رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 15° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات
باب 41 حصہ پنجم: قیامِ پاکستان سے صوبے تک (1947 سے 1970)

گوادر کی واپسی (8 ستمبر 1958)

مکران کے ساحل کا ایک ٹکڑا، گوادر کی بندرگاہ اور اس کے آس پاس کا علاقہ، ایسا تھا جہاں پونے دو سو برس سے مسقط کے سلطان کا والی بیٹھتا تھا۔ یہ باب بتاتا ہے کہ یہ شہر عمان کے…

گوادر کی واپسی (8 ستمبر 1958)
علامتی تصویر

مکران کے ساحل کا ایک ٹکڑا، گوادر کی بندرگاہ اور اس کے آس پاس کا علاقہ، ایسا تھا جہاں پونے دو سو برس سے مسقط کے سلطان کا والی بیٹھتا تھا۔ یہ باب بتاتا ہے کہ یہ شہر عمان کے پاس کیسے گیا اور 1958ء میں کیسے واپس آیا۔

ایک جلاوطن شہزادہ اور ماہی گیروں کی بستی

برطانوی حکومتِ ہند کے افسر جے۔ جی۔ لوریمر (J. G. Lorimer) کے "گزیٹیئر آف دی پرشین گلف" کے مطابق 1784ء میں مسقط کے حکمران خاندان آلِ بوسعید کا ایک شہزادہ، سید سلطان بن احمد، تخت کی خاندانی کشمکش ہار کر مکران آیا۔ وہ قلات میں میر نصیر خان اول کے پاس پہنچا۔ لوریمر لکھتے ہیں کہ خان نے عمان کا تخت دلانے میں مدد کے بجائے گوادر کی بندرگاہ، جو اس وقت "ایک معمولی ماہی گیر بستی" تھی، اس جلاوطن کے حوالے کر دی۔

تاریخ پر ماخذ متفق نہیں۔ لوریمر 1784ء لکھتے ہیں؛ 1906ء کا مکران گزیٹیئر صرف یہ بتاتا ہے کہ سید سعید 1783ء میں مسقط کی مسند پر بیٹھے اور ان کا اپنے بھائی سید سلطان سے جھگڑا ہوا؛ فیروز خان نون اپنی یادداشتوں میں 1781ء لکھتے ہیں؛ اور ڈان میں وائس ایڈمرل (ر) افتخار احمد راؤ کی کتاب پر تبصرے کے مطابق یہ کتاب 1783ء بتاتی ہے۔ اس لیے ہم اتنا ہی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ 1780ء کی دہائی کا ہے۔

عطیہ تھا یا امانت؟

اصل جھگڑا اس سوال پر رہا کہ نصیر خان نے دیا کیا تھا۔ مکران گزیٹیئر کے مطابق خان نے قلات کے حصے کی آمدنی سید سلطان کو گزارے کے لیے دی تھی، کیونکہ گوادر کی آمدنی اس وقت آدھی قلات اور آدھی گچکی سرداروں کی تھی۔ گزیٹیئر ایک مقامی ڈائری کا اقتباس دیتا ہے جس کے مطابق نصیر خان نے گوادر "عاریتاً امانتاً" دیا اور کہا کہ مسقط واپس ملتے ہی گوادر لوٹا دینا، مگر "وہ آج تک واپس نہیں دیا گیا"۔ نون بھی یہی بات کہتے ہیں: خان نے آمدنی "گزارے کے طور پر" دی تھی، جو سالانہ تقریباً چوراسی "تنکہ" تھی۔

عمانی مؤقف لوریمر نے یوں بیان کیا ہے کہ اس انتظام کا مقصد ایک ایسے شہزادے کی مدد سے مکران کے ساحل کی بحری حفاظت تھا جس کا عمان کا حکمران بننا نصیر خان کو یقینی نظر آتا تھا۔ لوریمر کا اپنا فیصلہ یہ ہے کہ مسقط کا دعویٰ "عملاً ایک صدی کے قبضے" پر کھڑا ہے، اس لیے اس کا حقِ ملکیت "مشکوک" کہا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ خامی ان کے بقول "تکنیکی ہے، اصل نہیں"۔

لوریمر کے مطابق سید سلطان 1792ء میں مسقط کے حکمران بنے؛ مکران گزیٹیئر یہ سال 1797ء لکھتا ہے۔ دونوں اس پر متفق ہیں کہ حکمران بننے کے بعد بھی گوادر واپس نہیں ہوا۔

قلات کی کوششیں

لوریمر کے مطابق 1857ء میں میر نصیر خان دوم نے شاہ غاسی ولی محمد کی کمان میں کیچ کی طرف ایک مہم بھیجی جس کا ایک مقصد گوادر واپس لینا تھا۔ یہ حملہ عرب والی نے غالباً خرید لیا: اس نے قلات کو غلام اور ایک تلوار تحفے میں بھیجے۔ مکران گزیٹیئر کے مطابق تقریباً 1860ء میں کیچ کے نائب میر فقیر محمد نے دو ہزار آدمیوں کے ساتھ گوادر کا محاصرہ کیا اور کچھ رقم لے کر واپس ہوا۔

انگریز درمیان میں

کراچی سے گوادر تک تار کی لائن بچھنے لگی تو گوادر انگریزوں کی نظر میں آیا۔ لوریمر کے مطابق 1861ء میں خانِ قلات نے تجویز دی کہ انگریز گوادر سلطان سے خرید کر انہیں دے دیں۔ حکومتِ ہند نے یہ تجویز "قدیم قبضے" کی بنیاد پر رد کر دی، اور اپریل 1863ء میں بمبئی حکومت نے کمشنر سندھ کو لکھا کہ گوادر پر خان کا دعویٰ اتنا ہی کمزور ہے جتنا کراچی پر۔

اسی مہینے، اپریل 1863ء میں، لیفٹیننٹ ای۔ سی۔ راس (E. C. Ross) اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ بن کر گوادر پہنچے۔ مکران گزیٹیئر کے مطابق 1863ء سے 1879ء تک گوادر ایک اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کا صدر مقام رہا۔ بعد میں 1885ء اور 1900ء سے 1902ء کے بیچ بھی خریداری کی تجویزیں آئیں اور رد ہوئیں۔ لوریمر لکھتے ہیں کہ 1891ء میں سلطان ایک معاہدے پر دستخط کر چکے تھے جو ان کے علاقہ دینے کے اختیار کو محدود کرتا تھا۔ یعنی گوادر کا کوئی سودا انگریزوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔ 1903ء میں خانِ قلات نے پھر مدد مانگی، مگر 1904ء میں حکومتِ ہند نے کوئی قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

بیسویں صدی کے شروع کا گوادر کیسا تھا؟ مکران گزیٹیئر اور لوریمر کے مطابق 1903ء میں عمانی علاقے کا رقبہ تقریباً 307 مربع میل تھا، جس کی سرحدیں سمندر کے سوا ہر طرف متنازع تھیں؛ نون 1958ء میں واپس آنے والے علاقے کو دو ہزار چار سو مربع میل لکھتے ہیں۔ کل آبادی تقریباً 5,150 تھی، جن میں سے 4,350 گوادر قصبے میں رہتے تھے، زیادہ تر میذ ماہی گیر۔ نظم و نسق سلطان کا عرب والی 20 پیادوں کی مدد سے چلاتا تھا۔

پاکستان کا مطالبہ

1947ء میں پاکستان بنا تو گوادر ابھی عمان کے پاس تھا۔ فیروز خان نون "فرام میموری" میں لکھتے ہیں کہ 1949ء میں کچھ "غیر فیصلہ کن" بات چیت ہوئی، پھر معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا، یہاں تک کہ 1956ء میں وہ وزیرِ خارجہ بنے۔ انہوں نے فائلیں منگوائیں اور برطانوی حکومت کے ذریعے مذاکرات شروع کیے۔ ان کے بقول یہ بات چیت جاری تھی جب وہ 1957ء میں وزیرِ اعظم بنے۔

نون کے مطابق دستخط شدہ "انتقال نامہ" 1958ء کی گرمیوں میں لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر اکرام اللہ نے ان کے حوالے کیا۔ ڈان میں راؤ کی کتاب پر تبصرے کے مطابق سلطان پاکستان سے براہِ راست بات کرنے پر تیار نہیں تھے، اس لیے برطانیہ کو ثالث بننا پڑا۔

8 ستمبر اور 8 دسمبر

گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق 8 ستمبر 1958ء کو پاکستان نے گوادر کا علاقہ عمان سے خریدا، اور 8 دسمبر 1958ء کو یہ باقاعدہ پاکستان کا حصہ بنا۔ پاکستان نیوی کے کیپٹن (ر) احمد ظہیر نے 2020ء میں ڈیلی ٹائمز میں لکھا کہ 8 ستمبر کو وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکرٹری آغا عبدالحمید جہاز "سردھانا" پر نیوی کے ایک مواصلاتی دستے کے ساتھ گوادر پہنچے۔ ان کے مطابق 8 دسمبر کو "آپریشن براوو" کے تحت تقریب ہوئی: گوادر کے والی نے سلطان کی طرف سے علاقے کے کاغذات پاکستان کے نمائندے کو دیے، پاکستان کا پرچم لہرایا گیا اور خلیج میں کھڑے پی این ایس بابر نے اکیس توپوں کی سلامی دی۔

نون لکھتے ہیں کہ اس واقعے پر "تقریباً کوئی جشن یا تشہیر" نہیں ہوئی، کیونکہ انہوں نے انگریزوں اور صدر اسکندر مرزا سے وعدہ کیا تھا کہ سلطان کے جذبات کا خیال رکھا جائے گا۔

قیمت کتنی تھی، اور کس نے دی؟

ماخذ یہاں مختلف ہیں۔ نون خود کوئی رقم نہیں لکھتے؛ ان کے بقول معاوضہ "ظاہر ہے" دینا پڑا، اور ایک حاشیے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ رقم گوادر کے مختلف محصولات کی چند برس کی آمدنی کے برابر تھی۔ ڈان کے 2008ء کے ایک مضمون کے مطابق پاکستان نے ستمبر 1958ء میں تیس لاکھ پاؤنڈ دیے، "بعض کے بقول اس کا نصف"۔ ڈان میں عدنان عامر کے 2022ء کے تبصرے کے مطابق راؤ کی کتاب میں شامل چودہ نکاتی معاہدہ کہتا ہے کہ پاکستان نے تیس لاکھ پاؤنڈ "آمدنی کے نقصان" کے عوض دیے اور یہ بھی مانا کہ گوادر میں کبھی تیل نکلا تو پچیس برس تک منافع کا دس فیصد عمان کو جائے گا۔ احمد ظہیر رقم تیس لاکھ امریکی ڈالر لکھتے ہیں اور یہ بھی کہ رقم آغا خان سوم نے ادا کی۔ یہ آخری دعویٰ کسی دستاویز سے ہماری نظر سے نہیں گزرا، اور نون، جو اس سودے کے مرکزی کردار تھے، کسی ادائیگی کرنے والے کا ذکر نہیں کرتے۔

اس کے بعد

گوادر پورٹ اتھارٹی کے مطابق اس کے بعد گوادر مکران ضلع کا حصہ رہا، اور جولائی 1977ء میں اسے الگ ضلع بنایا گیا جس کا صدر مقام گوادر قصبہ تھا۔ گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی یہ تاریخ یکم جولائی 1977ء لکھتی ہے۔

ماخذ

  1. J. G. Lorimer, Gazetteer of the Persian Gulf, 'Oman and Central Arabia, vol. I (Historical), part I, Superintendent Government Printing, Calcutta, 1915: pp. 418–419 (Saiyid Sultan's flight to Gwadar in 1784 and the grant from the Khan of Kalat); Annexure No. 2, "History of Gwadar and Chahbar", pp. 601–603 (the grant, "an insignificant fishing village", the Kalat and Omani arguments, "doubtful validity"; Saiyid Sultan in power at Muscat in 1792), pp. 603–605 (1857 expedition; 1861 Kalat proposal and the Bombay Government's reply of April 1863), pp. 606–607 (Lt E. C. Ross at Gwadar, April 1863), pp. 619–620 (proposals of 1885, 1891, 1900–02, 1903–04; the Sultan's 1891 agreement). OCR text: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.206962
  2. J. G. Lorimer, Gazetteer of the Persian Gulf, 'Oman and Central Arabia, vol. II (Geographical and Statistical), Calcutta, 1908, "Gwadar District" and "Gwadar Town", pp. 585–590 (area about 307 square miles; 1903 population; Wali and 20 footmen). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.206964
  3. Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VII: Makran, Bombay, 1906 (compiled under R. Hughes-Buller): History chapter, about pp. 54–55 (Nasir Khan gives his moiety of Gwadar's revenue to a refugee brother of the Sultan of Muscat); "Gwadar", pp. 280–288 (area and disputed boundaries; Saiad Said's accession in 1783; Saiad Sultan in Muscat in 1797; the Mirwari diary, "ariyat amanati"; revenue shares; the siege of about 1860; Assistant Political Agent 1863–79; 1903 population, administration and revenue). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279674
  4. Malik Firoz Khan Noon, From Memory, Ferozsons, Lahore (1966; archive.org scan of the 1993 reprint), pp. 298–301 (section "Gwadar": 2,400 square miles; the 1781 grant and 84 "tunkas"; 1861 claim; 1949 talks; negotiations through the British from 1956; the jagir argument; Macmillan's government; transfer deed in summer 1958; no celebrations; compensation footnote). https://archive.org/details/from-memory-firoz-khan-noon-1993-cs
  5. Gwadar Development Authority, "History of Gwadar" (official website; purchase on 8 September 1958, formal incorporation on 8 December 1958; Gwadar district from 1 July 1977). https://gda.gov.pk/history-of-gwadar (the same text appears on the Balochistan High Court's Gwadar district page: https://bhc.gov.pk/district-judiciary/gawadar/introduction/history)
  6. Gwadar Port Authority, "About Gwadar" (official website; Gwadar notified as a district in July 1977, previously part of Makran District). https://gwadarport.gov.pk/gwadar.aspx
  7. Capt (R) Ahmed Zaheer PN, "Transfer of Gwadar to Pakistan: first naval footprint", Daily Times, 8 December 2020 (Agha Abdul Hamid on SS Sirdhana on 8 September 1958; Operation Bravo, 8 December 1958; PNS Babur; US$3 million and the Aga Khan III claim). https://dailytimes.com.pk/699248/transfer-of-gwadar-to-pakistan-first-naval-footprint-2/
  8. "Gwadar port: 'history-making milestones'", Dawn, 14 April 2008 (£3 million in September 1958, "some say half that sum"). https://www.dawn.com/news/297994
  9. Adnan Aamir, "Non-fiction: Deconstructing Gwadar" (review of Vice Adm. (R) Iftikhar Ahmed Rao, Gwatar Bay to Sir Creek: The Golden Coast of Pakistan — History and Memoirs, IPS Press, Islamabad), Dawn, Books & Authors, 11 December 2022 (1783; the Sultan's refusal to negotiate directly; British intermediary; 14-point agreement; three million pounds for loss of revenue; 10 percent of oil profits for 25 years). https://www.dawn.com/news/1725784/non-fiction-deconstructing-gwadar
  10. Background only, not opened (blocked in this session): UK National Archives, FO 371/132792, "Negotiations between Pakistan and Muscat on oil rights at Gwadur" (1958), catalogue at https://www.agda.ae/en/catalogue/tna/fo/371/132792 ; UK Parliament treaty record, Exchange of Letters of 26 July 1958 terminating the 1891 agreement, https://api.parliament.uk/uk-treaties/treaties/6739 ; Rao's book itself (print).

بلوچستان: تاریخ کا سفر: تمام تحریریں ←