رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
وزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظاتعلی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کے نام کھلا خط، بیان واپس لینے اور معافی کا مطالبہپانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی: وزیراعظم شہباز شریفتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاس

لوہا، آسمان سے گرے پتھر سے بھٹی تک

آپ کے گھر کی چھت میں سریا ہے، دروازے میں قبضے، باورچی خانے میں چھری اور سڑک پر دوڑتی گاڑی میں انجن۔ ان سب میں ایک ہی دھات بنیاد ہے: لوہا، یا اس سے بنا فولاد۔ آج یہ اتنی عام…

لوہا، آسمان سے گرے پتھر سے بھٹی تک
علامتی تصویر

آپ کے گھر کی چھت میں سریا ہے، دروازے میں قبضے، باورچی خانے میں چھری اور سڑک پر دوڑتی گاڑی میں انجن۔ ان سب میں ایک ہی دھات بنیاد ہے: لوہا، یا اس سے بنا فولاد۔ آج یہ اتنی عام چیز ہے کہ ہم اس پر غور بھی نہیں کرتے، مگر ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب لوہا سونے چاندی کی طرح نایاب اور قیمتی تھا، اور اس کا سب سے پرانا ذریعہ زمین نہیں بلکہ آسمان تھا۔

آسمان کا لوہا

لوہے کی ابتدائی کہانی ایک پہیلی سے شروع ہوتی ہے۔ زمین کی سطح پر لوہے کی کچ دھات بہت عام ہے، مگر اس میں لوہا آکسیجن کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اور اسے الگ کرنے کے لیے تیز آگ اور خاص مہارت درکار ہے۔ پھر بھی کانسی کے دور کے لوگوں کے پاس لوہے کی چند چیزیں موجود تھیں۔ یہ کہاں سے آئیں؟

فرانس کے قومی تحقیقی ادارے سی این آر ایس (CNRS) کے مطابق پیرس کے ایک تحقیقی ادارے سے وابستہ ماہر البرٹ ژامبوں (Albert Jambon) نے 2017 میں اس سوال کا ایک جواب دیا۔ انہوں نے ایکس رے کی مدد سے، چیزوں کو نقصان پہنچائے بغیر، کانسی کے دور کی کئی مشہور آہنی اشیا کی جانچ کی: مصر کے مقام جرزہ سے ملنے والے تقریباً 3200 قبل مسیح کے موتی، ترکی کے الاجا ہویوک سے تقریباً 2500 قبل مسیح کا ایک خنجر، شام کے اوگاریت سے ایک کلہاڑی، اور مصر کے فرعون توت عنخ آمون (Tutankhamun) کا خنجر، کنگن اور تکیہ نما سرہانہ۔

ان کا نتیجہ یہ تھا کہ یہ سب شہابیے کے لوہے سے بنی تھیں۔ وجہ نکل نامی دھات ہے۔ زمین بنتے وقت اس کا تقریباً سارا نکل پگھلے ہوئے لوہے کے ساتھ اس کے مرکز میں چلا گیا، اس لیے سطح کی کچ دھات میں نکل بہت کم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بہت سے آہنی شہابیوں میں نکل اور کوبالٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ سائنٹیفک امریکن کے مطابق توت عنخ آمون کے خنجر میں تقریباً 11 فیصد نکل پایا گیا، جبکہ زمینی کچ دھات سے نکالے گئے لوہے میں یہ ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔ ژامبوں نے لکھا کہ کانسی کے دور کا لوہا شہابیوں سے آیا تھا، اور اس سے اس دور میں قبل از وقت پگھلانے کے قیاسات غلط ثابت ہوتے ہیں۔

اناطولیہ کی بھٹیاں

مگر کہانی اتنی سادہ بھی نہیں۔ ترکی کے وسطی علاقے اناطولیہ میں کامان قلعہ ہویوک (Kaman-Kalehöyük) نامی ٹیلے پر کھدائی سے کانسی کے دور کی کچھ آہنی چیزیں ملی ہیں۔ 2023 میں نرجان کوچوک ارسلان (Nurcan Küçükarslan) اور ساتھیوں نے یہاں سے ملنے والی کانسی کے ابتدائی اور درمیانی ادوار کی آہنی اشیا کا دوبارہ تجزیہ کیا۔ ان کے مطابق ابتدائی کانسی دور کی ایک چیز میں لوہے، نکل اور کوبالٹ کی مقدار شہابیوں سے نہیں بلکہ زمینی کچ دھات سے میل کھاتی ہے۔ یوں ماہرین میں یہ بحث جاری ہے کہ زمینی لوہا پگھلانے کی پہلی کوششیں کب شروع ہوئیں۔

اسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ میخی تختیوں کے مطابق اناطولیہ کے حتی (Hittites) لوگ، تقریباً 1700 سے 1200 قبل مسیح کے درمیان، لوہا بنانے میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔ مگر ان کی تحریروں میں بھی لوہا ایک نایاب اور قیمتی دھات ہے جو زیادہ تر مندروں میں نذرانے اور بادشاہوں کو تحفے کے طور پر دی جاتی تھی۔ اس سے پہلے، تقریباً 2000 سے 1700 قبل مسیح کے آشوری تجارتی دور میں بھی لوہا بہت قیمتی دھات تھا اور تھوڑی تھوڑی مقدار میں بکتا تھا۔

لوہا بنتا کیسے ہے؟

اسی مقالے میں لوہا بنانے کے تین بنیادی مراحل بیان کیے گئے ہیں۔ پہلے کچ دھات کو کوئلے کے ساتھ بھٹی میں گرم کر کے لوہے کا ایک اسفنج نما ڈھیلا تیار کیا جاتا ہے۔ پھر اسے ہتھوڑے سے کوٹ کر اس کی میل نکالی جاتی ہے اور ایک سلاخ بنائی جاتی ہے۔ آخر میں اسے بار بار گرم کر کے مطلوبہ شکل دی جاتی ہے۔ خالص لوہا نرم ہوتا ہے، اس لیے اس میں کاربن ملا کر اسے سخت کیا جاتا ہے۔ دو فیصد تک کاربن والا لوہا فولاد کہلاتا ہے۔

سی این آر ایس کے مطابق پگھلانے کا یہی فن، یعنی کچ دھات سے آکسیجن الگ کرنا، لوہے کے دور کی شروعات تھی۔ اس کے بعد لوگوں کو آسمان سے گرنے والے نایاب پتھروں کا انتظار نہیں کرنا پڑا، کیونکہ زمین پر کچ دھات کہیں زیادہ عام اور آسانی سے دستیاب تھی۔

لوہے کا دور

روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں لوہے کے دور کا آغاز تقریباً 1200 قبل مسیح سے مانا جاتا ہے۔ سی این آر ایس کے مطابق یہ دور اناطولیہ اور قفقاز میں شروع ہوا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا لکھتا ہے کہ اسی زمانے میں بحیرۂ روم کی کئی بڑی تہذیبیں زوال کا شکار ہوئیں، جسے "کانسی کے دور کا انہدام" کہا جاتا ہے، اور اس کے بعد لوہے نے کانسی کی جگہ لے لی۔

برصغیر میں بھی لوہے کی صنعت تقریباً اسی زمانے میں ابھری۔ ماہرِ آثار جوناتھن مارک کینوئر (Jonathan Mark Kenoyer) کے مطابق شمالی برصغیر میں لوہا بنانے کا کام تقریباً 1200 قبل مسیح میں ظاہر ہوا، اور قدیم ترین معلوم بھٹیاں اراولی پہاڑیوں کے شمالی حصے میں تھیں۔ ان کا خیال ہے کہ شاید یہ فن انہی تانبا گروں نے ایجاد کیا جو وادیٔ سندھ کے کاریگروں کی روایت کے وارث تھے۔ بعد کی صدیوں میں لوہے کے اوزار اور ہتھیار پورے خطے میں عام ہو گئے۔

ہماری روزمرہ زندگی میں

لوہے نے انسان کو سستے اور مضبوط اوزار دیے۔ کانسی کے برعکس، جس کے لیے تانبا اور ٹین دونوں درکار تھے، لوہے کی کچ دھات زمین پر بکثرت ملتی تھی۔ کینوئر کے مطابق برصغیر میں بھی رفتہ رفتہ لوہے کے اوزار عام ہو گئے۔

آج پاکستان کے کسی بھی شہر میں تعمیر ہوتی عمارت کو دیکھیں تو کنکریٹ کے اندر فولاد کی سلاخیں ہی اسے کھڑا رکھتی ہیں۔ پل اور ریل کی پٹڑیاں بھی اسی دھات کی دین ہیں۔ وہ سفر جو کبھی آسمان سے گرے ایک شہابیے کے ٹکڑے سے شروع ہوا تھا، آج ہر گلی اور ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

ماخذ

  1. CNRS (Centre national de la recherche scientifique), "Bronze Age artifacts used meteoric iron", press release, 1 December 2017. https://cnrs.fr/en/node/2499 — Iron Age began in Anatolia and the Caucasus around 1200 BCE; Jambon's non-destructive XRF analyses of the Gerzeh beads (c. 3200 BCE), Alaca Höyük dagger (c. 2500 BCE), Ugarit axe, Tutankhamun's dagger, bracelet and headrest; all meteoritic; nickel and cobalt as markers; smelting (reduction) as the breakthrough of the Iron Age; terrestrial ores far more abundant. Cites A. Jambon, "Bronze Age Iron: Meteoritic or not? A Chemical Strategy", Journal of Archaeological Science, December 2017, doi:10.1016/j.jas.2017.09.008.
  2. Tom Metcalfe, "King Tut's Dagger Is Out of This World", Scientific American (with Space.com), December 2017. https://www.scientificamerican.com/article/king-tut-rsquo-s-dagger-is-out-of-this-world/ — Tutankhamun's dagger with nearly 11% nickel per a 2016 XRF study; terrestrial smelted iron under 1% nickel or cobalt; Jambon's conclusion on Bronze Age iron.
  3. N. Kucukarslan, T. Ota, K. Kobayashi, E. Nakamura, S. Omura, "Early Efforts to Smelt Iron in Central Anatolia: Analysis of Iron Artefacts from the Bronze Age in Kaman-Kalehöyük", Metallography, Microstructure, and Analysis, Springer, 2023 (open access). https://link.springer.com/article/10.1007/s13632-023-00935-5 — Early and Middle Bronze Age iron artefacts of iron and/or steel; Fe–Ni–Co of an EBA artefact consistent with terrestrial sources; three stages of iron production; steel up to 2 wt.% carbon; Hittites skilled in ironmaking c. 1700–1200 BCE, iron scarce and used for offerings and royal gifts; iron precious in the Assyrian Colony Period c. 2000–1700 BCE.
  4. Joshua J. Mark, "Bronze Age Collapse", World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/Bronze_Age_Collapse/ — collapse of Mediterranean civilizations; iron replaced bronze; Bronze Age c. 3300–1200 BCE, Iron Age c. 1200–550 BCE.
  5. Jonathan Mark Kenoyer, Ancient Cities of the Indus Valley Civilization, Oxford University Press / American Institute of Pakistan Studies, Karachi, 1998 (ch. 9). https://archive.org/details/ancientcitiesofi0000keno — iron production in the northern subcontinent around 1200 BC; earliest ironworks in the northern Aravalli hills; possibly invented by copper workers descended from Indus artisans; iron tools and weapons common in the Early Historic period.
  6. "Iron Age", Wikipedia (pointer). https://en.wikipedia.org/wiki/Iron_Age — regional variation in the start of the Iron Age.

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←