ضلع حب: کراچی کے پڑوس میں بلوچستان کا صنعتی دروازہ
بلوچستان کے جنوب مشرقی کونے میں، جہاں صوبے کی سرحد سندھ اور کراچی سے ملتی ہے، ضلع حب واقع ہے۔ یہ صوبے کے سب سے نئے اضلاع میں سے ایک ہے: ستمبر 2022ء میں بلوچستان بورڈ آف ریونیو نے لینڈ…

تعارف اور محلِ وقوع
بلوچستان کے جنوب مشرقی کونے میں، جہاں صوبے کی سرحد سندھ اور کراچی سے ملتی ہے، ضلع حب واقع ہے۔ یہ صوبے کے سب سے نئے اضلاع میں سے ایک ہے: ستمبر 2022ء میں بلوچستان بورڈ آف ریونیو نے لینڈ ریونیو ایکٹ 1967ء کے تحت ضلع لسبیلہ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے حب کو الگ ضلع بنایا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے ضلع میں حب، دریجی اور سونمیانی (ونڈر) کی سب ڈویژنیں شامل ہیں، جبکہ باقی لسبیلہ میں بیلہ، اوتھل اور کنراج رہ گئے اور اس کا صدر مقام اوتھل ہے۔ اس سے پہلے فروری 2022ء میں صوبائی کابینہ نے اس تقسیم کی منظوری دی تھی۔
2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع حب کی آبادی 382,885 اور رقبہ تقریباً 6,716 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ بلوچستان کے ان چند اضلاع میں سے ہے جہاں آبادی کا تقریباً نصف، لگ بھگ 51 فیصد، شہری علاقوں میں رہتا ہے۔ تحصیل حب خود 233,443 افراد کے ساتھ ضلع کی سب سے بڑی تحصیل ہے، اس کے بعد سونمیانی (67,991)، دریجی (52,236) اور گڈانی (29,215) آتی ہیں۔ ضلع کا صدر مقام حب شہر ہے، جو کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ سے صرف اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
جولائی 2026ء میں صوبائی محکمۂ مال کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بلوچستان کو 11 ڈویژنوں اور 41 اضلاع میں دوبارہ ترتیب دیا گیا۔ اس کے تحت پرانی قلات ڈویژن ختم کر کے اس کی جگہ خضدار اور لسبیلہ کے نام سے دو نئی ڈویژنیں بنائی گئیں، اور لسبیلہ ڈویژن میں لسبیلہ، حب اور آوران کے اضلاع رکھے گئے۔ یوں آج حب ضلع لسبیلہ ڈویژن کا حصہ ہے۔
تاریخ
حب کا علاقہ 2022ء تک ضلع لسبیلہ کا حصہ تھا، اور اس سے پہلے برطانوی دور میں ریاست لسبیلہ کا۔ برطانوی حکومت کی "بلوچستان ڈسٹرکٹ گزیٹیئر سیریز" کی آٹھویں جلد، جو 1907ء میں شائع ہوئی اور "لس بیلہ" کے نام سے موسوم ہے، اس پورے خطے، اس کے دریاؤں، ساحل اور قبائل کا تفصیلی احوال محفوظ رکھتی ہے۔ یہ جلد اب انٹرنیٹ آرکائیو پر دستیاب ہے اور حب کی پرانی تاریخ جاننے کے لیے بنیادی ماخذ ہے۔
لوگ اور زبانیں
ضلع کی آبادی کا بڑا حصہ تحصیل حب میں رہتا ہے، جہاں 2023ء کی مردم شماری کے مطابق 80 فیصد سے زیادہ لوگ شہری علاقوں کے باسی ہیں۔ اسی تحصیل کے مادری زبان کے اعداد و شمار (مردم شماری 2023ء، جدول 11) کے مطابق 233,443 کی آبادی میں 159,481 افراد کی مادری زبان بلوچی، 23,405 کی سندھی اور 10,014 کی پشتو ہے؛ یعنی تحصیل حب میں تقریباً دو تہائی آبادی بلوچی بولتی ہے اور سندھی دوسرے نمبر پر ہے۔ پورے ضلع کی زبانوں کا تناسب اسی جدول سے الگ نکالا جانا چاہیے، جو اس مسودے میں شامل نہیں ہے۔
کراچی سے قربت نے حب کو ایک ایسا شہر بنا دیا ہے جہاں بلوچستان کے مختلف اضلاع اور سندھ سے آئے ہوئے محنت کش آباد ہیں۔ صنعتی علاقوں اور بندرگاہی سرگرمیوں نے یہاں زبانوں اور برادریوں کا ایسا میل جول پیدا کیا ہے جو صوبے کے اندرونی اضلاع میں کم ملتا ہے۔
معیشت
حب کی معیشت کی بنیاد صنعت، توانائی اور پانی ہے۔
حب انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ (HITE)، جو لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹس ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (LIEDA) کے تحت چلتی ہے، 1,226 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے اور کراچی کے علاقے سائٹ سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر دور ہے۔ اتھارٹی کے مطابق یہاں 1,250 سے 10,000 مربع میٹر تک کے پلاٹ 99 سالہ لیز پر دیے جاتے ہیں، اور اسٹیٹ کو تین بار ملحقہ زمین شامل کر کے وسعت دی گئی۔ اس کے علاوہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ریکارڈ میں حب میں 406 ایکڑ پر ایک خصوصی اقتصادی زون (Hub SEZ) بھی درج ہے۔
حب ڈیم اس ضلع کا دوسرا بڑا معاشی اثاثہ ہے۔ واپڈا کے مطابق دریائے حب پر اس ڈیم کا ابتدائی کام ستمبر 1963ء میں شروع ہوا اور جون 1981ء میں مکمل ہوا۔ یہ منصوبہ کراچی کو بلدیاتی اور صنعتی ضروریات کے لیے روزانہ 100 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
توانائی کے شعبے میں حب پاور کمپنی (Hubco) کا پلانٹ ملک کا پہلا نجی بجلی گھر (IPP) ہے۔ کمپنی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق یہ 1,292 میگاواٹ کا پلانٹ اپریل 1997ء میں چالو ہوا اور حب کے موضع کنڈ میں واقع ہے۔
ساحل پر گڈانی کا جہاز شکنی کا کام ایک الگ دنیا ہے۔ یہاں جہاز توڑنے کا کام 1973ء میں شروع ہوا۔ ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق ساحل 314 پلاٹوں میں بٹا ہوا ہے جن میں سے 135 پر یارڈ کام کرتے ہیں، اور بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی 34 پلاٹوں کی مالک ہے جو نجی کمپنیوں کو کرائے پر دیے جاتے ہیں۔ یہ صنعت ہزاروں مزدوروں کو روزگار دیتی ہے، مگر اس کے ساتھ حفاظت اور ماحول کے سوال بھی جڑے ہیں جن پر یہی رپورٹیں توجہ دلاتی ہیں۔
قابلِ دید مقامات
حب کا ساحل مکران کے ساحل کا مشرقی سرا ہے۔ سونمیانی کی خلیج لسبیلہ اور حب، دونوں اضلاع کے ساحل سے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ میانی ہور کی جھیل نما کھاڑی ہے جسے 10 مئی 2001ء کو رامسر کنونشن کے تحت بین الاقوامی اہمیت کی آب گاہ قرار دیا گیا۔ یہ پاکستان کا واحد مقام ہے جہاں تمر (مینگروو) کی تین اقسام قدرتی طور پر اگتی ہیں۔ ایک تحقیقی مقالے کے مطابق اس کھاڑی کا ایک ہی دہانہ اسے بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے۔
گڈانی کا ساحل، جہاں بڑے بڑے جہاز ریت پر کھڑے ٹوٹتے ہیں، اپنی نوعیت کا ایک منفرد منظر پیش کرتا ہے اور کراچی سے آنے والوں کے لیے سب سے قریبی بلوچ ساحل ہے۔ حب ڈیم کی جھیل بھی اسی ضلع میں ہے۔ یاد رہے کہ مشہور کنڈ ملیر کا ساحل ضلع لسبیلہ میں ہنگول نیشنل پارک کی حدود میں واقع ہے، ضلع حب میں نہیں۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Proportion (Balochistan). https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/population/2023/tables/table_1_balochistan_province.pdf (district rows: table_1_balochistan_districts.pdf on the same path)
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, Gender and Rural/Urban Residence (Balochistan districts). https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/population/2023/tables/table_11_balochistan_districts.pdf
- Dawn reports on the creation of the district: Saleem Shahid, "Lasbela bifurcated, Hub made new district", February 2022, https://www.dawn.com/news/1673011 · "'Hub' becomes 35th district of Balochistan", September 2022, https://www.dawn.com/news/1708293 · "Pleas against new district dismissed", 23 June 2023, https://www.dawn.com/news/1761235/pleas-against-new-district-dismissed
- "Balochistan undergoes major restructuring", Dawn, 12 July 2026. https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring
- Government of India, Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. VIII: Las Bela, Text and Appendices, Bombay, 1907 (Digital Library of India scan). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279673
- Lasbela Industrial Estates Development Authority (LIEDA), "Hub Industrial & Trading Estate (HITE) Phase-I" and "LIEDA at a Glance". https://lieda.gov.pk/hub-industrial-trading-estate-hite-phase-i/ ; https://lieda.gov.pk/lieda-at-a-glance/ · Board of Investment, Government of Pakistan, "HUB SEZ, Province Balochistan, Total Area 406 acres" (PDF, 2020). https://invest.gov.pk/sites/default/files/2020-09/HUB%20SEZ_1.pdf
- Water and Power Development Authority (WAPDA), "Hub Dam". https://wapda.gov.pk/hub-dam/ · "Karachi seeks to double Hub Dam water share", The Express Tribune, 2026. https://tribune.com.pk/story/2608184/city-seeks-to-double-hub-dam-water-share
- The Hub Power Company Limited, Annual Report 2023. https://hubpower.com/wp-content/uploads/2023/10/HubcoAnnualReport22-09-23.pdf
- "Wasteland: The ugly side of Gadani's ship-breaking industry", Herald (Dawn). https://herald.dawn.com/news/1153615 · "Gadani: Ship-breaker's paradise and a worker's worst nightmare", The Express Tribune. https://tribune.com.pk/story/402040/
- "Maritime Tourism Potential of Lasbela District (Pakistan): The Course of Sustainability", research article (ResearchGate copy), 2022. https://www.researchgate.net/publication/366097637_Maritime_Tourism_Potential_of_Lasbela_District_Pakistan_The_Course_of_Sustainability
- High Court of Balochistan, District Judiciary: Hub. https://bhc.gov.pk/district-judiciary/hub



