ضلع کیچ: کھجوروں کی وادی اور مکران کا قدیم مرکز
بلوچستان کے جنوب مغرب میں، ایران کی سرحد کے قریب، دریائے کیچ کی لمبی اور زرخیز وادی پھیلی ہوئی ہے۔ اسی وادی کے نام پر ضلع کیچ ہے جس کا صدر مقام تربت ہے۔ یہ ضلع مکران ڈویژن کا حصہ…

تعارف اور محلِ وقوع
بلوچستان کے جنوب مغرب میں، ایران کی سرحد کے قریب، دریائے کیچ کی لمبی اور زرخیز وادی پھیلی ہوئی ہے۔ اسی وادی کے نام پر ضلع کیچ ہے جس کا صدر مقام تربت ہے۔ یہ ضلع مکران ڈویژن کا حصہ ہے اور تربت ہی اس ڈویژن کا بھی مرکز ہے۔ شمال میں پنجگور، مشرق میں آواران، جنوب میں گوادر اور مغرب میں نیا ضلع تمپ اور ایران کی سرحد اس کے ہمسائے ہیں۔
پاکستان کے ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کیچ کی آبادی 1,060,931 افراد تھی، اس کا رقبہ 22,539 مربع کلومیٹر اور آبادی کی کثافت تقریباً 47 افراد فی مربع کلومیٹر تھی۔ اسی مردم شماری کے مطابق صرف تربت تحصیل کی آبادی 470,605 تھی، یعنی ضلع کا بڑا حصہ اسی تحصیل میں آباد ہے۔ یہ اعداد و شمار 2023ء کے ہیں اور ان میں اس وقت کا پورا ضلع شامل تھا۔
کمشنر مکران کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق کیچ کو یکم جولائی 1977ء کو الگ ضلع کا درجہ ملا اور 1994ء/1995ء میں اس کا نام "تربت" سے بدل کر "کیچ" رکھا گیا، جبکہ صدر مقام کا نام تربت ہی رہا۔ 2026ء میں اس ضلع کی انتظامی صورت دو بار بدلی۔ پہلے فروری/مارچ 2026ء میں تمپ، مند اور زامران کے علاقوں پر مشتمل الگ ضلع تمپ بنایا گیا، اور پھر محکمۂ مال بلوچستان کے 8 جولائی 2026ء کے نوٹیفکیشن کے تحت، جس نے صوبے کو 11 ڈویژنوں اور 41 اضلاع میں تقسیم کیا، مکران ڈویژن میں گوادر، کیچ، پنجگور اور تمپ کے چار اضلاع رکھے گئے اور ڈویژن کا صدر مقام تربت ہی رہا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسی نوٹیفکیشن میں ڈویژن کے نام کا املا "مکُران" (Makuran) کر دیا گیا۔ ثانوی ذرائع کے مطابق تمپ کی علیحدگی کے بعد ضلع کیچ کی تحصیلوں میں تربت، بلیدہ، دشت، بالنگور اور ہوشاب شامل ہیں۔
تاریخ
کیچ کی وادی مکران کے قدیم ترین آباد علاقوں میں سے ہے۔ تربت کے قریب "میری قلات" کا ٹیلہ اس کی سب سے بڑی گواہی ہے۔ 1990ء سے 1996ء تک فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ رولاں بزنوال (Roland Besenval) کی سربراہی میں مکران کے فرانسیسی آثارِ قدیمہ مشن نے، پاکستان کے محکمۂ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کے اشتراک سے، یہاں کھدائی کی۔ اس کام سے پہلی بار اس خطے کا باقاعدہ تاریخی سلسلہ مرتب ہوا جو پانچویں ہزارۂ قبل مسیح کے وسط سے لے کر انیسویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیسرے ہزارۂ قبل مسیح کے دوسرے نصف میں، یعنی وادیٔ سندھ کی تہذیب کے زمانے میں، میری قلات کیچ مکران کی اہم ترین بستی تھی اور یہاں کے باشندے جنوب مشرقی ایران کے ثقافتی دائرے سے جڑے ہوئے تھے۔ مقامی روایت اسی ٹیلے کو سسی پنوں کی داستان کے پنوں کے قلعے سے جوڑتی ہے، مگر یہ ایک لوک روایت ہے، آثارِ قدیمہ کا نتیجہ نہیں۔
انگریز دور کے "بلوچستان ڈسٹرکٹ گزیٹیئر سیریز" کی ساتویں جلد "مکران" (1906ء)، جو آر۔ ہیوز بلر نے مرتب کی، اس علاقے کی تاریخ کا بنیادی ماخذ ہے۔ اس کے مطابق کیچ صدیوں تک مکران کا سیاسی مرکز رہا اور اٹھارہویں صدی میں یہاں گچکی خاندان کا اقتدار قائم ہوا۔ قلات کے خان نصیر خان اول کے ساتھ ان کی کشمکش کا انجام اس انتظام پر ہوا جس کے تحت علاقے کی آمدنی خان اور گچکی سرداروں میں بانٹ دی گئی۔ اسی گزیٹیئر میں 1903ء کی ابتدائی مردم شماری کے اعداد و شمار بھی درج ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد 1970ء میں قلات ڈویژن کی تقسیم سے مکران ڈویژن بنا جس کا صدر مقام تربت ٹھہرا، اور 1977ء میں کیچ (اس وقت تربت) الگ ضلع بنا۔
لوگ اور زبانیں
کیچ کے باشندوں کی بڑی اکثریت بلوچ ہے اور بلوچی یہاں کی عام بول چال، شاعری اور گھریلو زندگی کی زبان ہے۔ مکران کا گزیٹیئر (1906ء) بھی اس علاقے کی آبادی اور زبان کے باب میں بلوچی ہی کو مکران کی زبان بتاتا ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول (ٹیبل 11) میں ضلع کے لحاظ سے زبانوں کا تناسب موجود ہے؛ یہ جدول اس مسودے کی تیاری کے دوران کھولا نہیں جا سکا، اس لیے یہاں کوئی فیصد درج نہیں کیا جا رہا۔ تربت کی یونیورسٹی اور کالج ہونے کے باعث اردو اور انگریزی تعلیم اور دفتری کام کی زبانیں ہیں۔
معیشت
کیچ کی معیشت کی بنیاد کھجور ہے۔ کیچ اور پنجگور مل کر پاکستان کی کھجور کی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ دیتے ہیں؛ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ حصہ تقریباً 53 فیصد اور اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (FAO) کے مطابق 50 فیصد سے زائد ہے۔ محکمۂ زراعت کے ایک افسر کے حوالے سے بزنس ریکارڈر نے لکھا کہ کیچ میں کھجور کے باغات کا رقبہ تقریباً 24,800 ہیکٹر ہے اور عام سالوں میں پیداوار ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زیادہ ہوتی ہے۔ ضلع کیچ پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہاں کی مشہور ترین قسم "بیگم جنگی" ہے جو رقبے اور پیداوار دونوں میں سب سے آگے ہے۔ کھجور کی فصل جولائی کے پہلے ہفتے سے ستمبر کے وسط تک اتاری جاتی ہے۔ 2022ء کی بارشوں اور سیلاب نے اس شعبے کو بھاری نقصان پہنچایا۔
پانی کے لحاظ سے ضلع کا سب سے بڑا منصوبہ میرانی ڈیم ہے جو تربت سے تقریباً 30 میل مغرب میں دریائے دشت پر، کیچ اور نہنگ ندیوں کے سنگم کے قریب بنایا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹوں کے مطابق اس کی مجموعی ذخیرہ گنجائش 302,000 ایکڑ فٹ ہے، اس سے وادیٔ کیچ میں 33,200 ایکڑ زمین سیراب کرنے کا منصوبہ ہے اور تربت کو پینے کا پانی بھی اسی سے ملتا ہے۔ اس ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ 1956ء میں بنی تھی اور یہ 2006ء میں مکمل ہوا۔
تعلیم کے میدان میں یونیورسٹی آف تربت ضلع کا بڑا ادارہ ہے۔ یہ 2009ء میں جامعہ بلوچستان کے ذیلی کیمپس کے طور پر شروع ہوئی، بلوچستان اسمبلی نے جون 2012ء میں "یونیورسٹی آف تربت ایکٹ 2012ء" منظور کیا اور 2013ء سے یہ الگ جامعہ کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اسے مارچ 2014ء میں بلوچستان کی دوسری سرکاری جنرل یونیورسٹی کے طور پر تسلیم کیا۔
قابلِ دید مقامات
تربت کے قریب میری قلات کا ٹیلہ، جہاں فرانسیسی اور پاکستانی ماہرین نے ہزاروں برس پرانی بستی کی تہیں کھولیں، ضلع کا سب سے اہم تاریخی مقام ہے۔ دریائے دشت پر میرانی ڈیم اور اس کی جھیل ضلع کا جدید دور کا نشان ہے۔ وادیٔ کیچ کے کھجور کے باغات، خصوصاً جولائی تا ستمبر فصل کے موسم میں، اس علاقے کی اصل پہچان ہیں۔
نمایاں شخصیات
عطا شاد (اصل نام محمد اسحاق) جدید بلوچی شاعری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ یکم نومبر 1939ء کو کیچ کے گاؤں سنگانی سر میں پیدا ہوئے، گورنمنٹ کالج تربت اور گورنمنٹ کالج کوئٹہ سے تعلیم پائی، اور 13 فروری 1997ء کو کوئٹہ میں وفات پائی۔ انہوں نے اردو سے شاعری کا آغاز کیا اور پھر بلوچی کو اپنایا۔ پاکستان کے تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالوں کے مطابق عطا شاد نے بلوچی شاعری میں علامت، تمثیل اور ڈرامائی عناصر متعارف کرائے اور لفظ سازی کے نئے تجربے کیے؛ "روچ گر" اور "شپ سحر اندیم" ان کے معروف مجموعے ہیں۔ انہیں 1983ء میں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی دیا گیا۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, population by sex, sex ratio, population density, urban proportion, household size and annual growth rate — Balochistan, Government of Pakistan, 2023. https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/population/2023/tables/table_1_balochistan_province.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan (incl. Table 11, population by mother tongue), Government of Pakistan, 2023. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- Office of the Commissioner Makran Division, "District Kech", Government of Balochistan. https://commissionermekran.gob.pk/district-kech/
- Dawn, "Balochistan undergoes major restructuring", 2026. https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring · ProPakistani, "Balochistan Govt Notifies New Divisions and Districts", 12 July 2026. https://propakistani.pk/2026/07/12/balochistan-govt-notifies-new-divisions-and-districts/
- R. Hughes-Buller, Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. VII: Makrán, Government of India, Bombay, 1906. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279674
- Shelby White and Leon Levy Program for Archaeological Publications, Harvard University, "The site of Miri Qalat and the Kech-Makran (Balochistan, Pakistan) during the second half of the 3rd millennium BC" (project page on the French Archaeological Mission in Makran, R. Besenval). https://whitelevy.fas.harvard.edu/site-miri-qalat-and-kech-makran-balochistan-pakistan-during-second-half-3rd-millennium-bc-0 · Dawn, "Digging deep into Makran history". https://www.dawn.com/news/755043/digging-deep-into-makran-history
- Dawn, "Mirani Dam, a boon for Makran". https://www.dawn.com/news/358489/mirani-dam-a-boon-for-makran · Dawn, "Mirani Dam: is it viable?". https://www.dawn.com/news/113180
- Business Recorder, "Balochistan produces 225,000 tonnes dates last season". https://www.brecorder.com/news/40062462 · FAO Pakistan, "Unlocking the untapped potential of date agribusiness in Balochistan". https://www.fao.org/pakistan/our-work/success-stories/project-success-stories/unlocking-the-untapped-potential-of-date-agribusiness-in-balochistan/en/ · "Economics of Date Palm (Phoenix dactylifera L.) Production and Its Development in District Kech, Balochistan Province of Pakistan" (research paper). https://www.researchgate.net/publication/267637444
- Government of Balochistan, University of Turbat Act 2012. https://balochistan.gov.pk/wp-content/uploads/2024/10/University-of-Turbat-Act-2012.pdf · University of Turbat, "About". https://uot.edu.pk/about
- Kasi, Salah and Dashti, "Imagism, Dramatism and Symbolism as the New Elements of Modern Balochi Poetry: Highlighting the Poetic Contributions of Balochi Poet Atta Shad", Pakistan Studies 16(2), July–December 2022. https://www.researchgate.net/publication/384163071 · Raziq, Baloch and Dashti, "Dramatic Elements in Atta Shad's Poetry", Makhz Research Journal, 2023. https://ojs.makhz.org.pk/journal/article/view/135 · Ahmed and Bano, "The Unique Style and Diction of Atta Shad's Poetry", Makhz Research Journal, 2025. https://ojs.makhz.org.pk/journal/article/view/456



