدائی کے سربراہ ژاں فرانسوا ژاریژ (Jean-François Jarrige) کا خیال تھا کہ یہ دور تقریباً 8000 قبل مسیح میں شروع ہوا۔ 2025 میں دانتوں کی نئی ریڈیو کاربن تاریخوں پر مبنی ایک مطالعے نے اس کا آغاز تقریباً 5200 سے 4900 قبل مسیح کے درمیان بتایا ہے۔

گھوڑا اور دودھ

ہر جانور اتنی جلدی نہیں سدھایا گیا۔ 2021 میں نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق آج کے پالتو گھوڑوں کا اصل وطن دریائے وولگا اور ڈون کے زیریں علاقے کے میدان ہیں، اور یہ گھوڑے تقریباً 2000 قبل مسیح سے تیزی سے یوریشیا میں پھیلے۔

جانوروں نے انسانی جسم کو بھی بدلا۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق یورپ میں گائے پالنے کے پھیلاؤ کے دوران ایک ایسی جینیاتی تبدیلی عام ہوئی جس سے بڑی عمر کے لوگ بھی کچا دودھ ہضم کرنے لگے۔

آج کی زندگی میں

جانوروں کو سدھانے سے انسان کو خوراک کا مستقل ذریعہ، کھال اور اون، سواری اور بوجھ اٹھانے کی طاقت ملی۔

آج جب کسی گاؤں میں کوئی چرواہا بکریوں کا ریوڑ لے کر نکلتا ہے یا کوئی کسان کوہان والے بیل کو ہل میں جوتتا ہے، تو وہ ہزاروں برس پرانی اس شراکت کو آگے بڑھا رہا ہوتا ہے جس کے ابتدائی نشان مہر گڑھ کی مٹی میں بھی محفوظ ہیں۔

ماخذ

  1. W. A. Marsh, L. Scarsbrook et al., "Dogs were widely distributed across western Eurasia during the Palaeolithic", Nature 651, 995–1003 (25 March 2026). https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC13017512/ — dog genomes from Pınarbaşı, Türkiye (about 15,800 years ago) and Gough's Cave, UK (about 14,300 years ago); dogs widely spread across Europe and Anatolia; earlier unequivocal genetic evidence only about 10,900 years old; Bonn-Oberkassel canid about 14,300 cal BP buried with two humans, with pathologies implying prolonged human care.
  2. A. Bergström, A. Furtwängler et al., "Genomic history of early dogs in Europe", Nature 651, 986–994 (25 March 2026). https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC13017524/ — earliest morphologically identifiable dogs in Europe at least 14,000 years old; 14,200-year-old Kesslerloch (Switzerland) dog genome; dogs the only domestic animal to predate agriculture.
  3. A. Bergström, L. Frantz et al., "Origins and genetic legacy of prehistoric dogs", Science 370, 557–564 (2020). https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC7116352/ — dogs the first domestic animal; at least five major ancestry lineages by 11,000 years ago.
  4. A. R. Perri et al., "Dog domestication and the dual dispersal of people and dogs into the Americas", PNAS 118 (6) e2010083118 (2021). https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC8017920/ — proposal that dogs were domesticated in Siberia by about 23,000 years ago and entered the Americas with people.
  5. M. A. Zeder, "Domestication and early agriculture in the Mediterranean Basin: Origins, diffusion, and impact", PNAS 105 (33), 11597–11604 (2008). https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC2575338/ — managed goats at Ganj Dareh (9,900 BP); sheep, goats, cattle and pigs under management c. 11,000–10,000 BP; wild progenitors in the Fertile Crescent; demography changes before morphology; colonists carrying all four species by boat to Cyprus (60 km) c. 10,500 BP.
  6. B. Mutin, A. Zazzo, L. Bondioli, A. Coppa et al., "New radiocarbon dates of human tooth enamel reveal a late appearance of farming life in the Indus Valley", Scientific Reports 15, 11345 (2025). https://www.nature.com/articles/s41598-025-92621-5 — Mehrgarh (Kachi Plain) Period I start c. 5200–4900 BCE vs. Jarrige's c. 8000 BCE; domestic animals present from the outset, mostly West Asian in character; zebu, native to the plain, domesticated soon after settlement.
  7. K. Gangal, G. R. Sarson, A. Shukurov, "The Near-Eastern Roots of the Neolithic in South Asia", PLoS ONE 9(5): e95714 (2014). https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0095714 — good evidence for local domestication of zebu cattle at Mehrgarh, the earliest Neolithic site in the north-west of the subcontinent.
  8. P. Librado et al., "The origins and spread of domestic horses from the Western Eurasian steppes", Nature 598, 634–640 (2021). https://www.nature.com/articles/s41586-021-04018-9 — homeland of modern domestic horses in the lower Volga-Don region; rapid spread across Eurasia from about 2000 BC.
  9. National Geographic Society, "The Development of Agriculture" (Education resource). https://education.nationalgeographic.org/resource/development-agriculture/ — Fertile Crescent origin of domestic cattle, goats, sheep and pigs; spread of lactose tolerance with cattle herding in Europe.
  10. "Mehrgarh", Wikipedia (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/Mehrgarh — background on the site; facts cross-checked against sources 6 and 7.

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←