ضلع جھل مگسی: دریائے مولا کا میدان اور قدیم قندابیل
جھل مگسی کچھی کے میدان کا جنوب مغربی حصہ ہے، جہاں جھالاوان کے پہاڑوں سے نکلنے والا دریائے مولا میدان میں داخل ہوتا ہے۔ ضلع کا نام اس کے مرکزی قصبے جھل اور یہاں آباد مگسی قبیلے کے نام پر…

تعارف اور محلِ وقوع
جھل مگسی کچھی کے میدان کا جنوب مغربی حصہ ہے، جہاں جھالاوان کے پہاڑوں سے نکلنے والا دریائے مولا میدان میں داخل ہوتا ہے۔ ضلع کا نام اس کے مرکزی قصبے جھل اور یہاں آباد مگسی قبیلے کے نام پر ہے۔ انگریز دور کا گزیٹیئر (1907ء) جھل کو مگسی قبیلے کا مرکز اور گنداوہ کو کچھی کے ان دو قصبوں میں سے ایک بتاتا ہے جہاں خوانینِ قلات سردیاں گزارتے تھے۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع جھل مگسی کا رقبہ 3,615 مربع کلومیٹر اور آبادی 203,368 ہے، جس میں 103,422 مرد، 99,933 عورتیں اور 13 خواجہ سرا شامل ہیں۔ آبادی کی کثافت تقریباً 56 افراد فی مربع کلومیٹر ہے، اور صرف 11.87 فیصد لوگ شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ ایک گھرانے میں اوسطاً 6.5 افراد ہیں۔ 2017ء میں ضلع کی آبادی 148,900 تھی، یعنی سالانہ تقریباً 5.35 فیصد اضافہ درج ہوا۔
مردم شماری کے جدول کے مطابق ضلع کے تین انتظامی حصے ہیں: جھل مگسی تحصیل (رقبہ 1,679 مربع کلومیٹر، آبادی 116,528)، گنداوہ تحصیل (1,344 مربع کلومیٹر، 71,230) اور میرپور سب تحصیل (592 مربع کلومیٹر، 15,610)۔ ضلع کی ساری شہری آبادی گنداوہ تحصیل میں ہے، جہاں تقریباً 34 فیصد لوگ شہری علاقے میں رہتے ہیں۔
تاریخ
گزیٹیئر کے مرتبین کو "اس میں بہت کم شک" تھا کہ گنداوہ وہی قندابیل ہے جس کا ذکر عرب مؤرخین نے کیا ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق کچھی کی ابتدائی تاریخ کا پہلا مستند حوالہ یہ ہے کہ سندھ کے حکمران چچ نے قندابیل پر حملہ کیا؛ شہر کے لوگ قلعے میں پناہ گزین ہوئے، اور آخرکار ایک لاکھ درہم سالانہ خراج اور سو پہاڑی گھوڑے دینے پر صلح ہوئی۔ عربوں کی آمد کے بعد قندابیل پر کئی مہمات بھیجی گئیں۔ گزیٹیئر کے مطابق یہ شہر خلیفہ عبدالملک (684ء تا 705ء) کے دور میں لوٹا گیا مگر اس کی مکمل فتح بعد میں محمد بن قاسم کے ہاتھوں ہوئی۔ عرب مؤرخ بلاذری کے حوالے سے گزیٹیئر لکھتا ہے کہ قندابیل ایک بلند جگہ پر آباد تھا، اور موجودہ گنداوہ بھی کچھی کے میدان کے بیچ ایک اونچی جگہ پر ہے۔
اٹھارہویں صدی میں گنداوہ کلہوڑوں کے ہاتھ میں تھا۔ گزیٹیئر کے مطابق کلہوڑہ حکمران نور محمد کے نائب مراد گنجہ کا اینٹوں سے بنا مقبرہ گنداوہ کے جنوب میں اب بھی موجود ہے؛ یہی مراد گنجہ تھا جس نے 1730-31ء میں سنی کے قریب جندریہار میں خانِ قلات میر عبداللہ کا مقابلہ کیا۔ 1740ء میں کچھی ریاست قلات کو مل گیا۔ میر نصیر خان اول کا انتقال 1794ء میں گنداوہ ہی میں ہوا۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کے مطابق ضلع میں سب سے بڑی زبان بلوچی ہے، جو 153,395 افراد، یعنی تقریباً 75 فیصد آبادی کی مادری زبان ہے۔ اس کے بعد سندھی (33,218، تقریباً 16 فیصد)، سرائیکی (11,716، تقریباً 6 فیصد) اور براہوئی (4,243، تقریباً 2 فیصد) ہیں۔
گزیٹیئر کے مطابق 1901ء میں مگسیوں کی تعداد، لاشاریوں اور مغیریوں سمیت، 10,340 تھی اور پورا قبیلہ جھل اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھا۔ اس کی بڑی شاخوں میں بھوتانی، مرزانی، نندوانی، راوتانی، سوبھانی اور شمبانی شامل تھیں۔ گزیٹیئر کے مطابق جھل کے قصبے میں مگسیوں کے علاوہ جت کاشتکار، کمہار، جولاہے، حجام اور موچی بھی رہتے تھے، اور اس کی آبادی تقریباً دو ہزار تھی۔ گنداوہ میں تقریباً 330 خاندان تھے، جن میں زیادہ تر جت تھے؛ ان میں 20 سید اور 120 ہندو خاندان بھی شامل تھے۔
مردم شماری کے مطابق دس سال اور اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 30.14 فیصد ہے: مردوں میں 37.89 اور عورتوں میں صرف 22.09 فیصد۔ صوبائی رپورٹ جھل مگسی کو ان اضلاع میں شمار کرتی ہے جہاں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 60 سے 70 فیصد کے درمیان ہے۔
معیشت
اس ضلع کی زندگی دریائے مولا سے جڑی ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق مولا ہربوئی کے پہاڑوں سے نکل کر تقریباً 180 میل جھالاوان میں بہتا ہے اور پنج منہ کے مقام پر کچھی کے میدان میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا مستقل پانی پیر چھتہ کے سامنے سے ایک لمبی نہر کے ذریعے لایا جاتا تھا اور پنجک، فتح پور، نوشہرہ اور دوسری شاخوں میں تقسیم ہوتا تھا، جبکہ اس کا سیلابی پانی مگسی علاقے میں وسیع زمینیں سیراب کرتا تھا۔ پنجک گاؤں کا نام ہی اس بات پر ہے کہ اسے مولا کے مستقل پانی کا پانچواں حصہ ملتا تھا؛ گزیٹیئر کے مطابق یہ حصہ کلہوڑہ حکمران میاں نور محمد نے مگسی سردار بھوت فقیر کے زمانے میں دیا تھا۔
گزیٹیئر میں پنجک کی بڑی فصلیں جوار، باجرہ، مونگ، موٹھ، کپاس اور گندم درج ہیں، اور وہاں کے انار اور آم کے باغات کا ذکر ہے۔ کوٹڑہ کے باغ میں آم زیادہ تھے، اور گنداوہ کے جنوب میں آم اور میٹھے لیموں کا ایک بڑا باغ تھا۔ گزیٹیئر کے مطابق جھل کے مگسی سردار کو گھوڑوں کی افزائش سے خاص دلچسپی تھی اور کچھی کے بہترین گھوڑے جھل میں پائے جاتے تھے۔ پنجک میں عمدہ تلواریں بنتی تھیں، اور گاجان کے قریب نمک بنایا جاتا تھا۔
ادارۂ شماریات کی صوبائی رپورٹ کے مطابق دریائے مولا (رپورٹ میں "مُلا") کی لمبائی 269 کلومیٹر ہے، اور اس پر گنداوہ سے 30 کلومیٹر دور ایک ڈیم ہے جس میں 0.242 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے؛ رپورٹ کے مطابق اسی دریا پر نولانگ ڈیم زیرِ تعمیر ہے۔ ضلع کی موجودہ زرعی پیداوار کے سرکاری اعداد اس صفحے کی تیاری کے دوران دستیاب نہیں ہو سکے۔
قابلِ دید مقامات
گنداوہ: گزیٹیئر کے مطابق درۂ مولا کے دہانے کے قریب یہ قصبہ کبھی اونچی فصیل سے گھرا ہوا تھا۔ اس کے مغرب میں خان کی رہائش گاہ تھی، جس میں ایک چبوترہ تھا جس پر میر محراب خان بیٹھا کرتے تھے۔
جھل: گزیٹیئر کے مطابق قصبے کے مغرب میں سردار کا چار منزلہ "میڑھ" (قلعہ نما مکان) تھا اور بیچ میں چھتا ہوا بازار، جس میں تقریباً ساٹھ دکانیں تھیں۔
خانپور کے مقبرے: گزیٹیئر کے مطابق مگسی سردار جھل واپس آنے سے پہلے کچھ عرصہ کوٹڑہ کے قریب خانپور میں رہے، جہاں ان کی پرانی فصیل اور مقبرے ہیں۔ ان میں سردار کے ایک رشتہ دار گواہرام کا مقبرہ گزیٹیئر کے بقول کچھی کا سب سے شاندار مقبرہ ہے، جس کے اندر ملتانی نیلی ٹائلیں لگی ہیں اور گنبد اندر سے رنگین نقش و نگار سے آراستہ ہے۔
پیر چھتہ: کوٹڑہ سے تقریباً چھ میل مغرب میں پہاڑوں میں واقع اس مزار پر گزیٹیئر کے مطابق کھجور کی فصل کے موسم میں سالانہ میلہ لگتا تھا۔ کوٹڑہ کے قریب لاکھ پور، پہنگر اور کوڑو کے ٹیلے پرانی بستیوں کے کھنڈرات سمجھے جاتے ہیں۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate (Balochistan districts), PDF p. 3 (Jhal Magsi district and tehsils). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue (Balochistan districts), PDF p. 10. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf ; Table 12: Literacy Rate, PDF p. 14. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_12_balochistan_district.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad, 2025: p. 29 (Mulla river and dam), p. 94 (out-of-school brackets). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- C. F. Minchin (ed.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. VI: Sarawan, Kachhi and Jhalawan (Kachhi part), Bombay: Times Press, 1907: pp. 7–8 (Mula river and its channels), pp. 14–15 (Kandabil, Chach, the Arabs), pp. 35–36 (Rind–Magassi feud, Magassi sections, 1901 numbers), p. 90 (horses at Jhal), pp. 187, 190–198 (Gajan, Gandava, Jhal, Kotra, Panjuk; Murad Ganja's tomb; Gwahram's tomb; Pir Chhatta). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668 ; same volume, Sarawan part, p. 30 (death of Nasir Khan I at Gandava, 1794)



