جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
خواجہ میر دردؔ کی غزل۔

خواجہ میر دردؔ کی غزل۔
غزل
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھاتو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالیجس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
نالہ فریاد آہ اور زاریآپ سے ہو سکا سو کر دیکھا
ان لبوں نے نہ کی مسیحائیہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
زور عاشق مزاج ہے کوئیدردؔ کو قصہ مختصر دیکھا
مشکل الفاظ
- جگ: دنیا
- نالہ: فریاد
- زاری: رونا، گڑگڑانا
- مسیحائی: مُردے کو زندہ کرنا، شفا دینا
- زور: یہاں: بہت، نہایت
- عاشق مزاج: محبت کرنے کی طبیعت والا
- قصہ مختصر: بات مختصر
پس منظر
پانچ شعروں کی اس مختصر غزل کا مطلع، "جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھاتو ہی آیا نظر جدھر دیکھا"، ہر طرف ایک ہی جلوہ دیکھنے کا بیان ہے۔ ریختہ نے اسے "تصوف" کے موضوع میں رکھا ہے اور اس پر فصیح اکمل کی قرأت موجود ہے1۔ ریختہ کے تعارف کے مطابق دردؔ نے کبھی کسی کی مدح یا ہجو نہیں لکھی، فرمائش پر شعر نہیں کہا، اور تبھی شعر کہتے تھے جب شعر خود ان سے کہلوا لے؛ اسی لیے ان کا دیوان بہت مختصر ہے2۔
متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔
ماخذ
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: "جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/jag-men-aa-kar-idhar-udhar-dekhaa-khwaja-meer-dard-ghazals?lang=ur
- ریختہ، خواجہ میر دردؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/khwaja-meer-dard/profile?lang=ur
- دیوانِ درد، مرتبہ نسیم احمد، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/DeewanEDard
- ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur



