ساسانی دور: توران اور مکران
سکندر کی فوج 325 قبل مسیح میں مکران کے صحرا سے گزری تو اس کے بعد بلوچستان کی تاریخ پر ایک لمبی خاموشی چھا جاتی ہے۔ سکوں کے ماہر پنکج ٹنڈن کے بقول سکندر کے گزرنے اور ساتویں صدی میں…

سکندر کی فوج 325 قبل مسیح میں مکران کے صحرا سے گزری تو اس کے بعد بلوچستان کی تاریخ پر ایک لمبی خاموشی چھا جاتی ہے۔ سکوں کے ماہر پنکج ٹنڈن کے بقول سکندر کے گزرنے اور ساتویں صدی میں اسلام کی آمد کے درمیان کے عرصے کے بارے میں ہم "قریب قریب کچھ نہیں جانتے"، اور یہ خلا تقریباً ایک ہزار برس کا ہے۔ اس خاموشی میں دو آوازیں بلوچستان کا نام لیتی ہیں: ایران کے ساسانی بادشاہوں کی چٹانوں پر کھدی تحریریں، اور لورالائی کے پہاڑوں سے ملنے والے چھوٹے چھوٹے سکے۔
ساسانی کون تھے؟
تیسری صدی عیسوی کے آغاز میں فارس سے اردشیر اول نے پارتھی حکمرانوں کا تختہ الٹ کر ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی جو اس کے جدِ امجد ساسان کے نام سے ساسانی کہلائی اور روم کی ٹکر کی طاقت بنی۔ مؤرخ طبری لکھتا ہے کہ مشرقی سرحدوں کے جو حکمران اردشیر کی اطاعت کے لیے آئے ان میں "توران کا بادشاہ" بھی تھا۔
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا میں مؤرخ کلفرڈ باسورث لکھتے ہیں کہ اسلامی دور کے جغرافیہ دانوں کے نزدیک توران وسطی اور مشرقی بلوچستان کا وہ پہاڑی علاقہ تھا جو مکران کے ساحلی خطے کے شمال میں ہے، یعنی وہی علاقہ جو بعد میں خانیتِ قلات بنا۔ اس کے شہروں میں قصدار (آج کا خضدار)، کیزکانان یا قیقان (غالباً آج کے قلات کی جگہ) اور سیوی یا سبی شمار ہوتے تھے۔
کعبۂ زرتشت کی تحریر
ایران کے صوبہ فارس میں تختِ جمشید سے تقریباً چھ کلومیٹر دور نقشِ رستم کے مقام پر پتھر کا ایک چوکور مینار کھڑا ہے جسے کعبۂ زرتشت کہتے ہیں۔ مینار خود ہخامنشی دور کا ہے، مگر ساسانی بادشاہ شاپور اول نے، جس نے تقریباً 240ء سے 270ء تک حکومت کی، اس کی تین دیواروں پر اپنے کارنامے تین زبانوں میں کھدوائے: جنوبی دیوار پر یونانی، مشرقی پر پہلوی (فارسیِ میانہ) اور مغربی پر پارتھی۔
اس تحریر میں شاپور اپنی سلطنت کے صوبے گنواتا ہے۔ فلپ ہوئسے کے 1999ء کے معیاری ایڈیشن کے مطابق مشرقی صوبوں کی فہرست یوں چلتی ہے: کرمان، سگستان (سیستان)، توران، مکران، پارادان، ہندستان، اور کشان شہر پشاور کی حدود تک۔ یعنی تیسری صدی کی ایک شاہی دستاویز میں آج کے بلوچستان کے تین حصے، توران، مکران اور پارادان، صاف الفاظ میں درج ہیں۔
توران شاہ: ایک شاہی لقب
شاپور کی تحریر شاہی خاندان کے عہدے بھی بتاتی ہے۔ ایرانیکا کے مطابق شاپور کا بیٹا نرسہ "ہند، سگستان اور توران کا بادشاہ، سمندر کے کنارے تک" کے لقب سے یاد کیا گیا ہے؛ یہی نرسہ بعد میں خود شاہِ ایران بنا۔
نرسہ نے 293ء کے لگ بھگ تخت حاصل کرنے کے بعد پائیکولی کے مقام پر ایک اور تحریر کھدوائی جس میں اس نے ان حکمرانوں کے نام درج کیے جو اس کی فتح کے وقت اس کے ساتھ دوستی اور امن کا رشتہ رکھتے تھے۔ ہمباخ اور شیروو کے ترجمے کے مطابق اس فہرست میں "پارادان کا بادشاہ"، "مکوران کا بادشاہ" اور "توران کا بادشاہ" الگ الگ درج ہیں۔ گویا تیسری صدی کے آخر تک مکران اور توران کے اپنے اپنے حکمران تھے جو بادشاہ کہلاتے تھے؛ وہ ساسانی شہنشاہ کے باجگزار تھے یا نہیں، اس پر ماہرین میں اختلاف ہے۔
لورالائی کے سکے اور پارادان کی گمشدہ سلطنت
شاپور کی فہرست میں ایک نام ایک صدی تک ماہرین کے لیے پہیلی بنا رہا: پارادان۔ یہ کہاں تھا؟ جواب سکوں سے ملا۔ 1905ء میں ای جے رَیپسن نے چند ایسے سکے شائع کیے جن کی پشت پر سواستیکا کا نشان اور گرد ایک گول تحریر تھی۔ 1972ء میں کلکتہ کے ماہر بی این مکھرجی نے پڑھا کہ ان پر "پاراتا راجا" یعنی پاراتا قبیلے کا بادشاہ لکھا ہے۔ پھر بوسٹن یونیورسٹی کے پنکج ٹنڈن نے 2006ء سے 2012ء کے درمیان کئی مقالوں میں پورے سلسلۂ سکوں کو ترتیب دیا اور 2012ء میں جریدے "استودیا ایرانیکا" میں "پارادان کا مقام اور بادشاہ" کے عنوان سے اپنی تحقیق شائع کی۔
ٹنڈن لکھتے ہیں کہ اطلاعات کے مطابق یہ سکے زیادہ تر لورالائی کے علاقے میں ملتے ہیں، اور کچھ اطلاعات ژوب، کوئٹہ، چمن اور قندھار کی بھی ہیں۔ ایک پرانی دریافت ان اطلاعات کی تصدیق کرتی ہے۔ 1926ء اور 1927ء کے موسمِ سرما میں سر اورل سٹائن نے لورالائی کے مقام تور ڈھیرائی پر ایک بدھ خانقاہ کے کھنڈر کھودے اور وہاں سے مٹی کے تقریباً پچاس ایسے ٹکڑے ملے جن پر سیاہی سے حروف لکھے تھے۔ کتبہ شناس اسٹین کونو نے ان ٹکڑوں کو جوڑ کر پڑھا کہ یہ "شاہی یولا میرا" نامی حکمران کی طرف سے خانقاہ کے لیے پانی کی سبیل کا وقف نامہ ہے۔ کونو کے لیے یہ نام "نامعلوم" تھا؛ اب معلوم ہے کہ یولامیرا پاراتا راجاؤں کا پہلا سکہ جاری کرنے والا بادشاہ تھا۔ یوں تور ڈھیرائی کے ٹکڑوں اور سکوں نے مل کر پارادان کو لورالائی کے پہاڑوں میں رکھ دیا، شاپور کی فہرست میں توران کے مشرق میں۔
گیارہ بادشاہ، ایک سو پچھتر برس
ٹنڈن کے مطابق سکوں پر پندرہ افراد کے نام ملتے ہیں جن میں گیارہ نے سکے جاری کیے۔ ہر بادشاہ اپنے باپ کا نام بھی لکھتا تھا، اس لیے ترتیب معلوم ہے: یولامیرا، باگامیرا، ارجن، ہورامیرا، میراہورا، میراتخما، کوزانا، بھیم ارجن، کوزیا، داتاروہارنا اور داتایولا دوم۔ ٹنڈن کا اندازہ ہے کہ یہ سلسلہ تقریباً 125ء سے 300ء تک، یعنی لگ بھگ ایک سو پچھتر برس چلا، مگر وہ خود لکھتے ہیں کہ یہ تاریخیں "صرف وسیع تخمینے" ہیں کیونکہ سکوں پر کوئی سنہ درج نہیں۔
ان سکوں میں اس زمانے کے بلوچستان کی ملی جلی تہذیب جھلکتی ہے۔ کئی ابتدائی بادشاہوں کے ناموں میں ایرانی دیوتا مِتھرا کا عنصر "میرا" موجود ہے، لیکن دو نام، ارجن اور بھیم ارجن، ہندوستانی ہیں۔ سکوں کی زبان پراکرت ہے اور رسمِ خط کبھی براہمی، کبھی خروشٹی۔ ابتدائی سکے چاندی کے ہیں اور ان کی ساخت پارتھی سکوں سے ملتی ہے؛ تقریباً 220ء کے بعد چاندی گھٹتی گئی اور آخر میں صرف تانبا رہ گیا، جسے ٹنڈن معیشت کے زوال کی علامت سمجھتے ہیں۔ آخری بادشاہ داتایولا دوم کے دو سکے کشانو ساسانی بادشاہ ہرمزد اول کے سکوں پر دوبارہ ضرب لگا کر بنائے گئے۔
ساسانی صوبہ یا نیم خود مختار ریاست؟
شاپور نے پارادان کو اپنی سلطنت کا حصہ لکھا، مگر ٹنڈن کے بقول ان سکوں پر ساسانی اثر "بالکل نہیں" ملتا؛ نہ ساخت میں، نہ نقش و نگار میں، اور سکوں کا سلسلہ بھی کہیں نہیں ٹوٹتا۔ اس سے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ پارادان عام معنوں میں ساسانی صوبہ نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ ایک باجگزار ریاست تھی جس نے اپنی خود مختاری کا بڑا حصہ محفوظ رکھا۔ ٹنڈن کا اندازہ ہے کہ شاپور کے دور میں پارادان کا بادشاہ غالباً کوزیا تھا اور نرسہ کے پائیکولی کتبے کے زمانے میں داتایولا دوم۔ اس کے بعد سکے بند ہو جاتے ہیں؛ ممکن ہے چوتھی صدی میں شاپور دوم کی مشرقی مہم نے اس چھوٹی ریاست کا خاتمہ کر دیا ہو، مگر یہ محض ایک قیاس ہے۔
مذہب اور ثقافت
شاپور اپنی تحریر میں خود کو "مزدا پرست" کہتا ہے اور لکھتا ہے کہ اس نے "صوبہ بہ صوبہ" آتشکدے قائم کیے۔ مگر موبد کردیر کی تحریروں میں، جو سلطنت میں آتشکدوں کے قیام کا ذکر کرتی ہیں، پارادان کا نام کہیں نہیں آتا۔ اس کے برعکس تور ڈھیرائی کی خانقاہ اور یولامیرا کا وقف نامہ بتاتے ہیں کہ لورالائی کے علاقے میں بدھ خانقاہیں آباد تھیں۔ باسورث بھی لکھتے ہیں کہ اسلامی دور کے آغاز تک کم از کم مشرقی مکران "ہندوستانی مذہب اور ثقافت کے دائرے" میں رہا ہوگا۔ دسویں صدی کے فارسی جغرافیے "حدود العالم" میں توران کی آبادی کچھ مسلمان اور کچھ "گبرکان" لکھی گئی ہے، جس سے مراد زرتشتی بھی ہو سکتے ہیں اور ہندوستانی مذاہب کے پیروکار بھی۔
شواہد کی حد
ایمانداری سے کہنا چاہیے کہ ہم کتنا کم جانتے ہیں۔ ساسانی مُہروں پر تحقیق کرنے والی ریکا گیزلن کے بقول مُہریں توران، مکران اور پارادان کے بارے میں "ہمیں کچھ نہیں بتاتیں"۔ ہمارے پاس ایک شہنشاہ کی فہرست ہے، ایک شہزادے کا لقب، لورالائی کی مٹی کے کچھ ٹکڑے اور چند سکے۔ مگر یہ تھوڑا سا سامان بھی بتاتا ہے کہ ساتویں صدی میں جب عرب لشکر مکران کی سرحد پر پہنچے تو انہیں ایک خالی زمین نہیں بلکہ پرانے ناموں، پرانے بادشاہوں اور پرانی خانقاہوں کی سرزمین ملی۔
اگلے اتوار: معرکۂ رسل اور مکران میں اسلام: حضرت عمرؓ کے عہد میں پہلا عرب لشکر مکران پہنچتا ہے۔
ماخذ
- Pankaj Tandon, "The Location and Kings of Pāradān", Studia Iranica 41 (2012), pp. 25–56: p. 26 (Gyselen, "La glyptique ne nous a rien transmis pour ces régions"), p. 27 (Loralai and other find-spots; 15 names, 11 issuers; c. 125–300; "we know essentially nothing"; gap "of close to 1,000 years"), p. 28 (ŠKZ province list after Huyse; Paikuli king list after Humbach and Skjærvø), pp. 31–32 (Tor Dherai, Konow, Yolamira), p. 33 (swastika, Prakrit, Brahmi and Kharoshthi; earlier papers 2006, 2009, 2010), p. 34 (king list; dates "only as broad suggestions"), p. 35 (two overstrikes on Hormizd I), pp. 36–37 (Parthian fabric, "mira" names, Arjuna and Bhimarjuna, "no Sasanian influence whatsoever"), p. 38 (decline from c. 220–230; Shapur II suggestion), pp. 39–40 (Koziya and Datayola II; unbroken series, vassal state; Kirdir's inscriptions). Scan: https://archive.org/details/Tandon2012TheLocationAndKingsOfParadan ; author's copy: https://people.bu.edu/ptandon/Paradan.pdf
- B. N. Mukherjee, The Paradas: A Study in their Coinage and History, Pilgrim Publishers, Calcutta, 1972, pp. 5–6 (Rapson's readings; "king of the Paratas (or Paradas)"), p. 19 nn. 24, 28 (Rapson, JRAS 1905, pp. 789–791). https://archive.org/details/xLCN_the-paradas-a-story-in-their-coinage-and-history-by-b.-n.-mukherjee-1972-kolkata-pilgrim-publis/page/n25
- Clifford Edmund Bosworth, "ṬURĀN", Encyclopaedia Iranica, online edition, 2011 (updated 2013) (Ṭabari on the king of Ṭurān; towns; Kalat; Ḥodud al-ʿālam "gabrakān"). https://iranicaonline.org/articles/turan
- Clifford Edmund Bosworth, "MAKRĀN", Encyclopaedia Iranica, online edition, 2011 (updated 2012) (Alexander in 325 BCE; "within the sphere of Indian religion and culture"). https://iranicaonline.org/articles/makran
- Josef Wiesehöfer, "ARDAŠĪR I i. History", Encyclopaedia Iranica, vol. II, fasc. 4, 1986, pp. 371–376 (online, updated 2016) (Sāsān, the Parthians overthrown in 224). https://iranicaonline.org/articles/ardasir-i
- Alireza Shapur Shahbazi, "ŠĀPUR I: History", Encyclopaedia Iranica, online edition, 2002 (updated 2018) (reign 240–270; "Mazda-worshipping"; fires founded "province by province"; rival of Rome). https://iranicaonline.org/articles/shapur-i
- Ursula Weber, "NARSEH", Encyclopaedia Iranica, online edition, 2016 (updated 2018) (ŠKZ title "king of Hind(estān), Sagestān and Tūrān up to the seacoast"; reign 293–302; vassal status of the Paikuli list debated). https://iranicaonline.org/articles/narseh-sasanian-king
- Hubertus von Gall, "NAQŠ-E ROSTAM", Encyclopaedia Iranica, online edition, 2009 (updated 2012) (6 km from Persepolis; Achaemenid tower; Greek, Parsik and Parthian walls). https://iranicaonline.org/articles/naqs-e-rostam
- Philip Huyse, Die dreisprachige Inschrift Šābuhrs I. an der Kaʿba-i Zardušt (ŠKZ), 2 vols., Corpus Inscriptionum Iranicarum III/1, London, 1999.
- Helmut Humbach and Prods Oktor Skjærvø, The Sassanian Inscription of Paikuli, 3 vols. in 4, Wiesbaden, 1978–83.
- Sten Konow, Kharoshṭhī Inscriptions with the Exception of Those of Aśoka, Corpus Inscriptionum Indicarum II/1, Calcutta, 1929, pp. 173–176 (p. 173: "about fifty pottery fragments", winter 1926–7; p. 175: "The name Yola-Mira is not known to us"; p. 176: translation). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.62020/page/n371



