اقبال قاسم: کم خرچ مگر کاٹ دار بائیں ہاتھ کا اسپنر
پاکستان کے اسپن بولروں کی بات ہو تو عبدالقادر کی گگلی سب سے پہلے یاد آتی ہے، مگر اسی دور میں ایک خاموش طبع بائیں ہاتھ کا اسپنر بھی تھا جو اوور در اوور ایک ہی جگہ گیند ڈالتا اور…

پاکستان کے اسپن بولروں کی بات ہو تو عبدالقادر کی گگلی سب سے پہلے یاد آتی ہے، مگر اسی دور میں ایک خاموش طبع بائیں ہاتھ کا اسپنر بھی تھا جو اوور در اوور ایک ہی جگہ گیند ڈالتا اور بلے باز کو سانس لینے کی مہلت نہ دیتا۔ یہ اقبال قاسم (Iqbal Qasim) تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ پاکستان کے سب سے کامیاب بائیں ہاتھ کے اسپنر ہیں3۔ 50 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 28.11 کی اوسط سے 171 وکٹیں لیں، اور فی اوور صرف 2.21 رنز دیے1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
اقبال قاسم، جن کا پورا نام محمد اقبال قاسم ہے، 6 اگست 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے اور بائیں ہاتھ سے سلو آرتھوڈوکس اسپن بولنگ کرتے تھے۔ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر 1971ء-72ء سے 1992ء-93ء تک رہا، جس میں انہوں نے کراچی، نیشنل بینک آف پاکستان اور سندھ کی نمائندگی کی2۔
ان کا ٹیسٹ کیریئر 24 دسمبر 1976ء کو ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف شروع ہوا، جہاں دوسری اننگز میں انہوں نے 30 اوورز میں 84 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق میلبرن میں اپنے دوسرے ٹیسٹ میں انہوں نے 7 وکٹیں لیں، اگرچہ رنز کافی دیے اور پاکستان وہ میچ بڑے فرق سے ہار گیا۔ اس کے بعد ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف ابتدائی سیریز ان کے لیے زیادہ کامیاب نہیں رہیں3۔
انداز: درستی اور کفایت
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق اقبال قاسم امپائر اور وکٹوں کے درمیان سے ایک مستحکم، ترچھے رن اپ کے ساتھ آتے تھے، اور ان کی گیند نیچی رفتار کے ساتھ بلے باز کی طرف تیزی سے جاتی تھی۔ پستہ قد اقبال قاسم کی توجہ گیند کو ہوا میں اچھالنے سے زیادہ درستی پر رہتی تھی، اور وہ شاذ و نادر ہی فی اوور دو رنز سے بہت زیادہ دیتے تھے۔ اسی پروفائل کے مطابق وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک ٹیم کا مستقل حصہ رہے، اور قریبی فیلڈنگ میں کبھی کبھی شاندار کیچ بھی پکڑتے تھے2۔
ٹیسٹ کیریئر میں انہوں نے 8 مرتبہ اننگز میں پانچ یا زیادہ وکٹیں لیں اور 2 مرتبہ میچ میں دس یا زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ اپنے ملک کی وکٹوں پر وہ خاص طور پر مؤثر تھے: پاکستان میں 29 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 25.15 کی اوسط سے 111 وکٹیں لیں1۔
یادگار اسپیل
16 دسمبر 1979ء کو بمبئی (وانکھیڑے) میں بھارت کے خلاف انہوں نے پہلی اننگز میں 4 اور دوسری اننگز میں 40 رنز دے کر 6 وکٹیں لیں، یوں میچ میں ان کی وکٹیں 10 ہو گئیں، مگر یہ میچ پاکستان ہار گیا۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 1980ء میں جاوید میانداد کی کپتانی میں وہ اپنے عروج پر پہنچے اور اس سال 39 وکٹیں لیں3۔ 27 فروری 1980ء کو کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے پہلی اننگز میں 4/69 اور دوسری اننگز میں 42 اوورز میں صرف 49 رنز دے کر 7 وکٹیں لیں۔ 7/49 ان کی بہترین ٹیسٹ بولنگ اور 11/118 ایک میچ میں ان کی بہترین کارکردگی ہے1۔
اسی سال کے آخر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف فیصل آباد میں 6/89 اور کراچی میں 4/48 کی کارکردگی آئی۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 1982ء میں انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچوں میں 23 وکٹیں لیں، جن میں سے 14 سری لنکا کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں تھیں3۔ 14 مارچ 1982ء کو فیصل آباد میں انہوں نے سری لنکا کے خلاف 65 اوورز کرا کر 141 رنز کے عوض 6 وکٹیں لیں۔ اسی سیریز میں 5 مارچ 1982ء کو کراچی میں تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے 56 رنز بنائے، جو ان کی واحد ٹیسٹ نصف سنچری ہے1۔
ان کا سب سے مشہور کارنامہ بنگلور کا ٹیسٹ ہے جو 13 مارچ 1987ء کو شروع ہوا۔ پہلی اننگز میں انہوں نے 48 رنز دے کر 5 اور دوسری اننگز میں 73 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق چوتھی اننگز کی مشکل وکٹ پر اقبال قاسم اور توصیف احمد نے مل کر تقریباً 83 اوورز کرائے، سنیل گواسکر کی شاندار اننگز نے انہیں دیر تک روکے رکھا، مگر آخرکار اقبال قاسم نے کامیابی حاصل کی اور بھارت ہدف سے 17 رنز پیچھے رہ گیا، جس سے پاکستان نے سیریز جیت لی3۔
15 ستمبر 1988ء کو کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے پہلی اننگز میں 39 اوورز میں 24 میڈن کے ساتھ صرف 35 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں، اور دوسری اننگز میں 4/49 کے ساتھ میچ میں 9 وکٹیں مکمل کیں۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ کراچی میں ایک بڑی جیت تھی۔ دو ٹیسٹ بعد، 7 اکتوبر 1988ء کو لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف ہی ان کا ٹیسٹ کیریئر ختم ہوا، اسی ٹیم کے خلاف جس سے آغاز ہوا تھا13۔
ون ڈے کرکٹ
ون ڈے کرکٹ میں اقبال قاسم نے 1977ء سے 1988ء تک 15 میچ کھیلے اور 12 وکٹیں لیں۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ایک کفایت شعار بولر کے لیے یہ دلچسپ بات ہے کہ ون ڈے میں وہ ٹیسٹ کے مقابلے میں تقریباً دگنے مہنگے رہے، ٹیم میں آتے جاتے رہے، اور ان کے کیریئر کے دوران ہونے والے تینوں عالمی کپ نہیں کھیل سکے3۔ ان کا آخری ون ڈے 29 اکتوبر 1988ء کو چٹاگانگ میں بنگلہ دیش کے خلاف تھا، جہاں انہوں نے 9 اوورز میں 13 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں، جو ان کی بہترین ون ڈے بولنگ ہے1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 50 | 15 |
| رنز | 549 | 39 |
| بہترین اسکور | 56 | 13 |
| اوسط (بیٹنگ) | 13.07 | 6.5 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 0 / 1 | 0 / 0 |
| اسٹرائیک ریٹ | – | 43.33 |
| وکٹیں | 171 | 12 |
| بہترین بولنگ | 7/49 | 3/13 |
| اوسط (بولنگ) | 28.11 | 41.66 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 8 | 0 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
ای ایس پی این کرک انفو کے 2016ء کے پروفائل کے مطابق پاکستان کے اسپنرز میں صرف عبدالقادر نے ان سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لی تھیں2۔ ان کی کامیابی کسی ایک جادوئی گیند کی مرہونِ منت نہیں تھی بلکہ مسلسل دباؤ کا نتیجہ تھی: 13019 گیندوں میں صرف 4807 رنز۔ جن میچوں میں پاکستان جیتا، ان میں ان کی 74 وکٹیں 20.39 کی اوسط سے آئیں1۔
اقبال قاسم اس بات کی مثال ہیں کہ کرکٹ میں صبر بھی ایک ہتھیار ہے۔ وہ بلے باز کو غلطی پر مجبور کرتے تھے، اور جب غلطی ہوتی تو وکٹ ان کے نام لکھی جاتی۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Iqbal Qasim, Test and ODI batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40572.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40572.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40572.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40572.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40572.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40572.html?class=2;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40572.html?class=2;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Iqbal Qasim (archived copy; profile essay by Lawrence Booth): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/40572.html
- ESPNcricinfo player profile, Iqbal Qasim (archived 2025 copy): https://web.archive.org/web/20250114231144/https://www.espncricinfo.com/cricketers/iqbal-qasim-40572



