نصیر خان کے بعد: اندرونی کشمکش
پچھلے باب کا موضوع جام درک اور دربارِ قلات کی ادبی روایت تھا۔ اس باب میں ہم اس دربار کو ایک مختلف حال میں دیکھیں گے۔ میر نصیر خان اول کے طویل دور کے بعد قلات کی ریاست اپنی وسعت…

پچھلے باب کا موضوع جام درک اور دربارِ قلات کی ادبی روایت تھا۔ اس باب میں ہم اس دربار کو ایک مختلف حال میں دیکھیں گے۔ میر نصیر خان اول کے طویل دور کے بعد قلات کی ریاست اپنی وسعت برقرار نہ رکھ سکی۔ اگلے چالیس پینتالیس برس، یعنی انگریزوں کے درۂ بولان میں داخلے سے پہلے تک، کی کہانی بیرونی حملوں سے زیادہ اندرونی جھگڑوں کی کہانی ہے: کمسن خان، خود مختار ہوتے صوبے، تخت کے دعوے دار، اور خان کے وزیروں اور سرداروں کے درمیان کھنچاؤ۔ جہاں ماخذ مختلف ہیں، وہاں ہم ہر ایک کی بات الگ لکھیں گے۔
نصیر خان کی وفات اور ایک کمسن جانشین
نصیر خان اول کی وفات کے سال پر ماخذ دو تاریخیں دیتے ہیں۔ 1907ء کے سراوان گزیٹیئر کے مطابق ان کا انتقال 1794ء کی بہار میں گنجاوہ میں ہوا، اور جھالاوان اور کچھی کے گزیٹیئر (1907ء)، 1908ء کے امپیریل گزیٹیئر کی خانوں کی فہرست اور نوید رزاق و رابعہ اسلام (2023ء) بھی ان کا دور 1793-94ء پر ختم کرتے ہیں۔ دوسری طرف ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر (W. W. Hunter) کے "امپیریل گزیٹیئر آف انڈیا" کے دوسرے ایڈیشن (1885ء) میں بلوچستان کے مضمون اور 1911ء کے "انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا" دونوں کے مطابق ان کا انتقال جون 1795ء میں ہوا۔
ہنٹر کے گزیٹیئر کے مطابق نصیر خان کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے محمود خان (Mahmud Khan) تخت پر بیٹھے، جن کی عمر اس وقت کوئی چودہ برس تھی۔ گزیٹیئر انہیں ایک "رحم دل اور سست" شخص لکھتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کے دور میں ملک "خونریز جھگڑوں" میں الجھا رہا۔ 1911ء کی برٹانیکا اسی بات کو آگے بڑھاتی ہے: اس دور میں کئی صوبوں اور اضلاع کے حاکموں نے خان کی اطاعت چھوڑ دی، اور خانانِ قلات کی عمل داری رفتہ رفتہ سکڑتی چلی گئی۔
ایک کمسن خان کے ساتھ سرداروں کا رویہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ سپونر لکھتے ہیں کہ 1730ء کی دہائی میں بلوچ سرداروں نے میر محبت خان کو ناکافی پا کر ان کی جگہ ان کے بھائی میر التاز خان کو خان بنا دیا تھا۔ ابنِ خلدون کے تصورِ "عصبیت" کی روشنی میں خانیتِ قلات کا جائزہ لینے والے نوید رزاق اور رابعہ اسلام کے تحقیقی مضمون (2023ء) کے مطابق محبت خان کی معزولی بعد میں سرداروں کی بغاوتوں کے لیے ایک نظیر بن گئی، جبکہ نصیر خان اول نے اپنے دور میں سرداروں کو بغاوت کا موقع نہیں دیا تھا۔ یعنی نصیر خان کی مضبوط گرفت ہٹتے ہی وہ پرانا توازن لوٹ آیا جس میں خان کی طاقت سرداروں کی رضا سے بندھی تھی۔
کراچی ہاتھ سے نکل گیا
نصیر خان کی وفات کے آس پاس قلات نے اپنا ایک اہم ساحلی شہر کھو دیا۔ "انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا" میں کراچی کی تاریخ کے مطابق سندھ کے تالپور امیروں (Talpurs) نے 1795ء میں کراچی خانِ قلات سے حاصل کیا اور منوڑہ کے مقام پر ایک مستقل قلعہ بنایا۔ روزنامہ ڈان میں تالپور دور پر شائع ایک مضمون بھی یہی سال دیتا ہے۔ کچھ دوسرے حوالے اس سے پہلے کی لڑائیوں اور محاصروں کا ذکر کرتے ہیں، مگر ان کی تاریخیں ایک دوسرے سے نہیں ملتیں، اس لیے ہم یہاں صرف وہ سال لکھ رہے ہیں جس پر یہ دونوں ماخذ متفق ہیں۔
محمود خان کا دور: سکڑتی ہوئی ریاست
محمود خان کا دور کتنا کمزور تھا، اس کا اندازہ گزیٹیئر آف بلوچستان کی سراوان کی جلد سے ہوتا ہے، جس کا فیصلہ اس سے بھی سخت ہے۔ اس کے مطابق محمود خان "کمزور اور نااہل" حکمران تھے اور ان کے دور میں بغاوتوں کے سوا کچھ قابلِ ذکر نہیں ہوا، یہاں تک کہ ان کے پاس صرف جھالاوان، سراوان، کچھ گنداوا، قلات اور ہڑند (Harrand) رہ گئے۔ ہنٹر کا گزیٹیئر بھی کہتا ہے کہ محمود خان کی سلطنت ان صوبوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ تھی جو کبھی نصیر خان کے ماتحت تھے۔
اس فہرست میں جو نام نہیں ہیں، وہ بھی کچھ بتاتے ہیں: مکران، لسبیلہ اور خاران اس میں شامل نہیں۔ یہ علاقے اس دور میں کس طرح اپنے اپنے مقامی حکمرانوں کے ہاتھ میں گئے، یہ اگلے باب کا موضوع ہے۔
اسی زمانے میں قندھار اور کابل کی درانی سلطنت قلات کے معاملات سے الگ نہیں تھی۔ رزاق اور اسلام کے "عصبیت" والے مضمون کے مطابق محمود خان کے دور کی کمزوری میں ایک عنصر یہ بھی تھا کہ انہوں نے افغان بادشاہ شاہ زمان (Shah Zaman) کو خانیت کے سیاسی معاملات میں دخل دینے کی دعوت دی۔ اس دعوت کی تفصیل اور اس کے نتائج ہمیں ان ماخذ میں نہیں ملے، اس لیے ہم اسے اسی حد تک بیان کر رہے ہیں۔
اسی دور میں ایک انگریز سیاح نے قلات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ہنری پوٹنجر (Henry Pottinger) 1810ء میں محمود خان کے دور میں قلات پہنچے اور 1816ء میں اپنا سفرنامہ "ٹریولز اِن بلوچستان اینڈ سندھ" شائع کیا۔
میر محراب خان: تخت پر دعویٰ اور بغاوت
سراوان گزیٹیئر کے مطابق محمود خان کا انتقال 1816-17ء میں ہوا اور ان کے بیٹے میر محراب خان (Mir Mehrab Khan) جانشین ہوئے۔ کچھی کا گزیٹیئر بھی محمود خان کا دور 1793-94ء سے 1816-17ء تک اور محراب خان کا 1816-17ء سے 1839ء تک لکھتا ہے۔ بعد کی فہرستوں میں ملنے والا 1817ء اسی 1816-17ء کا حصہ ہے، اس لیے یہاں کوئی حقیقی اختلاف نہیں۔
نئے خان کو آتے ہی ایک دعوے دار کا سامنا کرنا پڑا۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ محراب خان کی تخت نشینی کو جلد ہی احمد یار خان نے چیلنج کیا، جو بہرام خان کے بیٹے تھے۔ احمد یار خان نے قبائل کے ساتھ ساز باز کی اور سراوان میں بغاوت کرا دی۔ گزیٹیئر کا یہ بیان اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ قلات میں تخت کا فیصلہ صرف وراثت سے نہیں ہوتا تھا؛ سراوان کے قبائل کی حمایت بھی اتنی ہی اہم تھی۔
وزیر بمقابلہ سردار: داؤد محمد کا عروج
محراب خان کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ دربار کے اندر تھا۔ سراوان گزیٹیئر کے مطابق انہوں نے اپنے موروثی وزیر فتح محمد کو ہٹا کر داؤد محمد نامی ایک شخص کو اختیار دے دیا، جسے گزیٹیئر "کم تر حیثیت کا آدمی" لکھتا ہے۔ گزیٹیئر کے بقول داؤد محمد نے ریاست کے ان تمام بڑے لوگوں کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جن کے اثر سے وہ خائف تھا، اور محراب خان کو بعد میں جو مشکلات پیش آئیں، ان کی بڑی ذمہ داری انہی اقدامات پر تھی۔
گزیٹیئر کے مطابق داؤد محمد کا اثر تقریباً 1833ء تک رہا، جب فتح محمد کے بیٹے ملا محمد حسن (Mulla Muhammad Hasan) نے اسے قتل کر دیا۔ (ہنٹر کے گزیٹیئر اور 1840ء کے لندن گزٹ میں یہی وزیر "محمد حسین" کے نام سے آتا ہے؛ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں۔) اس کے بعد ملا محمد حسن کو اپنے خاندان کا موروثی عہدہ واپس مل گیا۔ یوں وزارت ایک بار پھر اسی خاندان کے پاس لوٹ آئی جس سے محراب خان نے اسے چھینا تھا، مگر خان اور اس کے نئے وزیر کے درمیان اعتماد کا رشتہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ 1911ء کی برٹانیکا بعد کے واقعات کے سلسلے میں ایک "غدار وزیر" کا ذکر کرتی ہے جس نے برطانوی افسروں کو محراب خان کے بارے میں گمراہ کیا؛ یہ کہانی ستائیسویں اور اٹھائیسویں باب میں آئے گی۔
ایک نتیجہ، کئی ماخذ
1790ء کی دہائی کے وسط سے 1830ء کی دہائی کے آخر تک کا قلات ایک ایسی ریاست ہے جس کی سرحدیں سکڑ رہی تھیں اور جس کے مرکز میں اختیار کی جنگ جاری تھی۔ ہنٹر کا گزیٹیئر، 1911ء کی برٹانیکا اور سراوان گزیٹیئر تینوں اس دور کو زوال کا دور کہتے ہیں، مگر ان کے فیصلوں کی بنیاد برطانوی نقطۂ نظر اور بعد کی روایتیں ہیں۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے مجلے "بلوچستان ریویو" میں پرویز احمد، شازیہ جعفر اور عبدالناصر (2015ء) نے 1666ء سے 1871ء تک قلات کے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مختلف سلطنتیں بلوچستان کی طاقت کی سیاست میں شامل رہیں، اور یہی حالات بالآخر انگریزوں کو یہاں تک لائے۔ چارلس میسن (Charles Masson)، جو 1826ء سے 1838ء تک اس خطے میں رہے، کا 1842ء کا سفرنامہ بھی محراب خان کے انہی برسوں کا ایک عینی بیان ہے، جسے ان گزیٹیئروں کے ساتھ ملا کر پڑھنا ضروری ہے۔
اگلے اتوار: لسبیلہ، خاران اور مکران کی ریاستیں: قلات کے کنارے پر ابھرتی ہوئی مقامی حکومتیں۔
ماخذ
- W. W. Hunter, The Imperial Gazetteer of India, 2nd edition, vol. II, Trübner & Co., London, 1885, article "Baluchistan", p. 41 (Nasir Khan's death in June 1795; Mahmud Khan "a boy of about fourteen"; "humane and indolent"; "sanguinary broils"; his realm only "a small portion" of Nasir Khan's provinces). https://en.wikisource.org/wiki/Page:The_Imperial_Gazetteer_of_India_-_Volume_2_(2nd_edition).pdf/41
- "Baluchistan (India)", Encyclopaedia Britannica, 11th edition, Cambridge, 1911 (death in June 1795; governors of provinces and districts withdrawing allegiance under Mahmud Khan; the khan's dominions "gradually so diminished"; the "treacherous vizier" and Mehrab Khan). https://en.wikisource.org/wiki/1911_Encyclop%C3%A6dia_Britannica/Baluchistan_(India)
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI: Sarawan (with vols. VI-A Kachhi and VI-B Jhalawan), 1907 (Nasir Khan I "died at Ganjawa in the spring of 1794", reign "1750-1 to 1793-4", pp. 29–30; Mahmud Khan "a weak and incapable ruler"; what remained to him: Jhalawan, Sarawan, Kach Gandava, Kalat, Harrand; "He died in 1816-7" and Mehrab Khan's accession; the dispute by Ahmadyar Khan son of Bahram Khan and the revolt in Sarawan; Fateh Muhammad set aside for Daud Muhammad; Daud's killing by Mulla Muhammad Hasan about 1833. Kachhi: Mahmud I "1793-4 to 1816-17", Mehrab II "1816-7 to 1839"). Combined scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668 · Kachhi and Jhalawan PDFs: https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//137.pdf · https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//136.pdf
- Brian Spooner, "Baluchistan i. Geography, History and Ethnography", Encyclopaedia Iranica, vol. III, fasc. 6, 1988, pp. 598–632 (Mohabbat Khan replaced by Eltaz Khan by the sardars in the 1730s). https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-i/
- "Karachi: History", Encyclopaedia Britannica (the Talpur amirs gain Karachi from the khan of Kalat in 1795 and build a fort on Manora Head). https://www.britannica.com/place/Karachi/History
- "The reality of Talpur rule", Dawn, Karachi (the Talpurs take Karachi from the Khan of Kalat in 1795). https://www.dawn.com/news/861907
- Naveed Razzaq and Rabia Islam, "Khanate of Kalat in the Light of Ibn Khaldun's Concept of Asabbiya (1731–1893)", Journal of the Pakistan Historical Society LXXI/2 (2023), p. 111 ff. (Mohabbat Khan's deposition as a precedent for later revolts of the sardars; Nasir Khan allowing no rebellion; "Naseer Khan (1749-94)"; the "biggest blunder … his invitation to Afghan King Shah Zaman"). https://phs.com.pk/index.php/phs/article/download/307/144
- Pervez Ahmed, Shazia Jaffar and Abdul Nasir, "The History of Kalat Affairs 1666 to 1871", Balochistan Review (Balochistan Study Centre, University of Balochistan) XXXIII/2 (2015), pp. 61–72 (survey of Kalat affairs; involvement of outside powers; circumstances that brought the British). https://uob.ac.pk/Journals/Balochistan-Review/data/BR%2002%202015/61-72%20The%20History%20of%20Kalat%20Affairs%201666%20to%201871,%20Pervez%20Ahmed.pdf
- Henry Pottinger, Travels in Beloochistan and Sinde, Longman, Hurst, Rees, Orme and Brown, London, 1816 (visit to Kalat in 1810, during Mahmud Khan's reign). https://archive.org/details/travelsinbelooc00pottgoog
- Charles Masson, Narrative of Various Journeys in Balochistan, Afghanistan and the Panjab, including a residence in those countries from 1826 to 1838, 3 vols., Richard Bentley, London, 1842. https://archive.org/details/dli.ministry.04704
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta, 1908, p. 15, list of rulers ("Mir Mahmud Khan I, 1793-4"). https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan
- The London Gazette, no. 19825, 13 February 1840, p. 300, despatches on the capture of Kalat (list of prisoners: "Mahomed Hoossein, Vizier", the same man as Mulla Muhammad Hasan). https://thegazette.co.uk/London/issue/19825/page/300/data.pdf
- Pointers only, not relied on alone: "Nasir Khan I Ahmadzai" and "Mehrab Khan II of Kalat", Wikipedia; "Muhammad Nasir Khan I", Wikidata (the 1794 death date; reign of Mehrab Khan "about 1817–1839"). https://en.wikipedia.org/wiki/Nasir_Khan_I_Ahmadzai · https://en.wikipedia.org/wiki/Mehrab_Khan_II_of_Kalat · https://www.wikidata.org/wiki/Q3336203



