رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
یوکرین کے لیے جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے: ٹرمپ، اوسلو مذاکرات کے بعد ایلچی وٹکوف روس میںٹیلر سوئفٹ نیلے لباس میں سنڈریلا لک کی وجہ سے مداحوں کی توجہ کا مرکزخلیجی کشیدگی کے پیش نظر مانیٹری پالیسی میں شرح سود نہ بڑھائی جائے: فیصل معیز خاناسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 26 اکتوبر کو، شرح سود میں اضافے کا امکانپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا دوحہ میں «بدر» دفاعی مفاہمتی یادداشت پر دستخطخیبرپختونخوا اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی کے ساتھ متحد ہیں: بیرسٹر گوہرجامعہ تربت کے شعبہ تعلیم کے بورڈ آف اسٹڈیز کا چھٹا اجلاس، ایم فل ایجوکیشن نصاب کا جائزہاسلام آباد: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا قومی مباحثے میں مؤقف، بلوچستان کو مزید انتظامی یونٹس اور مؤثر بلدیاتی نظام کی ضرورتکوئٹہ: گورنر جعفرخان مندوخیل سے میر سلیم احمد کھوسہ کی ملاقات، انفراسٹرکچر کی ترقی پر تبادلہ خیالبلوچستان کو مزید انتظامی یونٹس، مؤثر بلدیاتی نظام اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے: سرفراز بگٹیمحسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئے

اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا

خواجہ میر دردؔ کی غزل۔

اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
علامتی تصویر

خواجہ میر دردؔ کی غزل۔

غزل

اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا

میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑےمری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا

گلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوںمیں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا

جفا سے غرض امتحان وفا ہےتو کہہ کب تلک آزماتا رہے گا

قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیروخبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا

خفا ہو کے اے دردؔ مر تو چلا توکہاں تک غم اپنا چھپاتا رہے گا

مشکل الفاظ

  • ستاتا: تنگ کرتا، دکھ دیتا
  • جی ہی جاتا رہے گا: جان ہی نکل جائے گی
  • جفا: ظلم، بے وفائی
  • غرض: مقصد
  • امتحانِ وفا: وفاداری کی آزمائش
  • قفس: پنجرا
  • ہم صفیر: ساتھ چہچہانے والے پرندے، ساتھی
  • خبرِ گل: پھول کی خبر

پس منظر

ردیف "رہے گا" کی یہ غزل آسان زبان میں ہے: عاشق محبوب کی گلی سے جاتے ہوئے اپنا دل وہیں چھوڑ جاتا ہے تاکہ وہ اسے یاد دلاتا رہے۔ پانچویں شعر میں پنجرے کا قیدی پرندہ اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ کوئی تو ہمیں پھولوں کی خبر سناتا رہے گا۔ ریختہ کے تعارف کے مطابق دردؔ موسیقی کے ماہر تھے اور ان کے کلام میں بھی موسیقیت ہے2۔

متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔

ماخذ

  1. ریختہ، خواجہ میر دردؔ: "اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/agar-yuun-hii-ye-dil-sataataa-rahegaa-khwaja-meer-dard-ghazals-1?lang=ur
  2. ریختہ، خواجہ میر دردؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/khwaja-meer-dard/profile?lang=ur
  3. دیوانِ درد، مرتبہ نسیم احمد، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/DeewanEDard
  4. ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur

کلام: تمام تحریریں ←