پہیہ: وہ ایجاد جس کا آج تک کوئی بدل نہیں
گدھا گاڑی ہو یا ہوائی جہاز، سائیکل ہو یا گھڑی کی سوئیاں گھمانے والے پرزے، ہر جگہ پہیہ موجود ہے۔ ہمیں یہ اتنا عام لگتا ہے کہ سوچتے ہی نہیں کہ کبھی دنیا اس کے بغیر بھی تھی۔ حقیقت یہ…

گدھا گاڑی ہو یا ہوائی جہاز، سائیکل ہو یا گھڑی کی سوئیاں گھمانے والے پرزے، ہر جگہ پہیہ موجود ہے۔ ہمیں یہ اتنا عام لگتا ہے کہ سوچتے ہی نہیں کہ کبھی دنیا اس کے بغیر بھی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان نے کھیتی باڑی، مٹی کے برتن اور پکے گھر پہیے سے ہزاروں برس پہلے بنا لیے تھے۔ پہیہ نسبتاً دیر سے آیا، مگر جب آیا تو سب کچھ بدل گیا۔
پہیہ اصل میں ہے کیا؟
پہیہ صرف ایک گول ٹکڑا نہیں۔ اس کا کمال تب ظاہر ہوتا ہے جب اسے ایک دھرے، یعنی درمیان سے گزرنے والی چھڑ، کے ساتھ جوڑا جائے۔ تب بھاری بوجھ کو گھسیٹنے کے بجائے لڑھکایا جا سکتا ہے اور کم طاقت سے زیادہ کام ہوتا ہے۔ اس لیے ماہرین پہیے کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے دراصل پہیے اور دھرے کے جوڑ کی بات کرتے ہیں۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ پہیہ تقریباً 3500 قبل مسیح میں پہلے کمہار کے چاک کی شکل میں ایجاد ہوا، اور بعد میں اسے آمد و رفت کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ کمہار کے چاک نے برتن بنانا تیز اور سستا کر دیا۔
میسوپوٹیمیا اور یورپ: دو دعوے دار
پہیے کی ایجاد کا سہرا اکثر میسوپوٹیمیا، یعنی آج کے عراق، کے سومیری لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 3000 قبل مسیح تک سومیری لوگ انسانوں اور سامان کو لانے لے جانے کے لیے دو اور چار پہیوں والی گاڑیاں استعمال کر رہے تھے۔ مؤرخ اسٹیفن برٹمین (Stephen Bertman) کے حوالے سے اسی ماخذ میں لکھا ہے کہ ان گاڑیوں کے پہیے ٹھوس لکڑی کے دو آدھے گول ٹکڑوں کو کیلوں سے جوڑ کر بنائے جاتے تھے اور ان پر چمڑے کے ٹائر چڑھائے جاتے تھے۔
مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک ملنے والا سب سے پرانا اصل پہیہ میسوپوٹیمیا سے نہیں بلکہ وسطی یورپ سے ملا ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ پہیے کا تصور شاید میسوپوٹیمیا میں پہلے پیدا ہوا، لیکن قدیم ترین باقیات یورپ میں محفوظ رہیں۔
لیوبلیانا کی دلدل کا پہیہ
2002 میں سلووینیا کے دارالحکومت لیوبلیانا (Ljubljana) کے قریب ایک دلدلی علاقے میں ماہرینِ آثار کو لکڑی کا ایک تختہ ملا جو پہلی نظر میں عام سا لگتا تھا۔ غور سے دیکھا تو یہ ایک پہیہ نکلا، اور ساتھ ہی اس کا دھرا بھی ملا۔ سلووینیا کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ریڈیو کاربن طریقے سے اس کی عمر تقریباً 5100 سے 5350 برس کے درمیان طے کی گئی۔ یوں یہ سوئٹزرلینڈ اور جنوبی جرمنی کے ان پہیوں سے کم از کم ایک صدی پرانا نکلا جنہیں اس سے پہلے سب سے قدیم سمجھا جاتا تھا۔
یہ پہیہ ایش (Ash) کی لکڑی کے دو تختوں سے بنا ہے جو ایک ہی درخت سے کاٹے گئے تھے، اور اس کا دھرا بلوط کی لکڑی کا ہے۔ یہ دلدل پر کھمبوں کے سہارے بنے گھروں کی ایک بستی کے آثار میں ملا اور غالباً دو پہیوں والی ایک ہاتھ گاڑی کا حصہ تھا۔ آج یہ لیوبلیانا کے شہری عجائب گھر میں رکھا ہے، جو اسے دھرے سمیت لکڑی کا اب تک کا قدیم ترین معلوم پہیہ قرار دیتا ہے۔
تصویر میں گاڑی
اصل پہیوں کے علاوہ تصویریں بھی گواہی دیتی ہیں۔ جنوبی پولینڈ کے مقام برونوچیتسے (Bronocice) سے مٹی کا ایک برتن ملا ہے جس پر چار پہیوں والی گاڑی جیسی شکل بنی ہوئی ہے۔ پولینڈ کے جریدے "آرکیالوجیا پولونا" میں 2019 کے ایک مضمون کے مطابق یہ برتن جس گڑھے سے ملا اس کی تاریخ تقریباً 3400 قبل مسیح ہے۔ یہ اس بات کا بالواسطہ ثبوت ہے کہ اس زمانے میں وسطی یورپ میں گاڑیاں استعمال ہو رہی تھیں۔ اسی مضمون میں ماہر ڈیوڈ اینتھونی (David Anthony) کی یہ رائے نقل کی گئی ہے کہ یہ دنیا میں پہیوں والی گاڑی کی قدیم ترین اچھی طرح تاریخ شدہ تصویر ہے، تاہم مضمون اس نقش کی مختلف تشریحات کا بھی ذکر کرتا ہے۔
ٹھوس پہیے سے تیلیوں تک
ابتدائی پہیے ٹھوس اور بھاری تھے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق پہیہ تقریباً 3100 قبل مسیح میں یوریشیا کے میدانوں تک پہنچا، اور تقریباً 2000 قبل مسیح میں جنوبی کوہِ یورال کے مشرق میں گھوڑوں سے کھنچنے والا ہلکا رتھ ایجاد ہوا، جہاں سے قدیم ترین رتھ ملے ہیں۔ تیلیوں والے ہلکے پہیوں کی بدولت ہلکی اور تیز رفتار گاڑیاں بنانا ممکن ہوا۔
مہر گڑھ کا پہیہ نما تعویذ
بلوچستان میں مہر گڑھ سے تانبے کا ایک ننھا تعویذ ملا ہے جس کی شکل تیلیوں والے پہیے جیسی ہے: ایک حلقہ اور اس پر چھ تیلیاں۔ 2016 میں "نیچر کمیونیکیشنز" میں شائع ہونے والے مطالعے کے مطابق یہ تقریباً چھ ہزار برس پرانا ہے اور 4500 سے 3600 قبل مسیح کی تہوں سے ملا۔ یہ کسی گاڑی کا پہیہ نہیں بلکہ ایک زیور یا علامت ہے، اور اسے گم شدہ موم کے طریقے سے ڈھالا گیا تھا۔ پھر بھی یہ دکھاتا ہے کہ گول حلقے اور مرکز سے نکلتی تیلیوں کی شکل اس خطے کے کاریگروں کے ذہن میں بہت پہلے موجود تھی۔
آج کی زندگی میں پہیہ
لیوبلیانا کا شہری عجائب گھر اپنی نمائش میں لکھتا ہے کہ ہزاروں برس کی ذہانت بھی پہیے کا کوئی متبادل پیدا نہیں کر سکی۔ آج ہماری سڑکوں پر دوڑتی بسیں، کھیتوں میں چلتے ٹریکٹر، کارخانوں کی مشینیں، پن بجلی گھروں کی ٹربائنیں اور کمہار کا وہی پرانا چاک سب اسی ایک خیال کی شکلیں ہیں۔ پانچ ہزار برس سے زیادہ پرانی یہ سادہ سی ایجاد آج بھی ہر لمحہ ہمارے ساتھ گھوم رہی ہے۔
ماخذ
- Joshua J. Mark, "Mesopotamian Inventions", World History Encyclopedia, 2026 (revised). https://www.worldhistory.org/article/1859/mesopotamian-inventions/ — Wheel invented c. 3500 BCE first as potter's wheel, later for transport; oldest wheel found so far (Ljubljana Marshes Wheel) is from Central Europe though the concept is believed to have originated earlier in Mesopotamia; Sumerian two- and four-wheeled carts by c. 3000 BCE; Bertman on wheels of two nailed half-discs with leather tyres.
- Tanja Glogovčan Belančić, "World's oldest wheel found in Slovenia", slovenia.si (Government Communication Office, Republic of Slovenia), 6 January 2020. https://slovenia.si/art-and-cultural-heritage/worlds-oldest-wheel-found-in-slovenia — Found 2002 near Ljubljana; radiocarbon age 5,100–5,350 years; at least a century older than Swiss and south German wheels; pile-dwelling settlement; ash and oak, two ash panels from the same tree; part of a two-wheeled pushcart.
- City Museum of Ljubljana (MGML), "The Wheel – 5,200 Years" (exhibition page). https://mgml.si/en/city-museum/exhibitions/211/the-wheel-5200-years/ — Oldest wooden wheel with an axle, discovered in the Ljubljana Marshes, displayed at the museum; nothing has replaced the wheel.
- "Bronocice Funnel Beaker Vessel with Wagon Motif: Different Narratives", Archaeologia Polona 57, 2019. https://doi.org/10.23858/apa57.2019.016 (open-access PDF: http://rcin.org.pl/Content/98587/WA308_120427_P357_Bronocice-Funnel_I.pdf) — Vessel with wagon motif from a late Funnel Beaker pit dated to 3405 BC; four-wheeled vehicle with shaft; indirect evidence of wagons in Neolithic central Europe; quotes Anthony (2007) calling it the oldest well-dated image of a wheeled vehicle, and discusses other interpretations.
- Rodrigo Quijada Plubins, "Chariot", World History Encyclopedia, 2013. https://www.worldhistory.org/chariot/ — Wheel reached the steppe c. 3100 BCE; chariot invented by c. 2000 BCE east of the southern Urals, where the oldest chariots have been found.
- M. Thoury et al., "High spatial dynamics-photoluminescence imaging reveals the metallurgy of the earliest lost-wax cast object", Nature Communications 7: 13356, 2016. https://www.nature.com/articles/ncomms13356 — Wheel-shaped copper amulet from Mehrgarh, six spokes on a ring, c. 6,000 years old (4,500–3,600 BC), lost-wax cast.
- "Wheel", Wikipedia (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/Wheel — Overview; earliest spoked wheels from the Sintashta culture c. 2000 BCE.


