رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
روزنامہ جنگ کے صفحے سے خبر کا متن دستیاب نہ ہو سکاتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاساُستا محمد: مارکیٹ کمیٹی کا اجلاس، اناج منڈی فعال بنانے اور خرید و فروخت جلد شروع کرنے پر غورکوئٹہ: اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی رولنگ پر ڈی آئی جی خضدار رینج طلب، پولیس کو شفاف تحقیقات کی ہدایتاُستا محمد: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون کا کاشف GO پٹرول پمپ کا دورہ، فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہرکھنی: اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی کا ماڈل بازار کی توسیع اور تعمیراتی کام کا معائنہ

بالبوا: بحرالکاہل کا پہلا یورپی نظارہ

ستمبر 1513ء کے آخری دنوں میں ایک ہسپانوی سپاہی وسطی امریکہ کے گھنے جنگلوں سے نکل کر ایک ننگی چوٹی پر اکیلا چڑھا اور جنوب کی طرف دیکھا۔ نیچے، حدِ نظر تک، ایک نیلا سمندر پھیلا ہوا تھا۔ کسی یورپی…

ستمبر 1513ء کے آخری دنوں میں ایک ہسپانوی سپاہی وسطی امریکہ کے گھنے جنگلوں سے نکل کر ایک ننگی چوٹی پر اکیلا چڑھا اور جنوب کی طرف دیکھا۔ نیچے، حدِ نظر تک، ایک نیلا سمندر پھیلا ہوا تھا۔ کسی یورپی نے امریکہ کی سرزمین پر کھڑے ہو کر یہ سمندر پہلی بار دیکھا تھا۔ اس شخص کا نام واسکو نونیز دے بالبوا (Vasco Núñez de Balboa) تھا، اور اس سمندر کو اس نے "جنوبی سمندر" کہا۔ آج ہم اسے بحرالکاہل کہتے ہیں۔

قرض دار کسان سے بستی کے سربراہ تک

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق بالبوا 1475ء میں اسپین کے علاقے ایکسٹریمادورا (Extremadura) میں پیدا ہوا اور چھوٹے درجے کے امرا کے خاندان سے تھا۔ 1500ء میں وہ رودریگو دے باستیداس (Rodrigo de Bastidas) کے ساتھ موجودہ کولمبیا کے ساحل کی سیر کو گیا۔ پھر وہ جزیرہ ہسپانیولا میں کھیتی باڑی کرنے لگا، مگر کامیاب نہ ہوا اور قرض خواہوں سے بچنے کے لیے 1510ء میں ایک امدادی جہاز میں چھپ کر سوار ہو گیا۔

اسی مہم میں بالبوا کے مشورے پر نوآبادکار خلیج اورابا (Urabá) پار کر کے پاناما کی تنگ خشکی کے علاقے دارین (Darién) میں جا بسے، جہاں انہوں نے سانتا ماریا دے لا آنتیگوا (Santa María de la Antigua) کی بستی بسائی۔ بریٹانیکا اسے براعظم پر پہلی پائیدار ہسپانوی بستی کہتا ہے۔ جلد ہی بالبوا اس بستی کا سربراہ بن گیا، اور دسمبر 1511ء میں اسپین کے بادشاہ نے اسے عارضی گورنر مقرر کر دیا۔ یہیں مقامی لوگوں نے اسے بتایا کہ پہاڑوں کے پار جنوب میں ایک اور سمندر ہے۔

روانگی: 190 آدمی اور جنگل کا راستہ

بریٹانیکا کے مطابق یکم ستمبر 1513ء کو بالبوا سانتا ماریا سے بحری راستے روانہ ہوا تاکہ خشکی کے سب سے تنگ حصے سے پار جا سکے۔ اس کے ساتھ 190 ہسپانوی اور سیکڑوں مقامی بار بردار تھے۔

اس سفر کا سب سے پرانا تفصیلی بیان اطالوی مؤرخ پیٹر مارٹر (Peter Martyr d'Anghiera) کی کتاب "دے اوربے نوو" (De Orbe Novo) میں ہے، جس کا انگریزی ترجمہ ایف اے مک نٹ (F. A. MacNutt) نے 1912ء میں کیا۔ مارٹر لکھتا ہے کہ بالبوا نے ایک چھوٹا جہاز (brigantine) اور درختوں کے تنوں سے کھود کر بنائی گئی دس مقامی کشتیاں ساتھ لیں، اور پہلے اپنے ایک مقامی حلیف کے علاقے میں اترا۔ وہاں سے پیدل پہاڑوں کی طرف بڑھا۔ ایک اور مقامی سردار، پونچا (Poncha)، نے اسے رہنما اور بار بردار دیے جو آگے آگے چل کر راستہ کاٹتے تھے۔

ناہموار زمین اور پچیس دن

مارٹر کے بقول اس علاقے میں سڑکیں نام کو نہ تھیں، کیونکہ مقامی لوگ دور دراز کم ہی آتے جاتے تھے؛ ان کے مخبر صرف چھپی ہوئی پگڈنڈیاں جانتے تھے۔ قافلہ تنگ گھاٹیوں سے گزرا جہاں جنگلی جانور تھے، اور سیدھی چڑھائی والے پہاڑوں پر چڑھا۔ کئی بڑے دریا عارضی پلوں سے یا ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک شہتیر ڈال کر پار کیے گئے۔

مارٹر لکھتا ہے کہ پونچا کے گاؤں سے اس جگہ تک، جہاں سے جنوبی سمندر نظر آتا ہے، عام حالات میں چھ دن کا راستہ ہے، مگر بالبوا کو یہ فاصلہ طے کرنے میں پچیس دن لگے۔ مسلسل تھکن اور سختیوں سے کئی ساتھی بیمار ہو گئے جنہیں راستے کی ایک بستی، کوارکوا (Quarequa)، میں چھوڑنا پڑا۔ مک نٹ کے حاشیے کے مطابق آخری چڑھائی میں بالبوا کے ساتھ 66 آدمی رہ گئے تھے۔

"دیکھو، وہ سمندر!"

مارٹر کے مطابق اکتوبر کی پہلی تاریخ سے سات دن پہلے، یعنی 25 ستمبر 1513ء کو، کوارکوا کے ایک رہنما نے بالبوا کو ایک چوٹی دکھائی جہاں سے جنوبی سمندر نظر آتا تھا۔ بالبوا نے قافلے کو رکنے کا حکم دیا اور اکیلا اوپر چڑھا تاکہ سب سے پہلے وہی اس منظر کو دیکھے۔ پھر اس نے ہاتھ کے اشارے سے ساتھیوں کو بلایا، اور مارٹر کے الفاظ میں کہا: "دیکھو، وہ سمندر جس کی ہمیں اتنی آرزو تھی!" ساتھی خوشی سے نعرے لگانے لگے۔

اس دن کی یادگار کے طور پر انہوں نے پتھروں کے ڈھیر بنائے اور چوٹی کی دونوں ڈھلانوں پر درختوں کے تنوں پر اسپین کے بادشاہ کا نام کندہ کیا۔ مک نٹ کے حاشیے کے مطابق اندریس والدیرابانو (Andrés Valderrábano) نامی ایک سرکاری منشی نے اس دریافت کی باقاعدہ تحریر لکھی جس پر سب ساتھیوں نے دستخط کیے۔ تاریخ کے بارے میں ایک فرق ہے: بریٹانیکا یہ نظارہ 25 ستمبر یا 27 ستمبر 1513ء کا لکھتا ہے۔

ساحل، خلیج اور طوفان

مارٹر لکھتا ہے کہ مقامی رہنماؤں کی مدد سے پہاڑ سے اتر کر ساحل تک پہنچنے میں چار دن لگے۔ بریٹانیکا کے مطابق بالبوا خلیج سان میگیل (Gulf of San Miguel) کے کنارے پہنچا اور اسپین کے بادشاہ کے نام پر "مار دیل سور" (Mar del Sur) یعنی "جنوبی سمندر" اور اس کے ساحلوں پر دعویٰ کیا۔

اس کے بعد بالبوا نے مقامی لوگوں سے نو کشتیاں لیں اور اسی آدمیوں کے ساتھ خلیج کی سیر کو نکلا۔ مارٹر کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ خلیج ساٹھ میل اندر تک جاتی ہے اور جزیروں اور چٹانوں سے بھری ہے۔ مقامی سردار نے خبردار کیا کہ سال کے تین مہینے، جو اکتوبر، نومبر اور دسمبر بنتے ہیں، یہاں ایسے طوفان آتے ہیں کہ کشتی رانی ممکن نہیں رہتی۔ بالبوا نہ رکا، اور کھلے پانی میں پہنچتے ہی ایک سخت طوفان نے انہیں آ لیا۔ انہوں نے کشتیاں چٹانوں سے باندھیں اور ایک قریبی جزیرے پر پناہ لی، مگر رات کو جوار اتنا چڑھا کہ جزیرہ تقریباً پورا ڈوب گیا۔

مارٹر نے یہاں ایک دلچسپ مشاہدہ لکھا: جنوبی سمندر میں جوار کے وقت پانی اتنا چڑھتا ہے کہ بڑی بڑی چٹانیں چھپ جاتی ہیں، جبکہ شمالی سمندر (بحیرۂ کیریبین) میں ساحل کے لوگوں کے بقول پانی بمشکل ایک ہاتھ اترتا چڑھتا ہے۔ صبح انہوں نے دیکھا کہ کشتیاں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں اور ریت سے بھر گئی ہیں۔ انہوں نے کائی، درختوں کی چھال اور سخت سمندری گھاس سے ان کی مرمت کی، اور طوفان میں سامانِ خوراک بہہ جانے کی وجہ سے بھوکے، تباہ حال ملاحوں کی طرح واپس لوٹے۔ بریٹانیکا کے مطابق طوفانوں ہی کی وجہ سے وہ پرل جزائر (Pearl Islands) تک نہ جا سکے۔

واپسی اور انجام

بریٹانیکا کے مطابق بالبوا جنوری 1514ء میں خشکی پار کر کے سانتا ماریا واپس پہنچا۔ جنوبی سمندر کی خبر اسپین پہنچی تو اسے "جنوبی سمندر کا ایڈیلانتادو" (گورنر) کا خطاب ملا، مگر اسے نئے گورنر پیدرو آریاس داویلا (Pedrarias Dávila) کے ماتحت رکھا گیا۔ بعد میں اس نے بڑی محنت سے جہاز بنوائے، انہیں ٹکڑوں میں پہاڑوں کے پار بحرالکاہل کے ساحل تک پہنچایا اور 1517ء–1518ء میں خلیج سان میگیل کی مزید سیر کی۔ جنوری 1519ء میں ایک مقدمے کے بعد اکلا (Acla) میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔

بالبوا کا سفر چند ہفتوں کا تھا، مگر اس نے یورپ کو پہلی بار یہ بتایا کہ امریکہ کی سرزمین کے پار ایک اور بڑا سمندر ہے۔ چھ برس بعد ایک اور مہم اسی سمندر کو پار کرنے نکلی۔

اگلی قسط: میگیلان اور ایلکانو: دنیا کا پہلا چکر۔

ماخذ

  1. Benjamin Keen and the Editors, "Vasco Núñez de Balboa", Encyclopaedia Britannica (sections "Career in the New World" and "Sighting of the Pacific"). https://www.britannica.com/biography/Vasco-Nunez-de-Balboa
  2. Peter Martyr d'Anghiera, De Orbe Novo: The Eight Decades of Peter Martyr d'Anghera, translated with notes by Francis Augustus MacNutt, vol. 1, G. P. Putnam's Sons, New York, 1912 (Decade III, Book I: the crossing, the summit, the descent, the Gulf of San Miguel; MacNutt's notes on the 66 men and the notary). Project Gutenberg #12425: https://www.gutenberg.org/ebooks/12425

مہمات: تمام تحریریں ←