وسیم اکرم: سوئنگ کا سلطان
بائیں ہاتھ سے تیز گیند کرنے والے بولر کرکٹ کی تاریخ میں کم نہیں، مگر جس طرح وسیم اکرم (Wasim Akram) گیند کو دونوں طرف موڑتے تھے، نئی گیند سے بھی اور پرانی سے بھی، اس کی مثال بہت کم…

بائیں ہاتھ سے تیز گیند کرنے والے بولر کرکٹ کی تاریخ میں کم نہیں، مگر جس طرح وسیم اکرم (Wasim Akram) گیند کو دونوں طرف موڑتے تھے، نئی گیند سے بھی اور پرانی سے بھی، اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ وہ تقریباً دو دہائیوں تک پاکستان کے لیے کھیلے، 1992ء کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کا اہم حصہ رہے، برسوں کپتان رہے، اور ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں طرز کی کرکٹ میں چار سو سے زیادہ وکٹیں لے کر رخصت ہوئے۔ کرکٹ کی دنیا انہیں "سوئنگ کا سلطان" (Sultan of Swing) کے نام سے یاد کرتی ہے۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
وسیم اکرم 3 جون 1966ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا کرکٹ کا سفر عام نوجوانوں کی طرح گلی محلے میں ٹیپ بال کرکٹ سے شروع ہوا، پھر وہ لاہور کے ایک کلب سے کھیلنے لگے۔ قومی ٹیم میں ان کی آمد غیر معمولی طور پر جلد ہوئی۔ قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے ٹرائلز میں انہیں ابتدا میں گیند کرنے کا موقع ہی نہ ملا، مگر جب ملا تو جاوید میانداد ان کی رفتار اور انداز سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس نوجوان کو ٹیم میں شامل کرنے پر زور دیا2۔ یوں ایک ایسا لڑکا، جس کے پاس ڈومیسٹک کرکٹ کا تجربہ نہ ہونے کے برابر تھا، اچانک بین الاقوامی کرکٹ میں آ پہنچا۔
انہوں نے پہلا ون ڈے 23 نومبر 1984ء کو فیصل آباد میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا، اور پہلا ٹیسٹ 25 جنوری 1985ء کو آکلینڈ میں اسی ٹیم کے خلاف۔ چند ہفتے بعد 24 فروری 1985ء کو میلبرن میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے میں انہوں نے صرف 21 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں، اور کرکٹ کی دنیا کو پہلی بار اندازہ ہوا کہ پاکستان کو ایک خاص بولر مل گیا ہے۔ 24 اکتوبر 1986ء کو فیصل آباد میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میں 91 رنز کے عوض 6 وکٹیں اور اسی میچ میں 66 رنز کی اننگز نے ثابت کیا کہ وہ بلے سے بھی کام آ سکتے ہیں1۔
عروج کے سال اور 1992ء کا عالمی کپ
1980ء کی دہائی کے آخر میں وسیم اکرم انگلینڈ کی کاؤنٹی لنکاشائر (Lancashire) سے بھی کھیلنے لگے، جہاں وہ برسوں ٹیم کی بولنگ کے سربراہ رہے اور مقامی تماشائیوں کے پسندیدہ کھلاڑی بن گئے۔ 14 اکتوبر 1989ء کو شارجہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف انہوں نے 38 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں، اور اسی میچ میں ہیٹ ٹرک بھی کی12۔
1990ء کا آسٹریلیا کا دورہ ان کے لیے یادگار رہا۔ 12 جنوری کو میلبرن ٹیسٹ میں 62 رنز کے عوض 6 وکٹیں، پھر 19 جنوری کو ایڈیلیڈ میں 123 رنز کی اننگز، جو ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی، اور فروری میں میلبرن ہی میں ون ڈے میں 86 رنز، جو ان کے ون ڈے کیریئر کا سب سے بڑا اسکور رہا1۔
پھر 1992ء کا عالمی کپ آیا، جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا۔ میلبرن میں انگلینڈ کے خلاف فائنل میں وسیم اکرم نے پہلے تیز رفتار رنز بنائے، پھر گیند سنبھالی تو ابتدا ہی میں این بوتھم کو آؤٹ کیا۔ بعد میں جب انہیں دوبارہ بولنگ پر لایا گیا تو پرانی گیند ریورس سوئنگ ہو رہی تھی، اور انہوں نے ایک ہی اوور میں ایلن لیمب اور کرس لوئس کو لگاتار دو گیندوں پر بولڈ کر کے میچ کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ انہیں فائنل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ اسی برس گرمیوں میں انگلینڈ کے دورے پر اوول ٹیسٹ میں 67 رنز دے کر 6 وکٹیں ان کی شاندار فارم کا تسلسل تھیں1۔ اگلے سال وزڈن نے انہیں سال کے بہترین کرکٹرز میں شامل کیا2۔
کپتانی اور یادگار کارکردگیاں
1993ء سے 1999ء کے درمیان وسیم اکرم نے 25 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کی اور ان میچوں میں 107 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ 1993ء سے 2000ء تک 109 ون ڈے میچوں میں کپتان رہے اور 158 وکٹیں لیں۔ کپتانی کے بوجھ نے ان کی بولنگ کو کمزور نہیں کیا۔ فروری 1994ء کے نیوزی لینڈ کے دورے پر آکلینڈ میں 43 رنز کے عوض 6 وکٹیں اور ویلنگٹن میں 119 رنز کے عوض 7 وکٹیں، جو ان کی بہترین ٹیسٹ بولنگ رہی۔ ون ڈے میں ان کی بہترین بولنگ 24 دسمبر 1993ء کو کراچی میں زمبابوے کے خلاف تھی، جب انہوں نے 7 اوورز میں صرف 15 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں1۔
اکتوبر 1996ء میں شیخوپورہ میں زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میں انہوں نے بلے سے وہ کارنامہ کیا جو آج بھی یاد کیا جاتا ہے: 363 گیندوں پر 257 رنز ناٹ آؤٹ، جن میں 22 چوکے اور 12 چھکے شامل تھے۔ ایک ہفتے بعد فیصل آباد میں اسی ٹیم کے خلاف 48 رنز کے عوض 6 وکٹیں لے کر انہوں نے دکھایا کہ اصل پہچان ان کی بولنگ ہی ہے1۔
1999ء کے عالمی کپ میں انہوں نے بطور کپتان پاکستان کو فائنل تک پہنچایا، جہاں آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی۔ ان کی ساتھی فاسٹ بولر وقار یونس (Waqar Younis) کے ساتھ جوڑی، جسے "دو ڈبلیو" کہا جاتا تھا، اس پورے دور میں دنیا کی خطرناک ترین بولنگ جوڑیوں میں شمار ہوتی تھی2۔
آخری برس
نئی صدی میں بھی ان کی دھار باقی رہی۔ مئی 2000ء میں اینٹیگا کے شہر سینٹ جانز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 61 رنز کے عوض 6 وکٹیں، اور جون 2000ء میں سری لنکا کے شہر گال میں صرف 89 گیندوں پر 100 رنز، جو ان کی تیسری اور آخری ٹیسٹ سنچری تھی۔ ان کا آخری ٹیسٹ 9 جنوری 2002ء کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے خلاف تھا۔ 2003ء کے عالمی کپ میں کمبرلی میں نمیبیا کے خلاف 28 رنز دے کر 5 وکٹیں ان کی آخری بڑی کارکردگی تھی، اور 4 مارچ 2003ء کو بلاوایو میں زمبابوے کے خلاف میچ ان کا آخری ون ڈے ثابت ہوا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 104 | 356 |
| رنز | 2898 | 3717 |
| بہترین اسکور | 257 ناٹ آؤٹ | 86 |
| اوسط (بیٹنگ) | 22.64 | 16.52 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 3 / 7 | 0 / 6 |
| اسٹرائیک ریٹ (بیٹنگ) | – | 88.33 |
| وکٹیں | 414 | 502 |
| بہترین بولنگ | 7/119 | 5/15 |
| اوسط (بولنگ) | 23.62 | 23.52 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 25 | 6 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
وسیم اکرم کی اصل طاقت ان کی ورائٹی تھی۔ ان کا ایکشن تیز اور مختصر تھا، وہ وکٹ کے دونوں طرف سے یکساں مہارت سے گیند کرتے، اندر آنے والی اور باہر جانے والی دونوں طرح کی سوئنگ پر قابو رکھتے، اور ان کا اندر آتا ہوا یارکر بلے بازوں کے لیے ڈراؤنا خواب تھا۔ ریورس سوئنگ کے فن کو، جو پاکستانی فاسٹ بولروں کی پہچان بنا، دنیا بھر میں متعارف کرانے والوں میں ان کا نام سب سے نمایاں ہے2۔
ٹیسٹ کرکٹ میں 414 اور ون ڈے میں 502 وکٹیں ان کی طویل اور مسلسل کامیابی کی گواہ ہیں1۔ ویسٹ انڈیز کے برائن لارا (Brian Lara) نے فاکس کرکٹ سے گفتگو میں انہیں اپنے کیریئر کا "سب سے خطرناک فاسٹ بولر" کہا4، اور آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ (Ricky Ponting) نے انہیں اور ویسٹ انڈیز کے کرٹلی ایمبروز کو اپنے سامنا کیے گئے بہترین فاسٹ بولر قرار دیا5۔ 2009ء میں انہیں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا3، اور 2013ء میں وزڈن نے اپنی کل وقتی ٹیسٹ عالمی الیون میں انہیں جگہ دی2۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Wasim Akram, Test and ODI batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43547.html?class=1;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43547.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43547.html?class=1;template=results;type=bowling , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43547.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43547.html?class=2;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43547.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43547.html?class=2;template=results;type=bowling , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43547.html?class=2;template=results;type=bowling;view=innings
- Wikipedia, "Wasim Akram", https://en.wikipedia.org/wiki/Wasim_Akram (for biographical details only)
- ICC Cricket Hall of Fame: https://www.icc-cricket.com/hall-of-fame
- The Friday Times, "Wasim Akram best, most threatening fast bowler I ever faced: Brian Lara" (14 January 2023; Lara's interview with Fox Cricket): https://thefridaytimes.com/14-Jan-2023/wasim-akram-best-most-threatening-fast-bowler-i-ever-faced-brian-lara
- Geo Super, "Ponting names Akram, Akhtar as best and quickest bowlers he faced" (13 January 2020; Ponting's reply on Twitter): https://geosuper.tv/latest/3373-ponting-names-akram-akhtar-as-best-and-quickest-bowlers-he-faced



