جوان سال بگٹی: ڈیرہ بگٹی کا چرواہا اور صوفی شاعر
اس سیریز میں بلوچستان کے جن شاعروں کا ذکر اب تک ہوا، ان میں سے اکثر کی زندگی کے سال بھی یقین سے معلوم نہیں۔ جوان سال بگٹی ان سے مختلف ہیں: وہ بیسویں صدی کی ساتویں دہائی تک زندہ…

اس سیریز میں بلوچستان کے جن شاعروں کا ذکر اب تک ہوا، ان میں سے اکثر کی زندگی کے سال بھی یقین سے معلوم نہیں۔ جوان سال بگٹی ان سے مختلف ہیں: وہ بیسویں صدی کی ساتویں دہائی تک زندہ رہے، مگر ان کی شاعری اسی پرانی بلوچی روایت کی ہے جو جام دُرک اور مست توکلی سے چلی آ رہی تھی۔ یوں جوان سال کلاسیکی اور جدید بلوچی شاعری کے بیچ کا پل ہیں، اور اس دور کی آخری قسط کے لیے موزوں نام۔
زندگی اور زمانہ
حمید اللہ بلوچ اپنی بلوچی کتاب "بلوچی لبزانک ءِ تاریخ" (1999ء) میں لکھتے ہیں کہ جوان سال بگٹی انیسویں صدی عیسوی کے آخری دور میں ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہوئے۔ دیہات کے دوسرے بلوچوں کی طرح وہ بھی مالدار اور کاشتکار تھے، اپنا مال مویشی خود چراتے تھے، اور شکار اور سیر کا شوق رکھتے تھے۔ حمید اللہ بلوچ انہیں "بے علم" شاعر کہتے ہیں، یعنی انہوں نے رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔
جوان سال کی زندگی کا سب سے نمایاں سیاسی واقعہ تحریکِ خلافت سے ان کا تعلق ہے۔ حمید اللہ بلوچ کے مطابق ہندوستان میں جب تحریکِ خلافت چلی تو جوان سال اس میں شامل ہوئے، جس کی قیادت مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کر رہے تھے، اور فرنگی کے خلاف ہر جدوجہد میں ساتھ رہے۔ اسی کتاب کے مطابق اس وجہ سے انہیں ڈیرہ بگٹی میں چھ مہینے سے زیادہ قید کاٹنی پڑی۔
غوث بخش صابر نے اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے لکھی گئی اپنی کتاب "بلوچی زبان و ادب: ایک جائزہ" میں جوان سال کو ان پرانے کلاسیکی شاعروں میں گنا ہے جو جدید دور کے آغاز تک زندہ رہے، اور لکھا ہے کہ ان کا انتقال 1969ء میں ہوا۔
اسلوب
حمید اللہ بلوچ کے مطابق جوان سال عوام کے شاعر تھے؛ ان کی شاعری بلوچ عوام کی زندگی کا آئینہ ہے، اور اس میں زندگی کے بارے میں ایک سوچا سمجھا فلسفہ ہے۔ ان کی عشقیہ شاعری پر بھی تصوف کا رنگ ہے۔ حمید اللہ بلوچ انہیں ایک ایسا عاشق کہتے ہیں جو تصوف کے راستے کا مسافر اور خدا ترس انسان تھا۔
یوں جوان سال کی شاعری میں تین دھارے ایک ساتھ بہتے ہیں: پہاڑ اور مویشیوں کی روزمرہ زندگی، خدا کی محبت، اور غیرت اور آزادی کی پکار۔ پہلے دو دھارے انہیں مست توکلی کے قریب لے آتے ہیں، اور تیسرا رحم علی مری کے، جن کا ذکر اسی سیریز میں ہو چکا ہے۔
منتخب کلام
نیچے کے مصرعے حمید اللہ بلوچ کی کتاب سے ان کے چھپے ہوئے بلوچی متن کے ساتھ ہیں۔ اردو ترجمہ ادارے کا ہے اور عارضی ہے؛ اشاعت سے پہلے کسی بلوچی دان سے جانچا جائے گا۔
خدا کی قدرت پر جوان سال کے یہ مصرعے ہیں:
هر کس حیران انت تئی بازیں قدرتاںتاهندا ایشی آزمان تانیگا داشته گوں پرآں
ہر کوئی تیری بے شمار قدرتوں پر حیران ہے؛ یہ آسمان تو نے اپنی جگہ تھام رکھا ہے۔
(جوان سال بگٹی، بحوالہ حمید اللہ بلوچ، بلوچی لبزانک ءِ تاریخ، ص 95–96)
اسی حمد کے اگلے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ سورج، ستارے اور بادل سب خدا ہی کے حکم سے چلتے ہیں۔ حمید اللہ بلوچ ان کی ابتدائی شاعری کی ایک مثال بھی دیتے ہیں جس میں ایک انمول لعل کو رومال میں باندھ کر سنبھال رکھنے کی تصویر ہے۔ جوان سال کا کلام ابھی کاپی رائٹ میں ہے، اس لیے یہاں صرف دو مصرعے نقل کیے گئے ہیں۔
اثر اور یادگار
جوان سال بگٹی اس سیریز میں بلوچستان کے کلاسیکی شاعروں کا آخری نام ہیں۔ غوث بخش صابر کے مطابق اس پرانی روایت کے کچھ اور شاعر ان کے بعد بھی زندہ رہے، جیسے نصیر کبدانی (وفات: صابر کے مطابق 1989ء، حمید اللہ بلوچ کے ہاں بظاہر 1981ء) اور میر عیسیٰ قومی (وفات 1994ء)، مگر ان کا کلام ابھی کاپی رائٹ کے تحت ہے اور اس سیریز کے اصول کے مطابق یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا۔ جوان سال کی شاعری اس پرانی دنیا کی گواہیوں میں ہے، اور ساتھ ہی ایک یاد دہانی کہ بلوچستان کے پہاڑوں میں بیٹھا ایک چرواہا بھی اپنے زمانے کی سب سے بڑی سیاسی تحریکوں سے بے خبر نہ تھا۔
قارئین سے: ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے قارئین سے خاص درخواست: جوان سال بگٹی کا جو شعر آپ کو یاد ہو، یا ان کی زندگی کا کوئی واقعہ جو آپ نے بزرگوں سے سنا ہو، ہمیں لکھ بھیجیے۔ منتخب اشعار اور یادیں آپ کے نام کے ساتھ شائع کی جائیں گی۔
اگلے جمعے: بلوچستان کے کلاسیکی شاعروں کا یہ دور یہاں مکمل ہوا۔ آگے کی ترتیب ادارتی ٹیم طے کرے گی۔
ماخذ
- حمید اللہ بلوچ، بلوچی لبزانک ءِ تاریخ (بلوچی)، زمرد پبلی کیشنز، کوئٹہ، 1999ء، صفحات 95–97۔ https://archive.org/details/balochi-labzankh-tarikh (آرکائیو کے کوائف میں مصنف محمد یوسف مجاہد اور سال 1993ء درج ہے)
- غوث بخش صابر، بلوچی زبان و ادب: ایک جائزہ، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد (پہلی اشاعت 1999ء)، صفحہ 38۔ https://archive.org/details/20220702_20220702_2237


