الادریسی اور “نزہۃ المشتاق”: صقلیہ کے دربار میں بنا دنیا کا نقشہ
سوچیے کہ ساڑھے آٹھ سو برس پہلے، اٹلی کے جنوب میں جزیرہ صقلیہ (سسلی) کے ایک بادشاہ کے حکم پر خالص چاندی کا ایک بہت بڑا گول تختہ ڈھالا گیا جس پر ساری معلوم دنیا کے سمندر، دریا، شہر اور…
سوچیے کہ ساڑھے آٹھ سو برس پہلے، اٹلی کے جنوب میں جزیرہ صقلیہ (سسلی) کے ایک بادشاہ کے حکم پر خالص چاندی کا ایک بہت بڑا گول تختہ ڈھالا گیا جس پر ساری معلوم دنیا کے سمندر، دریا، شہر اور راستے کندہ کیے گئے۔ اس نقشے کے ساتھ ایک کتاب لکھی گئی جس میں مکران کے کھجور کے باغ، دیبل کی بندرگاہ اور منصورہ کے بازاروں تک کا ذکر ہے۔ یہ کتاب "نزہۃ المشتاق" تھی اور اس کا مصنف ایک مسلمان جغرافیہ دان، ابو عبداللہ محمد الادریسی (al-Idrisi)۔
سبتہ سے صقلیہ تک
انیسویں صدی کے برطانوی مؤرخ ہنری ایلیٹ (Henry Elliot) اور جان ڈاؤسن (John Dowson) کی کتاب "ہسٹری آف انڈیا ایز ٹولڈ بائی اٹس اون ہسٹورینز" کے مطابق الادریسی گیارہویں صدی کے آخر میں مراکش کے شہر سبتہ (Ceuta) میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان ادریس نامی ایک جدِ امجد کی نسبت سے ادریسی کہلاتا تھا؛ اسی خاندان نے نویں اور دسویں صدی میں مراکش پر حکومت کی تھی، اور اس کی ایک شاخ اندلس کے شہر مالقہ (Malaga) کی حکمران رہی۔
الادریسی نے یورپ میں سفر کیے اور آخرکار صقلیہ کے نارمن بادشاہ راجر دوم (Roger II) کے دربار میں جا بسے۔ ایلیٹ کے مطابق راجر ہی کی فرمائش پر انہوں نے جغرافیے کی یہ کتاب لکھی۔
پندرہ برس کی تحقیق
کتاب کے دیباچے میں، جس کا فرانسیسی ترجمہ پیئر آمیدے ژوبیر (P. Amédée Jaubert) نے 1836ء میں شائع کیا، الادریسی بتاتے ہیں کہ یہ کام کیسے ہوا۔ بادشاہ نے پہلے جغرافیے کی پرانی کتابیں جمع کیں۔ پھر اپنی پوری مملکت میں باخبر مسافروں کو تلاش کروا کے بلایا اور ترجمانوں کے ذریعے ان سے الگ الگ اور اکٹھے سوال کیے۔ جس بات پر سب متفق ہوتے وہ درست مان لی جاتی؛ جس میں اختلاف ہوتا اسے چھوڑ دیا جاتا۔ ایلیٹ کے بقول بعد کے ایک سوانح نگار کے مطابق باقاعدہ سمجھدار لوگوں کو سفر پر بھیجا گیا تاکہ وہ معلومات جمع کر کے لائیں۔
دیباچے کے مطابق یہ کام پندرہ برس سے زیادہ جاری رہا۔ پھر شہروں کے طول بلد، عرض بلد اور باہمی فاصلے معلوم کر کے لوہے کے پرکار سے ایک تختے پر ایک ایک مقام کا نشان لگایا گیا۔ آخر میں بادشاہ نے حکم دیا کہ خالص چاندی کا ایک بہت بڑا گول نقشہ ڈھالا جائے جس کا وزن چار سو پچاس رومی پاؤنڈ ہو، اور ماہر کاریگر اس پر ساتوں اقالیم، ملک، ساحل، سمندر، دریا، آباد اور ویران علاقے، راستوں کے فاصلے اور بندرگاہیں ٹھیک اسی خاکے کے مطابق کندہ کریں۔ ژوبیر ایک حاشیے میں وضاحت کرتے ہیں کہ عربی لفظ کا مطلب گول تختہ ہے، گلوب (کرہ) نہیں، جیسا کہ پہلے مترجموں نے سمجھا تھا۔
کتاب اور نقشہ
اس چاندی کے نقشے کی وضاحت کے لیے یہ کتاب لکھی گئی۔ دیباچہ بتاتا ہے کہ اس میں شہروں اور علاقوں، کھیتی باڑی، سمندروں، پہاڑوں، دریاؤں اور میدانوں کا بیان ہونا تھا؛ ہر ملک کی فصلیں اور پھل، لوگوں کے ہنر اور تجارت، عجائبات، آبادی، لباس، رسوم اور زبانیں۔ کتاب کا پورا نام "نزہۃ المشتاق فی اختراق الآفاق" ہے، جسے ایلیٹ نے یوں ترجمہ کیا: ان لوگوں کی تفریح جو دنیا کے خطوں میں گھومنا چاہتے ہیں۔ ژوبیر کے ترجمے کے مطابق کتاب 548ھ کے ماہِ شوال کے آخری دنوں میں، یعنی جنوری 1154ء کے وسط میں مکمل ہوئی۔
چاندی کا نقشہ آج موجود نہیں، مگر کتاب کے مخطوطات میں بنے نقشے باقی ہیں۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ نقشہ، جسے انگریزی میں "ٹیبولا روجیریانا" (Tabula Rogeriana) یعنی راجر کا نقشہ کہا جاتا ہے، راجر نے تقریباً 1138ء میں بنوانا شروع کیا تھا۔ جرمن محقق کونراڈ ملر (Konrad Miller) نے 1929ء میں ان نقشوں کو جوڑ کر ایک بڑی نقل تیار کی۔ ایک بات آج کے قاری کو حیران کرتی ہے: اصل نقشے میں جنوب اوپر اور شمال نیچے ہے۔
کتاب جلد ہی مشہور ہو گئی۔ ایلیٹ لکھتے ہیں کہ اس کا ایک خلاصہ 1592ء میں روم سے چھپا، اور 1619ء میں پیرس سے اس کا لاطینی ترجمہ "جیوگرافیا نوبیینسس" کے نام سے شائع ہوا۔
مکران اور سندھ، الادریسی کی نظر سے
ہمارے قاری کے لیے کتاب کا سب سے دلچسپ حصہ دوسری اقلیم کا وہ باب ہے جس میں خلیجِ فارس کے ساحل کے بعد مکران، سیستان اور سندھ کا بیان ہے۔ ایلیٹ نے یہ حصہ ژوبیر کے فرانسیسی ترجمے سے انگریزی میں منتقل کیا۔
الادریسی لکھتے ہیں کہ مکران ایک وسیع ملک ہے مگر اس کا بڑا حصہ صحرا اور غریب ہے۔ اس کے سب سے بڑے شہر میں کھجور کے بہت درخت ہیں، زمین کاشت ہوتی ہے اور خاصی تجارت ہوتی ہے۔ اس کے مغرب میں تیز کی چھوٹی بندرگاہ ہے جہاں فارس، عمان اور جزیرہ کیش کے جہاز آتے ہیں۔ تیز سے کیز پانچ دن کا سفر ہے۔ مکران کے بعض علاقوں میں گنا بہت اگایا جاتا ہے اور اس سے "فانیذ" نامی مٹھائی بنا کر اس کی تجارت ہوتی ہے۔
بلوچستان کے قاری کو یہ جملہ خاص طور پر اپنا لگے گا: "مکران کے لوگ فارسی بولتے ہیں اور ایک ایسی بولی بھی جو اسی صوبے کی اپنی ہے۔" الادریسی ان کے لباس کا بھی ذکر کرتے ہیں: کرتا، آستینوں والا لبادہ، عبا، تہبند اور سونے کی کڑھائی والی چادر، بالکل عراق اور فارس کے لوگوں کی طرح۔
سندھ کی بندرگاہ دیبل کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ اس کی زمین زرخیز نہیں، کھجور کے سوا درخت کم ہیں، مگر یہ سندھ اور دوسرے ملکوں کے جہازوں کا اڈا ہے۔ عمان، چین اور ہندوستان کے جہاز یہاں آتے ہیں، اور دیبل کے مالدار تاجر مال تھوک میں خرید کر جہازوں کے جانے کے بعد بیچتے ہیں۔ منصورہ کے بارے میں ان کا بیان ہے کہ یہ دریائے مہران (سندھ) کی ایک شاخ سے گھرا ہے، کھجور اور گنا بکثرت ہوتا ہے، بازار لوگوں اور سامان سے بھرے رہتے ہیں، اور عام لوگ فارسی لباس پہنتے ہیں۔
وہ ملتان اور منصورہ کے درمیان رہنے والی ایک جنگجو قوم "نَدھا" کا بھی ذکر کرتے ہیں جو دو کوہان والے عمدہ اونٹ پالتی تھی، جن کی خراسان اور فارس میں بڑی قدر تھی۔ خرید و فروخت کے لیے یہ لوگ سب سے زیادہ "قندائیل" نامی شہر جاتے تھے۔
ایک کتاب جو پل بنی
الادریسی کی کتاب پرانے مصنفین کی تحریروں اور زندہ مسافروں کی گواہیوں کو جانچ پرکھ کر ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ یوں ان کی کتاب عرب جغرافیے کی صدیوں پرانی روایت کو یورپ کے دربار تک لے گئی، اور آج بھی ہمیں بتاتی ہے کہ بارہویں صدی میں مکران، دیبل اور منصورہ دنیا کو کیسے دکھائی دیتے تھے۔
ماخذ
- Al-Idrīsī, Géographie d'Édrisi, traduite de l'arabe en français, tr. P. Amédée Jaubert, tome I (Recueil de voyages et de mémoires, Société de Géographie), Paris, 1836: author's preface (ending p. xxii); second climate, seventh section (Mekran, Sind), c. pp. 155–170. https://archive.org/details/gographiededrisi01idri
- H. M. Elliot and John Dowson (eds.), The History of India as Told by Its Own Historians: The Muhammadan Period, vol. I, Trübner & Co., London, 1867, ch. VII "Nuzhatu-l Mushtak of Al Idrisi", pp. 74–93. https://archive.org/details/india.history.resource.371
- "Tabula Rogeriana" (image and caption), World History Encyclopedia, uploaded by Arienne King, 30 May 2021. https://www.worldhistory.org/image/14129/tabula-rogeriana/
- "File:TabulaRogeriana.jpg", Wikimedia Commons (description: Konrad Miller's 1929 copy; original has north at the bottom). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:TabulaRogeriana.jpg



