رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
روزنامہ جنگ کے صفحے سے خبر کا متن دستیاب نہ ہو سکاتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاساُستا محمد: مارکیٹ کمیٹی کا اجلاس، اناج منڈی فعال بنانے اور خرید و فروخت جلد شروع کرنے پر غورکوئٹہ: اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی رولنگ پر ڈی آئی جی خضدار رینج طلب، پولیس کو شفاف تحقیقات کی ہدایتاُستا محمد: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون کا کاشف GO پٹرول پمپ کا دورہ، فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہرکھنی: اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی کا ماڈل بازار کی توسیع اور تعمیراتی کام کا معائنہ

پیدرو الواریس کابرال: برازیل

واسکو ڈے گاما کے لوٹنے کے تقریباً چھ مہینے بعد پرتگال نے ہندوستان کی طرف ایک کہیں بڑا بیڑا روانہ کیا: تیرہ جہاز، اور کارٹ رائٹ کے مطابق تقریباً پندرہ سو آدمی۔ اس کا سالار ایک نوجوان امیرزادہ پیدرو الواریس…

واسکو ڈے گاما کے لوٹنے کے تقریباً چھ مہینے بعد پرتگال نے ہندوستان کی طرف ایک کہیں بڑا بیڑا روانہ کیا: تیرہ جہاز، اور کارٹ رائٹ کے مطابق تقریباً پندرہ سو آدمی۔ اس کا سالار ایک نوجوان امیرزادہ پیدرو الواریس کابرال (Pedro Álvares Cabral) تھا۔ بیڑے کو افریقہ کے گرد گھوم کر ہندوستان جانا تھا، مگر بحرِ اوقیانوس میں ایک لمبا چکر کاٹتے ہوئے اسے راستے میں وہ ساحل ملا جو آج برازیل کہلاتا ہے۔ اس دریافت کا سب سے اہم بیان بیڑے کے منشی پیرو واز دے کامینیا (Pêro Vaz de Caminha) کا خط ہے، جسے محقق ولیم بروکس گرینلی (William Brooks Greenlee) نے 1938ء میں ہکلوٹ سوسائٹی کے لیے دوسرے ہم عصر بیانات کے ساتھ انگریزی میں شائع کیا۔

لزبن سے روانگی

گرینلی کے مطابق 8 مارچ 1500ء کو یہ بیڑا لزبن کے قریب ریستیلو کے پاس جمع ہوا۔ ایک جہاز اطالوی تاجروں کا اور ایک ایک پرتگالی امیر کا تھا، باقی شاہی خرچ پر تیار ہوئے تھے۔ ساتھ اپنے زمانے کے بہترین ملاح تھے، جن میں بارتولومیو دیاس (Bartolomeu Dias) بھی تھا، جس نے سب سے پہلے افریقہ کی جنوبی نوک کا چکر کاٹا تھا۔ بادشاہ دوم مانوئیل نے خود کابرال کو شاہی نشان والا جھنڈا دیا۔ گرینلی کے مطابق سارا لزبن اسے رخصت کرنے آیا، کیونکہ یہ ہندوستان جانے والا پہلا تجارتی بیڑا تھا۔

9 مارچ کو بیڑا دریائے تاجو (Tagus) کے دہانے سے نکلا، 14 مارچ کو جزائر کناری اور 22 مارچ کو کیپ ورڈ کا جزیرہ ساؤ نکولاؤ دیکھا۔ اگلی صبح واسکو دے اتائیدے (Vasco de Ataíde) کا جہاز غائب تھا اور دو دن کی تلاش کے باوجود نہ ملا؛ کامینیا لکھتا ہے کہ اس رات نہ طوفان تھا نہ الٹی ہوا۔

مغرب کی طرف لمبا چکر

کیپ ورڈ کے بعد بیڑا ساکن استوائی ہواؤں سے بچنے کے لیے جنوب سے کچھ مغرب کی طرف چلا، اور سمندری دھارے اسے اور مغرب کی طرف لے گئے۔ کابرال اتنا مغرب کی طرف کیوں گیا، اس پر بہت بحث ہوئی ہے اور برازیل کی اس سے پہلے کی دریافت کے دعوے بھی کیے گئے ہیں؛ گرینلی کے نزدیک شواہد یہ بتاتے ہیں کہ یہ ساحل پہلے نہیں دیکھا گیا تھا اور مغربی راستہ زیادہ تر جہاز رانی کی سہولت کے لیے اختیار کیا گیا۔

کامینیا لکھتا ہے کہ 21 اپریل کو زمین کی نشانیاں ملنے لگیں: پانی پر لمبی سمندری گھاس تیر رہی تھی جسے ملاح "رابو دے اسنو" یعنی "گدھے کی دم" بھی کہتے تھے۔ اگلے دن پرندے نظر آئے اور شام کے قریب زمین دکھائی دی: پہلے ایک بہت اونچا، گول پہاڑ، پھر نیچی زمین اور گھنے جنگل۔ کابرال نے پہاڑ کا نام "مونتے پاسکوال" (Monte Pascoal) یعنی "ایسٹر کا پہاڑ" رکھا، کیونکہ یہ ایسٹر کا ہفتہ تھا، اور زمین کا نام "تیرا دا ویرا کروز" (Terra da Vera Cruz)۔ گرینلی کے حساب سے یہ 22 اپریل 1500ء کا دن تھا، اور یہ پہاڑ آج بھی برازیل کی ریاست باہیا (Bahia) میں اسی نام سے موجود ہے۔

پورتو سیگورو میں دس دن

23 اپریل کو چھوٹی کشتیاں ساحل تک گئیں اور گرینلی کے مطابق غالباً پہلی بار پرتگالی اس سرزمین پر اترے۔ وہاں انہیں ایسے لوگ ملے جن کے جسم رنگے ہوئے تھے اور جو چمکدار پروں کے زیور پہنتے تھے؛ ان کی وضع قطع پرتگالیوں کے دیکھے ہوئے کسی بھی لوگوں سے مختلف تھی۔ رات کو طوفان آیا، اور اگلے دن بیڑا شمال کی طرف ایک چٹانی پشتے کے اندر محفوظ بندرگاہ میں جا ٹھہرا جس کا نام "پورتو سیگورو" (Porto Seguro) یعنی "محفوظ بندرگاہ" رکھا گیا۔

بیڑا 2 مئی تک یہاں رہا، مقامی لوگوں سے لین دین کرتا رہا اور پانی اور لکڑی بھرتا رہا۔ گرینلی کے مطابق یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ یہ جزیرہ ہے یا براعظم۔ کابرال نے گاسپر دے لیموس (Gaspar de Lemos) کی کمان میں رسد کا ایک جہاز یہ خبر دے کر واپس پرتگال بھیجا، اور اس میں جانے والے دو خط بچ گئے ہیں: ایک کامینیا کا اور دوسرا بیڑے کے ماہرِ فلکیات "ماسٹر جان" کا۔

کامینیا کا خط

کامینیا کا خط "اس پورتو سیگورو سے، جمعہ، مئی کی پہلی تاریخ، 1500ء" کو لکھا گیا۔ وہ بادشاہ کو بتاتا ہے کہ نظر آنے والا ساحل بیس پچیس فرسنگ لمبا ہو گا، کنارے پر کہیں سرخ اور کہیں سفید مٹی کے اونچے ٹیلے ہیں، اور اوپر کی زمین ہموار اور بڑے جنگلوں سے ڈھکی ہے: "جہاں تک نظر جاتی تھی، ہمیں صرف زمین اور جنگل دکھائی دیتے تھے۔"

وہ صاف لکھتا ہے کہ اب تک انہیں یہاں سونا، چاندی یا لوہا نہیں ملا، مگر آب و ہوا پرتگال کے شمالی علاقے انترے دورو اے مینیو (Entre Douro e Minho) کی طرح معتدل ہے، اور "اس کے پانی کی کوئی انتہا نہیں"، اس لیے اس میں سب کچھ اگ سکتا ہے۔ اس کے بقول کچھ اور نہ ہو تو یہ کالی کٹ جانے والے جہازوں کے ٹھہرنے کی جگہ کے طور پر ہی کافی ہے۔ گرینلی کے مطابق بعد میں اس ملک کا نام یہاں کی سرخ لکڑی "برازیل وُڈ" کی وجہ سے "برازیل" پڑا، جس کی رنگ سازی کے لیے یورپ میں بڑی تجارت شروع ہوئی۔

راس امید کا طوفان

بیڑا برازیل سے سیدھا افریقہ کی جنوبی نوک کی طرف روانہ ہوا، ایک ایسے سمندر میں جس میں گرینلی کے مطابق پہلے کوئی جہاز نہیں چلا تھا۔ 12 مئی کو ایک دم دار ستارہ نمودار ہوا جو دس دن نظر آتا رہا، اور ملاحوں نے اسے بدشگونی سمجھا۔ 24 مئی کو اچانک طوفان آیا اور چار جہاز ڈوب گئے، جن میں بارتولومیو دیاس کا جہاز بھی تھا؛ جس ملاح نے سب سے پہلے یہ راس دیکھی تھی، وہ اسی کے قریب سمندر میں کھو گیا۔ باقی سات جہاز پھٹے بادبانوں کے ساتھ بکھر گئے۔ ان میں سے دیاس کے بھائی دیوگو دیاس (Diogo Dias) کا جہاز بھٹک کر آگے نکل گیا اور اس نے مڈغاسکر کا جزیرہ دیکھا، جہاں گرینلی کے خیال میں اس سے پہلے کوئی یورپی نہیں پہنچا تھا۔

ہندوستان اور واپسی

کابرال 20 جولائی کو موزمبیق، 26 جولائی کو کِلوا (Kilwa) اور 2 اگست کو ملندی پہنچا، جہاں اس کا دوستانہ استقبال ہوا اور ہندوستان کے لیے پائلٹ ملے۔ 13 ستمبر 1500ء کو چھ جہاز کالی کٹ کے سامنے لنگر انداز ہوئے۔ وہاں کا قیام شدید جھگڑے پر ختم ہوا جس میں کئی پرتگالی مارے گئے یا پکڑے گئے؛ گرینلی کے مطابق ان میں خط لکھنے والا کامینیا بھی شامل تھا۔ پھر کابرال جنوب میں کوچین (Cochin) گیا، جہاں 24 دسمبر کو پہنچا اور وہاں اور قریب کے شہر کرانگانور سے مسالے لادے؛ واپسی میں کننور (Cannanore) سے بھی سامان ملا۔

افریقہ کے ساحل کے قریب سانچو دے توار (Sancho de Tovar) کا جہاز ریت میں پھنس گیا اور اسے جلانا پڑا، البتہ عملہ بچ گیا۔ کیپ ورڈ کے قریب بیسیگیچے (Beseguiche) کی بندرگاہ پر کابرال کے بیڑے کے دو جہاز ان تین جہازوں سے ملے جو برازیل کے ساحل کی مزید کھوج کے لیے لزبن سے نکلے تھے اور جن کے ساتھ امریگو ویسپوچی (Amerigo Vespucci) تھا۔

سب سے تیز جہاز "انونسیادا" 23 جون 1501ء کو لزبن پہنچا، اور گرینلی کے مطابق خود کابرال غالباً 21 جولائی 1501ء کو۔ تیرہ جہازوں میں سے صرف پانچ ہندوستان سے مال لے کر لوٹے، چھ سمندر میں ضائع ہوئے اور دو خالی واپس آئے۔ گرینلی لکھتے ہیں کہ اُس وقت برازیل اور مڈغاسکر کی دریافت کو اس سفر کے محض ضمنی واقعات سمجھا گیا، جن کی اہمیت لکڑی اور پانی لینے کی جگہ سے زیادہ نہ تھی۔

اگلی قسط: امریگو ویسپوچی: نئی دنیا کا نام۔

ماخذ

  1. The Voyage of Pedro Álvares Cabral to Brazil and India, from Contemporary Documents and Narratives, translated with introduction and notes by William Brooks Greenlee, Hakluyt Society, Second Series, London, 1938 (Introduction, "The Voyage", pp. xviii–xxxi; Letter of Pedro Vaz de Caminha to King Manuel, Porto Seguro, 1 May 1500, with notes; introduction to the Vespucci letter from Beseguiche; biographical notes on Bartolomeu and Diogo Dias). Internet Archive copy. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.57073
  2. Mark Cartwright, "Vasco da Gama", World History Encyclopedia, 3 June 2021 (Cabral's expedition of 13 ships and 1,500 men, March 1500). https://www.worldhistory.org/Vasco_da_Gama/

مہمات: تمام تحریریں ←