لوگارتھم: ضرب کو جمع میں بدلنے کا گُر
آج کوئی بڑی ضرب کرنی ہو تو ہم جیب سے موبائل نکال لیتے ہیں۔ مگر چار سو سال پہلے ماہرینِ فلکیات، جہاز رانوں اور زمین کی پیمائش کرنے والوں کو سات سات ہندسوں کی ضربیں اور تقسیمیں ہاتھ سے کرنی…

آج کوئی بڑی ضرب کرنی ہو تو ہم جیب سے موبائل نکال لیتے ہیں۔ مگر چار سو سال پہلے ماہرینِ فلکیات، جہاز رانوں اور زمین کی پیمائش کرنے والوں کو سات سات ہندسوں کی ضربیں اور تقسیمیں ہاتھ سے کرنی پڑتی تھیں۔ ایک حساب میں کئی گھنٹے لگ جاتے اور ذرا سی غلطی سارا کام بگاڑ دیتی۔ 1614ء میں اسکاٹ لینڈ کے ایک زمیندار ریاضی دان نے ایک ایسی ترکیب پیش کی جس نے یہ مشقت آدھی کر دی۔ ان کا نام جان نیپیئر (John Napier) تھا اور ان کی ترکیب کو لوگارتھم کہا جاتا ہے۔
مرچسٹن کا ریاضی دان
سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے مک ٹیوٹر آرکائیو کے مطابق نیپیئر 1550ء میں ایڈنبرا کے مرچسٹن قلعے (Merchiston Castle) میں پیدا ہوئے اور 4 اپریل 1617ء کو ایڈنبرا ہی میں فوت ہوئے۔ وہ پیشہ ور استاد نہیں تھے بلکہ اپنی جاگیر سنبھالتے تھے، اور ریاضی ان کا شوق تھا۔ مک ٹیوٹر لکھتا ہے کہ لوگارتھم پر ان کا زیادہ تر کام اس زمانے میں ہوا جب وہ 1574ء کے بعد گارٹنس (Gartness) میں رہتے تھے۔
1614ء میں انہوں نے لاطینی زبان میں ایک کتاب شائع کی جس کا نام تھا "مِریفیچی لوگارتھمورم کینونس ڈسکرپشیو" (Mirifici logarithmorum canonis descriptio)، یعنی "لوگارتھم کے حیرت انگیز جدول کی تفصیل"۔ 1616ء میں ایڈورڈ رائٹ (Edward Wright) نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا۔
ترکیب کیا ہے؟
لوگارتھم کا بنیادی خیال سادہ ہے۔ 10 کو 10 سے ضرب دیں تو 100 بنتا ہے، یعنی 10 دو بار۔ 1,000 میں 10 تین بار ضرب ہوتا ہے۔ اب اگر ہمیں 100 اور 1,000 کو ضرب دینا ہو تو صرف "دو" اور "تین" کو جمع کر لیں: پانچ۔ یعنی جواب میں 10 پانچ بار ضرب ہو گا، اور وہ ہے ایک لاکھ۔ یہ "دو" اور "تین" ہی ان اعداد کے لوگارتھم ہیں۔
یہی اصول ہر عدد پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ 10 کی سیدھی طاقت نہ ہو۔ اگر کسی کے پاس ایک جدول ہو جس میں ہر عدد کے سامنے اس کا لوگارتھم لکھا ہو، تو وہ دو اعداد کے لوگارتھم جدول سے دیکھے گا، انہیں جمع کرے گا اور حاصل کو دوبارہ جدول میں ڈھونڈ کر جواب پڑھ لے گا۔ ضرب، جمع بن جاتی ہے اور تقسیم، تفریق۔ جذر نکالنا ہو تو لوگارتھم کو آدھا کر دیا جائے۔
مک ٹیوٹر کے مطابق نیپیئر نے یہ خیال الجبرے سے نہیں بلکہ حرکت کی ایک مثال سے نکالا تھا: دو نقطے دو لکیروں پر الگ الگ انداز سے چلتے ہیں اور ان کے فاصلوں کا تعلق لوگارتھم دیتا ہے۔ انہوں نے بنیادی لکیر کی لمبائی ایک کروڑ (10 کی سات طاقت) رکھی، کیونکہ اس زمانے کے بہترین مثلثیاتی جدول سات اعشاریہ مقام تک درست تھے۔ ان کے نظام میں 1 کا لوگارتھم صفر نہیں تھا، اور آج کی طرح کوئی "بنیاد" بھی طے نہیں تھی۔
ہنری بریگز اور دس کی بنیاد
نیپیئر کی کتاب لندن پہنچی تو گریشم کالج (Gresham College) کے جیومیٹری کے پروفیسر ہنری بریگز (Henry Briggs) اس پر فریفتہ ہو گئے۔ مک ٹیوٹر ان کا یہ جملہ نقل کرتا ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی ایسی کتاب نہیں دیکھی جس نے انہیں اس سے زیادہ خوش اور حیران کیا ہو۔ وہ 1615ء کی گرمیوں میں لندن سے ایڈنبرا گئے اور تقریباً ایک مہینہ نیپیئر کے ساتھ رہے، پھر 1616ء میں دوبارہ گئے۔
ان ملاقاتوں میں دونوں نے طے کیا کہ نئے جدول دس کی بنیاد پر ہوں اور 1 کا لوگارتھم صفر ہو۔ انہیں آج "عام لوگارتھم" کہا جاتا ہے۔ نیپیئر 1617ء میں فوت ہو گئے، اس لیے یہ کام بریگز نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے اسی سال ایک ہزار اعداد کا پہلا مختصر جدول شائع کیا، اور 1624ء میں "آرتھمیٹیکا لوگارتھمیکا" (Arithmetica logarithmica) میں 1 سے 20,000 اور 90,000 سے ایک لاکھ تک کے اعداد کے لوگارتھم چودہ اعشاریہ مقام تک دیے۔ مک ٹیوٹر کے مطابق درمیان کا خلا ہالینڈ کے ایڈریان ولاک (Adriaan Vlacq) نے 1628ء میں پُر کیا۔
ایک اور موجد
سوئٹزرلینڈ کے گھڑی ساز اور ماہرِ آلات یوسٹ بُرگی (Jost Bürgi) نے بھی لوگارتھم جیسا نظام الگ سے بنایا۔ مک ٹیوٹر کے مطابق ان کا طریقہ نیپیئر سے مختلف تھا، زیادہ تر مؤرخین کے خیال میں انہوں نے یہ تقریباً 1588ء میں ایجاد کیا، مگر ان کا کام 1620ء میں چھپا، یعنی نیپیئر کی کتاب کے چھ سال بعد۔
فلکیات سے سلائیڈ رول تک
لوگارتھم کا سب سے بڑا فائدہ فلکیات کو پہنچا۔ مک ٹیوٹر کے مطابق جرمن ماہرِ فلکیات یوہانس کیپلر (Johannes Kepler) لوگارتھم ہی کی مدد سے اپنے مشاہدات کا حساب کر سکے، اور یہی کام آگے چل کر نیوٹن کے کششِ ثقل کے نظریے کی بنیاد بنا۔ فرانسیسی ریاضی دان لاپلاس کا قول مشہور ہے کہ لوگارتھم نے محنت گھٹا کر ماہرِ فلکیات کی عمر دگنی کر دی۔
لوگارتھم سے ایک آلہ بھی نکلا۔ مک ٹیوٹر کے مطابق انگریز ریاضی دان ایڈمنڈ گنٹر (Edmund Gunter) نے 1620ء میں ایک پٹی پر لوگارتھمی پیمانہ بنایا۔ ولیم آؤٹریڈ (William Oughtred) نے دو ایسی پٹیاں ساتھ ساتھ رکھ کر انہیں ایک دوسرے پر سرکانے کا طریقہ نکالا، اور 1630ء میں گول سلائیڈ رول بنایا۔ ضرب کا نشان "×" بھی آؤٹریڈ ہی نے رائج کیا۔ سلائیڈ رول پر دو پیمانے سرکانے سے لوگارتھم جمع ہوتے ہیں اور ضرب کا جواب سامنے آ جاتا ہے۔ لندن کے وکٹوریا اینڈ البرٹ میوزیم کے مطابق سلائیڈ رول 1970ء کی دہائی تک عام استعمال میں رہے، جب ان کی جگہ برقی کیلکولیٹروں نے لے لی۔
آج کا لوگارتھم
آج لوگارتھم کے چھپے ہوئے جدول اور سلائیڈ رول عجائب گھروں میں رکھے جاتے ہیں، مگر خود لوگارتھم ریاضی اور سائنس کی کتابوں میں موجود ہے، اور کیلکولیٹر پر "log" کا بٹن آج بھی اسی کی یاد دلاتا ہے۔ نیپیئر کا خیال سادہ تھا: بڑی مشقت کو چھوٹے قدموں میں بدل دو۔ چار صدیاں گزرنے کے بعد بھی سائنس اسی خیال سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔
ماخذ
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "John Napier", MacTutor History of Mathematics Archive, University of St Andrews. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Napier/ — born 1550 at Merchiston Castle, died 4 April 1617 in Edinburgh; work done largely at Gartness (from 1574); Mirifici logarithmorum canonis descriptio 1614, English translation by Edward Wright 1616; dynamical basis, line of 10^7 because sine tables were to seven places, log 1 not zero, no base; Briggs's visits 1615 and 1616; Kepler reduced his observations with logarithms; Laplace's remark.
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Henry Briggs", MacTutor. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Briggs/ — Gresham professor of geometry from 1596; base 10 with log 1 = 0 agreed with Napier; Logarithmorum chilias prima 1617; Arithmetica logarithmica 1624 (1 to 20,000 and 90,000 to 100,000, 14 places); Vlacq filled 20,000 to 90,000 in 1628.
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Jost Bürgi", MacTutor. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Burgi/ — logarithms discovered independently by a different method; most historians date the invention c. 1588; printed 1620.
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "William Oughtred", MacTutor. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Oughtred/ — Gunter's logarithmic scale 1620; Oughtred's use of two rulers; circular slide rule 1630; Circles of Proportion 1632; the × sign for multiplication.
- Victoria and Albert Museum, "Slide rule", object record. https://collections.vam.ac.uk/item/O1129969 — slide rules first developed in the 1600s, based on logarithms; in use until the 1970s, when they were generally replaced by electronic calculators.


