رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
روزنامہ جنگ کے صفحے سے خبر کا متن دستیاب نہ ہو سکاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظاتعلی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کے نام کھلا خط، بیان واپس لینے اور معافی کا مطالبہپانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی: وزیراعظم شہباز شریفتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصول

ژاک کارتیے: دریائے سینٹ لارنس

1535ء کی سردیوں میں تین فرانسیسی جہاز شمالی امریکہ کے ایک بڑے دریا میں برف میں ایسے جکڑے گئے کہ تقریباً پانچ مہینے ہل نہ سکے۔ ایک سو دس آدمیوں میں سے فروری تک دس بھی تندرست نہ رہے۔ پھر…

1535ء کی سردیوں میں تین فرانسیسی جہاز شمالی امریکہ کے ایک بڑے دریا میں برف میں ایسے جکڑے گئے کہ تقریباً پانچ مہینے ہل نہ سکے۔ ایک سو دس آدمیوں میں سے فروری تک دس بھی تندرست نہ رہے۔ پھر ایک مقامی شخص کے بتائے ہوئے ایک جوشاندے نے بیماروں کو اٹھا کھڑا کیا۔ یہ اس سفر کا واقعہ ہے جس میں ژاک کارتیے (Jacques Cartier) نے پہلی بار دریائے سینٹ لارنس (St. Lawrence) کا نقشہ بنایا اور اس علاقے کو وہ نام دیا جو آج ایک پورے ملک کا نام ہے: کینیڈا۔

سینٹ مالو کا ملاح

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق کارتیے 1491ء میں فرانس کے ساحلی شہر سینٹ مالو (Saint-Malo) میں پیدا ہوا۔ دی کینیڈین انسائیکلوپیڈیا کے مطابق مؤرخ مارسل ترودل (Marcel Trudel) کے حساب سے اس کی پیدائش جون اور دسمبر 1491ء کے درمیان ہوئی۔

1534ء میں فرانس کے بادشاہ فرانسس اول نے اسے شمالی امریکہ کی مہم کا حکم دیا۔ مقصد سونا، مسالے اور ایشیا تک کوئی بحری راستہ تلاش کرنا تھا۔

پہلا سفر: خلیج کی سیر

بریٹانیکا کے مطابق کارتیے 20 اپریل 1534ء کو دو جہازوں اور 61 آدمیوں کے ساتھ سینٹ مالو سے روانہ ہوا۔ دی کینیڈین انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بیس دن بعد وہ نیو فاؤنڈ لینڈ (Newfoundland) کے ساحل پر پہنچا، آبنائے بیل آئل (Strait of Belle Isle) سے خلیجِ سینٹ لارنس میں داخل ہوا۔ بریٹانیکا کے مطابق اس نے موجودہ پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ دیکھا اور خلیج میں جزیرہ انٹیکوسٹی (Anticosti) تک گیا۔ 25 جولائی کو وہ واپس روانہ ہوا۔ واپسی پر وہ مقامی ایروکوائی (Iroquoian) سردار دوناکونا (Donnacona) کے دو بیٹوں، دوماگایا (Domagaya) اور تائنیوآنی (Taignoagny)، کو اپنے ساتھ فرانس لے گیا۔

دوسرا سفر: ہوشیلاگا اور "مون رویال"

اگلے برس کی مہم بڑی تھی۔ دی کینیڈین انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس میں 110 آدمی اور تین درمیانے جہاز تھے: "گراں ارمین" (Grande Hermine)، "پیتیت ارمین" (Petite Hermine) اور "ایمیریوں" (Émérillon)، جسے دریا میں چلنے کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا تھا۔ مئی 1535ء کے وسط میں روانہ ہو کر وہ پچاس دن میں سمندر پار کر سکے۔ بریٹانیکا کے مطابق دوناکونا کے دونوں بیٹے، جو اب فرانس سے واپس آ رہے تھے، رہنما بنے، اور کارتیے دریا میں اوپر کی طرف موجودہ کیوبک (Quebec) تک پہنچا، جہاں ایروکوائی بستی استاداکونا (Stadacona) کے قریب اپنا ٹھکانا بنایا۔

امریکی محقق جیمز فنی بیکسٹر (James Phinney Baxter) نے 1906ء میں کارتیے کے سفرناموں کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔ اس کے مطابق کارتیے بڑا جہاز پیچھے چھوڑ کر کشتیوں میں چند امرا اور 28 ملاحوں کے ساتھ اوپر کو گیا اور 2 اکتوبر 1535ء کو ہوشیلاگا (Hochelaga) پہنچا۔ کارتیے لکھتا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ مرد، عورتیں اور بچے کنارے پر جمع ہو گئے اور "ایسا استقبال کیا جیسا باپ بیٹے کا کرتا ہے"، اور کشتیوں میں مچھلی اور مکئی کی روٹی پھینکنے لگے۔

اگلی صبح بستی کی طرف جاتے ہوئے راستہ خوب ہموار تھا اور دونوں طرف بلوط کے درخت تھے جن کے نیچے زمین بلوط کے پھلوں سے ڈھکی تھی۔ پھر مکئی کے بڑے بڑے کھیت آئے، اور ان کے بیچ ہوشیلاگا کی بستی تھی۔ کارتیے کے بیان کے مطابق بستی گول تھی اور اس کے گرد لکڑی کی تین قطاروں کی باڑ تھی جس میں صرف ایک دروازہ تھا۔ اندر تقریباً پچاس لمبے گھر تھے، ہر ایک پچاس قدم یا اس سے زیادہ لمبا اور بارہ پندرہ قدم چوڑا، لکڑی کے بنے اور درختوں کی چوڑی چھال سے ڈھکے ہوئے۔ گھروں کے اوپر اناج کے گودام تھے۔

بستی کے ساتھ ایک پہاڑی تھی۔ کارتیے لکھتا ہے: "ہم نے اس پہاڑ کا نام مون رویال (Mont Royal) رکھا"۔ اس کی چوٹی سے انہوں نے تیس لیگ سے زیادہ دور تک کا منظر دیکھا: شمال اور جنوب میں پہاڑی سلسلے، بیچ میں ہموار زرخیز زمین، اور دریا میں ایک نہایت تیز آبشار۔ بیکسٹر کے حاشیے کے مطابق یہ لاشین کے تیز دھارے (Lachine Rapids) تھے۔

برف، اسکروی اور "انیدا"

سردیوں کا قیام دریائے سینٹ چارلس کے دہانے پر تھا۔ بریٹانیکا کے مطابق فرانسیسیوں کو نرم سردی کی امید تھی کیونکہ کیوبک پیرس سے زیادہ جنوب میں واقع ہے، مگر سردی نے انہیں حیران کر دیا۔ کارتیے کے بیان کے مطابق نومبر کے وسط سے 15 اپریل تک جہاز برف میں بند رہے؛ برف کی تہہ دو فیدم (تقریباً بارہ فٹ) سے زیادہ موٹی تھی، زمین پر چار فٹ سے زیادہ برف تھی جو جہازوں کے کناروں سے اونچی ہو گئی، اور پیپوں میں مشروبات جم گئے۔

پھر بیماری پھیلی۔ کارتیے لکھتا ہے کہ ٹانگیں سوج جاتیں، مسوڑھے گل جاتے اور دانت گرنے لگتے۔ بیکسٹر کے حاشیے کے مطابق یہ اسکروی (scurvy) تھی۔ فروری کے وسط تک "ہم ایک سو دس تھے، ان میں دس بھی تندرست نہ تھے"، اور مارچ کے وسط تک پچیس آدمی مر گئے۔

ایک دن کارتیے نے دوماگایا کو صحت مند دیکھا جو دس بارہ دن پہلے اسی بیماری میں مبتلا تھا۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ ایک درخت کے پتوں کے رس سے ٹھیک ہوا۔ اس نے دو عورتوں کو کارتیے کے ساتھ بھیجا جو نو دس شاخیں لے آئیں اور طریقہ سکھایا: چھال اور پتے پانی میں ابالو، ہر دوسرے دن پیو، اور بچا ہوا پھوک سوجی ہوئی ٹانگوں پر لگاؤ۔ مقامی زبان میں اس درخت کا نام "انیدا" (annedda) تھا۔ کارتیے کے مطابق دو تین بار پینے سے بیمار صحت یاب ہونے لگے، اور پھر اتنی مانگ ہوئی کہ ایک بہت بڑا درخت آٹھ دن سے کم میں ختم ہو گیا۔ یہ کون سا درخت تھا، اس پر اتفاق نہیں؛ بیکسٹر کے حاشیے کے مطابق بعض لکھنے والے اسے سفید اسپروس اور بعض سفید چیڑ سمجھتے ہیں۔

دی کینیڈین انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بہار آنے پر واپسی کے سفر میں کارتیے دوناکونا، اس کے دونوں بیٹوں اور سات دیگر افراد کو فرانس لے گیا، اور وہ کبھی واپس نہ آ سکے۔

تیسرا سفر اور "ہیرے"

یورپ کی جنگ کی وجہ سے اگلی مہم 1541ء تک رکی رہی۔ اس بار بادشاہ نے ایک امیر، ژاں فرانسوا دے لا روک دے روبروال (Jean-François de La Rocque de Roberval)، کو نوآبادی بسانے کا کام دیا اور کارتیے کو اس کا ماتحت بنایا۔ بریٹانیکا کے مطابق کارتیے پہلے روانہ ہو کر 23 اگست 1541ء کو کیوبک پہنچا۔ دی کینیڈین انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس نے کیوبک سے چند کلومیٹر اوپر دریائے کاپ روژ (Cap Rouge) اور سینٹ لارنس کے سنگم پر بستی بنائی۔

بریٹانیکا کے مطابق یہاں انہیں بہت سی ایسی چیزیں ملیں جنہیں وہ سونا اور ہیرے سمجھے۔ مئی 1542ء کے آخر میں کارتیے بستی چھوڑ کر روانہ ہوا۔ نیو فاؤنڈ لینڈ میں اس کی ملاقات روبروال سے ہوئی جس نے اسے واپس جانے کا حکم دیا، مگر کارتیے رات کے اندھیرے میں فرانس کی طرف نکل گیا۔ فرانس میں معلوم ہوا کہ اس کے "سونے" اور "ہیرے" دراصل پائرائٹ اور کوارٹز تھے۔

بریٹانیکا کے مطابق اس کے بعد کارتیے کو کوئی نئی مہم نہیں ملی؛ وہ سینٹ مالو کے قریب اپنی جاگیر پر رہا اور یکم ستمبر 1557ء کو فوت ہوا۔ بریٹانیکا یہ بھی بتاتا ہے کہ "کینیڈا" کا نام ہورون ایروکوائی لفظ "کاناٹا" (kanata) سے نکلا ہے جس کا مطلب گاؤں یا بستی ہے، اور کارتیے نے یہ نام صرف آج کے کیوبک شہر کے آس پاس کے علاقے کے لیے استعمال کیا تھا۔

اگلی قسط: اوریانا: دریائے ایمیزون کا پہلا سفر۔

ماخذ

  1. Jacques Cartier, narratives of the first and second voyages, in James Phinney Baxter, A Memoir of Jacques Cartier, Sieur de Limoilou: His Voyages to the St. Lawrence, Dodd, Mead & Co., New York, 1906 (second voyage: Hochelaga, Mont Royal, the winter, the scurvy and the remedy; Baxter's notes). https://archive.org/details/memoirofjacquesc00baxt
  2. "Jacques Cartier", Encyclopaedia Britannica. https://www.britannica.com/biography/Jacques-Cartier
  3. Bernard Allaire, "Jacques Cartier", The Canadian Encyclopedia, Historica Canada, published 29 Aug 2013, last edited 25 Jun 2024. https://www.thecanadianencyclopedia.ca/en/article/jacques-cartier

مہمات: تمام تحریریں ←