مٹی کے برتن: آگ میں پکی پہلی مصنوعی چیز
گرمیوں میں گھڑے کا ٹھنڈا پانی، دیہات کی ہانڈی میں پکا ساگ، اور گلی میں بکتے مٹی کے پیالے۔ ہمارے لیے یہ روزمرہ کی چیزیں ہیں، مگر ان کے پیچھے انسان کی ایک بہت بڑی دریافت چھپی ہے: یہ کہ…

گرمیوں میں گھڑے کا ٹھنڈا پانی، دیہات کی ہانڈی میں پکا ساگ، اور گلی میں بکتے مٹی کے پیالے۔ ہمارے لیے یہ روزمرہ کی چیزیں ہیں، مگر ان کے پیچھے انسان کی ایک بہت بڑی دریافت چھپی ہے: یہ کہ گیلی مٹی کو شکل دے کر آگ میں پکایا جائے تو وہ پتھر کی طرح سخت ہو جاتی ہے اور پھر کبھی واپس مٹی نہیں بنتی۔ مٹی کے برتنوں کا اب تک کا قدیم ترین معلوم ثبوت چین کے ایک غار سے ملا ہے، جس کی عمر تقریباً 20 ہزار سال ہے۔
پہلی مصنوعی چیز
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا (World History Encyclopedia) کے ایک مضمون کے مطابق مٹی کے برتن وہ پہلا مصنوعی مادہ ہیں جو انسان نے بنایا۔ لکڑی، پتھر اور ہڈی قدرت میں جیسے ملتے ہیں ویسے ہی استعمال ہوتے تھے، مگر پکی ہوئی مٹی ایک نیا مادہ ہے جو آگ کی حرارت سے وجود میں آتا ہے۔ چونکہ قابلِ استعمال مٹی ہر جگہ موجود ہے، اس لیے یہ ہنر دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف زمانوں میں الگ الگ ایجاد ہوا۔
برتنوں سے بھی پہلے انسان نے مٹی سے کچھ اور بنایا تھا۔ اسی مضمون کے مطابق تقریباً 30 ہزار سال پہلے موجودہ چیک جمہوریہ کے مقام دولنی ویستونیتسے (Dolní Věstonice) پر ایسی مورتیاں بنائی گئیں جن کی مٹی میں میمتھ کی کچلی ہوئی ہڈی ملائی گئی تھی۔
شیانرین ڈونگ سے جومون تک
چین کے صوبہ جیانگشی میں شیانرین ڈونگ (Xianrendong) غار سے مٹی کے برتنوں کے ٹوٹے ٹکڑے ملے۔ 2012 میں جریدے سائنس (Science) میں وو شیاؤہونگ (Wu Xiaohong) اور ان کے ساتھیوں نے ان کی تاریخ شائع کی۔ ان کے مطابق قدیم ترین ٹکڑے جن تہوں میں تھے ان کی عمر 20 ہزار سے 19 ہزار سال کے درمیان ہے، جو مشرقی ایشیا اور دنیا کے دوسرے حصوں کے معلوم برتنوں سے دو سے تین ہزار سال پرانی ہے۔
سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ یہ برتن کسانوں نے نہیں بنائے تھے۔ محققین کے مطابق انہیں خانہ بدوش شکاریوں اور خوراک جمع کرنے والوں نے بنایا، اس دور میں جب آخری برفانی دور اپنے عروج پر تھا۔ غالباً یہ کھانا پکانے کے کام آتے تھے۔ یوں برتن سازی کھیتی باڑی سے کم از کم دس ہزار سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔
چین ہی کے صوبہ ہونان کے یوچانیان (Yuchanyan) غار سے بھی بہت پرانے ٹکڑے ملے ہیں۔ 2009 میں امریکی جریدے پی این اے ایس (PNAS) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ان کی عمر 18 ہزار 300 اور 15 ہزار 430 سال کے درمیان ہے۔ یہ بھی شکاریوں کا ایک پڑاؤ تھا۔
جاپان کی جومون (Jōmon) ثقافت اپنے مخصوص برتنوں کے لیے مشہور ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق جاپان میں اودائی یاماموتو (Odai Yamamoto) کے مقام سے ملنے والے ایک برتن کے ٹکڑوں کی عمر تقریباً 16 ہزار 500 سے 14 ہزار 920 سال ہے۔ امریکہ کے سمتھسونین ادارے کے مجموعے میں جاپان کے جزیرے ہونشو کی جھیل انینوما (Anenuma) سے ملا ایک جومون برتن شامل ہے جو تقریباً 12 ہزار سال پرانا ہے۔
ان برتنوں میں پکایا کیا جاتا تھا؟ 2013 میں جریدے نیچر (Nature) میں اولیور کریگ (Oliver Craig) اور ساتھیوں نے تقریباً 15 ہزار سے 11 ہزار 800 سال پرانے جومون برتنوں پر جمی جلی ہوئی تہہ کا کیمیائی تجزیہ کیا۔ زیادہ تر نمونوں میں دریا اور سمندر کی آبی مخلوقات کے اجزا ملے۔ یعنی یہ ابتدائی شکاری مچھلی اور دوسری آبی خوراک پکا رہے تھے۔
چولہے سے بھٹی تک
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ابتدائی برتن کھلی آگ میں پکائے جاتے تھے جہاں درجۂ حرارت تقریباً 600 سے 900 ڈگری سیلسیس تک رہتا۔ تقریباً 8000 قبلِ مسیح میں مشرقِ وسطیٰ میں اناج بھوننے اور روٹی پکانے کے تنور بنے، جنہوں نے بند جگہ میں زیادہ حرارت پیدا کرنا ممکن بنایا۔ بعد میں بھٹیوں میں ایک ہزار سے بارہ سو ڈگری تک حرارت حاصل ہونے لگی، اور قدیم چین میں تیرہ سو سے چودہ سو ڈگری پر وہ باریک سفید مادہ بنا جسے چینی مٹی یا پورسلین کہتے ہیں۔
مٹی کے برتن ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے بھی بڑی نعمت ہیں۔ یہ ٹوٹ تو جاتے ہیں مگر ان کے ٹکڑے ہزاروں سال باقی رہتے ہیں، اور ان کی شکل اور نقش و نگار سے کسی مقام کا زمانہ اور اس کے تجارتی رابطے معلوم کیے جا سکتے ہیں۔
مہر گڑھ: پاکستان کے پہلے برتن
بلوچستان میں دریائے بولان کے قریب مہر گڑھ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے قدیم ترین معلوم مٹی کے برتن ملے ہیں۔ یہاں کے ابتدائی دور، جسے "پیریڈ ون" کہا جاتا ہے، کے لوگ کھیتی باڑی تو کرتے تھے مگر برتن نہیں بناتے تھے۔ برتن اس کے بعد کے دور، "پیریڈ ٹو اے"، میں نمودار ہوتے ہیں۔
ان کی تاریخ پر ماہرین میں اختلاف ہے۔ مہر گڑھ کی کھدائی کرنے والے فرانسیسی ماہر ژاں فرانسوا جاریج (Jean-François Jarrige) نے یہاں کی بستی کا آغاز تقریباً 8000 قبلِ مسیح بتایا تھا اور ان برتنوں کو ایران اور میسوپوٹیمیا کے ساتویں ہزارہ قبلِ مسیح کے برتنوں کے ہم پلہ قرار دیا تھا۔ اپریل 2025 میں جریدے سائنٹیفک رپورٹس (Scientific Reports) میں بنجمن موتاں (Benjamin Mutin) اور ساتھیوں نے 23 قبروں سے ملنے والے انسانی دانتوں کی ریڈیو کاربن تاریخیں شائع کیں۔ ان کے مطابق برتنوں سے پہلے کا قبرستان 5200 سے 4900 قبلِ مسیح کے درمیان شروع ہوا، اور پاکستان میں برتن سازی تقریباً 4650 قبلِ مسیح سے پہلے شروع نہیں ہوئی۔ یہ بحث ابھی جاری ہے، مگر دونوں صورتوں میں مہر گڑھ جنوبی ایشیا میں ابتدائی بستیوں اور برتن سازی کی کہانی کا ایک اہم باب ہے۔
آج کا گھڑا
آج پلاسٹک اور اسٹیل کے دور میں بھی مٹی کا گھڑا، کونڈا اور تندور ہمارے گھروں اور بازاروں سے غائب نہیں ہوئے۔ چائے کی پیالی سے لے کر غسل خانے کی ٹائلوں تک، پکی ہوئی مٹی آج بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے، اور اس کا آغاز اس دن ہوا جب کسی نے پہلی بار مٹی کو آگ میں رکھا۔
ماخذ
- Wu Xiaohong et al., "Early pottery at 20,000 years ago in Xianrendong Cave, China", Science 336 (2012), doi:10.1126/science.1218643. Abstract read via Europe PMC (PMID 22745428): https://www.ebi.ac.uk/europepmc/webservices/rest/article/MED/22745428?format=json — Jiangxi Province; contexts of earliest sherds 20,000–19,000 calendar years BP, 2,000–3,000 years older than other pottery; made by mobile foragers in the Late Glacial Maximum; possibly cooking; 10 millennia or more before agriculture.
- Elisabetta Boaretto et al., "Radiocarbon dating of charcoal and bone collagen associated with early pottery at Yuchanyan Cave, Hunan Province, China", Proceedings of the National Academy of Sciences 106 (2009), doi:10.1073/pnas.0900539106. Abstract read via Europe PMC (PMID 19487667): https://www.ebi.ac.uk/europepmc/webservices/rest/article/MED/19487667?format=json — pottery 18,300–15,430 cal BP; foragers' camp.
- Oliver E. Craig et al., "Earliest evidence for the use of pottery", Nature 496, 351–354 (2013). https://www.nature.com/articles/nature12109 — pottery first emerged in East Asia 20,000–12,000 cal BP as a hunter-gatherer innovation; lipids from Incipient Jōmon pottery of about 15,000–11,800 cal BP, mostly from freshwater and marine organisms.
- Smithsonian National Museum of Natural History, Human Origins Program, "Oldest Pottery" (2025). https://humanorigins.si.edu/evidence/behavior/carrying-storing/oldest-pottery — some of the oldest East Asian pottery about 18,000 years old; Jōmon pot from Lake Anenuma, Honshu, about 12,000 years old.
- Cristian Violatti, "Pottery in Antiquity", World History Encyclopedia (2014). https://www.worldhistory.org/pottery/ — first synthetic material; independent invention in many places; Dolní Věstonice figurines with crushed mammoth bone, about 30,000 years ago; Odai Yamamoto, Japan, 16,500–14,920 years; open firing 600–900 °C; Near Eastern ovens about 8000 BCE; kilns 1,000–1,200 °C; Chinese porcelain 1,300–1,400 °C; pottery for dating sites and tracing trade.
- Benjamin Mutin et al., "New radiocarbon dates of human tooth enamel reveal a late appearance of farming life in the Indus Valley", Scientific Reports 15 (2025). https://www.nature.com/articles/s41598-025-92621-5 — Mehrgarh (Balochistan) aceramic Period I and Pottery Neolithic Period II; Bolan River; 23 burials; aceramic cemetery began 5200–4900 BCE versus earlier chronology from about 8000 BCE; Jarrige's comparison of Period IIA pottery with 7th-millennium BCE material; Period IIA the earliest known pottery from Pakistan, no earlier than about 4650 BCE.
- "Mehrgarh", Wikipedia (accessed October 2026). https://en.wikipedia.org/wiki/Mehrgarh — pointer only: Neolithic site in Balochistan; Period I aceramic, Period II ceramic Neolithic.


