رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 22° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
پیپلز پارٹی اقتدار کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی: شرجیل میمندہشت گردی کا بہانہ بنا کر گورنر راج لگایا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ ہیں: بیرسٹر گوہراپوزیشن نے سہیل آفریدی اور ارکان کی مبینہ حراست کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھا دیالاہور میں نان کی قیمت 5 روپے بڑھ کر 35 روپے ہو گئی، روٹی 20 روپے پر برقرارانڈر 17 ون ڈے: پاکستان نے سری لنکا کو پانچ وکٹوں سے ہرا دیا، سیریز میں 1-2 کی برترییوکرین کے لیے جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے: ٹرمپ، اوسلو مذاکرات کے بعد ایلچی وٹکوف روس میںٹیلر سوئفٹ نیلے لباس میں سنڈریلا لک کی وجہ سے مداحوں کی توجہ کا مرکزخلیجی کشیدگی کے پیش نظر مانیٹری پالیسی میں شرح سود نہ بڑھائی جائے: فیصل معیز خاناسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 26 اکتوبر کو، شرح سود میں اضافے کا امکانپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا دوحہ میں «بدر» دفاعی مفاہمتی یادداشت پر دستخطخیبرپختونخوا اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی کے ساتھ متحد ہیں: بیرسٹر گوہرجامعہ تربت کے شعبہ تعلیم کے بورڈ آف اسٹڈیز کا چھٹا اجلاس، ایم فل ایجوکیشن نصاب کا جائزہ

کاریز: صحرا کے نیچے بہتی ندیاں

بلوچستان کے کسی خشک گاؤں سے پہاڑ کی طرف دیکھیں تو زمین پر ایک قطار میں چھوٹے چھوٹے گڑھے نظر آتے ہیں۔ یہ گڑھے دراصل کنوؤں کے منہ ہیں، اور ان کے نیچے ایک سرنگ چلتی ہے جس میں پانی…

کاریز: صحرا کے نیچے بہتی ندیاں
علامتی تصویر

بلوچستان کے کسی خشک گاؤں سے پہاڑ کی طرف دیکھیں تو زمین پر ایک قطار میں چھوٹے چھوٹے گڑھے نظر آتے ہیں۔ یہ گڑھے دراصل کنوؤں کے منہ ہیں، اور ان کے نیچے ایک سرنگ چلتی ہے جس میں پانی بغیر کسی پمپ، بجلی یا ایندھن کے، صرف ڈھلوان کے سہارے گاؤں تک پہنچتا ہے۔ اسے ہمارے ہاں کاریز کہتے ہیں، ایران میں قنات۔ یہ انسان کی ان ایجادات میں سے ہے جنہوں نے صحرا کو آباد رہنے کے قابل بنایا۔

کاریز کیا ہے

کاریز زیرِ زمین پانی تک پہنچنے کا ایک طریقہ ہے۔ دریا، جھیل یا چشمے کے بجائے اس کا ماخذ زمین کے اندر کا پانی ہوتا ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اسے شمالی افریقہ میں فگارہ، عمان اور امارات میں فلج، ایران میں کاریز اور پیرو میں پکیو کہا جاتا ہے۔

ماہر کاریگر، جنہیں ایران میں مقنی کہا جاتا تھا، پہلے پہاڑ کے دامن میں مٹی اور بجری کا وہ ڈھلوانی میدان پہچانتے جہاں نیچے پانی ہو۔ وہاں ایک گہرا کنواں کھودا جاتا جسے "مادر چاہ" یا ماں کنواں کہتے ہیں۔ یہ کنواں اکثر سو میٹر کے قریب گہرا ہوتا اور سب سے گہرا ریکارڈ شدہ کنواں تقریباً تین سو میٹر تک پہنچا۔ پھر ماں کنویں سے گاؤں تک ایک ہلکی ڈھلوان والی سرنگ کا راستہ طے کیا جاتا۔ ڈھلوان اتنی رکھی جاتی کہ پانی رواں رہے مگر سرنگ کو نقصان نہ پہنچائے۔

اس راستے پر وقفے وقفے سے عمودی کنویں کھودے جاتے۔ عالمی بینک کے بلوچستان پر ایک مطالعے کے مطابق یہ کنویں عموماً پندرہ سے تیس میٹر کے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ ان سے ملبہ نکالا جاتا اور بعد میں یہ ہوا اور صفائی کا راستہ بنتے۔ ایک کاریز ایک کلومیٹر جتنی چھوٹی بھی ہو سکتی ہے اور پچاس کلومیٹر تک لمبی بھی۔

پرانا ترین ثبوت اور ابتدا

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق آثارِ قدیمہ سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار قبل مسیح کی بستیاں قنات پر انحصار کرتی تھیں، یعنی یہ نظام کم از کم تین ہزار سال پرانا ہے۔ یہ اب تک کا قدیم ترین معلوم ثبوت ہے۔

اس کی جائے پیدائش پر ماہرین کی دو آرا ہیں۔ عام رائے یہ ہے کہ یہ قدیم فارس کی ایجاد ہے جو ہخامنشی سلطنت (تقریباً 550 تا 330 قبل مسیح) کے پھیلاؤ کے ساتھ دور دور تک پہنچی۔ یونانی مؤرخ پولیبیئس (Polybius) کے مطابق فارسی حکمران بنجر زمین تک پانی لانے والوں کو پانچ نسلوں تک اس زمین کی کاشت کا حق دیتے تھے۔ دوسری، نئی رائے یہ ہے کہ اس کی ابتدا جنوبی عرب، یعنی آج کے عمان اور امارات، میں ہوئی، اور وہاں سے یہ فارس پہنچی یا وہاں الگ سے وجود میں آئی۔

یہ کیسے پھیلی

مشرق کی طرف کاریز کے افغانستان، پاکستان، چین اور جاپان تک پہنچنے کو ماہرین تجارتی راستوں، خصوصاً شاہراہِ ریشم، کے رابطوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ امریکہ میں یہ ہسپانوی نوآبادکاروں کے ساتھ پہنچی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق آج بھی تقریباً 35 ملکوں میں دسیوں ہزار قناتیں کام کر رہی ہیں۔

2016 میں یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی نے استنبول میں اپنے چالیسویں اجلاس میں "فارسی قنات" کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ اس فہرست میں ایران کی گیارہ قناتیں ہیں۔ یونیسکو کے بیان میں لکھا ہے کہ ایران کے صحرائی سطح مرتفع پر تہذیب کی بنیاد اتنی گہری حد تک انہی نالیوں پر تھی کہ اسے "قنات یا کاریز کی تہذیب" کہا گیا ہے۔

پانی کی منصفانہ تقسیم

کاریز صرف انجینئری نہیں، ایک سماجی نظام بھی ہے۔ یونیسکو کے مطابق ان قناتوں کے ساتھ روایتی اجتماعی انتظام آج تک قائم ہے جو پانی کی منصفانہ اور پائیدار تقسیم ممکن بناتا ہے۔ عالمی بینک کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بلوچستان میں بھی کاریز برادری کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے، قبیلے کے رشتے پانی کے حصوں میں منتقل ہوتے ہیں۔

پانی زمین کے نیچے بہتا ہے، اس لیے بخارات بن کر کم اڑتا ہے۔ کاریز کا رقبہ اتنا ہی رکھا جاتا جتنا اس کا بہاؤ سیراب کر سکے، یوں زیرِ زمین پانی ختم نہیں ہوتا تھا۔

بلوچستان کی کاریزیں آج

عالمی بینک کی 2020 کی رپورٹ ایک پرانے مطالعے کے حوالے سے بتاتی ہے کہ صوبے کی کچھ کاریزیں 1525 سے پہلے بنی تھیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق کاریز کی بدولت خانہ بدوش قبائل ایک جگہ بس کر اپنے مویشیوں کے لیے چارہ اگانے لگے، اور چند دہائیاں پہلے تک بالائی بلوچستان کی زرعی معیشت کا زیادہ تر دار و مدار اسی کے پانی پر تھا۔

مگر اب یہ نظام مشکل میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1970 میں صوبے میں تقریباً تین ہزار کاریزیں تھیں، جن میں سے صرف ایک تہائی کے قریب اب کام کر رہی ہیں۔ 1960 کی دہائی سے بار بار کی خشک سالی نے زیرِ زمین پانی کی بھرائی کم کر دی، اور کسانوں نے ٹیوب ویل لگانے شروع کیے۔ 1970 کی دہائی سے ٹیوب ویلوں کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ کر چالیس ہزار سے زیادہ ہو گئی، اور بعض علاقوں میں پانی کی سطح ہر سال پانچ میٹر سے زیادہ گر رہی ہے۔ نتیجہ یہ کہ بہت سی کاریزیں سوکھ گئیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق پشین کے ایک علاقے میں کبھی 32 کاریزیں تھیں، اب صرف دو باقی ہیں، اور ان میں سے ایک تقریباً دو سو سال پرانی ہے۔

اس کے باوجود عالمی بینک کے مطابق کاریز آج بھی غریب گھرانوں کے لیے پینے، گھریلو استعمال اور مویشیوں کے پانی کا سہارا ہے۔

تین ہزار سال پرانی یہ ایجاد آج ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے: کیا ہم زمین سے اتنا ہی پانی لینا سیکھ سکتے ہیں جتنا وہ واپس بھر سکے؟ کاریز بنانے والوں نے یہ سبق بہت پہلے سیکھ لیا تھا۔

ماخذ

  1. UNESCO World Heritage Committee, Decision 40 COM 8B.21, "The Persian Qanat (Islamic Republic of Iran)", 40th session, Istanbul, 2016. https://whc.unesco.org/en/decisions/6799 — inscription in 2016 under criteria (iii) and (iv); gravity-fed tunnels from alluvial aquifers; shaft wells visible as craters; eleven qanats with rest areas, reservoirs and watermills; "Qanat (or Kariz) Civilisation"; traditional communal management and equitable water sharing.
  2. Corey S. Vaughan, "Qanat", World History Encyclopedia, 8 February 2021. https://www.worldhistory.org/qanat/ — regional names; Persian-origin view and spread under the Achaemenids (c. 550–330 BCE); Polybius on five generations of cultivation rights; south Arabian-origin view; settlements c. 1,000 BCE dependent on qanats; mother well about 100 m, deepest 300 m; length 1–50 km; spread east via the Silk Road and to the Americas with Spanish colonisation; tens of thousands still working in about 35 countries.
  3. Muhammad Ashraf and Faizan ul Hasan, "Groundwater Management in Balochistan, Pakistan: A Case Study of Karez Rehabilitation", Water Knowledge Note, World Bank, 2020 (doi:10.1596/33241). https://openknowledge.worldbank.org/handle/10986/33241 — about 3,000 karez in 1970, one-third still working; tubewells 5,000 to over 40,000; water table falling over 5 m a year in some basins; shafts 15–30 m apart; community ownership and water rights; some karez built before 1525 (citing Kahlown, Khalil and Munir 1988).
  4. Rina Saeed Khan, "Why reverting to the karez system might save Balochistan's water and drought crisis", The Express Tribune, 11 November 2018. https://tribune.com.pk/article/73046/why-reverting-to-the-karez-system-might-save-balochistans-water-and-drought-crisis — Pishin: 32 karez formerly, two still working, one about 200 years old; check dam built to recharge groundwater.
  5. "Qanat", Wikipedia (pointer only, not relied on for any figure in the text). https://en.wikipedia.org/wiki/Qanat

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←