رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
روزنامہ جنگ کے صفحے سے خبر کا متن دستیاب نہ ہو سکاتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاساُستا محمد: مارکیٹ کمیٹی کا اجلاس، اناج منڈی فعال بنانے اور خرید و فروخت جلد شروع کرنے پر غورکوئٹہ: اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی رولنگ پر ڈی آئی جی خضدار رینج طلب، پولیس کو شفاف تحقیقات کی ہدایتاُستا محمد: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون کا کاشف GO پٹرول پمپ کا دورہ، فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہرکھنی: اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی کا ماڈل بازار کی توسیع اور تعمیراتی کام کا معائنہ

ایبل تسمان: تسمانیہ اور نیوزی لینڈ

1642ء میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دو چھوٹے جہاز جاوا کے شہر بٹاویا (آج کا جکارتہ) سے ایک عجیب مقصد لے کر نکلے: یہ معلوم کرنا کہ نقشوں کے نیچے، جنوب میں، کتنی بڑی نامعلوم زمین پھیلی ہوئی ہے۔…

1642ء میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دو چھوٹے جہاز جاوا کے شہر بٹاویا (آج کا جکارتہ) سے ایک عجیب مقصد لے کر نکلے: یہ معلوم کرنا کہ نقشوں کے نیچے، جنوب میں، کتنی بڑی نامعلوم زمین پھیلی ہوئی ہے۔ ان کے سالار ایبل تسمان (Abel Tasman) تھے۔ دس مہینے بعد جب وہ لوٹے تو انہوں نے دو ایسی زمینیں دیکھ لی تھیں جو اس سے پہلے کسی یورپی نقشے پر نہ تھیں: تسمانیہ اور نیوزی لینڈ۔

گرونِنگن کا ملاح

جیمز بیک ہاؤس واکر (James Backhouse Walker) نے 1895ء میں رائل سوسائٹی آف تسمانیہ کے سامنے تسمان کی زندگی پر ایک مقالہ پڑھا۔ ان کے مطابق تسمان 1603ء میں ہالینڈ کے صوبے گرونِنگن کے چھوٹے سے گاؤں لُتیےگاسٹ (Lutjegast) میں پیدا ہوئے۔ وہ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملاح کے طور پر مشرق آئے اور کئی سمندری مہمات کر چکے تھے۔

بٹاویا کے گورنر جنرل انتھونی فان ڈیمن (Anthony van Diemen) نے یہ مہم بھیجی۔ واکر کے مطابق اس میں دو جہاز تھے: "ہیمسکرک" (Heemskerck) جس پر ساٹھ آدمی تھے، اور اس سے چھوٹا، ہلکا اور تیز رفتار "زی ہان" (Zeehaen) جس پر پچاس۔

ماریشس سے جنوب کی طرف

تسمان کا روزنامچہ آج بھی موجود ہے، اور برطانوی بحریہ کے کپتان جیمز برنی (James Burney) نے 1813ء میں اس کا انگریزی ترجمہ اپنی کتاب میں شامل کیا۔ اس کے مطابق جہاز 14 اگست 1642ء کو بٹاویا سے روانہ ہوئے اور 5 ستمبر کو ماریشس (Mauritius) پہنچے۔ 1911ء کے انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق وہ 8 اکتوبر تک وہاں رکے۔ وہاں سے جہاز بہت جنوب میں، تقریباً 49 درجے عرض بلد تک گئے اور پھر مشرق کی طرف مڑے۔ تسمان راستے بھر قطب نما کی سوئی کے انحراف کو باقاعدگی سے ناپتے رہے، اور جہاں سمندر کی بڑی لہریں جنوب مغرب سے آتیں، وہاں نتیجہ نکالتے کہ اس طرف کوئی زمین نہیں۔

"فان ڈیمن کی زمین"

24 نومبر 1642ء کو انہیں ایک ساحل نظر آیا۔ تسمان لکھتے ہیں: "چونکہ یہ زمین اس سے پہلے کسی یورپی کو معلوم نہ تھی، ہم نے اسے اپنے اعلیٰ حاکم گورنر جنرل کے اعزاز میں انتھونی فان ڈیمن کی زمین کہا۔" یہی جزیرہ بعد میں تسمانیہ (Tasmania) کہلایا۔

2 دسمبر کو ایک کشتی پانی کی تلاش میں ساحل پر گئی۔ ملاحوں نے انسانی آوازیں اور بگل یا چھوٹے گھڑیال جیسی آواز سنی، مگر کوئی نظر نہ آیا۔ انہوں نے بہت اونچے درخت دیکھے جن کی چھال میں پانچ پانچ فٹ کے فاصلے پر سیڑھی جیسے نشان کٹے ہوئے تھے، تاکہ اوپر پرندوں کے گھونسلوں تک پہنچا جا سکے۔ روزنامچے کے مطابق ملاحوں نے سوچا کہ یا تو یہاں کے لوگ بہت لمبے ہیں یا درخت پر چڑھنے کا کوئی خاص طریقہ جانتے ہیں۔ ریت پر کسی جانور کے پنجوں کے نشان بھی ملے۔ 1911ء کے بریٹانیکا کے مطابق تسمان کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ تسمانیہ ایک جزیرہ ہے۔

"اسٹیٹن لینڈ"

تسمانیہ سے وہ مشرق کی طرف بڑھے۔ 13 دسمبر 1642ء کو روزنامچے کے مطابق انہیں "ایک بڑی اونچی زمین" نظر آئی، جس کے پہاڑوں کی چوٹیاں بادلوں میں چھپی تھیں۔ تسمان نے اسے "اسٹیٹن لینڈ" (Staten Land) کا نام دیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ شاید یہ جنوبی امریکہ کے قریب اسی نام کی زمین سے جڑی ہو اور کسی بڑے جنوبی براعظم کا حصہ ہو۔ برنی کے مطابق بعد میں جب یہ خیال غلط ثابت ہوا تو اس کا نام بدل کر نیوزی لینڈ (New Zealand) رکھا گیا۔

ساحل کے ساتھ شمال کی طرف چلتے ہوئے 18 دسمبر کو انہوں نے ایک کھلی خلیج میں لنگر ڈالا۔ واکر کے مطابق یہ آج کی گولڈن بے (Golden Bay) ہے۔ رات کو کنارے پر روشنیاں نظر آئیں اور دو کشتیاں قریب آئیں جن کے لوگ بلند آواز میں پکارتے اور ایک باجا بجاتے رہے؛ جواب میں جہاز سے بگل بجایا گیا۔ تسمان لکھتے ہیں کہ ان لوگوں کے بال سر کے اوپر بندھے تھے جن میں ایک بڑا سفید پر لگا تھا، اور ان کی کشتیاں دو لمبی پتلی ڈونگیاں تھیں جنہیں جوڑ کر اوپر بیٹھنے کے تختے لگائے گئے تھے۔

19 دسمبر کو زی ہان کی ایک کشتی اور مقامی ماؤری کشتیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں زی ہان کے چار ملاح جان سے گئے۔ واکر کے مطابق خراب موسم اور اس واقعے کی وجہ سے تسمان نیوزی لینڈ کی سرزمین پر کبھی نہیں اترے۔ 6 جنوری 1643ء کو شمالی سرے کے قریب ایک جزیرے کا نام انہوں نے "تین بادشاہوں کا جزیرہ" (Three Kings Island) رکھا؛ وہاں پانی لینے کی کوشش تیز لہروں کی وجہ سے ترک کرنی پڑی۔

تونگا کے جزیرے

نیوزی لینڈ کے بعد جہاز شمال مشرق کی طرف بڑھے اور 21 جنوری 1643ء کو دو جزیروں کے پاس لنگر انداز ہوئے۔ تسمان نے بڑے جزیرے کا نام "ایمسٹرڈیم" رکھا، کیونکہ وہاں انہیں تازہ خوراک بہت ملی، اور چھوٹے کا "مڈل برگ"۔ برنی اور واکر کے مطابق یہ تونگا کے جزیرے تونگاتاپو اور ایوا ہیں۔

روزنامچے میں یہاں کا بیان بہت دوستانہ ہے۔ تین آدمی ایک چھوٹی کشتی میں آئے؛ جہاز سے کپڑے کا ایک ٹکڑا پانی میں پھینکا گیا تو ایک آدمی نے ڈبکی لگا کر اسے نکالا اور شکریے کے طور پر کئی بار سر پر رکھا۔ بدلے میں انہوں نے سیپی سے بنا مچھلی پکڑنے کا کانٹا دیا۔ پھر لوگ سفید جھنڈے لہراتے ہوئے آئے، درخت کی چھال سے بنا کپڑا تحفے میں دیا، اور بہت سی کشتیاں ناریل لے کر آئیں، جو پرانی کیلوں کے بدلے دیے گئے: ایک بڑی کیل کے بدلے تین چار ناریل۔ ایک بزرگ سردار جہاز پر آئے اور اشارے سے بتایا کہ کنارے پر میٹھا پانی ہے۔ تسمان نے ایک اور جزیرے کا نام "روٹرڈیم" رکھا، جسے مقامی لوگ "اناموکا" کہتے تھے؛ وہاں سے پانی اور رسد لی گئی۔

فجی کی چٹانیں اور واپسی

فروری کے شروع میں جہاز چٹانوں اور ریتلے کناروں کے ایک خطرناک علاقے میں جا پہنچے۔ روزنامچے کے مطابق 6 فروری کو وہ ایک مرجانی چٹان سے صرف ایک تنگ راستے سے نکل سکے جو "جہاز کی دو لمبائیوں جتنا" چوڑا تھا، اور آس پاس اٹھارہ انیس جزیرے تھے۔ تسمان نے اس گروہ کو "پرنس ولیم کے جزیرے" کہا؛ 1911ء کے بریٹانیکا کے مطابق یہ مشرقی فجی (Fiji) کے جزیرے ہیں۔

وہاں سے وہ شمال کی طرف گئے، پھر مغرب کی طرف نیو گنی کے شمالی ساحل کے ساتھ چلتے رہے اور 15 جون 1643ء کو بٹاویا پہنچے۔ تسمان نے روزنامچہ ان الفاظ پر ختم کیا: "اس خوش گوار سفر پر خدا کا شکر ہے۔" واکر کے مطابق دس مہینے کے اس سفر میں دس آدمی بیماری سے فوت ہوئے، ان چار کے علاوہ جو گولڈن بے میں مارے گئے تھے۔

1644ء میں تسمان نے نیو گنی اور آسٹریلیا کے شمالی ساحل کا ایک اور سفر کیا۔ 1911ء کے بریٹانیکا کے مطابق ان کی وفات کی صحیح تاریخ معلوم نہیں، البتہ وہ 1661ء سے پہلے فوت ہو چکے تھے۔

اگلی قسط: وٹس بیرنگ: ایشیا اور امریکہ کے درمیان آبنائے۔

ماخذ

  1. James Burney, A Chronological History of the Voyages and Discoveries in the South Sea or Pacific Ocean, vol. III, London, 1813, chapter IV ("The Voyage of Captain Abel Jansen Tasman in the Year 1642", the journal translated), Project Gutenberg Australia eBook 0600611. https://gutenberg.net.au/ebooks06/0600611.txt
  2. James Backhouse Walker, Abel Janszoon Tasman: His Life and Voyages, read before the Royal Society of Tasmania, 25 November 1895, Hobart, 1896 (I. Youth and early voyages; III. The voyage of 1642). https://archive.org/details/abeljanszoontas00tasmgoog
  3. "The Voyage of Captain Abel Jansen Tasman for the Discovery of Southern Countries, 1642–43", in John Pinkerton et al., Early Australian Voyages: Pelsart, Tasman, Dampier, ed. Henry Morley, Cassell, 1886; Project Gutenberg eBook #2660 (chapters II–X). https://www.gutenberg.org/ebooks/2660
  4. "Tasman, Abel Janszoon", Encyclopaedia Britannica, 11th edition, 1911, vol. 26 (Wikisource transcription). https://en.wikisource.org/wiki/1911_Encyclop%C3%A6dia_Britannica/Tasman,_Abel_Janszoon
  5. Wikimedia Commons, "File:Tasman-dagboek-a.jpg" (drawing attributed to Isaack Gilsemans from Tasman's journal; public domain). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Tasman-dagboek-a.jpg
  6. "Abel Tasman", Wikipedia (pointer only, to the Burney text, the EB 1911 article and the image file). https://en.wikipedia.org/wiki/Abel_Tasman

مہمات: تمام تحریریں ←