عینک: دو شیشے جنہوں نے پڑھنے کی عمر بڑھا دی
چالیس پینتالیس برس کی عمر کے بعد اکثر لوگوں کو اخبار کے باریک حروف دھندلے لگنے لگتے ہیں۔ وہ اخبار کو آنکھوں سے دور کرتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ بازو چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ آج اس کا حل بہت…

چالیس پینتالیس برس کی عمر کے بعد اکثر لوگوں کو اخبار کے باریک حروف دھندلے لگنے لگتے ہیں۔ وہ اخبار کو آنکھوں سے دور کرتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ بازو چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ آج اس کا حل بہت آسان ہے: پڑھنے کی ایک عینک۔ مگر سات سو سال پہلے تک کاتب، عالم، سنار اور درزی، سب اس عمر میں پہنچ کر اپنا باریک کام آہستہ آہستہ چھوڑ دیتے تھے۔ عینک نے یہ تصویر بدل دی۔
عینک سے پہلے: پڑھنے کا پتھر
شیشے یا بلور کے ابھرے ہوئے ٹکڑے سے چیزیں بڑی نظر آتی ہیں، یہ بات عینک سے بہت پہلے معلوم تھی۔ مؤرخ ونسنٹ ایلارڈی (Vincent Ilardi) نے 2007 میں امریکن فلاسوفیکل سوسائٹی کی شائع کردہ اپنی کتاب "رینیسانس وژن" میں لکھا ہے کہ اس طرح کے ابھرے ہوئے ٹکڑے، جنہیں "پڑھنے کے پتھر" (reading stones) کہا جاتا تھا، عینک کی ایجاد سے پہلے بھی اور بعد میں بھی استعمال ہوتے رہے۔ انہیں کتاب کے صفحے پر رکھ کر حروف بڑے کر کے پڑھے جاتے تھے۔
ایلارڈی کے مطابق 1300ء میں اٹلی کے شہر وینس میں بلور کا کام کرنے والوں کے قواعد میں "پڑھنے کے پتھروں" کا باقاعدہ ذکر ملتا ہے، اور ساتھ ہی "آنکھوں کے لیے گول ٹکڑوں" کا بھی۔ ان کے خیال میں یہ شاید پہلی واضح تحریری تمیز ہے: ایک طرف صدیوں پرانے محدب عدسے، اور دوسری طرف ایک نئی چیز جو آنکھوں کے سامنے رکھی جاتی تھی۔
1306 کی گواہی
عینک کی ایجاد کی تاریخ کا سب سے اہم ثبوت ایک تقریر کے چند جملے ہیں۔ ایلارڈی کے مطابق 23 فروری 1306 کو اٹلی کے شہر فلورنس میں اس زمانے کے مشہور مقرر جوردانو دا پیزا (Giordano da Pisa) نے اپنے سامعین سے کہا کہ عینک بنانے کا فن دریافت ہوئے ابھی بیس سال بھی نہیں ہوئے، کہ یہ دنیا کے بہترین اور سب سے ضروری فنون میں سے ہے، اور یہ کہ انہوں نے خود اس شخص کو دیکھا ہے اور اس سے بات کی ہے جس نے اسے سب سے پہلے بنایا۔
اسی بیان سے حساب لگا کر ایجاد کی تاریخ تقریباً 1286 عیسوی سمجھی جاتی ہے۔ ایلارڈی کے مطابق مؤرخ ایڈورڈ روزن (Edward Rosen) نے تمام دعووں کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا تھا کہ پہلی عینک غالباً پیزا میں یا اس کے قریب رہنے والے کسی کاریگر نے بنائی۔ موجد کا نام آج تک معلوم نہیں۔ پیزا کی ایک پرانی تاریخ میں البتہ الیساندرو دیلا سپینا (Alessandro della Spina) نامی ایک ہنرمند کا ذکر ہے، جس نے کسی اور کی بنائی ہوئی عینک دیکھ کر خود بنانا سیکھا اور یہ فن دوسروں کو بھی سکھا دیا۔
یہاں ایک اختلاف بھی ہے: ایلارڈی بتاتے ہیں کہ بعض محققین کے مطابق یہ فن وینس سے پیزا پہنچا تھا۔ برطانیہ میں آنکھوں کے ماہرین کے ادارے کالج آف آپٹومیٹرسٹس (College of Optometrists) کا کہنا ہے کہ اس پر عمومی اتفاق ہے کہ عینک تیرہویں صدی میں شمالی اٹلی میں ایجاد ہوئی۔
پہلی عینک کیسی تھی
کالج آف آپٹومیٹرسٹس کے مطابق سب سے پہلی عینک میں دو عدسے الگ الگ فریم میں جڑے ہوتے تھے، اور دونوں فریموں کے دستے ایک کیل (rivet) سے جوڑ دیے جاتے تھے۔ اس کی کمانیاں نہیں تھیں۔ اسے ناک پر دونوں فریموں کے درمیان دبا کر ٹکایا جاتا تھا، اور پہننے والا عموماً ہاتھ سے بھی سہارا دیتا تھا۔ ایلارڈی کے مطابق فریم دھات یا ہڈی کے ہوتے تھے۔
ان عدسوں کی شکل کیا تھی؟ ایلارڈی کے مطابق شروع کے ریکارڈ عینک کو بزرگوں سے جوڑتے ہیں، اس لیے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ پہلے عدسے محدب (convex) تھے، یعنی بیچ سے ابھرے ہوئے۔ یہ عدسے قریب کی نظر کی اس کمزوری کو دور کرتے ہیں جو عمر کے ساتھ آتی ہے اور جسے طب میں پریس بائیوپیا (presbyopia) کہتے ہیں۔
ایسی ابتدائی عینکوں کے اصل نمونے بہت کم بچے ہیں۔ ایلارڈی کے مطابق 1953 میں جرمنی کے گاؤں وین ہاؤزن (Wienhausen) میں ایک کھدائی میں لکڑی کے دو مکمل فریم، دوسرے فریموں کے ٹکڑے اور سات عدسے ملے، جو چودہویں صدی کے بتائے جاتے ہیں۔
دور کی نظر کے لیے مقعر عدسہ
جو لوگ دور کی چیزیں صاف نہیں دیکھ سکتے، انہیں ایسا عدسہ چاہیے جو بیچ سے دبا ہوا ہو، یعنی مقعر (concave)۔ ایلارڈی لکھتے ہیں کہ یہ ماننا مشکل ہے کہ پندرہویں صدی تک کسی کو یہ خیال نہ آیا ہو، مگر اس سے پہلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ ان کے مطابق مقعر عدسوں کا پہلا یقینی تحریری ذکر 1458 میں مکمل ہونے والی ایک لاطینی تحریر میں ملتا ہے۔
اس کے چند سال بعد کا ایک دلچسپ ثبوت میلان کے حکمرانوں کا ایک خط ہے۔ ایلارڈی کے مطابق اکتوبر 1462 میں انہوں نے فلورنس سے عینکیں منگوائیں، اور ان میں ایک درجن عینکیں "نوجوانوں کی دور کی نظر" کے لیے تھیں، یعنی مقعر عدسوں والی۔ اسی دور میں فلورنس کے کاریگر پڑھنے کی عینکیں تیس سے ستر برس کی عمر کے لیے پانچ پانچ سال کے وقفے سے مختلف طاقتوں میں بنا رہے تھے۔ ایلارڈی اسے تقریباً نسخے کے مطابق بنی عینکیں کہتے ہیں۔
کمانیاں اور آج کی عینک
کانوں پر ٹکنے والی کمانیاں بہت بعد میں آئیں۔ کالج آف آپٹومیٹرسٹس کے مطابق اٹھارہویں صدی میں لندن کے عینک ساز ایڈورڈ اسکارلیٹ (Edward Scarlett) کو جدید طرز کی عینک تیار کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے، جو کمانیوں کے سہارے ٹکتی تھی۔ اسی صدی کے آخر تک دو حصوں والے عدسے بھی دستیاب ہو گئے تھے، جن کا اوپر کا حصہ دور اور نیچے کا قریب دیکھنے کے لیے ہوتا ہے۔
آج کوئٹہ ہو یا لاہور، ہر بازار میں عینک ساز کی دکان ملتی ہے، جہاں آنکھوں کا معائنہ کر کے ہر شخص کے لیے الگ نمبر کا عدسہ بنایا جاتا ہے۔ یہ سب اسی سادہ خیال کی ترقی یافتہ صورت ہے جو تقریباً سات سو سال پہلے اٹلی کے ایک گمنام کاریگر کو سوجھا تھا: دو شیشے، ایک کیل، اور پڑھنے کے مزید کئی سال۔
ماخذ
- Vincent Ilardi, Renaissance Vision from Spectacles to Telescopes, Memoirs of the American Philosophical Society vol. 259, Philadelphia: American Philosophical Society, 2007, archive.org scan. https://archive.org/details/bub_gb_peIL7hVQUmwC — reading stones (beryl/crystal) used before and after the invention; Venetian crystal-workers' regulations of 1300 listing "disks for eyes" and "stones for reading"; Giordano da Pisa in Florence, 23 February 1306: "not yet twenty years" since the art of making eyeglasses was found, one of the best and most necessary arts, he saw and spoke with the first maker; Rosen's conclusion: invented around 1286 most likely by a craftsman at or near Pisa, convex disks in metal or bone rims joined by a rivet; della Spina learned to make them and shared the craft; Venetian claim that the invention reached Pisa from Venice; first lenses inferred convex for presbyopia; Wienhausen dig (1953): two complete frames, fragments and seven lenses, 14th century; first definite written mention of concave lenses for myopia in a treatise completed 1458; Milan order of October 1462 incl. a dozen pairs "distant vision for the young"; Florentine lenses graded in five-year steps for ages 30 to 70, "practically prescription lenses".
- The College of Optometrists, "History of spectacles". https://www.college-optometrists.org/history-of-spectacles — earliest spectacles generally agreed to have been invented in Northern Italy in the thirteenth century; rivet spectacles, two mounted lenses riveted at the handle ends, no sides, held by clamping the nose and supported by hand; convex lenses for presbyopia; London optician Edward Scarlett credited with the modern style with temples in the 18th century; bifocals available by the end of the 18th century.


