رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
انڈر 17 ون ڈے: پاکستان نے سری لنکا کو پانچ وکٹوں سے ہرا دیا، سیریز میں 1-2 کی برترییوکرین کے لیے جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے: ٹرمپ، اوسلو مذاکرات کے بعد ایلچی وٹکوف روس میںٹیلر سوئفٹ نیلے لباس میں سنڈریلا لک کی وجہ سے مداحوں کی توجہ کا مرکزخلیجی کشیدگی کے پیش نظر مانیٹری پالیسی میں شرح سود نہ بڑھائی جائے: فیصل معیز خاناسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 26 اکتوبر کو، شرح سود میں اضافے کا امکانپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا دوحہ میں «بدر» دفاعی مفاہمتی یادداشت پر دستخطخیبرپختونخوا اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی کے ساتھ متحد ہیں: بیرسٹر گوہرجامعہ تربت کے شعبہ تعلیم کے بورڈ آف اسٹڈیز کا چھٹا اجلاس، ایم فل ایجوکیشن نصاب کا جائزہاسلام آباد: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا قومی مباحثے میں مؤقف، بلوچستان کو مزید انتظامی یونٹس اور مؤثر بلدیاتی نظام کی ضرورتکوئٹہ: گورنر جعفرخان مندوخیل سے میر سلیم احمد کھوسہ کی ملاقات، انفراسٹرکچر کی ترقی پر تبادلہ خیالبلوچستان کو مزید انتظامی یونٹس، مؤثر بلدیاتی نظام اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے: سرفراز بگٹیمحسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا

26 مئی 1879: معاہدۂ گندمک اور پشین و سبی

پیر، 26 مئی 1879۔ جلال آباد اور کابل کے بیچ گندمک کی بلندی پر انگریزی فوج کا کیمپ ہے۔ افغانستان کے امیر محمد یعقوب خان اٹھارہ دن پہلے یہاں پہنچے تھے۔ سنڈیمن کے سوانح نگار ٹی ایچ تھارنٹن کے مطابق…

26 مئی 1879: معاہدۂ گندمک اور پشین و سبی
علامتی تصویر

تاریخ کے اوراق: یہ تحریر روزنامہ اعتماد کے اجرا (اکتوبر 1970) سے پہلے کے ایک دن کی کہانی ہے، جو دستیاب تاریخی ماخذ سے مرتب کی گئی ہے۔

پیر، 26 مئی 1879۔ جلال آباد اور کابل کے بیچ گندمک کی بلندی پر انگریزی فوج کا کیمپ ہے۔ افغانستان کے امیر محمد یعقوب خان اٹھارہ دن پہلے یہاں پہنچے تھے۔ سنڈیمن کے سوانح نگار ٹی ایچ تھارنٹن کے مطابق "طویل بحث" کے بعد آج انہوں نے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے۔ انگریزی حکومت کی طرف سے، وائسرائے لارڈ لٹن کے دیے ہوئے اختیارات کے تحت، میجر لوئی کیوانیری نے دستخط کیے۔ معاہدے کی ایک شق کا تعلق براہِ راست آج کے بلوچستان سے تھا: پشین اور سبی اب انگریزی انتظام میں رہیں گے۔

جنگ کیسے شروع ہوئی

ایچی سن کے مجموعۂ معاہدات کے مطابق امیر شیر علی خان نے انگریزی حکومت کا الٹی میٹم مقررہ تاریخ تک قبول نہیں کیا، اور 21 نومبر 1878 کو انگریزی فوج تین راستوں سے، قندھار، کرم اور خیبر کی طرف، افغانستان میں داخل ہو گئی۔ 2 دسمبر کو پیوار کوتل پر بڑی لڑائی ہوئی، جس کے بعد شیر علی اپنے بیٹے یعقوب خان کو کابل میں نائب چھوڑ کر ترکستان کی طرف چلے گئے۔ فروری 1879 میں مزارِ شریف میں شیر علی کی وفات کی خبر آئی، اور یعقوب خان سے بات چیت شروع ہوئی۔

امپیریل گزیٹیئر (1908) کے مطابق 1878 کے آخر میں جب جنگ چھڑی تو انگریزی فوج کو کوئٹہ کے راستے قندھار پہنچایا گیا، اور اس راستے کو رابرٹ سنڈیمن کی پالیسی نے "مکمل طور پر محفوظ" بنا رکھا تھا۔ ایچی سن کے مطابق پشین اور سبی، جو اس وقت تک امیرِ افغانستان کی عملداری کا حصہ سمجھے جاتے تھے، جنگ کے اعلان کے ساتھ ہی انگریزی فوج کے قبضے میں آ گئے۔

معاہدے میں کیا تھا

ایچی سن میں چھپے متن کے مطابق معاہدے کی دس شقیں تھیں۔ اہم نکات یہ ہیں:

  • انگریزی حکومت اور امیر کے درمیان "دائمی امن اور دوستی"، اور جنگ میں انگریزوں سے تعلق رکھنے والے افغانوں کے لیے عام معافی۔
  • امیر غیر ملکی ریاستوں سے تعلقات انگریزی حکومت کے مشورے اور خواہش کے مطابق رکھیں گے؛ بدلے میں انگریزی حکومت بیرونی جارحیت کے خلاف ان کی مدد کرے گی۔
  • کابل میں ایک انگریز نمائندہ مناسب محافظ دستے کے ساتھ رہے گا۔
  • امیر کو چھ لاکھ روپے سالانہ وظیفہ ملے گا۔

بلوچستان کے لیے اصل شق نویں تھی۔ اس کے تحت انگریزوں نے قندھار، جلال آباد اور اپنے قبضے کا باقی علاقہ امیر کو لوٹا دیا، سوائے کرم، پشین اور سبی کے۔ یہ تینوں اضلاع، معاہدے کے ساتھ منسلک جدول میں دی گئی حدود کے مطابق، انگریزی حکومت کی "حفاظت اور انتظامی کنٹرول" میں رہیں گے۔ معاہدے کے الفاظ میں انہیں "تفویض شدہ اضلاع" سمجھا جائے گا اور یہ افغان سلطنت کی حدود سے "مستقل طور پر الگ" نہیں سمجھے جائیں گے؛ انتظامی اخراجات نکال کر ان کی آمدن امیر کو دی جائے گی۔ اسی شق میں درۂ خیبر اور مچنی کے دروں، اور ان سے جڑے آزاد قبائل کے تعلقات، کا کنٹرول بھی انگریزوں نے اپنے پاس رکھا۔

معاہدے کی توثیق جمعہ 30 مئی 1879 کو شملہ میں وائسرائے نے کی۔

اس دن بلوچستان اور دنیا

  • بلوچستان: 1877 سے سنڈیمن ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل کے طور پر کوئٹہ میں تھے۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق جنگ کے پہلے مرحلے کے بعد وہ جنرل بڈلف کے دستے کے ساتھ پشین سے ڈیرہ غازی خان تک کا علاقہ کھولنے نکلے، اور باغاؤ کے مقام پر شاہ جہان جوگیزئی کی قیادت میں ژوب اور بوری کے کاکڑوں سے لڑائی ہوئی جس میں کاکڑوں کو شکست ہوئی۔ تھارنٹن کے مطابق انہی مہینوں، اپریل سے جون 1879، میں سنڈیمن سرحدی بلوچ قبائل پر اختیار کے سوال پر پنجاب حکومت سے ایک سخت تنازع میں الجھے ہوئے تھے۔
  • ریل: امپیریل گزیٹیئر کے مطابق سندھ پشین ریلوے لائن، جو ہرنائی کی وادی سے گزرتی ہے، 1879 میں شروع ہوئی اور 1892 میں چمن تک مکمل ہوئی۔
  • دنیا: جنوبی افریقہ میں انگریز زولو جنگ لڑ رہے تھے؛ 22 جنوری 1879 کو اسندلوانا میں انگریزی فوج کو بڑی شکست ہوئی تھی، اور معاہدۂ گندمک کے چھ دن بعد، یکم جون کو، نپولین سوم کے بیٹے زولو جنگجوؤں سے ایک جھڑپ میں مارے گئے۔

سنڈیمن کا موقف

تھارنٹن کے مطابق سنڈیمن نے فوراً سمجھ لیا کہ ان دونوں اضلاع کو اپنے پاس رکھنا "انتہائی ضروری" ہے۔ ان کی نظر میں سبی بولان اور ہرنائی کے راستوں کے دہانے پر تھا، اور پشین کے مغرب میں کوہِ خواجہ عمران ایک قدرتی سرحد تھی۔ تاہم معاہدے سے شوراوک کی وادی امیر کو واپس جا رہی تھی، جس پر سنڈیمن خوش نہیں تھے۔ تھارنٹن لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے معاون کیپٹن وائلی کے ساتھ فوراً تفویض شدہ اضلاع کے انتظام کا بندوبست شروع کر دیا۔

بعد میں، جب ان اضلاع کی واپسی زیرِ غور تھی، سنڈیمن نے ان کے حق میں دلائل دیے جو تھارنٹن نے نقل کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اضلاع پر افغان دعویٰ "انتہائی کمزور" تھا، کہ سبی احمد شاہ درانی کے زمانے میں ایک افغان خاندان کو جاگیر میں دیا گیا تھا مگر برسوں سے وہاں کوئی محصول وصول نہیں ہوا، اور پشین میں افغان حکام کا جو تھوڑا بہت اختیار کبھی کبھار چلتا، وہ وہاں کے اصل باشندوں، ترینوں، پر سختی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ سنڈیمن کا اپنا مقدمہ ہے؛ معاہدے کے متن نے خود یہ سوال کھلا چھوڑا تھا کہ یہ اضلاع افغانستان سے مستقل الگ نہیں ہوئے۔

آگے کیا ہوا

  • 3 ستمبر 1879: ایچی سن کے مطابق کابل میں انگریز نمائندے سر لوئی کیوانیری، ان کا عملہ اور محافظ دستہ امیر کی باغی رجمنٹوں کے ہاتھوں تقریباً سب کے سب مارے گئے۔ جنگ دوبارہ شروع ہوئی، یعقوب خان دستبردار ہوئے اور دسمبر 1879 میں کابل سے ہندوستان چلے گئے، جہاں 1923 میں ڈیرہ دون میں ان کا انتقال ہوا۔
  • جولائی 1880: امپیریل گزیٹیئر کے مطابق جنگ کے دوسرے مرحلے میں میوند کے مقام پر انگریزوں کو شکست ہوئی۔
  • جنگ کے بعد: گزیٹیئر کے مطابق تفویض شدہ اضلاع کو رکھنے کا فیصلہ سنڈیمن کے "پُرزور اصرار" پر ہوا۔ تھارنٹن کے مطابق یہ فیصلہ تقریباً 1881 میں ہوا؛ شوراوک امیر کو لوٹا دیا گیا، پہلے یہ انتظام عارضی رکھا گیا اور پھر مستقل۔ ایچی سن کے مطابق نئے امیر عبدالرحمان خان کو بتا دیا گیا کہ یہ اضلاع اب افغانستان کا حصہ نہیں رہے۔
  • کرم: ایچی سن کے مطابق امیر عبدالرحمان سے تصفیے میں کرم کو بھی افغانستان سے خارج کر دیا گیا، مگر بعد میں اس کا مغربی حصہ امیر کو لوٹا دیا گیا اور کرم کا باقی علاقہ آزاد قرار پایا۔
  • 1887: امپیریل گزیٹیئر کے مطابق تفویض شدہ اضلاع کو انگریزی علاقہ قرار دے کر ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل کو ان کا چیف کمشنر بنا دیا گیا۔ ایچی سن کے مطابق پشین، سبی (ہرنائی اور تھل چوٹیالی سمیت)، دکی اور شوراورد کے اضلاع اسی سال برطانوی ہند میں شامل ہوئے اور سرکاری طور پر "برٹش بلوچستان" کہلائے۔

کیا آپ کے پاس پشین، سبی یا ہرنائی کی پرانی دستاویزات، ریلوے کی تعمیر یا سنڈیمن کے دور کی کوئی تصویر یا تحریر ہے؟ ہمیں ضرور بھیجیں۔ ہم اسے آپ کے نام کے ساتھ اس صفحے پر شامل کریں گے۔

ماخذ

  1. C. U. Aitchison (comp.), A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XIII (Persia and Afghanistan), 5th ed., Calcutta: Government of India, 1933 (archive.org scan and OCR, opened): Afghanistan narrative (ultimatum to Sher Ali; British advance on 21 November 1878 by Kandahar, Kurram and Khyber; Peiwar Kotal, 2 December; Sher Ali's flight and death in February 1879; negotiations with Yakub Khan; the massacre of Cavagnari's mission on 3 September 1879; Yakub Khan's abdication, departure in December 1879, death at Dehra Dun in 1923); Treaty No. VI, Gandamak, 26 May 1879, full text (ten articles: peace, amnesty, foreign relations, a British Representative at Kabul, subsidy of six lakhs; Article 9 on Kurram, Pishin and Sibi as "assigned districts", Khyber and Michni passes; ratification at Simla, 30 May 1879). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.15657
  2. T. H. Thornton, Colonel Sir Robert Sandeman: His Life and Work on our Indian Frontier, London: John Murray, 1895, ch. XIII, pp. 131–135 (Baghao; Yakub Khan at Gandamak on 8 May; signing "on May 26, after protracted discussion"; abstract of the provisions; Sandeman's view of Pishin and Sibi; Shorawak; Captain Wylie; the dispute with the Punjab Government, April–June 1879), and ch. XVI, pp. 166–170 (Thal-Chotiali not part of Sibi when assigned; Sandeman's case for retention; the decision to retain, Shorawak restored, temporary then permanent). https://archive.org/details/india.history.resource.92336
  3. Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908, pp. 12–13, 20–21 (Pishin, Duki and Sibi under the Sadozais and Barakzais till 1879; the line through Quetta made safe by Sandeman's policy; Biddulph's column and Baghao; Treaty of Gandamak, May 1879, handing over "Pishin, Sibi, Harnai, and Thal-Chotiali"; Maiwand, July 1880; retention at Sandeman's "strenuous instance"; assigned districts declared British territory in 1887), Communications section (Sind–Pishin railway begun 1879, completed to Chaman 1892), Loralai District section (Duki tahsil ceded under the treaty). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
  4. C. U. Aitchison (comp.), A Collection of Treaties, Engagements and Sanads, vol. XI (Baluchistan, North-West Frontier), 5th ed., Calcutta, 1933 (archive.org OCR, opened): Kalat narrative (Sandeman appointed Agent to the Governor-General on 21 February 1877, headquarters at Quetta); Baluchistan narrative (Pishin, Sibi with Thal-Chotiali and Harnai, Duki and Shorarud part of the Amir's dominions till 1878, occupied on the outbreak of war, administered under the Treaty of Gandamak "executed in May 1879"; Abdur Rahman informed that they had ceased to form part of Afghanistan; incorporated with British India in 1887 as British Baluchistan), and the Kurram narrative (Article 9 and the later settlement). https://archive.org/details/acollectionoftreatiesengagementsandsanadsaitchisonc.u.vol11_83_O

تاریخ کے اوراق: تمام تحریریں ←