رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
روزنامہ جنگ کے صفحے سے خبر کا متن دستیاب نہ ہو سکاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےعلی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کے نام کھلا خط، بیان واپس لینے اور معافی کا مطالبہپانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی: وزیراعظم شہباز شریفتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاساُستا محمد: مارکیٹ کمیٹی کا اجلاس، اناج منڈی فعال بنانے اور خرید و فروخت جلد شروع کرنے پر غور

متحرک حروف کی چھپائی: مٹی کے ٹائپ سے دھات کے حروف تک

اخبار کا ہر صفحہ ہزاروں حروف سے بنتا ہے۔ اس مشکل کا حل یہ تھا کہ ہر حرف الگ ٹکڑے پر بنایا جائے، صفحے کے لیے جوڑا جائے، چھاپا جائے، اور پھر الگ کر کے اگلے صفحے کے لیے دوبارہ…

متحرک حروف کی چھپائی: مٹی کے ٹائپ سے دھات کے حروف تک
علامتی تصویر

اخبار کا ہر صفحہ ہزاروں حروف سے بنتا ہے۔ اس مشکل کا حل یہ تھا کہ ہر حرف الگ ٹکڑے پر بنایا جائے، صفحے کے لیے جوڑا جائے، چھاپا جائے، اور پھر الگ کر کے اگلے صفحے کے لیے دوبارہ استعمال کیا جائے۔ اسے متحرک حروف (movable type) کی چھپائی کہتے ہیں، اور اس کی پہلی معلوم مثال گیارہویں صدی کے چین سے ملتی ہے۔

بی شینگ کا خیال

محقق تھامس فرانسس کارٹر (Thomas Francis Carter) نے 1925 میں کولمبیا یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی اپنی کتاب "چین میں چھپائی کی ایجاد" میں چینی عالم شین کُو (Shen Kuo) کا ایک بیان ترجمہ کیا ہے۔ کارٹر کے مطابق شین کو 1030 سے 1093 تک زندہ رہے، اور ان کی کتاب "خوابوں کے تالاب کے مضامین" (Dream Pool Essays) میں اس ایجاد کا ہم عصر اور تفصیلی بیان ہے۔ امریکی سائنسی تنظیم اے اے اے ایس کے مطابق یہ کتاب تقریباً 1088 میں لکھی گئی۔

شین کو کے مطابق چھنگ لی کے دور میں ایک عام آدمی، بی شینگ (Bi Sheng)، نے متحرک ٹائپ بنائے۔ حوالوں میں اس کا وقت مختلف انداز سے بیان ہوا ہے: کارٹر اس دور کو 1041 سے 1049 لکھتے ہیں، جبکہ اے اے اے ایس صرف شہنشاہ رینزونگ کے دور (1022 تا 1063) کا ذکر کرتا ہے۔

مٹی کے حروف کیسے بنے

شین کو کے بیان کے مطابق بی شینگ نے چپکنے والی گیلی مٹی لی اور اس پر سکے کے کنارے جتنے پتلے حروف کاٹے۔ ہر حرف ایک الگ ٹکڑا تھا۔ پھر انہیں آگ میں پکا کر سخت کیا گیا۔

چھاپنے کے لیے لوہے کی ایک پلیٹ پر چیڑ کی رال، موم اور کاغذ کی راکھ کا آمیزہ بچھایا جاتا۔ اس پر لوہے کا ایک چوکھٹا رکھ کر حروف ایک دوسرے سے جوڑ کر جمائے جاتے۔ چوکھٹا بھر جاتا تو پلیٹ کو آگ کے قریب گرم کیا جاتا تاکہ آمیزہ ذرا پگھل جائے، اور ایک ہموار تختے سے دبا کر سب حروف کی سطح سان کی طرح برابر کر دی جاتی۔ چھپائی کے بعد پلیٹ کو دوبارہ گرم کیا جاتا اور حروف خود بخود الگ ہو جاتے۔

شین کو لکھتے ہیں کہ دو تین نسخوں کے لیے یہ طریقہ نہ آسان تھا نہ تیز، مگر سیکڑوں یا ہزاروں نسخوں کے لیے حیرت انگیز حد تک تیز تھا۔ بی شینگ دو پلیٹیں ساتھ چلاتے: ایک سے چھپائی ہوتی تو دوسری پر حروف جمائے جاتے۔ عام استعمال کے حروف کے بیس بیس یا اس سے زیادہ ٹکڑے رکھے جاتے، اور حروف کو قافیے کی ترتیب سے لکڑی کے خانوں میں سنبھالا جاتا۔

بی شینگ نے لکڑی کیوں نہیں استعمال کی؟ شین کو کے مطابق لکڑی کی بناوٹ کہیں موٹی ہوتی ہے کہیں باریک، اور وہ نمی جذب کر لیتی ہے، اس لیے صفحہ ناہموار ہو جاتا۔ کارٹر کے مطابق تمام ماہرین اس پر متفق نظر آتے ہیں کہ مٹی کے ٹائپ بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہوئے۔

وانگ ژین کے لکڑی کے حروف

تقریباً پونے تین سو سال بعد وانگ ژین (Wang Zhen) نامی ایک ضلعی افسر نے لکڑی کا مسئلہ حل کر دکھایا۔ کارٹر نے ان کا بیان بھی ترجمہ کیا ہے، جو ان کی زراعت کی کتاب کے آخر میں شامل ہے اور جسے کارٹر 1314 کا بتاتے ہیں۔

وانگ ژین نے پہلے لکڑی کے ایک تختے پر سارے حروف کندہ کیے، پھر باریک آری سے ہر حرف الگ کاٹا اور چاقو سے تراش کر سب کو ایک جیسی اونچائی اور سائز کا بنایا۔ کل تیس ہزار سے زیادہ حروف بنے۔ انہیں رکھنے کے لیے انہوں نے تقریباً سات فٹ قطر کی گھومنے والی دو میزیں بنائیں: ایک پر قافیوں کی سرکاری کتاب کی ترتیب سے حروف تھے اور دوسری پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والے حروف۔ ان کے الفاظ میں، حروف جمانے والے کو انہیں ڈھونڈنے نہیں جانا پڑتا، حروف خود اس کے پاس آ جاتے ہیں۔

کارٹر کے ترجمے کے مطابق جِنگ دے ضلع میں افسری کے دوران ان کے حروف دو سال میں تیار ہوئے۔ تجربے کے طور پر انہوں نے ضلع کا سرکاری ریکارڈ ساٹھ ہزار سے زیادہ حروف سے چھاپا، اور ایک مہینے سے کم میں سو نسخے تیار ہو گئے جو تختوں سے چھپی کتابوں جیسے ہی تھے۔ وانگ ژین نے یہ بھی لکھا کہ کچھ لوگوں نے ٹین کو ڈھال کر حروف بنائے تھے، مگر ان پر سیاہی ٹھیک نہیں جمتی تھی۔

کوریا کے دھاتی حروف

دھات کے ڈھالے ہوئے حروف کا اگلا بڑا قدم کوریا میں اٹھا۔ فرانس کے قومی کتب خانے (Bibliothèque nationale de France) کے مطابق اس کے پاس "جِکجی" (Jikji) نامی کتاب کی دوسری جلد محفوظ ہے، جو 1377 میں کوریا کے شہر چھونگ جو میں ڈھالے ہوئے دھاتی متحرک حروف سے چھاپی گئی۔ یونیسکو کے مطابق اس کی چھپائی جولائی 1377 میں ہوئی، اور یہ دھاتی متحرک حروف سے چھپائی کا دنیا کا سب سے پرانا موجود ثبوت ہے، اگرچہ پرانی کوریائی کتابوں میں اس سے پہلے کی دھاتی چھپائی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یونیسکو نے 4 ستمبر 2001 کو اسے اپنے "میموری آف دی ورلڈ" رجسٹر میں شامل کیا۔ کتب خانے کے مطابق یہ کتاب یوہانس گوٹن برگ کی بائبل سے 78 سال پہلے کی ہے۔

کارٹر کے مطابق کوریا میں 1392 میں ایک سرکاری محکمہ قائم ہوا جس کی ذمہ داری حروف ڈھالنا اور کتابیں چھاپنا تھی، اور 1403 میں بڑے پیمانے پر ڈھلائی شروع ہوئی جس میں چند مہینوں میں کئی لاکھ حروف تیار ہو گئے۔

اس کہانی کا سبق

کارٹر لکھتے ہیں کہ گوٹن برگ کی کامیابی میں تین چیزیں اہم تھیں جو اس چینی طریقے میں نہیں تھیں: حروف ڈھالنے کا سانچہ، حروفِ تہجی والے ٹائپ، اور چھاپنے کی مشین۔ آج کا ڈیجیٹل فونٹ بھی اسی پرانے خیال کی نئی شکل ہے: ہر حرف ایک الگ اکائی، جسے بار بار جوڑا اور استعمال کیا جا سکے۔

ماخذ

  1. Thomas Francis Carter, The Invention of Printing in China and Its Spread Westward, New York: Columbia University Press, 1925, pp. 159–172, archive.org scan. https://archive.org/details/inventionofprint00cart_0 — Shen Kuo's account of Bi Sheng (Qingli period, 1041–1049): baked clay type, iron plate with pine resin, wax and paper ash, iron frame, two formes, twenty or more type for common characters, rare characters baked with straw, reasons for rejecting wood; Shen Kuo 1030–1093; clay and tin type not extensively used; Wang Zhen's account (1314): more than 30,000 wooden type, revolving tables about seven feet across, district records with about 60,000 type and 100 copies in under a month, type made in two years at Jingde, tin type that took ink poorly; Korean type foundry of 1392 and casting from 1403, eleven decrees 1403–1544; type mould, alphabetic type and press as features lacking in the Chinese method.
  2. Steven A. Edwards, "Shen Kuo, first Renaissance man", AAAS Scientia blog (15 Mar 2012). https://www.aaas.org/shen-kuo-first-renaissance-man — Dream Pool Essays written around 1088; Bi Sheng's movable type described there.
  3. Bibliothèque nationale de France, "Jikji, a treasure of the world of printing". https://www.bnf.fr/en/jikji-treasure-world-printing — printed in 1377 at Cheongju with movable cast metal characters; BnF holds the second volume (Coréen 109); 78 years before the Gutenberg Bible; Memory of the World since 4 September 2001.
  4. UNESCO Memory of the World, "Baegun hwasang chorok buljo jikji simche yojeol (vol. II)". https://www.unesco.org/en/memory-world/baegun-hwasang-chorok-buljo-jikji-simche-yojeol-volii-second-volume-anthology-great-buddhist-priests — printed July 1377 with movable metal type; world's oldest surviving evidence of movable metal type printing; earlier metal type printing mentioned in old Korean books; inscribed 2001.

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←