وادیٔ سندھ کے باٹ، ناپ تول کا پہلا یکساں نظام
بازار میں دکاندار ترازو کے ایک پلڑے میں چیز اور دوسرے میں باٹ رکھتا ہے، اور ہم بلا جھجک قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ یہ اعتماد اس یقین پر کھڑا ہے کہ ایک کلو ہر دکان پر ایک ہی کلو…

بازار میں دکاندار ترازو کے ایک پلڑے میں چیز اور دوسرے میں باٹ رکھتا ہے، اور ہم بلا جھجک قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ یہ اعتماد اس یقین پر کھڑا ہے کہ ایک کلو ہر دکان پر ایک ہی کلو ہے۔ یہ یقین پیدا کرنے کی سب سے پرانی اور حیرت انگیز کوششوں میں سے ایک ہماری اپنی زمین پر ہوئی۔ تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے وادیٔ سندھ کی تہذیب نے پتھر کے ایسے باٹ بنائے جو سینکڑوں میل پھیلے شہروں اور دیہات میں ایک ہی معیار پر پورے اترتے تھے۔
چھوٹے چوکور پتھر
موہنجو داڑو کی ابتدائی کھدائیوں میں مہروں، برتنوں اور زیورات کے ساتھ ایک خاص چیز بار بار ملی: چقماق جیسے سخت پتھر (چرٹ) کے چھوٹے چھوٹے مکعب۔ یہ وادیٔ سندھ کے باٹ تھے۔ ماہرِ آثار جوناتھن مارک کینوئر (Jonathan Mark Kenoyer)، جو ہڑپہ کی جدید کھدائیوں سے وابستہ رہے ہیں، لکھتے ہیں کہ ہڑپائی دور، یعنی تقریباً 2600 سے 1900 قبل مسیح، کی پہچان ہی بڑے شہر، تحریر اور معیاری اوزان و پیمانے ہیں۔
کینوئر کے مطابق وادیٔ سندھ کی ہر کھدائی شدہ بستی سے ایسے مکعب باٹ ملے ہیں اور سب ایک ہی معیاری نظام کے مطابق ہیں۔ بھاری باٹ صرف بڑے تجارتی مراکز، جیسے چنہوں داڑو، یا موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسے بڑے شہروں میں ملے، مگر چھوٹے باٹوں کے پورے سیٹ زیادہ تر دیہی بستیوں میں بھی موجود تھے۔ ان کے علاوہ عقیق اور یشب کے کٹے ہوئے گول باٹ بھی ملتے ہیں جو اسی نظام کے مطابق ہیں۔
دُگنا کرنے کا حساب
ان باٹوں کی سب سے دلچسپ بات ان کا حساب ہے۔ کینوئر بتاتے ہیں کہ پہلے سات باٹ ہر قدم پر دگنے ہوتے جاتے ہیں: 1، 2، 4، 8، 16، 32 اور 64۔ سب سے چھوٹا معلوم باٹ تقریباً 0.871 گرام کا ہے اور سب سے عام باٹ "16" والا ہے، جس کا وزن لگ بھگ 13.7 گرام ہے۔ اس کے بعد نظام اعشاری ہو جاتا ہے اور اگلے باٹ 160، 200، 320 اور 640 کی نسبت رکھتے ہیں، پھر 1600 سے 12,800 تک۔ موہنجو داڑو سے ملنے والا سب سے بھاری باٹ 10,865 گرام کا ہے، یعنی تقریباً گیارہ کلو۔
یہ اکائی کہاں سے آئی؟ کینوئر کے خیال میں اس کا تعلق "گنجا" یعنی رتی کے سرخ بیج سے ہو سکتا ہے، جو آج بھی پاکستان اور بھارت کے سنار استعمال کرتے ہیں۔ ایک بیج کا اوسط وزن تقریباً 0.109 گرام ہے اور آٹھ بیج مل کر سب سے چھوٹے باٹ کے برابر ہو جاتے ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ممکن ہے اصل حساب جَو یا دال کے دانوں سے لگایا گیا ہو۔
سکوں کی تاریخ پر لکھنے والے محقق رابرٹ ٹائی (Robert Tye) اورینٹل نیومزمیٹک سوسائٹی کے جریدے میں ماہر اے ایس ہیمی (A. S. Hemmy) کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہیں: وادیٔ سندھ کے مقامات سے 1,500 سے زیادہ باٹ ملے، ان کی بنیادی اکائی تقریباً 13.71 گرام نکلی، اور یہ معیار ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک بمشکل بدلا۔
اینٹیں بھی ایک ہی ناپ کی
ناپ تول کا یہ یکساں ذہن صرف باٹوں تک محدود نہیں تھا۔ کینوئر لکھتے ہیں کہ گھروں میں عموماً 7×14×28 سینٹی میٹر کی اینٹ اور شہر کی دیواروں میں 10×20×40 سینٹی میٹر کی اینٹ لگتی تھی۔ دونوں کی موٹائی، چوڑائی اور لمبائی میں 1:2:4 کی ایک ہی نسبت ہے، اور ہڑپائی دور میں یہ نسبت تمام بستیوں میں عام ہو گئی۔ کینوئر کی رائے میں یہ یکسانیت کسی سرکاری فرمان سے زیادہ معماروں کی اس روایت کا نتیجہ تھی جو نسل در نسل اور بستی بستی پھیلتی گئی۔
یہ باٹ کس کام آتے تھے؟
زیادہ تر ماہرین نے فرض کیا کہ یہ باٹ بازار میں خرید و فروخت کے لیے تھے۔ کینوئر ایک اور امکان بھی سامنے رکھتے ہیں: محصول وصولی۔ ہڑپہ کی حالیہ کھدائیوں میں سب سے زیادہ باٹ شہر کے دروازے کے اندر ملے، جہاں باہر سے آنے والے مال کو تولا اور اس پر محصول لیا جاتا ہوگا۔ ان کے مطابق چھوٹے باٹ قیمتی پتھروں، دھاتوں، خوشبوؤں اور دواؤں کے لیے موزوں تھے اور بڑے باٹ غلے کے لیے۔
کینوئر یہ بھی لکھتے ہیں کہ وادیٔ سندھ کے معیاری باٹ قدیم دنیا میں منفرد تھے اور میسوپوٹیمیا یا مصر کے کسی رائج نظام سے میل نہیں کھاتے۔ یہ باٹ عمان کے ساحل تک ملے ہیں، اور میسوپوٹیمیا میں ملنے والے سندھی باٹ اور مہریں وہاں سندھ کے تاجروں کی موجودگی کی گواہی دیتے ہیں۔ جب سندھ کے بڑے شہر زوال کا شکار ہوئے تو مہروں کی طرح یہ چرٹ کے باٹ بھی غائب ہو گئے۔
رتی سے سکوں تک
مگر حساب ختم نہیں ہوا۔ کینوئر کے مطابق وادیٔ سندھ کے اوزان اور بعد کے تاریخی دور کے اوزان کے درمیان گہرا تعلق ہے، اور یہی نظام ان ٹھپے دار سکوں میں بھی ملتا ہے جو بعد میں برصغیر میں عام ہوئے۔ رابرٹ ٹائی یہ تسلسل البیرونی کے زمانے تک لے جاتے ہیں، جن کی بیان کردہ اکائی بھی تقریباً 13.7 گرام کے اسی معیار پر بیٹھتی ہے۔
آج جب کراچی، کوئٹہ یا لاہور کا کوئی سنار سونا تولتے ہوئے رتی کا حساب لگاتا ہے تو وہ انجانے میں ایک ایسی روایت کو آگے بڑھا رہا ہوتا ہے جس کی جڑیں موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی گلیوں میں ہیں۔ ایک چھوٹا سا چوکور پتھر، جو ساڑھے چار ہزار سال پہلے کسی کاریگر نے تراشا، دراصل ایک بڑے خیال کی علامت تھا: انصاف کا پہلا قدم یہ ہے کہ سب کے لیے ترازو ایک ہو۔
ماخذ
- Jonathan Mark Kenoyer, Ancient Cities of the Indus Valley Civilization, Oxford University Press / American Institute of Pakistan Studies, Karachi, 1998 (chs. 1, 3 and 5, and catalogue no. 40). Archive.org record: https://archive.org/details/ancientcitiesofi0000keno — Harappa Phase c. 2600–1900 BC defined by standardized weights and measures; cubical chert weights at all sites; heavy weights only at Chanhudaro, Mohenjo-daro and Harappa; binary then decimal ratios; smallest 0.871 g, commonest ≈13.7 g, heaviest from Mohenjo-daro 10,865 g; gunja seed (0.109 g) still used by jewellers in Pakistan and India; brick sizes and 1:2:4 ratio; market and taxation interpretations, concentration inside Harappa gateway; weights unique in the ancient world, found in Oman and attesting merchants in Mesopotamia; disappearance after the urban phase; link to Early Historic weights and punch-marked coins.
- Robert Tye, "Coins, Weights, and the Arthashastra", Journal of the Oriental Numismatic Society no. 241, Autumn 2020, from p. 3. https://www.orientalnumismaticsociety.org/archive/ONS_241.pdf — more than 1,500 Indus weights, c. 2600–1500 BCE; Hemmy's primary unit of 13.71 g, stable for over 1,000 years; continuity of a c. 13.7 g unit to Alberuni's time.
- Joshua J. Mark, "Indus Valley Civilization", World History Encyclopedia, 2020. https://www.worldhistory.org/Indus_Valley_Civilization/ — standardized bricks and standard stone cubes for weights across Indus sites; Mature Harappan dates.
- Zunkir, "Poids cubiques harappéens – BM" (photograph of chert cubical weights from Mohenjo-daro, British Museum), Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0. https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Poids_cubiques_harapp%C3%A9ens_-_BM.jpg — image; caption states Mohenjo-daro, Mature Harappan, c. 2600–1900 BC.
- "Indus Valley Civilisation", Wikipedia (pointer). https://en.wikipedia.org/wiki/Indus_Valley_Civilisation — overview of Harappan weights and measures and of the debate on how uniform they were.


