پتھر کے اوزار: انسان کی پہلی ایجاد
آپ کے باورچی خانے میں رکھی چھری، درزی کی قینچی اور مستری کا ہتھوڑا، سب ایک ہی خاندان کے فرد ہیں۔ اس خاندان کا جدِ امجد ایک معمولی سا پتھر تھا جسے کسی نے دوسرے پتھر پر مار کر تیز…

آپ کے باورچی خانے میں رکھی چھری، درزی کی قینچی اور مستری کا ہتھوڑا، سب ایک ہی خاندان کے فرد ہیں۔ اس خاندان کا جدِ امجد ایک معمولی سا پتھر تھا جسے کسی نے دوسرے پتھر پر مار کر تیز دھار والا ٹکڑا نکالا تھا۔ یہ واقعہ کب اور کہاں ہوا؟ سائنس دانوں کے پاس اس سوال کا اب تک کا قدیم ترین معلوم جواب کینیا کی ایک خشک پہاڑی سے ملا ہے، اور اس کی عمر تقریباً 33 لاکھ سال ہے۔
لومیکوی کی دریافت
جھیل ترکانہ کے مغربی کنارے پر واقع لومیکوی 3 (Lomekwi 3) نامی مقام پر ماہرِ آثارِ قدیمہ سونیا ہرمان (Sonia Harmand) اور ان کی ٹیم نے کھدائی کی۔ 2015 میں سائنسی جریدے نیچر (Nature) میں شائع ہونے والی ان کی تحقیق کے مطابق یہاں پتھر کے اوزار اپنی اصل جگہ پر دفن ملے، اور اسی علاقے اور اسی زمانے کے ابتدائی انسان نما جانداروں کے فوسل بھی موجود تھے۔ تحقیق کے مطابق اس مقام کی عمر تقریباً 33 لاکھ سال ہے۔
ٹیم نے اس قدیم صنعت کو "لومیکوین" کا نام دیا اور لکھا کہ یہ اس سے پہلے معلوم قدیم ترین روایت، یعنی اولڈووان (Oldowan)، سے تقریباً سات لاکھ سال پرانی ہے۔ بنانے والے ایک بڑے پتھر سے ٹکڑے بھی اتارتے تھے اور اسے کوٹنے پیٹنے کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔
اس دریافت سے پہلے عام خیال یہ تھا کہ پتھر کے پہلے اوزار ہمارے اپنے جنس "ہومو" کے افراد نے بنائے اور یہ ایجاد موسم کی تبدیلی اور گھاس کے کھلے میدانوں کے پھیلاؤ سے جڑی ہوئی تھی۔ لومیکوی کے محققین کے مطابق یہاں کا ماحول نسبتاً جنگلاتی تھا، اور اوزار ہومو کے ظاہر ہونے سے پہلے کے ہیں۔ اس لیے یہ دریافت پرانے نظریے پر نیا سوال کھڑا کرتی ہے۔
اولڈووان: ہتھوڑا، پتھر اور تیز ٹکڑا
امریکہ کے سمتھسونین ادارے کے انسانی ارتقا کے پروگرام کے مطابق پتھر کے اوزار بنانے کا عمل کم از کم 26 لاکھ سال پہلے شروع ہو چکا تھا۔ اسے "اولڈووان" کہا جاتا ہے، جو تنزانیہ کی مشہور اولڈووائی گھاٹی کے نام سے نکلا ہے۔ اس سادہ کٹ میں تین چیزیں شامل تھیں: ہتھوڑے کے طور پر استعمال ہونے والا پتھر، جس کی سطح پر ضربوں کے نشان ہوتے ہیں؛ وہ بڑا پتھر جس سے ٹکڑے اتارے جاتے؛ اور خود وہ تیز دھار ٹکڑے جو کاٹنے کے کام آتے۔
کینیا ہی میں لوکالالی (Lokalalei) کے مقام سے تقریباً 23 لاکھ سال پرانے ایسے اوزار ملے، جنہیں 1997 میں ہیلین روش (Hélène Roche) اور مزالینڈو کیبونجیا (Mzalendo Kibunjia) کی قیادت میں ایک ٹیم نے دریافت کیا۔ سمتھسونین کے مطابق ابتدائی انسان ان اوزاروں سے بیس لاکھ سال سے زیادہ عرصے تک کاٹنے، کوٹنے اور پیسنے کا کام لیتے رہے۔ انہی کی مدد سے وہ بڑے جانوروں کا گوشت اور ہڈیوں کا گودا بھی حاصل کر سکے۔
دستی کلہاڑی: ایک سوچا سمجھا نقشہ
اگلا بڑا قدم وہ تھا جسے ماہرین "آشولین" (Acheulean) کہتے ہیں۔ 2011 میں نیچر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق مغربی ترکانہ ہی کے کوکیسیلی 4 (Kokiselei 4) نامی مقام پر یہ اوزار تقریباً 17 لاکھ 60 ہزار سال پہلے نظر آتے ہیں، جو اس وقت تک کا قدیم ترین معلوم ثبوت تھا۔ اسی مقام پر پرانی اولڈووان طرز کے اوزار بھی ساتھ ساتھ ملے، جس سے پتا چلتا ہے کہ دونوں طریقے کچھ عرصہ ایک ساتھ چلتے رہے۔
آشولین کی پہچان "دستی کلہاڑی" ہے۔ سمتھسونین کے مطابق اسے بنانے کے لیے پہلے ایک بڑا ٹکڑا اتارا جاتا، پھر اس کے کناروں سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اتار کر اسے شکل دی جاتی۔ یعنی بنانے والے کے ذہن میں پہلے سے ایک نقشہ ہوتا تھا۔ یہ روایت حیرت انگیز حد تک طویل رہی اور مختلف علاقوں میں تقریباً چار لاکھ سے ڈھائی لاکھ سال پہلے تک ختم ہوئی۔ سمتھسونین کے مجموعے میں جنوبی ایشیا کے مقام اسام پور (Isampur) کی ایک دستی کلہاڑی بھی شامل ہے جس کی عمر تقریباً 11 لاکھ سال بتائی گئی ہے۔
پوٹھوہار کا رِواٹ
پاکستان کا نام بھی اس بحث میں آتا ہے۔ راولپنڈی کے قریب دریائے سواں کی وادی میں رِواٹ (Riwat) کے مقام پر برطانوی آثارِ قدیمہ مشن نے 1983 میں کھدائی کی۔ ماہرین رابن ڈینیل (Robin Dennell) اور ان کے ساتھیوں نے 1988 میں جریدے اینٹیکوئٹی (Antiquity) میں لکھا کہ یہاں ملنے والے کوارٹزائٹ پتھر کے ٹکڑے تقریباً بیس لاکھ سال پرانے ہیں۔ یہ دعویٰ اوزاروں کی کہانی کو افریقہ سے برصغیر تک لے آیا۔
یہ تاریخ تب سے ماہرین میں زیرِ بحث ہے۔ اعتراض یہ ہے کہ یہ ٹکڑے بالکل اپنی اصل جگہ پر نہیں ملے، اس لیے ان کی عمر کا تعین مشکل ہے۔ اسی وادی کے نام پر قدیم پتھر کی ایک اور صنعت کو "سوانین" کہا جاتا ہے، جس کے آثار شوالک کے پہاڑی سلسلے میں پاکستان، بھارت اور نیپال تک پھیلے ہوئے ہیں۔
اوزار سے ذہن تک، اور آج تک
سمتھسونین کے مطابق تقریباً دو لاکھ سال پہلے نئی ایجادات کی رفتار تیز ہو گئی۔ نوکیں بنائی جانے لگیں جنہیں لکڑی کے ڈنڈے پر باندھ کر نیزہ بنایا جاتا، کھال میں سوراخ کرنے کے لیے سُوے بنے، اور کھال اور لکڑی چھیلنے کے لیے کھرچنیاں۔ بعد کے دور میں ہڈی، ہاتھی دانت اور سینگ بھی خام مال بن گئے۔
پتھر کے اوزار ماضی کے سب سے دیرپا گواہ ہیں۔ سمتھسونین کے بقول یہی اوزار بتاتے ہیں کہ ابتدائی انسان کہاں اور کب رہتے تھے، کیسے پھیلے، اور ان کی ہاتھ کی مہارت اور ذہنی صلاحیت کس درجے کی تھی۔
پتھر سے اسٹیل کے چاقو تک کا سفر لاکھوں برس پر پھیلا ہوا ہے، مگر بنیادی خیال وہی ہے: ایک سخت چیز سے دوسری چیز کو کاٹنا یا شکل دینا۔ اس سلسلے کے اگلے مضامین میں آگ، تیر کمان، سوئی اور مٹی کے برتن آئیں گے، اور ان سب کے پیچھے وہی صلاحیت نظر آئے گی جس کا پہلا ثبوت لومیکوی میں ملا۔
ماخذ
- Sonia Harmand et al., "3.3-million-year-old stone tools from Lomekwi 3, West Turkana, Kenya", Nature 521, 310–315 (2015). https://www.nature.com/articles/nature14464 — 3.3 million years; in situ artefacts with hominin fossils; wooded environment; core reduction plus battering; name "Lomekwian", 700,000 years older than the Oldowan; earlier view linking first tools to Homo and savannah.
- Smithsonian National Museum of Natural History, Human Origins Program, "Stone Tools" (2024). https://humanorigins.si.edu/evidence/behavior/stone-tools — toolmaking by at least 2.6 million years ago; Acheulean handaxes by 1.76 million years; Middle Stone Age points, awls, scrapers by 200,000 years; Later Stone Age bone, ivory, antler; stone tools as evidence, difficulty of naming the maker.
- Smithsonian Human Origins Program, "Early Stone Age Tools" (2024). https://humanorigins.si.edu/evidence/behavior/stone-tools/early-stone-age-tools — Oldowan kit (hammerstones, cores, flakes); how handaxes were made; Acheulean ending 400,000–250,000 years ago.
- Smithsonian Human Origins Program, "Oldowan Tools from Lokalalei, Kenya" (2024). https://humanorigins.si.edu/evidence/behavior/stone-tools/early-stone-age-tools/oldowan-tools-lokalalei-kenya — about 2.3 million years old; found 1997 by a team led by Hélène Roche and Mzalendo Kibunjia; used for over 2 million years, meat and marrow.
- Smithsonian Human Origins Program, "Handaxe from India" (2024). https://humanorigins.si.edu/evidence/behavior/stone-tools/early-stone-age-tools/handaxe-india — Isampur, about 1.1 million years old.
- Christopher J. Lepre et al., "An earlier origin for the Acheulian", Nature 477, 82–85 (2011). https://www.nature.com/articles/nature10372 — Kokiselei 4, West Turkana, 1.76 million years; Oldowan and Acheulean found together.
- R. W. Dennell, H. Rendell and E. Hailwood, "Early tool-making in Asia: two-million-year-old artefacts in Pakistan", Antiquity 62 (234), 1988. https://doi.org/10.1017/s0003598x00073555 — the Riwat claim, taking early tool-making into the subcontinent.
- "Riwat", Wikipedia (accessed October 2026). https://en.wikipedia.org/wiki/Riwat — pointer only: discovered 1983 by the British Archaeological Mission to Pakistan in the Soan valley; quartzite flakes and cores; age disputed because artefacts were not in original context.
- "Soanian", Wikipedia (accessed October 2026). https://en.wikipedia.org/wiki/Soanian — pointer only: Soanian named after the Soan valley; sites along the Siwaliks in Pakistan, India and Nepal.


