رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
روزنامہ جنگ کے صفحے سے خبر کا متن دستیاب نہ ہو سکاتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاساُستا محمد: مارکیٹ کمیٹی کا اجلاس، اناج منڈی فعال بنانے اور خرید و فروخت جلد شروع کرنے پر غورکوئٹہ: اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی رولنگ پر ڈی آئی جی خضدار رینج طلب، پولیس کو شفاف تحقیقات کی ہدایتاُستا محمد: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون کا کاشف GO پٹرول پمپ کا دورہ، فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہرکھنی: اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی کا ماڈل بازار کی توسیع اور تعمیراتی کام کا معائنہ

شاہ دینیس: پرتگال کا کسان بادشاہ اور پہلی یونیورسٹی کا بانی

یورپ کے مغربی کنارے پر واقع پرتگال میں ایک بادشاہ کو آج بھی دو القاب سے یاد کیا جاتا ہے: "کسان بادشاہ" (Rei Lavrador) اور "شاعر بادشاہ" (Rei Poeta)۔ یہ شاہ دینیس (Dinis) تھے، جنہوں نے 1279ء سے 1325ء تک،…

شاہ دینیس: پرتگال کا کسان بادشاہ اور پہلی یونیورسٹی کا بانی
علامتی تصویر

یورپ کے مغربی کنارے پر واقع پرتگال میں ایک بادشاہ کو آج بھی دو القاب سے یاد کیا جاتا ہے: "کسان بادشاہ" (Rei Lavrador) اور "شاعر بادشاہ" (Rei Poeta)۔ یہ شاہ دینیس (Dinis) تھے، جنہوں نے 1279ء سے 1325ء تک، یعنی تقریباً چھیالیس برس حکومت کی۔ برٹانیکا کے مطابق انہوں نے معیشت کو بہتر بنا کر اور شاہی اختیار کو مضبوط کر کے اپنی مملکت کو مستحکم کیا، اور 1290ء میں پرتگال کی پہلی یونیورسٹی قائم کی۔

ابتدائی زندگی

برٹانیکا کے مطابق دینیس 9 اکتوبر 1261ء کو پیدا ہوئے۔ وہ پرتگال کے بادشاہ آفونسو سوم کے بیٹے تھے۔ ان کی تعلیم ایسے دربار میں ہوئی جس پر فرانس اور قشتالہ (Castile) دونوں کے ثقافتی اثرات تھے، اور برٹانیکا کے مطابق وہ خود ایک اچھے شاعر بنے۔ ان کی والدہ قشتالہ کے بادشاہ الفانسو دہم کی بیٹی تھیں۔ 1279ء میں والد کی وفات کے بعد دینیس بادشاہ بنے۔

سرحد کا تعین

برٹانیکا کے مطابق دینیس ایک ماہر مذاکرات کار تھے اور انہوں نے قشتالہ کے ساتھ پرتگال کی ایک حتمی سرحد طے کی۔ یہ معاہدہ 1297ء میں الکانیسس (Alcañices) کے مقام پر ہوا، اور عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ اس معاہدے میں طے ہونے والی سرحد آج تک پرتگال اور اسپین کی سرحد کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں تک امن رہا۔ دینیس کو بنیادی طور پر ایک منتظم سمجھا جاتا ہے، نہ کہ جنگجو بادشاہ۔

کسان بادشاہ

دینیس کا سب سے مشہور لقب "کسان بادشاہ" ان کی زرعی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ برٹانیکا کے مطابق وہ زمین میں خاص دلچسپی رکھتے تھے، جنگلات لگانے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے، اور ملک کے زرعی وسائل کو پوری طرح ترقی دینا چاہتے تھے۔

اس کی سب سے مشہور مثال لیریا (Leiria) کے قریب صنوبر (پائن) کا بڑا جنگل ہے۔ عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ دینیس نے یہ جنگل اس لیے لگوایا کہ ساحل کی ریت آگے بڑھ کر زرعی زمینوں کو خراب نہ کرے، اور اس کی لکڑی شاہی جہازوں کی تعمیر میں کام آئے۔ یہ جنگل صدیوں تک قائم رہا۔ انہوں نے کئی قصبوں میں باقاعدہ منڈیاں اور میلے قائم کیے اور ان کے قواعد مقرر کیے، اور نئے قصبے بسائے۔

جہاز سازی اور تجارت

برٹانیکا کے مطابق دینیس جہاز سازی اور تجارت کی توسیع اور تحفظ میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ 1308ء میں انہوں نے انگلستان کے ساتھ پرتگال کا پہلا تجارتی معاہدہ کیا، اور 1317ء میں جینوا کے ایک تجربہ کار جہاز ران مانوئل پیسانیا (Manuel Pessanha) کو پرتگالی بحری بیڑے کا موروثی امیر البحر مقرر کیا، اس شرط کے ساتھ کہ وہ شاہی جہازوں کی کمان کے لیے جینوا کے بیس کپتان فراہم کریں گے۔ اس طرح پرتگال کے شاہی بحری بیڑے کو ایک مستقل قیادت ملی۔

پہلی یونیورسٹی

برٹانیکا کے مطابق دینیس نے 1290ء میں لزبن میں پرتگال کی پہلی یونیورسٹی قائم کی۔ اسے "ایستودو جیرال" (Estudo Geral) یعنی "عام درس گاہ" کہا جاتا تھا، اور اس میں فنون، قانون اور طب کی تعلیم دی جاتی تھی۔ 1309ء میں بادشاہ نے اسے مراعات کا ایک باقاعدہ منشور دیا۔

یہ یونیورسٹی بعد میں کوئمبرا (Coimbra) منتقل ہوئی۔ یونیسکو کے مطابق کوئمبرا یونیورسٹی تیرہویں صدی کے آخر میں ایک درس گاہ کے طور پر شروع ہوئی، 1537ء میں شاہی محل الکاسووا میں مستقل طور پر قائم ہوئی، اور سات صدیوں میں ایک مکمل یونیورسٹی شہر بن گئی۔ یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا ہے، اور اس کے مطابق اس یونیورسٹی نے پرتگالی بولنے والی دنیا میں تعلیم اور ادب پر گہرا اثر ڈالا۔

زبان اور ادب

دینیس کے دور میں پرتگالی زبان کو سرکاری حیثیت ملی۔ عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے عدالتوں اور قانونی کارروائیوں میں لاطینی کی جگہ عوام کی زبان، یعنی پرتگالی، کے استعمال کا حکم دیا۔

وہ خود گالیشیائی پرتگالی زبان کے شاعر تھے۔ ان کی لکھی ہوئی بہت سی گیت نما نظمیں (کانتیگا) محفوظ ہیں، اور وہ اپنے دور کے شعرا اور گویّوں (ٹروبادور) کے سرپرست تھے۔ انہوں نے کئی ادبی اور علمی کتابوں کے اس زبان میں ترجمے بھی کرائے۔

آخری برس اور وفات

برٹانیکا کے مطابق دینیس کے آخری برس ان کے بیٹے، مستقبل کے آفونسو چہارم، کی بغاوت کی وجہ سے پریشانی میں گزرے۔ برٹانیکا کے مطابق دینیس کا انتقال 7 جنوری 1325ء کو ہوا، اور آفونسو چہارم ان کے جانشین بنے۔ ان کی تدفین لزبن کے قریب اودیولاس (Odivelas) میں ہوئی۔

ورثہ

دینیس نے جنگوں کے بجائے انتظام، زراعت، تجارت اور تعلیم کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔ طے شدہ سرحد، پرتگالی زبان کی سرکاری حیثیت، بحری بیڑے کی تنظیم اور پہلی یونیورسٹی، یہ سب ان کے دور کے وہ کام ہیں جو صدیوں تک پرتگال کی پہچان کا حصہ رہے۔

ماخذ

  1. Encyclopaedia Britannica, "Dinis". https://www.britannica.com/biography/Dinis
  2. UNESCO World Heritage Centre, "University of Coimbra – Alta and Sofia". https://whc.unesco.org/en/list/1387/
  3. Wikipedia, "Denis of Portugal" (pointer only: nicknames, Treaty of Alcañices, Leiria pine forest, markets and towns, 1308 agreement with England, Manuel Pessanha, Estudo Geral and its 1309 charter, Portuguese in the courts, poetry, burial at Odivelas). https://en.wikipedia.org/wiki/Denis_of_Portugal

حکمران اور سلاطین: تمام تحریریں ←