تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
خواجہ میر دردؔ کی غزل۔

خواجہ میر دردؔ کی غزل۔
غزل
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھابرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا
مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہکہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا
یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میںکوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا
اذیت مصیبت ملامت بلائیںترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
کیا مج کو داغوں نے سرو چراغاںکبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا
تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائےادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا
حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہمکھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا
شب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کےکسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا
مشکل الفاظ
- جلوہ فرما: سامنے ظاہر، جلوہ دکھاتا ہوا
- غنچۂ دل: دل کی کلی
- دل گرفتہ: اداس، گھٹا ہوا
- وا: کھلا ہوا
- یگانہ: یکتا، بے مثل
- بیگانگی: اجنبیت
- اذیت: تکلیف
- ملامت: طعنہ، برا بھلا
- سروِ چراغاں: چراغوں سے سجا سرو کا درخت
- تغافل: جان بوجھ کر بے پروائی
- حجاب: پردہ
- رخِ یار: محبوب کا چہرہ
- در پے: در پے ہونا: پیچھے پڑنا، تلاش میں رہنا
پس منظر
مطلع کہتا ہے کہ اگر اس دنیا میں تجھے ہی جلوہ گر نہ دیکھا تو دنیا کو دیکھنا اور نہ دیکھنا برابر ہے۔ ساتواں شعر، "حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہمکھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا"، دردؔ کے ہاں بار بار آنے والے خیال کو بیان کرتا ہے کہ اصل پردہ انسان کی اپنی ذات ہے۔ ریختہ نے اسے "تصوف" کے موضوع میں رکھا ہے؛ اس پر فصیح اکمل کی قرأت اور ثریا کی آواز میں ایک ویڈیو موجود ہے1۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: "تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/tujhii-ko-jo-yaan-jalva-farmaa-na-dekhaa-khwaja-meer-dard-ghazals?lang=ur
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/khwaja-meer-dard/profile?lang=ur
- دیوانِ درد، مرتبہ نسیم احمد، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/DeewanEDard
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur



