رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
یوکرین کے لیے جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے: ٹرمپ، اوسلو مذاکرات کے بعد ایلچی وٹکوف روس میںٹیلر سوئفٹ نیلے لباس میں سنڈریلا لک کی وجہ سے مداحوں کی توجہ کا مرکزخلیجی کشیدگی کے پیش نظر مانیٹری پالیسی میں شرح سود نہ بڑھائی جائے: فیصل معیز خاناسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 26 اکتوبر کو، شرح سود میں اضافے کا امکانپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا دوحہ میں «بدر» دفاعی مفاہمتی یادداشت پر دستخطخیبرپختونخوا اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی کے ساتھ متحد ہیں: بیرسٹر گوہرجامعہ تربت کے شعبہ تعلیم کے بورڈ آف اسٹڈیز کا چھٹا اجلاس، ایم فل ایجوکیشن نصاب کا جائزہاسلام آباد: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا قومی مباحثے میں مؤقف، بلوچستان کو مزید انتظامی یونٹس اور مؤثر بلدیاتی نظام کی ضرورتکوئٹہ: گورنر جعفرخان مندوخیل سے میر سلیم احمد کھوسہ کی ملاقات، انفراسٹرکچر کی ترقی پر تبادلہ خیالبلوچستان کو مزید انتظامی یونٹس، مؤثر بلدیاتی نظام اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے: سرفراز بگٹیمحسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئے

ہینو: کارتھیج کا امیر البحر اور افریقہ کا مغربی ساحل

ساٹھ جہاز، تیس ہزار مرد اور عورتیں، اور ان کے ساتھ گندم اور رسد۔ یہ کسی جنگی بیڑے کی نہیں بلکہ نئی بستیاں بسانے والے ایک قافلے کی تفصیل ہے جو تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے شمالی افریقہ کے شہر…

ہینو: کارتھیج کا امیر البحر اور افریقہ کا مغربی ساحل
علامتی تصویر

ساٹھ جہاز، تیس ہزار مرد اور عورتیں، اور ان کے ساتھ گندم اور رسد۔ یہ کسی جنگی بیڑے کی نہیں بلکہ نئی بستیاں بسانے والے ایک قافلے کی تفصیل ہے جو تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے شمالی افریقہ کے شہر کارتھیج (Carthage) سے نکلا، جبل الطارق سے گزر کر بحرِ اوقیانوس میں داخل ہوا اور افریقہ کے مغربی ساحل کے ساتھ جنوب کی طرف چلتا گیا۔ اس کا سالار ہینو (Hanno) تھا، اور اس کا سفرنامہ، جو صرف چند صفحوں کا ہے، دنیا کے مشہور ترین قدیم سفرناموں میں سے ہے۔

پس منظر: کارتھیج اور سونے کی تجارت

کارتھیج آج کے تیونس کے قریب فونیقیوں کی بسائی ہوئی بستی تھی جو رفتہ رفتہ بحیرۂ روم کی ایک بڑی تجارتی طاقت بن گئی۔ ہیروڈوٹس، جس کا ذکر اس سلسلے میں بار بار آتا ہے، کارتھیج والوں سے سنی ہوئی ایک بات لکھتا ہے: ہرکولیس کے ستونوں سے باہر افریقہ کے ایک ساحل پر وہ اپنا مال کنارے پر سجا کر جہازوں میں واپس چلے جاتے اور دھواں کرتے۔ مقامی لوگ آ کر مال کے بدلے سونا رکھ دیتے اور پیچھے ہٹ جاتے۔ اگر سونا کافی ہوتا تو کارتھیجی اسے اٹھا کر چلے جاتے، ورنہ جہازوں میں بیٹھے انتظار کرتے یہاں تک کہ سونا بڑھا دیا جاتا۔ ہیروڈوٹس کے بقول اس لین دین میں کوئی فریق دوسرے کے ساتھ بے ایمانی نہیں کرتا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کارتھیج کے لیے یہ ساحل کتنا اہم تھا۔

سفرنامے کی کہانی

ہینو کا سفرنامہ ایک یونانی ترجمے کی صورت میں بچا ہے جسے "پیری پلس" (Periplus) یعنی ساحلی سفرنامہ کہا جاتا ہے۔ امریکی محقق ولفریڈ شوف (Wilfred H. Schoff) کے 1912ء کے انگریزی ترجمے میں اس کا عنوان یوں ہے: "کارتھیجیوں کے بادشاہ ہینو کا سفر، ہرکولیس کے ستونوں سے پرے لیبیا کے علاقوں کی طرف، جسے اس نے بعل کے مندر میں بھی نصب کیا"۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا میں مارک کارٹ رائٹ (Mark Cartwright) لکھتے ہیں کہ اصل تحریر پیونک زبان میں ایک یادگاری تختی پر تھی، اور یونانی ترجمہ صرف ایک قرونِ وسطیٰ کے مخطوطے میں محفوظ ہے جو آج جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے کتب خانے میں ہے۔ شوف کے مطابق یہ متن پہلی بار 1533ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل سے چھپا۔

سفر: بستیاں اور ہاتھی

متن کے مطابق کارتھیج والوں نے فیصلہ کیا کہ ہینو ہرکولیس کے ستونوں سے باہر جا کر بستیاں بسائے۔ وہ پچاس چپوؤں والے ساٹھ جہاز اور تقریباً تیس ہزار مرد و عورت لے کر نکلا۔ ستونوں سے دو دن آگے انہوں نے پہلا شہر تھیمیاتیریون (Thymiaterium) بسایا۔ پھر سولوئیس (Soloeis) نامی جنگل سے ڈھکی راس پر سمندر کے دیوتا کے نام قربان گاہ بنائی۔ آگے ایک دلدل ملی جس میں اونچے سرکنڈے تھے اور ہاتھی اور دوسرے جنگلی جانور بڑی تعداد میں چر رہے تھے۔ اس سے آگے انہوں نے ساحل پر پانچ اور بستیاں آباد کیں۔

پھر وہ لِکسوس (Lixus) نامی بڑے دریا پر پہنچے جہاں خانہ بدوش لِکسیتی لوگ اپنے ریوڑ چراتے تھے۔ ہینو کے لوگ کچھ دن ان کے ساتھ رہے اور دوستی ہو گئی، اور یہیں سے انہوں نے ترجمان ساتھ لیے۔ اس کے بعد بارہ دن ایک ویران ساحل کے ساتھ جنوب کی طرف سفر کر کے ایک خلیج میں ایک چھوٹا جزیرہ ملا جس کا گھیر پندرہ اسٹیڈیا تھا۔ انہوں نے اسے آباد کیا اور اس کا نام کرنے (Cerne) رکھا۔ ہینو کا حساب تھا کہ کارتھیج سے ستونوں تک اور ستونوں سے کرنے تک کا سفر برابر ہے، اس لیے کرنے کارتھیج کے مقابل ہے۔

آگ کے ساحل اور "دیوتاؤں کی رتھ"

کرنے سے آگے ایک جھیل کے کنارے جانوروں کی کھالیں پہنے لوگوں نے پتھر مار کر انہیں اترنے نہ دیا۔ پھر ایک بہت بڑا اور چوڑا دریا آیا جو مگرمچھوں اور دریائی گھوڑوں سے بھرا تھا۔ شوف کے ترجمے کے حواشی میں اسے دریائے سینیگال قرار دیا گیا ہے۔

آگے کا سفر زیادہ پراسرار ہے۔ خوشبودار لکڑی والے جنگلوں سے ڈھکے پہاڑ آئے۔ رات کو ساحل پر ہر طرف آگ کے شعلے دکھائی دیتے، کبھی بڑے کبھی چھوٹے۔ "مغرب کا سینگ" نامی خلیج کے ایک جزیرے پر دن میں صرف جنگل نظر آیا، مگر رات کو آگ جلتی دکھائی دی اور بانسریوں، جھانجھوں اور ڈھولوں کی آواز اور بڑا شور سنائی دیا۔ ہینو لکھتا ہے کہ "ہم پر خوف طاری ہو گیا"، اور نجومیوں نے جزیرہ فوراً چھوڑنے کو کہا۔

اس کے بعد وہ ایک جلتے ہوئے، خوشبو سے بھرے علاقے کے پاس سے گزرے جہاں سے آگ کی دھاریں سمندر کی طرف بہہ رہی تھیں اور گرمی کی وجہ سے کنارے تک پہنچنا ممکن نہ تھا۔ چار دن بعد رات کو ساری زمین شعلوں سے ڈھکی دکھائی دی، اور بیچ میں ایک آگ باقی سب سے اونچی تھی جو گویا ستاروں کو چھو رہی تھی۔ دن میں معلوم ہوا کہ یہ ایک بہت اونچا پہاڑ ہے جسے "دیوتاؤں کی رتھ" کہا جاتا تھا۔

"گوریلائی" اور واپسی

تین دن اور سفر کر کے وہ "جنوب کا سینگ" نامی خلیج پہنچے۔ وہاں ایک جزیرے کی جھیل میں ایک اور جزیرہ تھا جس پر ایسے لوگ تھے جن کے جسم بالوں سے ڈھکے تھے، اور ترجمانوں نے انہیں "گوریلائی" (Gorillai) کہا۔ مرد پتھر پھینکتے ہوئے چٹانوں پر چڑھ کر بچ نکلے، مگر تین عورتیں پکڑی گئیں جنہوں نے کاٹا اور نوچا اور ساتھ چلنے سے انکار کیا؛ ملاحوں نے انہیں مار کر ان کی کھالیں کارتھیج پہنچائیں۔ ہینو کا آخری جملہ ہے: "ہم اس سے آگے نہیں گئے، کیونکہ رسد ختم ہو رہی تھی۔"

کارٹ رائٹ کے مطابق رومی مصنف پلینی (Pliny) لکھتا ہے کہ یہ کھالیں کارتھیج کے ایک مندر میں رکھی گئیں۔ یہ لوگ اصل میں کون تھے، انسان یا کسی قسم کے بن مانس، یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ آن لائن ایٹیمولوجی ڈکشنری کے مطابق 1847ء میں امریکی مشنری تھامس سیویج (Thomas Savage) نے افریقہ کے ایک بڑے بن مانس کا نام اسی متن سے لے کر "گوریلا" رکھا۔

ہینو کہاں تک گیا؟

سفر کی تاریخ معلوم نہیں۔ شوف انیسویں صدی کے برطانوی محقق بنبری (Bunbury) کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ تقریباً 520 ق م یا تقریباً 470 ق م کا ہو سکتا ہے، اور کارٹ رائٹ اسے چھٹی صدی قبل مسیح کے آخر سے تقریباً 425 ق م کے درمیان رکھتے ہیں۔

ہینو کتنی دور گیا، یہ اس سفرنامے کا سب سے بڑا سوال ہے اور محققین آج بھی اس پر متفق نہیں: کچھ کے نزدیک وہ سیرالیون تک پہنچا، دوسروں کے نزدیک کیمرون یا گیبون تک، اور "دیوتاؤں کی رتھ" کو کوئی گنی کا کاکولیما (Kakulima) پہاڑ سمجھتا ہے تو کوئی کیمرون کا آتش فشاں۔ کارٹ رائٹ لکھتے ہیں کہ چھوٹے راستے کے حامیوں کی دلیل یہ ہے کہ متن میں دیے گئے دنوں میں اتنا دور جانا مشکل تھا، مگر اس صورت میں بھی صرف جانے کا سفر تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر بنتا ہے۔ وہ اطالوی مؤرخ موسکاتی (Moscati) کی یہ رائے بھی نقل کرتے ہیں کہ متن کی جغرافیائی غلطیاں شاید جان بوجھ کر رکھی گئیں تاکہ دوسرے سوداگر کارتھیج کے تجارتی راستوں تک نہ پہنچ سکیں۔

اہمیت

ہینو کا سفرنامہ مغربی افریقہ کے ساحل کے قدیم ترین تحریری بیانات میں سے ہے۔ اس میں ہاتھیوں سے بھری دلدلیں، مگرمچھوں والے دریا، رات کو جلتی آگ اور ڈھولوں کی آوازیں ہیں، اور ایک ایسا پہاڑ جس کی آگ ستاروں کو چھوتی تھی۔ شوف کے نقل کردہ بنبری کے مطابق اس مختصر متن پر شاید ہی کسی اور قدیم تحریر جتنی طویل شرحیں لکھی گئیں؛ ان میں سب سے پرانی 1550ء میں اطالوی مرتب رامُوسیو (Ramusio) نے شامل کی، جو پرتگالی ذرائع پر مبنی تھی، کیونکہ جدید دور میں ان ساحلوں تک سب سے پہلے پرتگالی ملاح ہی پہنچے تھے۔ قدیم دنیا کی یہ مہمات، مصر سے پنٹ، فونیقیوں کا افریقہ کا چکر، اسکائلیکس کا سندھ کا سفر اور ہینو کا مغربی ساحل، قدیم دنیا کے نقشے کی پہلی لکیریں تھیں۔ اگلی قسط میں ہم اس مسافر سے ملیں گے جس نے ان میں سے کئی کہانیاں پہلی بار ایک کتاب میں جمع کیں۔

اگلی قسط: ہیروڈوٹس: تاریخ کا باپ، جو خود سفر کر کے سوال پوچھتا تھا۔

ماخذ

  1. Hanno, The Periplus of Hanno: A Voyage of Discovery down the West African Coast, by a Carthaginian Admiral of the Fifth Century B.C., translated from the Greek by Wilfred H. Schoff, The Commercial Museum, Philadelphia, 1912 (text §§1–18, notes on the geography, and the editions note quoted from Bunbury). https://archive.org/details/cu31924031441847
  2. Mark Cartwright, "Hanno: Carthaginian Explorer", World History Encyclopedia, 22 June 2016. https://www.worldhistory.org/article/913/hanno-carthaginian-explorer/
  3. Herodotus, The History of Herodotus, Volume 1 (Books I–IV), translated by G. C. Macaulay, Macmillan, London, 1890; Project Gutenberg eBook #2707, Book IV.196 (the Carthaginians' silent trade). https://www.gutenberg.org/ebooks/2707
  4. "Gorilla", Online Etymology Dictionary (Thomas Savage, 1847). https://www.etymonline.com/word/gorilla
  5. Wikimedia Commons, "File:HannoRouteMap.svg" (map by Bourrichon, CC BY-SA 3.0). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:HannoRouteMap.svg

مہمات: تمام تحریریں ←