اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
خواجہ میر دردؔ کی غزل۔

خواجہ میر دردؔ کی غزل۔
غزل
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا
میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑےمری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
گلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوںمیں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا
جفا سے غرض امتحان وفا ہےتو کہہ کب تلک آزماتا رہے گا
قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیروخبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا
خفا ہو کے اے دردؔ مر تو چلا توکہاں تک غم اپنا چھپاتا رہے گا
مشکل الفاظ
- ستاتا: تنگ کرتا، دکھ دیتا
- جی ہی جاتا رہے گا: جان ہی نکل جائے گی
- جفا: ظلم، بے وفائی
- غرض: مقصد
- امتحانِ وفا: وفاداری کی آزمائش
- قفس: پنجرا
- ہم صفیر: ساتھ چہچہانے والے پرندے، ساتھی
- خبرِ گل: پھول کی خبر
پس منظر
ردیف "رہے گا" کی یہ غزل آسان زبان میں ہے: عاشق محبوب کی گلی سے جاتے ہوئے اپنا دل وہیں چھوڑ جاتا ہے تاکہ وہ اسے یاد دلاتا رہے۔ پانچویں شعر میں پنجرے کا قیدی پرندہ اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ کوئی تو ہمیں پھولوں کی خبر سناتا رہے گا۔ ریختہ کے تعارف کے مطابق دردؔ موسیقی کے ماہر تھے اور ان کے کلام میں بھی موسیقیت ہے2۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: "اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/agar-yuun-hii-ye-dil-sataataa-rahegaa-khwaja-meer-dard-ghazals-1?lang=ur
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/khwaja-meer-dard/profile?lang=ur
- دیوانِ درد، مرتبہ نسیم احمد، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/DeewanEDard
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur



