ضلع دُکی: تھل چوٹیالی کا میدان، مغل دور کی سرحدی چوکی اور کوئلے کی کانیں
دُکی بلوچستان کے شمال مشرقی حصے کا ایک نیا ضلع ہے جو پہلے ضلع لورالائی کی ایک تحصیل تھا۔ پاکستان ادارۂ شماریات کی صوبائی مردم شماری رپورٹ 2023ء کے جدول 2.3 کے مطابق 2017ء کی مردم شماری کے بعد لورالائی…

تعارف اور محلِ وقوع
دُکی بلوچستان کے شمال مشرقی حصے کا ایک نیا ضلع ہے جو پہلے ضلع لورالائی کی ایک تحصیل تھا۔ پاکستان ادارۂ شماریات کی صوبائی مردم شماری رپورٹ 2023ء کے جدول 2.3 کے مطابق 2017ء کی مردم شماری کے بعد لورالائی کی تحصیل دکی کو الگ کر کے ضلع دکی بنایا گیا۔ اسی جدول کے مطابق بعد میں لورالائی، دکی، بارکھان اور موسیٰ خیل کو ژوب ڈویژن سے نکال کر ایک نئی لورالائی ڈویژن بنائی گئی۔ ضلع بننے کی سرکاری تاریخ کا نوٹیفکیشن اس صفحے کی تیاری کے دوران ہمارے سامنے نہیں آ سکا۔ جولائی 2026ء کی انتظامی تنظیمِ نو میں دکی کی نئی ڈویژنی حیثیت کی ہم تصدیق نہیں کر سکے، اس لیے یہ صفحہ 2023ء کی حدود پر ہے۔
2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع دکی کا رقبہ 4,233 مربع کلومیٹر اور آبادی 205,044 ہے، جس میں 107,221 مرد، 97,775 عورتیں اور 48 خواجہ سرا شامل ہیں۔ آبادی کی کثافت تقریباً 48 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ ضلع بہت حد تک دیہی ہے: صرف 4.77 فیصد لوگ شہری علاقے میں رہتے ہیں، اور یہ شہری آبادی دکی میونسپل کمیٹی کے 9,783 باشندوں پر مشتمل ہے۔ ایک گھرانے میں اوسطاً 4.7 افراد ہیں۔ 2017ء میں موجودہ حدود کے اندر آبادی 152,977 تھی، یعنی سالانہ اضافے کی شرح 5.02 فیصد رہی۔
مردم شماری کے جدول میں ضلع کے چار انتظامی حصے ہیں: دکی سب ڈویژن (938 مربع کلومیٹر، آبادی 137,294)، لونی سب ڈویژن (553 مربع کلومیٹر، 13,615)، تلاؤ سب تحصیل (1,697 مربع کلومیٹر، 21,930) اور تھل چوٹیالی سب ڈویژن (1,045 مربع کلومیٹر، 32,205)۔ صوبائی رپورٹ کے مطابق لونی، تلاؤ اور تھل چوٹیالی کے یونٹ 2017ء کے بعد دکی تحصیل کے حصوں سے بنائے گئے۔
1907ء کے لورالائی گزیٹیئر کے مطابق دکی تحصیل کی بلندی تین سے پانچ ہزار فٹ تھی اور اس میں کئی بڑے میدان تھے: مشرق میں چمالنگ کی وادی، درمیان میں تھل کا میدان اور شمال مغرب میں رباط کا میدان۔ تھل چوٹیالی کا ہموار میدان لمبائی میں تقریباً 36 میل اور چوڑائی میں 14 میل تک تھا، اور گزیٹیئر لکھتا ہے کہ پہاڑوں سے دیکھنے پر یہ "اندرونی سمندر" جیسا دکھائی دیتا تھا۔
تاریخ
دکی کا ذکر مغل تاریخ میں بار بار آتا ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق 1545ء میں جب ہمایوں کابل واپس گئے تو دکی کے ایک زمیندار میر سید علی ان کے پاس حاضر ہوئے، جن کا افغانوں اور بلوچوں دونوں میں احترام تھا، اور ہمایوں نے دکی انہیں عطا کر دیا۔ اس وقت دکی صوبۂ قندھار کا ایک تابع علاقہ تھا۔ 1595ء میں اکبر نے قندھار دوبارہ حاصل کیا، اور گزیٹیئر کے مطابق اکبر کے دور میں دکی قندھار کا مشرقی تابع علاقہ تھا جہاں عموماً فوجی دستہ رہتا تھا اور جو 500 سوار اور 1,000 پیادے فراہم کرتا تھا۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے ضلع لورالائی کے تاریخی صفحے پر بھی یہی تفصیل درج ہے۔
1614ء میں دو انگریز تاجر رچرڈ اسٹیل اور جان کراؤدر اجمیر سے اصفہان جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرے۔ گزیٹیئر میں نقل ان کے سفرنامے کے مطابق انہوں نے "ڈکی" نامی قصبے کا ذکر کیا جہاں مغلوں کا مٹی کی دیواروں والا ایک چھوٹا قلعہ تھا، اور قافلہ تین دن اس لیے رکا رہا کہ قلعے کا کپتان ہر اونٹ پر محصول مانگ رہا تھا۔
1653ء میں شاہجہان نے قندھار واپس لینے کے لیے اپنے بڑے بیٹے داراشکوہ کی سربراہی میں بڑی مہم بھیجی۔ گزیٹیئر کے مطابق داراشکوہ سنگھڑ درے اور دکی کے راستے پشین گئے۔ اس وقت ایرانیوں کے دکی اور چوٹیالی میں قلعے تھے، مگر مغل لشکر کے پہنچنے سے پہلے وہ انہیں خالی کر گئے۔ گزیٹیئر کے مطابق یہ قندھار واپس لینے کی مغلوں کی آخری کوشش تھی۔
برطانوی دور میں دکی کی اہمیت فوجی تھی۔ گزیٹیئر کے مطابق یہ علاقہ 1879ء کے معاہدۂ گندمک کے تحت انگریزوں کے قبضے میں آیا۔ 1883ء میں دکی میں چھاؤنی بنانے کا فیصلہ ہوا اور تھل چوٹیالی کی فوج یہاں منتقل کی گئی؛ دکی کے پہلے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کیپٹن گیسفورڈ تھے۔
گزیٹیئر کے مطابق 1886ء میں دکی کی چھاؤنی آگے لورالائی منتقل کر دی گئی، اور یکم نومبر 1887ء کو دکی اور تھل چوٹیالی کو باقاعدہ برطانوی ہندوستان کا حصہ قرار دیا گیا۔ اکتوبر 1903ء میں دکی تحصیل نئے ضلع لورالائی میں شامل کی گئی۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کے مطابق ضلع دکی میں 191,249 افراد، یعنی تقریباً 93 فیصد آبادی، پشتو بولتی ہے۔ بلوچی بولنے والے 9,944 (تقریباً 5 فیصد) ہیں، جبکہ براہوئی (1,409)، سرائیکی (708) اور سندھی (470) بولنے والے بہت کم ہیں۔ مذہب کے جدول کے مطابق 204,086 باشندے مسلمان ہیں، 799 مسیحی اور 30 ہندو ہیں۔
1907ء کے گزیٹیئر کے مطابق 1901ء میں دکی تحصیل کی آبادی صرف 12,365 تھی اور مقامی باشندے پشتو بولنے والے تھے۔ اہم قبائل میں ترین، لونی، کاکڑ، زرکون، غلزئی اور کھیتران شامل تھے۔ گزیٹیئر کے مطابق لونی قبیلے کے 2,556 افراد میں سے 2,474 دکی تحصیل میں رہتے تھے، خاص طور پر لونی اور لاکھی کے حلقوں میں۔
مردم شماری کے مطابق دس سال اور زیادہ عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 44.18 فیصد ہے: مردوں میں 53.91 اور عورتوں میں 33.43 فیصد۔ دوسری طرف 5 سے 16 سال کے 46,819 بچے اسکول سے باہر ہیں، اور صوبائی رپورٹ دکی کو ان آٹھ اضلاع میں شمار کرتی ہے جہاں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہاں نصف سے زیادہ گھروں میں پینے کا پانی گھر کے اندر دستیاب ہے۔
معیشت
گزیٹیئر کے زمانے میں دکی کی معیشت زراعت اور گلہ بانی پر چلتی تھی۔ کاشت کا نصف سے زیادہ حصہ سیلابی پانی اور بارش پر تھا، اور باقی کے لیے 8 ندیاں، 31 کاریزیں، 34 چشمے اور ایک کنواں تھا۔ ربیع کی فصل سب سے اہم تھی جس میں گندم بنیادی خوراک اور سب سے بڑی فصل تھی؛ خریف میں جوار، مکئی اور چاول ہوتے تھے۔ گزیٹیئر کے مطابق چمالنگ کی وادی میں مشرقی بلوچستان کی بہترین چراگاہیں تھیں جہاں سردیوں میں غلزئی پاوندے اپنے ریوڑ لاتے تھے۔
دکی کی دوسری پہچان کوئلہ ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق 1892ء میں جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے اولڈہم نے دکی کے قریب کئی جگہ کوئلہ پایا مگر اسے اہم نہیں سمجھا گیا۔ نومبر 1903ء میں دکی اسٹیشن سے ڈیڑھ میل دور تقریباً دو فٹ موٹی تہہ ملی جس کے کوئلے کو کوئٹہ کے سور رینج کے کوئلے سے بہتر قرار دیا گیا۔ وہاں 150 فٹ گہرے دو شافٹ کھودے گئے اور تقریباً 185 ٹن کوئلہ نکالا گیا، اور فوج کے محکمۂ رسد نے اگلی سردیوں کے لیے 300 ٹن خریدنے کا معاہدہ کیا۔ آج کے دور میں ادارۂ شماریات کی صوبائی رپورٹ دکی کو ان سات علاقوں میں شمار کرتی ہے (دیگر: ڈیگاری، سنجدی، مچھ، پیر اسماعیل، زیارت اور چمالنگ) جن میں مجموعی طور پر 217 ملین ٹن کوئلے کے ذخائر بتائے گئے ہیں۔
قابلِ دید مقامات
ڈابر کوٹ (شیرغلئی) کا ٹیلہ: گزیٹیئر کے مطابق یہ ٹیلہ دکی سے دس میل جنوب مشرق اور تھل کے قلعے سے تین میل شمال مغرب میں ہے۔ ماہرِ آثار ایم اے اسٹائن نے 1904ء میں اس کا جائزہ لیا اور لکھا کہ یہ تقریباً 80 فٹ اونچا ہے اور سرحد پر ان کے علم میں سب سے بڑا قدیم ٹیلہ ہے۔ ان کے خیال میں اس کی سب سے نچلی تہیں غالباً قبل از تاریخ دور کی ہیں۔
چوٹیالی میں نانا صاحب کا مزار: گزیٹیئر کے مطابق اس مزار کی بڑی عقیدت تھی اور یہاں سبی، کوئٹہ پشین اور لورالائی کے علاوہ جنوبی افغانستان سے بھی زائرین آتے تھے۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate (Balochistan districts), PDF p. 2 (Duki district and sub-divisions). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 2: Urban Localities (Balochistan), PDF p. 1 (Duki MC). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_2_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, Sex and Rural/Urban (Balochistan districts), PDF p. 6. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf ; Table 9: Population by Religion, PDF p. 7. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_9_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 12: Literacy Rate and Out of School Population (Balochistan districts), PDF pp. 8-9. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_12_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad: pp. 46-47 (Table 2.3, Duki district and its sub-divisions formed after 2017), p. 49 (Table 2.3, Loralai division), p. 57 (coal resources), p. 94 (out-of-school brackets), p. 117 (drinking water inside home). Printed page numbers read from the page footers of the PDF. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- Rai Sahib Jamiat Rai (comp.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. II: Loralai District, Bombay: Times Press, 1907: pp. 32-36 (Mughal period, Steel and Crowther, Dara Shikoh), pp. 38-41 (British period, Duki cantonment, 1884 attack, 1886-87), pp. 44-48 (Thal mounds; M. A. Stein on the Sherghalai/Dabar Kot mound), pp. 85-86 (Lunis), pp. 227-229 (coal), pp. 338-344 (Duki tahsil, Duki station and village). Printed page numbers from the running heads of the OCR text. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279670
- Balochistan High Court, District Judiciary Loralai, "History of District" (Duki under the Mughals, 1595 recovery by Akbar). https://bhc.gov.pk/district-judiciary/loralai/introduction/history
- July 2026 restructuring, as recorded in content/districts/00-district-list.md: Dawn, "Balochistan undergoes major restructuring", 12 July 2026, https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring ; ProPakistani, 12 July 2026, https://propakistani.pk/2026/07/12/balochistan-govt-notifies-new-divisions-and-districts/ (not opened in this session)



