سکہ: دھات کا وہ ٹکڑا جس پر بازار نے بھروسا کیا
جیب میں پڑا ایک روپے کا سکہ معمولی سی چیز لگتا ہے۔ مگر ذرا سوچیے: دکاندار اسے تولتا نہیں، پرکھتا نہیں، بس گن کر رکھ لیتا ہے۔ یہ بھروسا کہ دھات کے ایک مہر لگے ٹکڑے کی قیمت پہلے سے…

جیب میں پڑا ایک روپے کا سکہ معمولی سی چیز لگتا ہے۔ مگر ذرا سوچیے: دکاندار اسے تولتا نہیں، پرکھتا نہیں، بس گن کر رکھ لیتا ہے۔ یہ بھروسا کہ دھات کے ایک مہر لگے ٹکڑے کی قیمت پہلے سے طے ہے، انسانی تاریخ کی ایک بڑی ایجاد ہے۔ یہ ایجاد تقریباً ستائیس سو سال پہلے آج کے مغربی ترکی میں ہوئی۔
سکے سے پہلے کیا تھا
سکے سے پہلے لین دین کا مطلب تھا یا تو چیز کے بدلے چیز، یا خالص دھات کو تول کر دینا۔ آسٹریا کے سائنسی فنڈ کے تحت ہونے والی ایک تحقیق کے خلاصے کے مطابق اس دور میں عام طور پر چاندی کے کٹے ہوئے ٹکڑے اور اناج جیسی چیزیں ادائیگی کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ ہر سودے پر ترازو نکالنا پڑتا اور دھات کی خالصیت پر شک بھی رہتا۔
اسی تحقیق کا ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ سکہ پرانے طریقوں کا محض اگلا قدم نہیں تھا بلکہ بالکل نئی چیز تھا: دھات کا ایک ٹکڑا جس پر کسی ذمہ دار کی مہر ہو، تاکہ لینے والا اسے گنتی سے قبول کر لے۔
لیڈیا اور الیکٹرم کے پہلے سکے
اب تک کے قدیم ترین معلوم سکے ساتویں صدی قبل مسیح میں مغربی اناطولیہ کے علاقوں لیڈیا (Lydia) اور آیونیا میں بنے۔ یہ سونے اور چاندی کے قدرتی آمیزے الیکٹرم (electrum) کے تھے۔ یہ دھات کے چھوٹے، بے ڈھب ڈلے تھے جن پر ٹھپے سے نقش لگایا جاتا تھا۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق لیڈیا کا شمار سکہ ڈھالنے والی پہلی ریاستوں میں ہوتا ہے، اور شاید یہ کام بادشاہ الیاتیس (Alyattes) کے دور (تقریباً 610 تا 560 قبل مسیح) میں شروع ہوا۔ ابتدائی سکوں میں سے بہت سے تاجروں نے بھی بنائے۔ لیڈیا کے دارالحکومت سردیس (Sardis) میں کھدائی کرنے والا تحقیقی منصوبہ ایک لیڈیائی الیکٹرم سکے کی تاریخ تقریباً 630 تا 575 قبل مسیح بتاتا ہے، جس پر لیڈیائی زبان میں "والویت" لکھا ہے۔ یہ سکہ آج استنبول کے آثارِ قدیمہ میوزیم میں ہے۔
قدیم یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس (Herodotus) نے لکھا کہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے، لیڈیا والے پہلے لوگ تھے جنہوں نے سونے اور چاندی کے سکے ڈھال کر استعمال کیے۔ قدیم مصنفین اس بات پر متفق نہیں تھے اور بعض نے یہ سہرا دوسروں کے سر باندھا، مگر آثارِ قدیمہ کے شواہد بھی اسی علاقے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ایفیسس کا خزانہ اور تاریخ کا سوال
سب سے پرانے سکوں کا سب سے مشہور ذخیرہ 1904 اور 1905 میں ایفیسس (Ephesus) میں دیوی آرٹیمس کے مندر کی بنیادوں کے نیچے سے ملا۔ یہ مندر قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوتا تھا۔ امریکن نیومزمیٹک ایسوسی ایشن کے مطابق یہ اب تک ملنے والا سکوں کا قدیم ترین ذخیرہ ہے۔
اس کی تاریخ پر بحث آج بھی جاری ہے۔ پہلے ماہرین نے مندر کی بنیاد کی فرضی تاریخ کی بنیاد پر سکوں کو تقریباً 650 قبل مسیح کا قرار دیا تھا۔ بعد کی تحقیق کے مطابق بنیاد اس سے کافی بعد رکھی گئی، شاید 600 قبل مسیح کے قریب۔ آسٹریا کے آثارِ قدیمہ کے ادارے کی تحقیق کی بنیاد پر سکہ سازی کا آغاز ساتویں صدی قبل مسیح میں سمجھا جاتا ہے۔ یوں اندازاً 650 سے 600 قبل مسیح کا زمانہ ہی وہ دور ہے جب دنیا کے پہلے سکے گردش میں آئے۔
کروئسس، خالص سونا اور پھیلاؤ
الیکٹرم میں سونے اور چاندی کا تناسب ایک سکے سے دوسرے تک بہت مختلف ہوتا تھا۔ آسٹریائی تحقیق کے مطابق ابتدائی الیکٹرم سکوں کے تقریباً تین سو سلسلے ملتے ہیں جو لگ بھگ سو سال چلے اور پھر آہستہ آہستہ خالص سونے اور چاندی کے سکوں نے ان کی جگہ لے لی۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق لیڈیا کے سکوں پر شیر اور بیل کا نقش ہوتا تھا، اور یونانی لیڈیا کے بادشاہ کروئسس (Croesus) کی دولت کے قصے سناتے تھے۔ 546 قبل مسیح میں فارس کے بادشاہ کوروش (Cyrus) نے کروئسس کو شکست دی، اور یوں سکے کا تصور فارس پہنچا۔ پھر یونانی شہروں، فونیقیوں اور کارتھیج والوں نے اپنے سکے ڈھالے۔ روم نے 326 قبل مسیح سے سکے بنانا شروع کیے۔ چین میں سکوں کی یکساں شکل چن خاندان (221 تا 207 قبل مسیح) کے دور میں طے ہوئی۔
ہمارے خطے میں سکہ
برصغیر میں ابتدائی سکے چاندی کے "ٹھپے دار" سکے تھے، جنہیں کارشاپن کہا جاتا تھا۔ اوریئنٹل نیومزمیٹک سوسائٹی کے لیے ٹیری ہارڈیکر کے جائزے کے مطابق گنگا کے میدان کی ریاستوں نے ایک طویل سکہ روایت قائم کی۔ آج کے پاکستان کے شمالی علاقے، یعنی قدیم گندھارا، میں چاندی کی خمیدہ سلاخ نما سکے ملتے ہیں جو ہخامنشی سلطنت سے رابطوں کے زمانے کے ہیں۔ ان کی صحیح تاریخ پر ماہرین متفق نہیں: ہارڈیکر انہیں چھٹی صدی کے آخر سے پانچویں صدی قبل مسیح تک کا مانتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین چوتھی صدی قبل مسیح کا۔
آج کا سکہ
لیڈیا کے دانے نما سکے سے آج کے گول، کنارے دار سکے تک ستائیس صدیوں کا سفر ہے، مگر بنیادی خیال وہی ہے: ایک مہر جو قیمت کی ضمانت دیتی ہے۔ آج ہم کاغذی نوٹ، بینک کارڈ اور موبائل فون سے ادائیگی کرتے ہیں، لیکن یہ سب اسی بھروسے کی نئی شکلیں ہیں جو پہلی بار اناطولیہ کے ایک بازار میں دھات کے چھوٹے سے ٹکڑے نے پیدا کیا تھا۔
ماخذ
- Herodotus, The History of Herodotus, vol. 1, Book I §94, tr. G. C. Macaulay (1890), Project Gutenberg eBook #2707. https://www.gutenberg.org/cache/epub/2707/pg2707.txt — the Lydians "the first of men, so far as we know, who struck and used coin of gold or silver".
- Wolfgang Fischer-Bossert (PI), "Early Electrum Coinage" (project P30147), Austrian Science Fund FWF, 2017–2020. https://www.fwf.ac.at/en/research-radar/10.55776/P30147 — first coins minted in the 7th century BC in Lydia and Ionia; earlier payment in Hacksilber and grain; coinage something entirely new; about 300 electrum series lasting some 100 years, then replaced by gold and silver.
- American Numismatic Association, "In the beginning… when man created coins" (Michael T. Shutterly exhibit). https://money.org/howlandwood2016 — first coins in western Asia Minor in the second half of the 7th century BCE; Artemision deposit excavated 1904–05; first dated c. 650 BCE, foundation now placed near 600 BCE (possibly as late as 561); oldest known coin hoard.
- Archaeological Exploration of Sardis, "Electrum Twelfth-Stater with Lydian Inscription 'walwet'", The Lydians and their World (2010), cat. 20. https://sardisexpedition.org/en/artifacts/latw-20 — dated c. 630–575 BC; Istanbul Archaeological Museum inv. 5974.
- Mark Cartwright, "Lydia", World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/Lydia/ — Lydia among the first states to mint coins, perhaps under Alyattes (c. 635–585 BCE); lion and ox designs; Croesus defeated by Cyrus II in 546 BCE.
- Jan van der Crabben, "Coinage", World History Encyclopedia, 2011. https://www.worldhistory.org/coinage/ — first coins of electrum; some minted by merchants; coins introduced to Persia after 546 BCE; Phoenicians from mid-5th century; Rome from 326 BCE; Qin standardisation 221–207 BCE; ancient disagreement (Herodotus, Aristotle).
- Terry R. Hardaker, "India: Silver Punchmarked and Associated Coinages", Oriental Numismatic Society Information Sheet no. 1. https://orientalnumismaticsociety.org/archive/IS_001.pdf — Gangetic punch-marked coinage; Gandhara bent-bars of the late 6th–5th century possibly following Achaemenid contact.
- "Punch-marked coins", Wikipedia (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/Punch-marked_coins — alternative mid-4th-century BCE dating for Gandharan silver coinage.
- "Alyattes", Encyclopaedia Britannica. https://www.britannica.com/biography/Alyattes — king of Lydia c. 610–560 BCE, the standard dating (fact-check 20 Oct 2026; WHE gives both datings).


